سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

سلمان فارسی المعروف سلمان محمدی ﴿ص﴾ کا مرقد مطہر شہر بغداد کے جنوب میں تیس کلومیٹر کے فاصلہ پر شہر مدائن میں ہے۔

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

یہ شہر دنیا کے قدیم اور تاریخی شہروں میں سے تھا کہ ساسانی بادشاھوں کی حکمرانی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﴿ص﴾ کی ولادت کے زمانہ میں ایران کا دارالخلافہ تھا۔ مدائن، ایک سر سبز شہر ہے، جو دریائے دجلہ کے ساحل پر واقع ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بغداد ۔۔۔ کوت کی اصلی سڑک ہے۔

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

پیغمبر اسلام ﴿ص﴾ نے جناب سلمان سے فرمایا:“ آج کے بعد اپنا نام سلمان رکھنا ”، اس لئے وہ اسی سلمان ، نام سے معروف و مشہور ھوئے۔

جناب سلمان کی قبر کے پاس اصحاب رسول اللہ اور امام زادوں کی مزید تین قبریں بھی ہیں، جن میں حذیفہ بن یمان، عبداللہ بن جابر انصاری اور طاہربن امام محمد باقر ﴿ع﴾ مدفون ہیں۔

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

جناب سلمان فارسی کی قبر کے نزدیک “ ایوان مدائن” واقع ہے، جس میں پیغمبر اسلام﴿ص﴾ کی ولادت کے دن شگاف پڑگیا تھا اور یہ شگاف معجزہ کے طور پر ابھی بھی موجود ہے۔

 

ایوان مدائن

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

یہ وہ ایوان ہے، جس میں، میلادالنبی ﴿ص﴾ کی شب شگاف پڑا اور اس کا ایک حصہ زمین بوس ھوگیا۔

“ ایوان مدائن” یا “طاق کسری” یا “تیسفون” ، مملکت عراق کے شہر مدائن میں واقع ہے اور دورہ ساسانیان کی ایک تاریخی اور مشہور عمارت ہے۔

اس محل کا سب سے اہم حصہ، اس کا صدر دروازہ ہے، جو ایک عریض اور بلند ایوان کی شکل میں، محل کی باہر کی طرف تعمیر کیا گیا تھا اور اس کے پیچھے مستطیل شکل کا ایک ہال واقع تھا۔ اس کے مرکز میں ہلالی شکل کا ایک محراب ہے ۔ عمارت کے مرکزی حصہ، جو اس محل کا اصلی حصہ ہے، کے دونوں طرف، راہرو، کمرے اور ہال ہیں جن کی چھت گنبد اور گہوارہ کے مانند تھی۔

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

اس محل کے اصلی ہال کی روشنی کے لئے ایک سو پچاس روشن دان بنائے گئے تھے۔ ایوان مدائن کا بڑا محراب، ایک سرے سے دوسرے سرے تک بنائی گئی لمبی دیواروں پر ستونوں کے بغیر قرار پایا تھا۔ اس محل کا اگلا ہلالی شکل کا بڑا حصہ، اصلی محل کا ایک حصہ ہے اور اس وقت بھی موجود ہے۔

“ کاخ تیسفون” کا روشن دان کے بغیر والا رخ چار طبقوں پر مشتمل تھا، اس کے اطراف کو چھوٹے چھوٹے محرابوں اور نیم ستونوں سے مزین کیا گیا تھا۔ اس کے بیرونی حصہ پر آشوری معماری کے آثار نمایاں ہیں۔

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

اس تاریخ عمارت کی اس نام گزاری کی وجہ، اس کا ایک بڑا ہال ہے، جس کے ہلالی محراب کے آثار ابھی بھی نمایاں ہیں اور یہ اس عظیم و تاریخی عمارت کا سب سے اہم حصہ تھا، اس قسم کے ہالوں کو ایوان کہتے تھے۔

رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت وقت خسرو اول انو شیروان اس محل میں حکومت کرتا تھا اور آنحضرت ﴿ص﴾ کی ولادت کی شب اس محل میں ایک شگاف پڑا اور اس کا ایک حصہ زمین بوس ھوکر نابود ھو گیا۔

اس محل کے تخت پر بیٹھنے والا آخری بادشاہ، خسرو پرویز تھا کہ اسی محل میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط اس کے ہاتھ میں پہنچا اور اس نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے۔ مدائن کو فتح کرنے کے بعد مسلمانوں نے اس محل کو نمازخانہ میں تبدیل کیا۔

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن

یہ پختہ اور خام اینٹوں سے بنی عمارت کے کچھ آثار، ١۴۰۰ سال کے حوادث سے گزرنے کے باوجود اس وقت بھی عبرت کدہ کے طور پر موجود ہیں ۔

محراب کے نیچے اصلی ایوان میں اس وقت بھی مٹی، پختہ اور خام اینٹوں کی ایک بڑی مقدار ملبہ کے طور پر پڑی ہے، اس سے معلوم ھوتا ہے کہ محراب کا ایک حصہ حال ہی میں گر گیا ہے۔

اس علاقہ کے عراقی حکومت کے فوجی حاکم کا کہنا ہے کہ: محراب کا یہ حصہ ٹروریسٹوں کی توپ کے گولہ سے گر گیا ہے۔ اس نے محراب کی دیوار کا اصلی عمارت کی دیوار سے متصل ھونے کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا: ایوان مدائن کی یہ عمارت، حالیہ برسوں کے دوران ہر سال پانچ سنٹی میٹر دھنس گئی ہے اور یہ جو شگاف نظر آرہا ہے اسی دھنس جانے کی وجہ سے ہے اور یہ شگاف ہر روز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس وقت اس کا، خوف ہے کہ شگاف کے بڑھنے کی صورت میں کہیں محراب زمین بوس نہ ھو جائے۔

سلمان فارسی کا مقبرہ اور ايوان مدائن