ur

دیگر ادیان و امام مہدی علیہ السلام

آسمانی کتابوں کی تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کے اچھے مستقبل اور باطل پر حق کی فتح کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔

۱۔ زرتشت:

زرتشتیوں کی مذہبی کتاب زند میں فسادات کے اختتام اور نیک لوگوں کی حکومت کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ اہریمنان کا لشکر ایزدان کے لشکر سے ہمیشہ جنگ کرتا رہتا ہے اور اکثر اہرمنوں کی جیت ہوتی ہے لیکن اس طرح نہیں کہ وہ ایزدان کا بالکل صفایا ہی کردیں کچھ دنوں کے بعد آسمان کے خدا اور مزد کی طرف سے اس کے بیٹے ایزدان کے پاس مدد آئے گی اور ان کی جنگ نو ہزار سال تک چلتی رہے گی اس کے بعد ایزدان کی جیت ہوگی اور اہریمن کا صفایا ہو جائے گا اہریمن کا اقتدار تو صرف زمین پر ہی ہے آسمان پر ان کا وجود نہیں ہے۔

جاماسپ نامہ میں لکھا گیا ہے کہ ہاشم کی اولاد سے ایک انسان زمین سے باہر نکلے گا جس کا سر پنڈلیاں اور جسم بڑا ہوگا اور وہ اپنے جد کے دین پر ہوگا…۔
اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ پر لکھا ہوا ہے کہ سب سے بڑا نجات دینے والا دین کو دنیا میں پھیلائے گا، بھوک مری کو ختم کرے گا ایزدان کو اہریمن کے ہاتھ سے بچائے گا اور دنیا کے تمام لوگوں کی تہذیب، فکر اور کردار کو ایک بنا دے گا۔

۲۔ ہندو:

شاک منی جو کہ ہندوؤں کا سردار ہے اور اس کے ماننے والے اس کو آسمانی کتاب کے ساتھ پیغمبر مانتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں آخری زمانے میں ایک روحانی کے جھنڈے کے نیچے سبھی مذہبوں کے ایک ہو جانے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔
اس نے لکھا ہے کہ دنیا کے خراب ہو جانے کے بعد آخری زمانے میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جو پوری دنیا کے لوگوں کا رہبر ہوگا، اس کا نام منصور ہوگا، وہ پوری دنیا پر حکومت کرے گا اور سب کو اپنے دین میں شامل کرلے گا۔

۳۔ زبور:

تمام اجسام کا خاتمہ ہو جائے گا اور اللہ کا انتظار کرنے والے زمین کے وارث بنیں گے ہاں کچھ وقت کے بعد کوئی جسم باقی نہیں رہے گا۔
اس کی جگہ کے بارے میں تم تامل کرو گے اور نہیں کر پاؤ گے۔ لیکن حلیم لوگ زمین کے وارث بنیں گے ……اور زمین پر ان کی وراثت ہمیشہ رہے گی۔

۴۔ توریت:

باغ میں ایک نیا درخت اگا ہے اس کی شاخیں اس کی جڑ سے پہلے پھولیں گی اور اللہ کی روح اس پر ٹھہرے گی وہ مسکینوں کے لیے عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور مظلوموں کے لئے زمین پر سچی حکومت کرے گا۔

۵۔ انجیل:

اپنی کمر کو باندھ لو اور اپنے چراغوں کو روشن رکھو اور رات میں اس طرح رہو جیسے کوئی اپنے مالک کا انتظار کرتا ہے……… کتنے خوش نصیب ہیں وہ غلام، جن کا مالک آنے کے بعد ان کو جاگتا ہوا پائے،…… پس تم بھی تیار رہو، کیونکہ انسان کا بیٹا اس وقت آئے گا جس کے بارے میں تمہیں گمان بھی نہ ہوگا۔

امام مہدی کا ذکر کتب آسمانی میں

حضرت داؤد کی زبور کی آیت ۴# مرموز ۹۷ میں ہے کہ آخری زمانہ میں جو انصاف کا مجسمہ انسان آئے گا، اس کے سر پر ابر سایہ فگن ہوگا۔ کتاب صفیائے پیغمبر کے فصل ۳ آیت ۹ میں ہے آخری زمانے میں تمام دنیا موحد ہو جائے گی۔ کتاب زبور مرموز۱۲۰ میں ہے جو آخرالزماں آئے گا، اس پر آفتاب اثرانداز نہ ہو گا۔ صحیفہ شعیب پیغمبر کے فصل ۱۱ میں ہے کہ جب نور خدا ظہور کرے گا تو عدل و انصاف کا ڈنکا بجے گا۔ شیر اور بکری ایک جگہ رہیں گے چیتا اور بزغالہ ایک ساتھ چریں گے شیر اور گوسالہ ایک ساتھ رہیں گے، گوسالہ اور مرغ ایک ساتھ ہوں گے شیر اور گائے میں دوستی ہوگی۔ طفل شیرخوار سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالے گا اور وہ کاٹے گا نہیں پھر اسی صفحہ کے فصل ۲۷ میں ہے کہ یہ نور خدا جب ظاہر ہوگا، تو تلوارکے ذریعہ سے تمام دشمنوں سے بدلہ لے گا صحیفہ تنجاس حرف الف میں ہے کہ ظہور کے بعد ساری دنیا کے بت مٹا دیے جائیں گے، ظالم اور منافق ختم کردیے جائیں گے یہ ظہور کرنے والا کنیز خدا (نرجس) کا بیٹا ہو گا۔ توریت کے سفر انبیاٴ میں ہے کہ مہدی ظہور کریں گے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے، دجال کو قتل کریں گے انجیل میں ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دجال اور شیطان کو قتل کریں گے۔ اسی طرح مکمل واقعہ جس میں شہادت امام حسین اور ظہور مہدی علیہ السلام کا اشارہ ہے۔ انجیل کتاب دانیال باب ۱۲ فصل ۹ آیت ۲۴ رویائے ۲#میں موجود ہے (کتاب الوسائل س۱۲۹ طبع بمبئی ۱۳۳۹ہجری)۔

دیگر مذاہب عالم اور وجود امام مہدی علیہ السلام:

مختلف کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریبا دنیا کے جملہ مذاہب اور عقلاء اس بات پر متفق ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک ایسی ہستی آئے گی جو دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف سے اس کرہ ارض کے بگڑے ہوئے معاشرے اور اخلاق کو درست کرے گی البتہ ایسی ہستی کا نام ہر مذہب و ملت نے الگ الگ بتایا ہے چنانچہ فاضل بروجردی نے کتاب ”نورالانوار“ مطبوعہ ایران میں بالتفصیل تحریر فرمایا ہے کہ آپ کے مختلف نام ہر مذہب و ملت میں الگ الگ لیے جاتے رہے ہیں نیز جملہ کتب کفار، توریت و زبور و انجیل و قرآن میں الگ الگ آپ کا تذکرہ موجود ہے جن کی نقل کتاب ”صراط السوی فی احوال المہدی“ میں بھی پیش کی گئی ہے مگر آپ کے مشہور نام قائم، مہدی، منتظر، صاحب الامر، حجت، برہان وغیرہ ہیں صحف ابراہیم میں آپ کا نام گرامی صاحب، زبور میں قائم، توریت میں اوقیل اور انجیل میں مہمیذ ہے، زرتشتی کتابوں میں خسرو اور بعض صحف آسمانی میں کلمة الحق تحریر ہے کتاب ”ہزارناموہند“ میں آپ کو لندیطار، برہمنوں کی وید میں منصور کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ عرفاء و صوفیاء میں آپ کا نام قطب مشہورہے۔ غوث آپ کا لقب خاص ہے اور صحرائی عرب بادیہ نشین آپ کو ابا صالح کے نام سے یاد کرتے ہیں اور آپ اسی نام سے زیادہ مشہور ہیں مگریہ طے ہے کہ نام کے فرق سے ذات و شخصیت میں کوئی فرق نہیں ہو سکتا۔

ولادت باسعادت:

اکثر علمائے اہلسنت اور کل علمائے شیعہ بالتصریح بیان کرتے ہیں کہ آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی علیہم السلام ہیں اور ابن شاذان کے حوالہ سے خود امام حسن عسکری علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ ولیٴ خدا اور حجت الٰہی و امام وقت میرے بعد میرا فرزند ہے جو پندرہ شعبان ۲۵۵ھ بروز جمعہ نزدیک طلوع صبح صادق سامرہ میں ختنہ شدہ پیدا ہوا، جس کے لیے غیبت ہو گی۔ غیبت کبری کے بعد وہ ظاہر ہوگا اور زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح پر کر دے گا جیسے کہ وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی۔
نوٹ : تفصیل کے لیے کتاب ”عرفان امامت“ ملاحظہ فرمائیں۔

حلیہ مبارک:

جارود بحوالہ باقرالعلوم روایت کرتے ہیں کہ جناب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب نے منبر پر ارشاد فرمایا، ایک مولود میری اولاد سے آخری زمانہ میں خروج کرے گا جس کا رنگ سفید مائل بہ سرخی، شکم اور رانیں چوڑی شانوں کی ہڈیاں بڑی اور پرگوشت، پشت پر دو خال ایک برنگ جلد دوسرا مثل خال پیغمبر، ان کے دو نام ہیں ایک پوشیدہ ایک ظاہر جو پوشیدہ ہے وہ احمد اور جو ظاہر ہے م ح م د۔
دیگر کتابوں کے حوالہ اور اقوال ائمہ کے خلاصہ سے آپ کی شکل و شمائل کاخلاصہ درج ذیل ہے جس کا یاد رکھنا ہر انتظار کرنے والے مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

امام زمانہ کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں میں آپ کا حلیہ مبارک رسول خدا کے مشابہ قرار دیا گیا ہے شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ مہدی، شکل و شباہت، خلق و خلق، شمائل و خصائل، اقوال و افعال میں میرے مشابہ ہوں گے۔ بعض علماء نے امام زمانہ کے حلیہ اور شکل و شمائل کے بارے میں مزید تفصیلات بیان کی ہیں جن کے مطابق آپ کا رنگ کھلتا ہوا گندمی، درمیانہ قد، چوڑی پیشانی، ابرو گھنے اور باہم پیوستہ، باریک اور کھڑی ہوئی ناک، روشن اور بڑی آنکھیں، نورانی چہرہ، داہنے رخسار پر ایک تل ہے جو ستارہ کی مانند چمکتا ہے۔ آپ کے دانت چمکدار اور کھلے ہوئے ہیں۔ زلفیں کندھوں پر پڑی رہتی ہیں۔