Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، ’’اللّٰہ‘‘ کے معنی ہیں جس کے بارے میں مخلوق حیران ہو اور اس کی طرف پناہ لی جائے اور ’’اللّٰہ‘‘ وہی تو ہے جو آنکھوں کے ادراک سے پوشیدہ اور وہم و گمان سے مخفی ہے التوحید باب 4، بحارالانوار کتاب التوحید باب6

باب الحوائج حضرت علی اصغر علیہ السلام

اہل بیت علیہم السلام کی ذوات مقدسہ طہارت و عصمت،منا بع نور اور معرفت کی کانیں ہیں۔اس خاندان بزرگوار سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ وہ سن صغیر کا مالک ہویا سن کبیر کا اپنی جگہ خورشید عصمت و طہارت ،تقویٰ ،شجاعت، شہامت اور قیامت تک مخلوق خدا کے لیے سرچشمہ ہدایت ہیں۔یہ عنوان بھی ایک ایسی معصوم ہستی کے بارے میں ہے جو سن کے اعتبار سے سفینہ کربلا میں سب سے چھوٹی تھی لیکن معرفت و ولایت کے اعتبار سے اکمل تھی اور کرب و بلا اایک ایسا سفینہ ہے جس میں ہر عمر سے تعلق رکھنے افراد کے لیے نمونہ عمل موجود ہےاور اس سفینہ کے مالک و سردار کا نام حسین ابن علی ہے جن کے بارے میں رسول ’’ماینطق عن الھویٰ‘‘ کے مصداق فرماتے ہیں:

’’ان الحسین مصباح الھدیٰ و سفینۃ النجاۃ‘‘(۱)

کربلا ظلم و ستم کے خلاف استقامت کا نام ہے۔

کربلا ظلمت کی تاریکیوں میں نور کا نام ہے۔کرب و بلا سرمایہ حیات ہے۔ کرب و بلا بشریت کے لیے نجات کی ضامن ہے۔

اس معصوم ہستی کے بارے میں لکھتےہوئےعاجزی دامن گیر ہے کہ کس طرح ن ہستیوں کے بارے میں لکھوں جن کی شان میں پورا قرآن ہو،جن کے لیے خدا وند متعال نے اپنے حبیب کو وسیلہ قرار دیا اور رسول معظم ﷺنے اپنی ظاہری حیات میں ان معصوم ہستیوں کاتعارف کروایااور اجر رسالت کے طور پہ ان سے محبت ومودت طلب کی۔

’وما اسئلکم علیہ اجراً الا المودۃ فی القربیٰ‘‘(۲)

بہرکیف چند الفاظ کاسہ گدائی میں رکھ کر اس معصوم باب الحوائج کی بارگاہ میں پیش کر رہا ہوں

سر نہم بر درب خسرو،گردہند اذنِ دخول باادب باید شوم وارد حریمِ اولیاء
اے خزینۂ خدائی!
اے گنجینۂ الہٰی!
یا بقیۃ اللہ فی خلق اللہ عزوجل
اے شہنشاہِ دوران!
اےامام زمان!

سلام اللہ علیک وعلیٰ آبائک الطیبین الطاھرین المعصومین

آپ ہر آن مائل بہ کرم ہیں،مجھ ایسے عاصیوں کا بھی آپ ہی بھرم ہیں۔آپ کی چوکھٹ پر ایک سوالی ہے۔جو ہے،جیسا ہے آپ کا ہی نام لیوا اور موالی ہے۔اے سرزمین کرب و بلا میں ناحق بہائے جانے والے مقدس خون کے وارث!اے روئے زمین پر رؤوف و کریم خاندان کے وحید فرد!اب آپ ہیں اور یہ عاصی، نگاہ کرم کا امید وار،

والدین کا تعارف

والد کا اسم گرامی امام حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابوطالب علیہ السلام بن عبد المطلب علیہ السلام ۔ امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں جن کے بارے میں حبیب خدا فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں:

الحسین منی و انا من الحسین(۳)

والدہ کا اسم گرامی جناب رباب بنت امر ءالقیس بن عدی بن اوس بن جابر بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھا۔آپ کی والدہ گرامی ہند الھنود دختر ربیع بن مسعود بن مضاد بن حصن بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھیں(۴) امر ء القیس جناب رباب ؑ کے والد گرامی دوستداران اہل بیت میں سے تھےاور جانتے تھے کہ بقا ء انسان اس میں مضمر ہے کہ وقت کےامام کی معرفت اور پہچان حاصل کی جائےاور بخاطر امام ہر قسم کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

ہشام کلبی لکھتے ہیں ؛ ’’و کانت الرباب من خیار النساء و افضلھن‘‘

جناب رباب سلام اللہ علیہا بہترین اور افضل ترین عورتوں میں سے تھیں۔اور جناب رباب کے والد گرامی عرب کے عظیم خاندان کے اشراف میں سے تھے کہ جن کی امام کے نزدیک بھی قدر ومنزلت تھی۔( ۶)

ابن اثیر لکھتے ہیں کہ جناب رباب (بعد از شہادت امام) کو دیگر قیدیوں کے ہمراہ شام لے جایا گیا جب واپس مدینہ پہنچیں تو اشراف قریش میں سے کئی افراد نے ان سے شادی کی خواستگاری کی لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا اور فرمایا:

’’

ما کنت لاتخذ حمو بعد رسول اللہ‘‘

رسولﷺ کے بعد میں کسی کو اپنا سسر نہیں بنا سکتی ۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک سال تک زندہ رہیں (ہر وقت نالہ وگریہ کرتی رہتیں تھیں) اور مکان کی چھت کے نیچے نہ جاتی تھیں (دھوپ میں رہتی تھیں) اسی وجہ سے بہت کمزور ہو گئیں اور رنج و غم کی حالت میں اس دنیا سے رحلت فرمائی۔امام حسین علیہ السلام کی جناب ربا ب ؑ سے دو اولادیں تھیں شہزادی سکینہ سلام اللہ علیہا اور شہزادہ علی اصغرؑ۔ امام علیہ السلام جناب رباب سلام اللہ علیہاسے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔ امام علیہ السلام کایہ شعر اس پر دلالت کرتا ہے

لعمرک اننی لاحب داراً
تکون بھا سکینۃوالرباب (۷)

’’مجھے تیری عمر کی قسم !میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ اور رباب ہوں‘‘

جب جناب رباب سلام اللہ علیہااپنے رشتے داروں سے ملنے جاتیں تو حضرت سکینہ سلام اللہ علیہاکو اپنے ہمراہ لے جاتیں تو حضرت امام حسین علیہ السلام ان دونوں کی مفارقت سے اداس ہو جاتے اور یہ شعر پڑھا کرتے تھے

کان اللیل موصول بلیلاذا زارث سکینۃ و الرباب (۸)

جب سکینہ اور رباب کسی (عزیز) سے ملنے جاتی ہیں تو راتیں متصل یعنی طویل ہو جاتی ہیں۔

سن مبارک

بعض مؤرخین اور مقتل نگار جن میں فضیل بن زبیر (جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہے) اور یعقوبی(۲۸۳ق م) کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے یہ فرزند بروز عاشورہ اس دنیا میں تشریف لائے۔(۹)

محمد بن سعد (۲۳۰) لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے اس فرزند کا سن مبارک تین سال تھا جس کو عقبہ بن بشر اسدی نے تیر مار کر شہید کیا تھا۔(۱۰)

بلعمی چوتھی صدی کا مؤرخ طفل صغیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس طفل کا سن مبارک میدان کربلا میں ایک سال تھا۔(۱۱)

مشہور شاعر کسانی مروزی اور چوتھی صدی کے دوسروں شاعر اس طفل صغیر کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ طفل کربلا میں ۵ ماہ کا تھا

آن پنج ماهه كودك بارى چه كرد ويحككز پاى تا به تاركمجروح شد مفاجا(۱۲)

مندرجہ بالا اقوال میں کوئی بھی وجہ جمعی نظر نہیں آتی لیکن مشہور قول ان اقوال کے علاوہ ہے ماہتاب امامت کے اس کران کی عمر کرب و بلا میں ۶ ماہ کی تھی اس قول کا مدرک و ماخذ فقط ایک کتاب ہے لیکن گزشتہ دو صدیوں سے اس قول کی اتنی تبلیغ ہوئی کہ آج ہر محفل، مجلس اور کسی بھی پروگرام میں جہاں جناب علی اصغر علیہ السلام کا نام آتا ہےاسی قول کی شہرت ہے اور یہی مشہور ہو گیا کہ یہ شہزادہ ۱۰رجب المرجب ۶۰ہجری کے حسین دن مدینہ منورہ جیسے عظیم شہر میں یہ پھول گلشن امام حسین علیہ السلام میں کھلا جس کی خوشبو سےپورا مدینہ مہک اٹھا۔ یہ امر اس قدر رواج پا گیا کہ آج تقویم شیعہ میں بھی یہی تاریخ ثبت ہو گئی اور آج پورے عالم تشیع میں اسی تاریخ کو شہزادے کی آمدپر جشن کے اہتمام کیےجاتے ہیں (۱۳)

اسم مبارک

معصوم کے اسم مبارک کے بارے میں دو مختلف روایتیں ملتی ہیں۔

۱۔ایک روایت کے مطابق آپکا اسم گرامی ’’علی‘‘ تھا۔(۱۴)

۲۔دوسری روایت کے مطابق آپ کا اسم گرامی ’’عبد اللہ‘‘ تھا۔(۱۵)

ارباب مقاتل کے درمیان زیادہ مشہور جناب عبد اللہ ہے(۱۶)۔

اس کی دو وجہیں بیان کی جاتی ہیں اولاً روایات میں یہ ملتا ہے کہ مولود اگر لڑکا ہو تو اس کا نام پہلے سات دن تک محمد یا علی رکھا جائےاور مولود اگر لڑکی ہو تو اس کا نام پہلے سات دن فاطمہ رکھا جائے۔(۱۷)

ثانیاً روز عاشورہ دو شہید ایسے تھے جن کا سن مبارک صغیر تھاجن میں سے ایک کا نام جناب علی اصغر علیہ السلام اور دوسرے معصوم کا نام عبد اللہ تھا ۔ بعض ارباب مقاتل نے دونوں شہزادوں کا ذکر کیا ہے(۱۸)

دوسرا قول زیادہ معتبر ہے کہ شہزادہ کا اسم گرامی ’’عبد اللہ‘‘ تھا لیکن پہلے قول کی تائید بھی کتب مقاتل میں ملتی ہے جیسے یزید ملعون نے امام زین العابدین علیہ السلام سے ان کے اسم کے بارے میں پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میرا نام ’’علی‘‘ ہے۔ جس پر وہ ملعون کہنے لگا وہ تو کربلا میں شہید کر دئیے گئے ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ میرے بھائی ’’علی بن الحسین ‘‘ تھے ۔ یہ ملعون کہتا ہے کہ کیا وجہ ہے آپ کے والد نے ہر بیٹے کا نام علی رکھا ہے؟ام ام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کیونکہ وہ اپنے والد محترم امام علی علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے جس کی وجہ سے اپنے ہر بیٹے کا نام علی رکھا ہے۔(۱۹)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہزادہ کا اسم گرامی علی تھا اگرچہ ارباب مقاتل کے درمیان شہرت جناب عبد اللہ کی ہے جیسا کہ امام زمانہ عجل اللہ الشریف نےزیارت قائمیہ میں اس شہزادہ کو عبداللہ کے نام سے تعبیر کیا ہےاورتصریح فرمائی ہے کہ بعد از شہادت اس شہزادے کا خون آسمان کی طرف پھینکا گیااور شہزادے کے قاتل کا نام حرملہ ملعون تھا۔(۲۰)

سفینہ نجات

قارئین محترم حبیب خدا کی اپنے نواسے امام حسین علیہ السلام سے محبت محض خونی رشتے کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ امام حسیں علیہ السلام کے فضائل و کمالات تھے جو خداوند متعال نے فرزند علی علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اس سفینے کا مالک و سردار یہی ذات حسین علیہ السلام تھی جنکا مختصر سا تعارف بزبان رسولﷺ کروایا ہے ۔ ۲۸رجب المرجب ۶۰ ہجری کو امام حسین علیہ السلام نے بقاء اسلام اور اسلام کی حیات کے لئے سفر کا آغاز کیااس سفر عظیم میں جہاں خاندان عصمت و طہارت کےدیگر افراد شامل تھےاس کاروان حریت اسلام میں جناب علی اصغر علیہ السلام بھی شامل تھے جبکہ آپ اس وقت صرف اٹھارہ دن کے تھے۔ یہ سفینہ اپنی منا زل طے کرتے ہوئےکربلاجیسے صحرا کی تقدیر بدلنے کے لئے ۲محرم ۶۱ہجری کوآ پہنچا۔ بقا ء اسلام، حیات اسلام اور تاریخ اسلام میں اس معصوم شہزادے کا خصوصی حصہ ہےجہاں پر بھی اسلام کی بات ہوگی اس معصوم کا ذکر ضرور ہو گا۔

حوالہ جات

۱۔ جوادمحدثی،فرہنگ عاشورہبہ نقل ازسفینۃ البحار،ج۱،ص۲۵۷۔۲۔سورہ شوریٰ،آیت مجیدہ۲۳۔
۳۔بحارالانوار،ج۴۳۔۴۔ مقاتل الطالبین،ص۸۹۔۵۔ تاریخ مدینہ ودمشق،ج۶۹،ص۱۱۹
۶۔قمقام زخار،ج۲،ص۶۵۴۔۷۔ مقات لالطالبین،ص۹۴۔۸۔ منتخب التواریخ،ص۲۴۳۱۔
۹۔کوفی اسدی،منقتل مع الحسین،ص۱۵۰۔۱۰۔ محمدبن سعد،ترجمہ الحسین ومقتلہ،ص۱۸۲۔۔
۱۱۔ابوعلی محمدبلعمی،تاریخنامہ طبری،ج۴،ص۷۱۰۔۱۲۔ذبیح اللہ صاحب کاری،سیریدرمرثیہ عاشورایی،ص۱۶۹۔
۱۳۔ مقتل ابومخنف،ص۱۲۹۔۱۴۔بحارالانوار،ج۴۵،ص۳۳۱
۱۵۔ شیخ مفید،ارشاد،ج۳،ص135. ۱۶۔اعلامالوریٰ،ص۲۵۱۔۱۷۔ وسائل الشیعہ ج۱۵،ص۱۲۵۔۱۸۔مناقب ابن شہرآشوب،
۱۹۔ال ملہوف،ص۲۰۲۔۲۰۔بحارالانوار،ج۴۵،ص۴۴۔