Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، اگر بندے زبان سے حق کی تعریف کریں اور اس پر عمل بھی کریں لیکن ان کا دلی عقیدہ یہ نہ ہو کہ وہ حق ہے تو اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا نورالثقلین ج3ص546حدیث87،بحارالانوارتتمہ کتاب الایمان والکفر باب24

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

مکہ کی طرف ہجرت

سوال ۳ : اپنے قیام کی ابتداء میں امام حسین علیہ السلام مدینہ سے مکہ کیوں تشریف لے گئے؟
جوا ب : امام حسینؑ کے مدینہ سے نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ یزید نے مدینہ کے حاکم ( ولید بن عتبہ) کو خط لکھا کہ میری حکومت کے مخالف افراد سے کہ جن میں سے امام حسین علیہ السلام بھی تھے ہر حال میں بیعت لی جائے اور بیعت کے بغیر انہیں بالکل نہ چھوڑا جائے۔ (۱)
ولید ایک صلح جو انسان تھا اپنی اس طبیعت کی وجہ سے وہ اگرچہ امام حسینؑ کے پاک خون سے اپنے ہاتھ رنگنا تو نہیں چاہتا تھا (۲) لیکن مدینہ میں اموی ٹولے کے دوسرے افراد جیسے مروان بن حکم موجود تھے اور ولید مشکل معاملات میں اس سے مشورہ کرنے کا پابند تھا، اس معاملے میں بھی اس نے مروان سے مشورہ کیا مروان لعین نے اسے اما م حسینؑ کے قتل کا مشورہ دیا ، جب ولید نے اس بارے مروان سے مشورہ مانگا تو اس نے کہا ، میرانظریہ یہ ہے کہ ابھی ان چند افراد کو بلا بھیجو اور انہیں یزید کی بیعت پر مجبور کرو اگر وہ مخالفت کریں تو انہیں معاویہ کی موت کے بارے میں مطلع ہونے سے پہلے قتل کر دو کیونکہ اگر انہیں مرگ معاویہ کی خبر ہو گئی تو ان میں ہر ایک ادھر ادھر نکل جائے گا اور وہاں جا کر مخا لفت کا اظہار کریں گے اور لوگوں کو اپنے اطراف اکٹھا کریں گے۔ (۳)
یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ نے مدینہ کے حالات کو علی الاعلان مخالفت کے اظہار کے لئے مناسب نہ پایا نیز اس شہر میں اپنی جان کو خطرے میں دیکھتے ہوئے جب کہ انہیں یہاں مؤثر قیام کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے تھے، آپ نے شہر مد ینہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور آپ مدینہ سے نکلتے وقت جس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے اس سے یہ بات بخو بی سمجھی جا سکتی ہے کہ اب آپ اس شہر میں اپنے لئے امن و تحفظ محسو س نہیں کررہے تھے، ابو مخنف لکھتا ہے کہ آپ ۲۷یا ۲۸ رجب کی رات اپنے خاندان کے ہمراہ مدینہ سے اس حال میں نکل رہے تھے کہ جیسے حضرت موسیٰ مدائن سے نکلتے وقت محسوس کررہے تھے:(۴)
فخرج منہا خائف یترقب قال رب نجنی من القوم الظالمین ۔(۵)
’’مو سیٰ شہر سے نکلے اس حال میں کہ خوفزدہ تھے اور ہر لحظہ کسی حادثے کے منتظر تھے، عر ض کیا خدایا مجھے اس ظالم قوم سے نجات دے‘‘

مکہ کا انتخاب

آپؑ نے مکہ کا انتخاب اس حال میں کیا کہ اکثر شہروں کے لوگ ابھی تک مرگ معاویہ سے مطلع نہیں ہوئے تھے اور مخالفین کی با قاعدہ کوششیں یزید کی مخالفت میں شروع نہیں ہوئی تھیں اور ابھی تک امام حسین علیہ السلام کو دوسرے شہر وں یعنی کو فہ وغیر ہ سے کوئی دعوت موصول نہیں تھی، لہٰذا امام حسین علیہ السلام کو اپنی ہجرت کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کرنا تھا کہ جہاں آپ ایک تو مکمل آزادی و فرصت کے ساتھ اپنے نظریات بیان کرسکیں اور دوسرا وہاں سے پوری اسلامی مملکت تک اپنی آواز پہنچا سکیں ، شہر مکہ میں یہ دونوں خصوصیات موجود تھیں کیونکہ صر یح آیت ’’ومن دخلہ کان امنا‘‘ (۶) کے مطابق مکہ حرم امن الٰہی تھا نیز اس شہر میں کعبہ کی وجہ سے لوگوں کا اسلامی مملکت کے گوشے گوشے سے آنا اور مناسک حج و عمرہ انجام دینا باعث تھا کہ امام حسینؑ مختلف لوگوں اور قافلوں سے ملاقاتیں کرتے اور یزید و اموی حکومت کے ساتھ اپنی مخالفت کی وجہ انہیں بیان کر سکتے تھے اورانہیں معارف اسلامی بھی بیان کر سکتے تھے، ا س کے ساتھ ساتھ اسلامی شہروں خصوصاً کوفہ و بصرہ کے مختلف افراد کے ساتھ رابطہ بھی کر سکتے تھے ۔(۷) اما م حسینؑ شب جمعہ ۳ شعبان سن ۶۰ ہجری کو مکہ میں وارد ہوئے اور ۸ ذی الحجہ تک اس شہر میں فعالیت میں مشغول رہے۔ (۸)
(۱) وقعۃ الطف ،ص ۷۵، اما بعد فخذ حسیناً و عبد اللّٰہ بن عمروعبداللّٰہ بن الزبیر با لبیعۃ اخذ اً شدیداً لیست فیہ رخصۃ حتی یبا یعوا والسلام
(۲) ابن اعثم ، الفتوع ،ج۵ ، ص ۱۲ ،وقعۃ الطف، ص ۸۱
(۳) وقعۃ الطف، ص ۷۷
(۴) وقعۃ الطف ، ص۸۵،۸۶
(۵) سور ہ قصص /۲۱
(۶) آل عمرا ن /۹۷
(۷) وقعۃ الطف، ص ۱۰۳۔ ۱۰۷
(۸) حوالہ سابق، ص ۸۸، فا قبل اھلھا یختلفون الیہ و یأ تو نہ ومن کا ن بھا من المعتمرین واھل الآ فاق