Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی زین العابدین نے فرمایا، کسی کو اذیت نہ دینا کمال عقل کی دلیل ہے اور دنیا و آخرت میں جسم کی راحت ہے تحف العقول ص283،اصول کافی ج1ص20کتاب العقل و الجھل

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

پانی مانگنا

سوا ل ۹: کیا امام حسین علیہ السلام نے دشمن سے پانی مانگا تھا؟
جو اب: عاشورہ کے دن دوپہر تک امام حسینؑ، ان کے اصحاب اور کنبے کے دوسرے افراد پر پیاس کا شدید غلبہ ہو چکا تھا لیکن کسی بھی معتبر کتاب میں کوئی ثبوت ایسا نہیں ملتا جس میں امام پاکؑ نے دشمن سے پانی کی درخواست کی ہو، اصولی طور پر پیاس کی بات جس طرح متاخرین کی کتب اور ذاکرین کی زبان زد ہو چکی ہے۔ معتبر مقاتل میں اس طرح اسے مرکزیت حاصل نہیں ہے اور یہ بات توجہ کے قابل ہے کہ امام پاکؑ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف سے جو رجز پڑ ھے گئے ان میں کہیں بھی پیاس اور اس کی شدت کا کا ذکر نہیں ملتا، بلکہ اس کے برعکس ان رجزیہ اشعار اور امام پاکؑ کے خطبات میں جو آپ نے عاشورہ کے دن ارشاد فرمائے ان سب میں تو عزت، سربلند ی اور بہادری کی باتیں نظر آتی ہیں ، مثال کے طور پر سیدالشہداء کی صر ف ایک عبارت کو ذکر کرتے ہیں جو آپ نے عاشورہ کے دن اثناء جنگ ارشاد فرمائی:
الا وان الدعی بن الدعی رکزنی بین اثنتین بین السلۃ والذلۃ وھیھا ت منا الذلۃ یا بی اللہ ذالک لنا ورسولہ والمومنون وحجورطابت وطھرت وانوف حمیۃ ونفوس ابیۃ من ان نو ثر طاعۃ اللئام علی مصارع الکرام ۔(۱)
’’جان لو! زنا زادے کا زنا زادہ بیٹا مجھے دو چیزوں کے درمیان اختیار دیتا ہے یا تلو ار نیام سے نکا ل لوں یا ذلت کا لباس پہن لوں اور یزید کی بیعت کر لوں ، لیکن ذلت ہم سے بہت دور ہے، خدا، اس کا رسول، مومنین، پاک آغوش کے پروردہ افراد اور باغیرت و حمیت لوگ ہمارے لئے قطعاً اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ پست فطرت افراد کی اطاعت کو باعزت موت کے اوپر ترجیح دیں ‘‘
آج کل بعض مجالس میں سیدالشہداء کی تحریک میں عزت و سربلندی اور سرفرازی کا رنگ کم کر دیا گیا ہے اس کی جگہ پر امام پاکؑ پر رقت و رحم دلی کو بہت زیادہ اہمیت دی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کو پانے کے لئے بعض لوگ کربلا کے واقعات میں غیر واقعی اور جھوٹے قصے سناتے ہیں اوربعض دفعہ تو امام علیہ السلام کو بالکل ایک کمزور اور لاچار شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
مثال کے طور پر انہی جھوٹی روایات میں سے ایک یہ روایت بھی ہے کہ امام پا کؑ عمر بن سعد کے پاس تشریف لائے اور اس سے تین درخو استیں کیں ، دوسری درخوا ست یہ تھی :
اسقونی شر بۃ من الما ء فقد نشفت کبدی من الظلما ۔(۲)
’’مجھے ایک گھونٹ پانی دے دو میرا جگر پیاس سے جل رہا ہے، لیکن ابن سعد نے امام کی یہ درخواست بے شرمی سے رد کر دی ‘‘
ہاں اگرچہ یہ عبارتیں (حتیٰ کہ پتھرکے دل سے بھی) آنسو نکالنے کے لئے مؤثر ہیں لیکن دوسری طرف سے امام حسینؑ اور عاشو رہ کے عزت و سر فرازی والے چہرے پر خدشہ وارد کر تی ہیں اور پڑھے لکھے شیعہ کو اپنی تحلیلوں میں بڑے بنیادی سوا لا ت سے روبر و کر دیتی ہیں ، یہ چیز دشمن کے ہاتھ حربہ دیتی ہے جس سے وہ تشیع کے عز ت مدار رویے پر کاری ضرب لگاتے ہیں (۳)
الہوف ، ص ۱۲۳،۱۲۴
(۲) طریحی المنتخب ،ص ۴۳۹
(۳) تحریک امام حسینؑ میں عز ت و سرفر ازی اور ان جیسی چھوٹی روایات کا اس کے مشکل ایجاد کرنے کے حوالے سے اور ان روایات کی سندی و فنی حیثیت کے لئے دیکھیں مقالہ: عز ت طلبی در نہضت امام حسینؑ از نعمت اللّٰہ فروشانی مندرج درمجلہ حکومت اسلامی شمار ہ ،۲۶ص ۷۹۔ ۱۱۶