مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

یہ مسجد نجف اور کوفہ کے راستہ پر واقع ہے۔

مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

شہدائے کربلا کے مطہر سروں کو کربلا سے کوفہ لے جاتے ھوئے حضرت امام حسین علیہ السلام کے سر اطہر کو اس مسجد کی جگہ پر رکھا گیا تھا۔ روایت ہے کہ اس وقت یہاں پر ایک آواز سنی گئی جو اس اونٹ کے بچے [حنانہ] کے مانند تھی، جو اپنی ماں کو کھو دینے کے بعد نالہ و زاری کرتاہے۔

مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

ایک دوسری روایت میں کہا گیا ہے کہ امام علی علیہ السلام کو دفن کرنے سے پہلے آپ (ع) کے جسد مطہر کو چند لمحوں کے لئے اس جگہ پر رکھا گیا تھا اور زمین سے نالہ و زاری کی آواز سنائی دی تھی۔ اس لئے بعد میں اس جگہ پر ایک مسجد تعمیر کی گئی اور اس کا نام ” حنانہ” رکھا گیا۔

مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

بعض نے کہا ہے کہ یہ نام در حقیقت "حنا” سے لیا گیا ہے، جو عیسائیوں کا قدیمی چرچ تھا۔

مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

مسجد حنانہ میں ایک چھوٹا ضریح بھی ہے، یہ وہی جگہ ہے، جہاں پر امام حسین علیہ السلام کا سرمبارک رکھا گیا تھا۔

مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

مذکورہ بالا مسجد کے قریب ” الثویۃ” نامی ایک قبرستان ہے کہ اس میں امام علی علیہ السلام کے صحابیوں میں سے کچھ افراد مدفون ہیں۔

مسجد حنانہ۔ نجف اشرف ، عراق

امام صادق علیہ السلام نے اپنے کوفہ کے سفر کے دوران تین جگہوں پر توقف کرکے وہاں پر نماز پڑھی ہے، ان میں سے ایک جگہ یہی ہے۔ جب آپ (ع) سے اس کی علت پوچھی گئی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:” جب شہدائے کربلا کے مطہر سروں کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس کوفہ لے جایا جارہا تھا، امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو یہاں پر رکھا گیا ہے۔ "