Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، مومن، لوگوں کا مددگار ہوتا ہے، کم خرچ ہوتا ہے، اپنے معاش کے لئے اچھی تدبیریں کرتا ہےاور ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ مطالب السئول ص54، اصول کافی باب المومن و علاماتہ حدیث38، وسائل الشیعۃ حدیث20255

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

مکہ سے خروج

سوا ل ۴ : اما م حسینؑ نے حج کیوں نامکمل چھوڑ دیا اور اس وقت مکہ سے کیوں نکلے جب مراسم حج شروع ہو رہے تھے؟
جواب: اس سوا ل کے تا ریخی تجز یے سے پہلے اس نکتہ کو بیان کر نا ضرور ی ہے کہ فقہی طور پر یہ کہنا غلط ہے کہ اما م حسینؑنے اپنا حج نامکمل چھوڑ دیا کیونکہ اما م حسینؑ ۸ ذی الحجہ (یوم الترویہ) کے دن مکہ سے نکلے ۔(۱)جب کہ حج کے اعما ل ۹ ذی الحجہ کے دن مکہ سے احرام باندھ کر عرفات میں وقوف سے شرو ع ہوتے ہیں لہٰذا اما مؑ اصولاً حج کے اعما ل میں داخل ہی نہیں ہوئے تھے کہ ہم کہہ سکیں آپ نے حج کو نامکمل چھو ڑ دیا ، ہاں آپ نے مکہ میں ورودکے وقت عمر ہ مفر دہ انجا م دیا تھا اور چو نکہ آپ چند ماہ مکہ میں رہے ممکن ہے آپ نے اس دورا ن کئی دفعہ عمر ہ مفر دہ انجا م دیا ہو گا لیکن عمرہ مفردہ کی انجام دہی اعمال حج میں دخول شمار نہیں ہوتی، بعض دیگرروایات میں بھی آپ کی عمرہ مفردہ کے اعما ل کی انجام دہی بیا ن کی گئی ہے ۔ (۲)
تا ریخی نکتہ نظر سے یہ سوا ل بالآخر با قی ہے کہ جب مکہ کے انتخاب کی ایک وجہ یہ تھی
تا ریخی نکتہ نظر سے یہ سوا ل بالآخر با قی ہے کہ جب مکہ کے انتخاب کی ایک وجہ یہ تھی کہ اپنے نکتہ نظر کی تبلیغ کے لئے یہاں بڑا اچھا موقع تھا تو پھر کیوں اس وقت مکہ کو چھوڑا کہ جب پوری اسلامی مملکت سے حاجی مکہ ، عرفات اور منیٰ میں اکٹھے ہو چکے تھے تو آپ کے لئے تبلیغی طو ر پر بڑا مناسب موقع تھا ، آپ کے اس اچا نک فیصلے کے مختلف عوامل خلاصہ کے طو ر پر در ج ہو سکتے ہیں ۔

پہلا: جانی خطرہ کا احتمال

جب مختلف افراد نے آپ کو مکہ سے نکل کر کوفہ جا نے سے رو کا تو اما م نے جواُن سب لوگوں کو جوابات دیئے ان سے پتہ چلتا ہے کہ اما م سمجھتے تھے کہ مکہ میں مزید قیام کرنے سے ان کی جان کو خطرہ ہے ۔ جیسا کہ ابن عباس کو جو اب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا:
’’ مکہ کے علا وہ کہیں اور قتل ہو جا نا مجھے مکہ میں قتل ہو نے سے زیادہ پسند ہے‘‘(۳)
آپ نے عبداللہ بن زبیر کے جوا ب میں بھی فر ما یا:
’’خدا کی قسم اگر ایک بالشت مکہ سے با ہر قتل کیا جا ؤں یہ مجھے زیادہ پسند ہے بجا ئے اس کے کہ میں مکہ کے اندر مارا جا ؤں ، خدا کی قسم اگر میں کسی پرندے کے گھونسلے میں بھی چھپ جاؤں تب بھی مجھے وہاں سے باہر نکالیں گے تا کہ میں وہ مان جاؤں جو وہ چاہتے ہیں ‘‘(۴)
آپ نے اپنے بھا ئی محمد بن حنفیہ سے ملا قا ت میں صا ف لفظوں میں فر ما یا کہ :
’’یزید حرم امن الٰہی کے اندر میرے قتل کا منصو بہ رکھتا ہے ‘‘(۵)
بالآخر بعض کتا بوں میں یہ صاف لکھا ہے کہ یزید نے اما م حسین علیہ السلام کو مکہ میں قتل کر نے کے لئے حاجیوں کے روپ میں مسلح افرا د بھیج رکھے تھے ۔(۶)

دوسرا : حرم کی حرمت کی حفاظت

سابقہ جواب میں جو عبارات ذکر کی گئی ہیں ان میں امام حسین علیہ السلام کی طرف سے اس نکتے کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ:
’’میں نہیں چاہتا کہ میرے قتل سے حرم امن الٰہی کی حرمت پامال ہو ،اگرچہ اس گناہ کا ارتکاب کرنے والے اموی جاسوس ہوں گے‘‘
حضرت نے یہ بات عبداللہ بن زبیر سے کہی جو در حقیقت اسی کی طرف اشارہ تھا کہ ان کے مکہ میں رہ جانے کی وجہ سے یزیدی لشکر کعبہ و حرم کی حرمت توڑ دیں گے ، آپ نے عبداللہ بن زبیر کے جواب میں فرمایا ـ :
ان ابی حدظنی ان لہا کبشا بہ تستحل
حرمتھا فما احب ان اکو ن انا ذلک الکبش۔
’’میرے والد نے مجھے بتلایا کہ مکہ میں مینڈھا ہوگا جس کی وجہ سے اس کی حرمت توڑی جائے گی اور میں نہیں چاہتا کہ میں وہ مینڈھا بنوں ‘‘(۷)
(۱) وقعۃ الطف، ص ۱۴۷
(۲) عن الصا دقؑ: ان الحسین بن علی خرج یوم التر ویۃ الی العر اق و کان معتمرا ، وسا ئل الشیعہ ج۱ ، ص ۲۴۶،کتاب حج باب ۷ ، ابواب العمر ۃ ج ۲اور ۳
(۳) ابن کثیر، البدا یۃ والنھا یۃ، ج۸ ، ص ۱۵۹
(۴) وقعۃ الطف ،ص ۱۵۲
(۵) سید ابن طاؤس، لھوف، ص ۸۲
(۶) حوالہ سابق
(۷) ابن اثیر، الکامل فی التاریخ،ج۲ ، ص ۵۴۶