Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، بخیل وہ ہوتا ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفر باب136 حدیث27

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

کوفہ کا انتخاب

سوال ۵ : امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے لئے کوفہ کا انتخاب کیوں فرمایا؟
جو اب: ہمیشہ شیعہ سنی اور مستشرقین محققین کے سا منے یہ سوال رہا ہے اور ہر کسی نے اپنی استعداد اورا پنے عقا ئد و مبانی کے مطابق اس کا جواب دیا ہے، کچھ امور نے مل کر اس سوال کی اہمیت اور زیادہ کر دی ہے جو کہ در ج ذیل ہیں :
۱) امام حسینؑ اپنے اس سیا سی و مسلّح قیا م میں ظا ہری کا میا بی حاصل نہیں کر سکے اوراس کی بڑی وجہ کوفہ کو قیا م کا مقام انتخاب کر نا تھا ۔
۲) اس دور کی اہم شخصیا ت جیسے آپ کے چچازاد بھائی
۱) عبد اللہ بن جعفر ( سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے شو ہر ) ۔(۱)
۲) عبداللہ بن عبا س ۔(۲)۳) عبد اللہ بن مطیع (۳)
۴) مسور بن مخرمہ (۴)۵) محمد بن حنفیہ (۵)
نے آپ کو عرا ق ( کوفہ) جا نے سے رو کا اور بعض نے تو یہ بھی کہا کہ کوفی پہلے آپ کے بابا اور بھا ئی سے بھی بے وفائی کر چکے ہیں آپ سے بھی وفا نہیں کریں گے لیکن اما م پاکؑؑنے ان سب کی باتوں کو ( جو کہ بعد میں درست ثا بت بھی ہو گئیں ) رد کرتے ہو ئے اپنے عز م و جزم کو ثا بت رکھا اور کوفہ کی طرف چلے آئے، یہاں اب بعض مو رخ جیسے ابن خلد ون صریحاً کہتے ہیں کہ اما م نے یہاں سیا سی غلطی کی ( نعوذ باللہ ) ۔(۶) بعض لوگوں نے اپنی گفتگو میں کوفہ کے علاوہ بعض دوسری جگہوں کا مشو رہ دیا،جیسا کہ ابن عبا س نے آپ سے کہا ’’اگر آپ مکہ سے خر و ج پر مصّر ہیں تو پھر آپ یمن کی طرف چلے جا ئیں وہاں مستحکم قلعہ اور وادیاں موجود ہیں اور بڑی وسیع سر زمینیں ہیں وہاں سے آپ اپنے داعی اور مبلغ دوسرے علاقوں کی طرف بھیج سکتے ہیں ۔(۷)کیوں اما مؑ نے ان دوسر ی جگہوں میں سے کسی کا انتخا ب نہ کیا؟
اس جیسے سوا لا ت کے مقابل غیر شیعہ افرا د یعنی سنی اور مستشرقین صاف الفاظ میں اما م کے علم غیب اور خطا ء سے عصمت کے شیعہ عقا ئد کے بارے میں بحث و تجز یہ کر نے کے ساتھ اس قیا م کا تجزیہ کر تے ہو ئے کہتے ہیں کہ آپ نے اس طرح مسلح قیام شروع کر نے میں (نعو ذباللہ) غلطی کی، لیکن شیعہ محققین اپنے عقا ئد کی رو سے اس تحریک کا تجز یہ کر تے ہیں ، اس بارے میں شیعہ محققین نے متعدد نظر یا ت ذکر کئے ہیں اور ان سب کی باز گشت در ج ذیل دو نظریات کی طر ف ہوتی ہے۔

پہلا نظریہ شہادت

یہ نظریہ ذیل کے چند امور پر موقوف ہے:
۱) ائمہ میں سے ہر ایک جب منصب امامت کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے تو صحیفہ کھولتا ہے اور اس میں اس کی تا شہادت ذمہ داریاں لکھی ہوتی ہیں وہ انہی پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ (۸)
۲) اما م حسینؑ نے جب وہ صحیفہ کھولا تو اس میں آپ کے لئے ذمہ داریاں لکھی تھیں :
قاتل فاقتل فتقتل واخرج با قوام للشہادہ لھم الا معک۔(۹)
جنگ کریں اور قتل کریں پھر آپ بھی قتل کیے جا ئیں گے کچھ گر و ہ آپ کے ساتھ شہادت کے لئے ہوں گے۔ ان کے ساتھ نکلیں اور ان کو شہا دت نہیں ملے گی صرف آپ کے ساتھ‘‘ بنا برین ابتدا ہی سے مشیت الٰہی امام حسینؑ کی شہادت کے بارے تھی اور آپ کے پاس اس مشیت الٰہی کو پورا کرنے کے علا وہ کوئی چا ر ہ نہیں تھا ، جیسا کہ دوسری مرتبہ پھر جب آپ عراق کی طرف خروج پر آمادہ تھے پیغمبر اکرمؐ کے ذریعے خواب میں آپ کو اس وظیفہ پر تاکید کی گئی ۔ جیسا کہ جب محمد بن حنفیہ نے آپ سے کوفہ جانے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے اس کے جو اب میں فرمایا ’’نا نا رسو لؐ میرے خوا ب میں آئے تھے انہوں نے مجھے فرمایا:
یا حسین اخر ج فان اللہ قد شا ء ان یراک متقیلا ۔ (۱۰)
اس نظریہ (۱۱) کے مطابق امام حسین علیہ السلا م کا عراق کی طرف سفر شہادت کی طرف سفر تھا اور اس سفر کا مقصد اس ہدف تک پہنچنا تھا ۔ حضرتؑ کو اس نتیجہ کا مکمل علم تھا
اور یہ وظیفہ امام حسینؑ کے ساتھ خاص تھا اور آپ کے علاوہ کسی دوسرے حتیٰ ائمہ کے لئے بھی قابل تقلید نہیں تھا۔ لہٰذا اس میں چون و چرا کی کوئی گنجا ئش نہیں تھی اور یوں اس دور کی بڑی بڑی شخصیات کے روکنے کے باوجود امام کا اس راہ پر گامزن رہنے پر اصرار سمجھ میں آجاتا ہے ۔ کیونکہ ان کی نظرمیں وہ خو د ہر کسی سے زیادہ کوفیوں کی بے وفا ئی و غداری سے آگا ہ تھے آپ جا نتے تھے کہ کوفی بالآخر آپ کو تنہا چھوڑدیں گے، بلکہ آپ کے ساتھ جنگ کے لئے نکل آئیں گے اور آپ کو شہید کر دیں گے ، اس علم کے با وجود، آپ نے کوفہ کی طرف سفر اختیا ر کیا تا کہ اپنی قر با ن گا ہ میں پہنچ کر منزلت شہادت پر فائز ہوں ۔
اب یہ سوا ل کہ اس شہا دت کا کیا مقصد تھا ؟ اس با رے میں اس نظر یہ والوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض نے اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خاطر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ خو ن امام کے ذریعے شجر اسلام کی آبیا ری اس مقصد کا بلند ترین مرتبہ ہے۔ یہی خون اسلام کی پائیداری اور بنی امیہ و یزید کی رسوائی کا باعث بنا ،جس کی وجہ سے بالآخر ستر سال بعد (۱۳۲ہجری میں ) بنی امیہ کی خلافت کا سقوط ہوا، بعض دوسرے (کہ جن میں سے اکثر عوام اور ان پڑھ شیعہ ہیں ) قائل ہیں کہ امام کی شہادت کا مقصد اپنے گناہ گار شیعوں کے گناہوں کا کفارہ اور ان کی شفاعت تھا ،یہ وہی نظریہ ہے جو عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھنے کے حوالے سے پیش کرتے ہیں ۔(۱۲)
اس نظریہ پر ( روایت کے سندی اشکال کے علاوہ ) کئی جہات سے اشکالات وارد ہیں جیسے:
۱) اما م حسین علیہ السلام اگر اس با رے میں خا ص دستو ر رکھتے تھے تو اس سے امام حسینؑ اور دوسرے ائمہ عام لوگوں کے لئے اسوہ نہیں رہیں گے جب کہ ان کا اسوہ ہونا اور شیعہ پر ائمہ معصومینؑکی پیر وی کر نا تما م ادوار میں مسلّم اصو ل میں سے رہا ہے ۔
۲) یہ نظر یہ امام حسینؑ کے اس فرما ن ’’لکم فی اسوہ ‘‘ (۱۳)سے متعا رض ہے۔
۳) اگر چہ امام حسین علیہ السلام کی شہا دت کے بارے میں سا بقہ انبیاء، پیغمبر اکرمؐ اور حضرت علی علیہ السلام و اما م حسنؑ کی پیشگوئیوں کو قبول کیا جا سکتا ہے اور خو د امام حسین علیہ السلام کا اپنی شہادت سے آگاہ ہو نا بھی ان کے کلا م سے سمجھتا جا سکتا ہے۔ لیکن آپ کے کسی کلام سے یہ استفادہ نہیں ہو تا کہ امامؑ کے قیام کا مقصد شہاد ت ہو ۔ بلکہ اس قیا م سے آپ کا ہدف کیا تھا یہ آپ کی اپنی گفتگو سے سمجھا جانا چاہیے اور اس با رے میں سب سے واضح ترین آپ کی وہ گفتگو ہے جو آپ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہوئی فرمائی ۔
(۱۳) تا ریخ طبر ی، ج۵، ص ۴۰۳، (۱۴) بحا ر الا انوار ،ج۴۴، ص ۳۲۹،ابن اعثم کوفی، الفتو ح ،ج۵ ، ص ۲۱(۱۵) شہید فاتح، ص ۱۶۹
۳) اگرچہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں سا بقہ انبیا ء، پیغمبر اکرمؐ اور حضرت علی علیہ السلام و اما م حسنؑ کی پیشگوئیوں کو قبول کیا جا سکتا ہے اور خو د امام حسین علیہ السلام کا اپنی شہادت سے آگاہ ہو نا بھی ان کے کلا م سے سمجھتا جاسکتا ہے۔ لیکن آپ کے کسی کلام سے یہ استفادہ نہیں ہو تا کہ امامؑ کے قیام کا مقصد شہادت ہو ۔ بلکہ اس قیام سے آپ کا ہدف کیا تھا یہ آپ کی اپنی گفتگو سے سمجھا جانا چاہیے اور اس بارے میں سب سے واضح ترین آپ کی وہ گفتگو ہے جو آپ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہو ئی فر مائی ۔ جس میں آپ نے فرما یا :
…وانما خرجت اطلب الا صلاح فی امۃ جدی
ارید ان امر بالمعروف و انہی عن المنکر وا سیر
بـسیــرۃ جـدی وا بــی علــی بـــن ابــی طــالب۔(۱۴)
اس عبارت میں سید الشہد ا ء نے اپنے قیا م و نہضت کے تین ہد ف و مقصد ذکر کیے ہیں جو کہ طلب اصلا ح ، امر با لمعروف و نہی عن المنکر ، اور سیرت رسو ل خدا اور سیرت علی مرتضیٰ پر عمل ہیں اور آپ نے شہا دت کو ہدف کے طور ذکر نہیں فرما یا :

دوسرا نظریہ : اسلامی حکومت کی تشکیل

بعض کتابوں میں لکھا ہے (۱۵)کہ یہ نظر یہ ابتداء میں تشیع کے درمیا ن سید مر تضیٰ علم الھدیٰ (۴۳۴۔ ۳۵۵ھ ) کی عبارتوں میں صر یحاً نظر آتا ہے ۔ آپ سے جب امام کے کوفہ کی طرف جانے کے بارے سوال ہو ا تو آپ نے کہا… ہمارے آقا اما م حسین علیہ السلام حکومت حاصل کرنے کے لئے کوفہ کی طرف نہیں گئے مگر اس کے بعد کہ قوم کی طرف سے عہد و پیمان حاصل ہو گئے اورآپ کو کامیابی کا اطمینان ہو گیا۔ (۱۶) سید مر تضیٰ کے بعد اس نظر یہ کے قائل تشیع میں زیا دہ نظر نہیں آتے، بلکہ بزرگ علما ء جیسے شیخ طوسی ، سید ابن طاؤس ، علامہ مجلسی اور دوسرے بڑے بڑے علماء نے اسے در خورا عتناء نہ سمجھا بلکہ بعض نے تو اس کی سخت مخالفت بھی کی۔ (۱۷)
موجود ہ دور میں بھی بعض لکھنے والے اس نظریہ کو زندہ کر نا چاہتے ہیں اس خاطر کہ اہل سنت اور مستشر قین کے اعتراضا ت کا جوا ب تاریخی تجزیوں کے ذریعے دیا جاسکے۔ اس نظریے کو اپنے زمانے میں اس دور کی علمی محافل میں طاری فضا کی وجہ سے علماء کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ ا جبکہ شہید مطہر ی اور ڈاکٹر شریعتی جیسی شخصیات نے بھی اس نظر یہ کوقبو ل نہ کیا۔ (۱۸)
اس نظریہ کا اہم اشکال امام علیہ السلام کے علم غیب سے غفلت ہے البتہ اصل نظریہ کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کا مقصد اسلامی حکو مت کی تشکیل تھا اور یہ مقصد یزید کے خلاف قیام اور غاصبو ں کی رسوائی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا،امام خمینی جیسی شخصیا ت کا مورد تائید تھا، امام خمینیؒ نے کئی جگہوں پر اس کی طر ف اشا رہ کیا ہے اور دینی صالح حکومت کے قیا م کی کوشش کوامام حسینؑ کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد شمار کیا ہے جیسا کہ :
الف ) ۱۳۵۰ہجر ی شمسی میں آپ نے نجف اشر ف میں اپنی ایک تقریر کے دوران فرمایا:
اما م حسینؑ نے مسلم بن عقیل کو اس لئے بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو بیعت کی دعوت دیں اور اسلامی حکومت تشکیل دے کر فا سد حکومت کا خاتمہ کردیں ‘‘ (۱۹)
ب) سید الشہداء مکہ تشریف لا ئے اور پھر مکہ سے اس حال میں نکلنا خو دایک بہت بڑا سیاسی قدم تھا ، امام حسینؑ کے تمام اقدامات سیاسی تھے، اسلامی سیاسی تھے اور اسلامی سیاسی قدم یہ تھا کہ بنی امیہ کو نابود کردیں اگر امام حسینؑ کا یہ اقدام نہ ہوتا تو اسلام پامال ہوچکا ہوتا۔ (۲۰)
ج) امام حسین علیہ السلام تشریف لا ئے حکومت بھی لینا چاہتے تھے بلکہ آنے کا مقصد ہی یہی تھا اور یہ ایک فخرہے ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سید الشہد ا ء حکومت کے لئے نہیں آئے تھے (غلطی پر ہیں ) امام حکومت کے لئے تشر یف لا ئے تھے۔ اس لئے کہ حکومت سیدا لشہدا ء جیسے امام کے ہاتھ میں ہو اور ان کے ہا تھوں میں ہو جو سید الشہداء کے شیعہ ہو ں ۔ (۲۱)
اس مسئلہ کے اثبات کے لئے درج ذیل دلیلوں سے استفا دہ کر سکتے ہیں :
۱)سب سے اہم دلیل سید الشہداء کے ارشادات گرامی ہیں ۔ مدینہ سے نکلتے وقت آپ نے اپنے قیام کے تین اہدا ف و مقا صدذکر فر ما ئے ۔ (۲۲)
۱)اصلاح،۲۳) امر بالمعروف ، ۲۴) سیرہ رسولؐ وسیرۃ علی پر عمل
واضح ہے کہ بڑ ی اصلا ح بغیر تشکیل حکومت کے ممکن نہیں ہے اور امر بالمعر وف و نہی عن المنکر کا آخر ی مر تبہ بھی حکومت تشکیل دیے بغیر ممکن نہیں ہے جب تک حاکم اسلامی مکمل قدرت و تسلط نہ رکھتا ہو اس کے لئے اس وظیفہ پر عمل ممکن نہیں ہے، ا ن سے بھی بڑ ھ کر آپ نے اپنے نانا رسول ؐ اور بابا علیؑ کے سیر ہ پر عمل کو ذکر فرما یا ہے اور یہ اشا رہ ہے ان دو ہستیوں کی حکومتی سیرۃ کی طرف یعنی آپ ان ہستیوں کی سیرت کو جاری رکھنے کاذکر کر کے اپنے تشکیل حکومت کے مقصد کو اجا گر فر ما رہے ہیں ـ۔
۲) کوفہ سے آنے والے خطو ط کی اکثریت اس بات پر مشتمل تھی کہ ہمارے پاس تلواریں آمادہ ہیں لیکن ہمارے لئے امام موجود نہیں ہیں ۔اس با ت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ یز یدی حکومت کو ناحق سمجھتے تھے او ر امام سے یہ چا ہتے تھے کہ آپ کو فہ تشریف لائیں اور امام حق کے طور پر منصب حکومت سنبھا لیں ، امام حسین علیہ السلام بھی کو فیوں کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کر نے کے لئے اپنے قیا م کا آغا ز فر ما تے ہیں ، مثا ل کے طو ر پر کوفہ کے بزر گا ن جیسے سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن نجبہ اور حبیب بن مظا ہر کی طرف:
انا لیس علینا امام فاقبل لعل اللہ ان یجمعنا بک علی الحق ۔ (۲۵)
ہما رے اوپر امام نہیں ہے آپ ہما ری طر ف تشریف لا ئیں امید ہے آپ کے ذریعے خداوند ہمیں حق پر جمع کر دے ۔
۳) ان خطو ط کا امامؑ کی طرف سے پہلا جو اب جو کہ مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنے کے ہمراہ تھا ، اس میں بھی مسئلہ امامت اور تشکیل حکومت کی طرف اشا ر ہ ہو ا ہے۔ یہ بات قابل تو جہ ہے کہ آپ نے مسلم بن عقیل کو بھیجتے وقت ایک خط میں کوفہ والوں سے یوں ارشاد فر ما یا :
وقد فھمت کل الذی افتصصتم وذکر تم ومفالۃ
جلکم انہ لیس علینا اما م فا قبل اللّٰہ ان
یجمعنابک علی الھدی والحق ۔(۲۶)
’’تم لوگوں نے جو کچھ کہا وہ سب میں سمجھ گیا، آپ لوگوں کی باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے اوپر امام نہیں ہے آپ آئیں ممکن ہے خدا آپ کے ذریعے ہمیں حق و ہدایت پر جمع کر دے‘‘
امامؑ اس خط میں اپنے کوفہ جانے کو اس بات سے مشروط کرتے ہیں کہ مسلم اس کی تائید کر دیں جو کچھ ان خطوط میں موجود ہے ۔(۲۷)
۴)ان جوابی خطوط میں امامؑ نے جو شرائط ذکر کی ہیں ان پر تو جہ کی جائے تویہ بھی ایک طرح سے اس نظر یہ کے اثبا ت میں مدد گار ثا بت ہو سکتی ہیں مگر قا بل تو جہ بات یہ ہے کہ ان عبا رتوں میں بھی امامؑ نے زیادہ تر امامت کے حکومتی وانتظامی پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور امامت کے بیان شریعت جیسے پہلو ؤں کو اصلاً بیان نہیں فرما یا کہ بعد میں بعض لوگوں نے امامت کو اسی پہلو پر منحصر کردیا ۔
اما م پا کؑ کے سابقہ خط میں اما م نے بعد والی عبارت میں فر ما یا ہے :
فلعمری ماالاما م الا لعامل بالکتاب والاخذ بالقسط والدائن بالحق والحا بس نفسہ علی ذات اللّٰہ۔(۲۸)
’’مجھے میر ی جان کی قسم امام صر ف وہی ہو سکتا ہے جو کتاب خدا کا عا لم ، عدل و انصاف کا جاری کر نے والا ، حق پر عمل کر نے والا اور اپنی تمام فعالیات راہ خدا میں انجام دینے والا ہو‘‘
۵) جنا ب مسلم بن عقیل کی اکثر فعالیا ت جیسے لوگوں سے امام حسین علیہ السلام کی مدد کے حوالے سے اپنے عہدو پیما ن پر عمل کرنے کی بیعت لینا (۳)اور بیعت کرنے والوں کے نام ایک رجسٹرمیں لکھنا ( جن کی تعدا د ۱۲ ہزا ر سے ۱۸ ہزا ر تک ذکر کی گئی ہے ) ۔(۲۹)
سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ اما مؑ کا مقصد کوفہ میں اسلامی حکومت کو تشکیل دینا تھا ۔
۶)جب کوفہ میں مسلم کے طرفداروں کی تعدا د بڑھنے لگی تو بنی امیہ کے بہی خواہوں نے جو خطو ط یزید کو لکھتے ان سے بھی یہ نکتہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی صورت میں کوفہ کو ہا تھ سے جا تا ہوا دیکھ رہے تھے اور ذیل کی عبارت اس کی بہترین تصویر کشی کرتی ہے ۔
(۳۰) واقعۃ الطف، ص ۱۱۲، فان الرائد لا یکذب اھلہ وقد با یعنی من اھل الکوفۃ ثمانیۃ عشر الفاً فعجل الا قبا ل حین یأ تیک کتابی فان الناس کلھم معک لیس لھم فی آل معاویۃ رأی ولا ھویٰ
فا ن کان لک با لکوفہ حاجۃ فا بعث الیھا رجلاً
’’اگر تمہیں کوفہ کی ضرور ت ہے تو پھر اس کی اما رت کسی مقتدر شخص کے سپر د کر و جو تمہا رے حکم کو وہاں نافذ کر ے اور تیرے دشمن کے خلاف تجھ جیسا عمل کر ے ‘‘
۷)حضر ت مسلم کی اما م حسین کو کوفہ کے حوالے سے یہ رپورٹ بھیجنا کہ لو گ آپ کی مدد پر آما دہ ہیں جلد تشریف لا ئیں ، جس کی بنا پر اما مؑنے کوفہ کی طرف تشریف لے جانے کا اقدا م فرما یا (۳۱) یہ بھی ہما رے اس دعو یٰ کی بہترین دلیل ہے ، اما مؑ نے راستے سے ایک خط کوفیوں کے نام لکھا اور اسے قیس بن مسھر صیدا وی کے ہاتھ روانہ کیا، جس میں جنا ب مسلم کے خط کے ذریعے تائید کی طرف اشا رہ کر تے ہو ئے انہیں یہ خبر دی کہ میں ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف نکل چکا ہوں اور انہیں یہ فر ما یا کہ آپ لوگوں اپنی سعی و کوشش جاری رکھیں تا کہ میں کو فہ شہر میں داخل ہو سکوں ۔
’’فان کتا ب مسلم بن عقیل جا ونی یخبر نی فیہ بحسن رأیکم واجتماع ملا کم علی نصرنا والطلب یحقنا فسالت اللہ ان یحسن لنا الصنع وان یثیبکم علی ذلک اعظم الا جر وقد شخصت الیکم من مکہ یوم الثلثا لثمان مطیب من ذی الحجۃ یوم التر و یۃ فاذا اقم علیکم رسو لی فا نکمثو ا امر کم وجدو ا فا نی قادم علیکم فی ایا می ھذہ ۔(۳۲)
’’مسلم کا خط مجھے مل گیا، جس میں اس نے لکھا کہ تم لو گ ہماری مدد اور دشمن سے ہما رے حق کے لینے پر تیا ر ہو، میں خداوند
’’مسلم کا خط مجھے مل گیا، جس میں اس نے لکھا کہ تم لو گ ہماری مدد اور دشمن سے ہما رے حق کے لینے پر تیا ر ہو، میں خداوند سے تمہا رے کاموں میں اچھا ئی اور اس پر عظیم اجر کی دعا کر تا ہوں ، میں تمہا ری طرف مکہ سے منگل کے دن آٹھ ذی الحجہ ترویہ کے دن نکل چکا ہوں ، جب میرا قا صد تم پر وارد ہو اپنے آپ کو جلدی سے تیا ر کر لیں اور اپنے کام میں خو ب جد و جہد کریں میں جلد ہی پہنچ جا ؤں گا ‘‘

بعض اعتراضا ت

اس نظر یہ پر سب سے اہم دو اعتراض وار د ہو تے ہیں :
۱)یہ نظر یہ تشیع کے اس عقید ے کے خلاف ہے کہ جس میں شیعہ ائمہ کو عالم غیب سمجھتے ہیں ۔
۲) اس نظر یہ میں اما م کی طرف غلطی کی نسبت دی گئی ہے جو کہ آئمہ کی عصمت کے منافی ہے ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اشکا ل وہ اہم ترین سبب ہے جس کی وجہ سے شیعہ اجتماع اس نظریے کے خلاف ہو ا ہے۔
اس اشکال کا اگر جواب دینا چاہیں تو ہمیں علم کلام کی دقیق ابحاث میں جانا پڑے گا،جیسا کہ علم غیب کی حقیقت کیا ہے ، عصمت کیا ہے ، اس کی حدو د کیا ہیں ، تا ریخی حقائق کے سا تھ اس کے تنا قض کا جوا ب کیا ہے ، لیکن ہما ری گفتگو کا محو ر تا ریخی وا قعات کی تحلیل و تجزیہ ہے لہٰذا ہم ان بحثوں سے صرف نظر کر تے ہو ئے یہ ضرور کہیں گے کہ علم کلام کے مبانی کے ساتھ بھی اس نظر یہ کو قبو ل کرنے کے امکا نات پائے جا تے ہیں ، جیسا کہ اما م خمینی کی تحلیل کی بنیاد بھی اسی طرح کی ہے ، حکومت کی تشکیل ایک ذمہ داری ہے جس میں اتما م حجت، سمجھداری اوردوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرور ت ہے لیکن نتیجہ خداپرہے جو وہ چاہے اسی پر راضی ہوناچاہیے ۔ حتیٰ کہ اگر ہمیں نتیجہ کاعلم ہو تب بھی یہ وظیفہ کی انجا م دہی سے مانع نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ جو حق کی بنیا د پر حرکت کر تاہے اس کی شکست وقتی و ظا ہر ی ہو گی، بالآخر تا ریخ کے اوراق میں فتح اسی حق طلب تحر یک ہی کی لکھی جا ئے گی، اشکال یہ ہو ا کہ امام کا اپنے مقصد (حکومت کی تشکیل) میں کامیاب نہ ہو نا اور خط لکھ کر بلانے والوں کی غداری و خیا نت کا ظاہر ہونا دلالت کر تا ہے کہ امام حسینؑ نے (نعوذباللہ) کوفیوں کے بارے غلط اندا زہ لگایا اوربعض دوسرے افراد جیسے ابن عبا س وغیرہ کا کہا ہوا سچ ثا بت ہوا۔
اس اشکال کے جواب کے لئے اما م حسینؑ کی معقول نہضت کی واقعیت پر مبنی تاریخی تحلیل کر نا ضرور ی ہے۔

اما م حسینؑ کے قیام کی عقلی بنیادیں

اگر کوئی سیاسی شخصیت حالا ت کا مکمل تجز یہ اور تحقیق کر نے کے بعد منطقی طور پر ایک فیصلہ کر لے اور پھر بعض غیر متو قع اسبا ب و مو ا نع پیش آجائیں جو اس کے فیصلوں کے سامنے رکا وٹ پیدا کر دیں تو اس سے اس شخصیت کے فیصلوں کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا، ہم کہتے ہیں کہ اس دور میں امام حسین علیہ السلام کو فہ کے حالا ت کو مکمل طور پر نظرمیں رکھے ہوئے تھے ، معاویہ کے دور میں اما م حسینؑ نے کوفیوں کو مثبت جواب نہ دیا اور ان کے تقاضوں کو رد کر دیا،(۳۳)بلکہ آپ نے اپنے بھا ئی محمد بن حنفیہ کو بھی کوفیوں کے ان خطوط کا مثبت جواب دینے سے روک دیا۔(۳۴)
یہاں بھی آپ نے کوفہ والوں کے خطو ط کے ملتے ہی ان کی طر ف جا نے کا فیصلہ نہیں فرمالیابلکہ ان کے دعو وں کی سچائی اورصحت یا عد م صحت کے پر کھنے کے لئے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا اور جب مسلم نے ایک مہینہ وہاں قیام فرما لیا اور وہاں کے حالات کو نزدیک سے دیکھ لیا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ کوفہ کے حالات اما م حسینؑ کے ورود کے لئے مناسب ہیں اور یہ بات آپ نے ایک خط میں امام علیہ السلام کو لکھ بھیجی۔ تو اس کے بعد اما م پا ک نے کوفہ کی طرف سفر شرو ع کیا البتہ حج کے ایا م میں اما مؑ مکہ سے جلد نکلنا قتل کے اس احتما ل کی وجہ سے تھا جو پہلے بیان ہو چکا ہے، اسی اثنا میں ایک غیر متوقع کام یہ ہو ا کہ کوفہ کے گور نر نعما ن بن بشیر کو معزو ل کر کے اس کی جگہ عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گو رنربنا دیا گیا اور یہ چیز کسی کے وہم و گما ن میں نہیں تھی بلکہ ظا ہر ی حالات تو مکمل طو ر پر اس کے بر خلاف نظر آر ہے تھے کیونکہ یزید اور عبید اللہ بن زیا د کے تعلقات بہتر نہیں تھے یزید اس پر نارا ض تھا ۔(۳۵) اور اس کو بصرہ کی گورنری سے بھی معز ول کر نا چاہتا تھا۔ (۳۶)
بلکہ بعض کتابوں میں آیا ہے کہ :
کان یزید البغض الناس فی عبید اللہ بن زیا د ۔(۳۷)
’’ یز ید، ابن زیا د کاسب سے بڑ ا دشمن تھا ‘‘
اس کے با وجو د اگر جنا ب مسلم اور ان کے سا تھی ابن زیا د کی طرح دھونس و دھمکی اور طمع و رشوت جیسے حربوں سے فائد ہ اٹھا سکتے ہو تے اور بیعت کر نے والوں کے حالات بہتر کر سکتے ہوتے اور مختلف قسم کی سیاسی ، اجتماعی اور نفسیاتی چالیں چلتے جیسا کہ ابن زیادنے یہ سب کچھ کیا تو کوفہ میں ان کی کامیابی کے امکانات بھی خاصے بڑھ جاتے۔ بلکہ اگر شریک بن اعو ر اور عمارہ بن عبدالسلول کے مشورے کے مطابق جنا ب مسلم، ہانی بن عروہ کے گھر میں ابن زیاد کو قتل کر دیتے تو بھی کوفہ کے حالات کو کنٹر ول کرسکتے تھے۔(۳۸)
ان سب حالات کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام، ابن عبا س وغیرہ جیسے افراد سے زیا دہ کوفہ کے حالات سے واقفیت رکھتے تھے کیونکہ پہلا یہ کہ ابن عباس کی شناخت بیس سال پہلے کی تھی یعنی حضرت علیؑ اور حضر ت امام حسنؑ کے دور کے لحاظ سے تھی جب کہ امام حسینؑ موجود ہ دور کے حالات سے واقف تھے۔ دوسرا یہ کہ امام علیہ السلام کی یہ واقفیت کوفہ کے بزرگا ن جیسے سلیما ن بن صرد اور حبیب ابن مظا ہر کے خطو ط سے حاصل ہوئی تھی ، اس کے علا وہ خو د اما م کے نما ئندے یعنی مسلم بن عقیل نے ان حالات کو قریب سے دیکھ کر ان کی تائید کی تھی جب کہ ابن عبا س وغیر ہ کے پاس ان حالات کو قر یب سے پہچا ننے کے وسا ئل موجود نہیں تھے۔
یہ بات بھی قابل تو جہ ہے کہ موجود ہ کوفہ کے حالا ت بیس سا ل والے کوفہ سے اس حد تک تبدیل ہو چکے تھے کہ اب کوفہ والوں میں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے والے جذبے اجاگر ہو چکے تھے اور ان کے پیچھے ہٹ جا نے یا دھو کہ دینے کا احتما ل لوگوں کے ذہنوں میں بہت کم آتا تھا کیونکہ :
پہلا یہ کہ: اسلامی دارالخلافہ کے حوالے سے وہ شام سے شکست کھا چکے تھے اور اسلامی دنیا کی مر کزیت کوفہ سے شام منتقل ہو چکی تھی اور کوفہ کو پیچھے دھکیلنے کی امو ی سیا ست کوفہ والوں کو اس بات پر ابھا رتی تھی کہ کسی بھی طرح وہ اپنی عظمت رفتہ کو زند ہ کر یں ۔
دوسرا یہ کہ : اس دور میں اموی حکمرا نوں کی کوفیوں بالخصو ص شیعوں پر ہر طرح کی سختی انہیں امویوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدا م کر نے پر مجبو ر کر رہی تھی ۔
تیسر ا یہ کہ: کوفیوں کی یزید اور اما م حسینؑ کے بارے میں سا بقہ شناسا ئی بھی انہیں خلافت یزید کو قبول نہ کر نے پر مزید پختہ تر کر رہی تھی ۔
یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ مرکزی حکومت (حکومت شام) یزید کی ناتجربہ کاری اور اس کی دینی ، سیا سی اوراجتما عی شخصیت کااس کے باپ معاویہ کے ساتھ
یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ مرکزی حکومت (حکومت شام) یزید کی ناتجربہ کاری اور اس کی دینی ، سیا سی اوراجتما عی شخصیت کااس کے باپ معاویہ کے ساتھ ناقابل مقایسہ ہونے جیسے عوا مل کی وجہ سے کمز ور ہو چکی تھی نیز کوفہ کی حکومت کے بھی کمزور ہونے کی وجہ سے اما م حسین علیہ السلام کا کوفہ میں حکومت تشکیل دے کر مرکزی حکومت سے مقابلہ کرسکنے کے امکانات کافی حد تک روشن نظرآرہے تھے ۔ لہٰذا یہ نتیجہ نکا لا جا سکتا ہے کہ تاریخی تحلیل کے نقطہ نظر سے کوفہ کے حالات اما م حسین علیہ السلام کی حیثیت ، اور شام کی مرکزی حکومت کے حالا ت کے پیش نظر اما م حسین علیہ السلام کا کوفہ کی طرف جا نے کا قصد کرنا مکمل طور پر صحیح تھا ، اگر غیر متوقع حالات و عوامل پیش نہ آتے تو تحریک کی ظاہر ی کامیابی کے امکانات بھی کافی روشن تھے۔
(۱) ابن اعثم کوفی، الفتو ح ،ج ۵ ، ص ۶۷
(۲) حوالہ سابق، ص ۶۶
(۳) البدایۃ والنہا یۃ ،ج۸ ، ص ۱۶۲
(۴) حوالہ سابق، ص ۱۶۳
(۸) اصو ل کافی، ج۲،ص۲۸۔۳۶
(۹) حوالہ سابق،ص ۲۸ ،حدیث ۱
(۱۰) لھو ف، ص ۸۴
(۱۱) مزید تفصیلا ت کے لئے دیکھیں ،شہید فا تح ،در آئینہ اند یشہ، محمد صحتی سر درودی، ص ۲۰۵ ۔۲۳۱
(۱۲) شہید فاتح ،ص ۲۳۹
(۱۶) شہید فاتح ، ص۱۷۰،منقو ل از تنز یہ الا نبیا ء ، ص ۱۷۵
(۱۷) مخالفین کی تفصیلات کے لئے دیکھیں : شہید فا تح، ص ۱۸۴۔۱۹۰،۲۰۵۔۲۳۱
(۱۸) مخالفین کی تفصیلات کے لئے دیکھیں :رسول جعفریان ،جریانھاو جنبش ھای مذہبی ۔سیاسی ایران ، ص۲۰۸۔۲۱۴
(۱۹) صحیفہ نور ،ج۱ ، ص۷۴ ۱
(۲۰) حوالہ سابق، ج۱۸، ص ۱۳۰
(۲۱) صحیفۂ نور، ج۲۰،ص ۱۹۰
(۲۲) بحا ر الا نوار ،ج۴۴، ص ۳۲۹
(۲۳) وقعۃ الطف ، ابی مخنف، ص ۹۲
(۲۴) وقعۃ الطف ، ابی مخنف ص ۹۱
(۲۵) حوالہ سابق ، فا ن کتب الی انہ قد ا جمع رأی ملأ کم و ذوی الفضل وا لحجی منکم علی مثل ماقدمت علی بہ رسلکم وقرأت فی کتبکم اقدم علیکم و شیکاً ان شاء اللّٰہ
(۲۶) وقعۃ الطف، فا ن کتب الی انہ قد ا جمع رأی ملأ کم و ذوی الفضل وا لحجی منکم علی مثل ماقدمت علی بہ وسلکم وقرأت فی کتبکم اقدم علیکم و شیکاً ان شاء اللہ
(۲۷) تا ریخ یعقوبی ،ج۲، ص ۲۱۵،۲۱۶
(۲۸) مروج الذھب، ج۳ ،ص ۶۴، الارشا د ،شیخ مفید، ص ۳۸۳
(۲۹) وقعۃ الطف ، ص ۱۰۱
قو یّاً ینفذ امرک ویعمل مثل عملک فی عد وّک۔(۳۰)
(۳۱) الا رشا د، شیخ مفید، ص ۴۱۸
(۳۲) دینو ری ، الا خبار الطو ال،ص۲۰۳
(۳۳) ابن کثیر ، البدایۃ والنہایۃ، ج۸،ص۱۶۳
(۳۴)تا ریخ طبر ی، ج۵ ، ص ۳۵۶۔۳۵۷،تا ریخ کامل، ج۲، ص ۵۳۵
(۳۵) ابن مسکو یہ ،تجا ر ب الامم ، ج۲، ص ۴۲، البدا یۃ والنھا یۃ، ج۸، ص ۱۵۲
(۳۶) سبط ابن جو زی ، تذکرہ الخواص، ص ۱۳۸
(۳۷) الکامل فی التا ریخ، ج۲، ص ۵۳۷
(۳۸ ) الکامل فی التا ریخ، ج۲، ص۵۴۵