مسجد جامع قروہ – ايران

مسجد جامع قروہ - ايران

مسجد جامع قروہ، ابہر کے مشرق میں قروہ نامی گاؤں میں تاریخی عمارتوں میں سے ایک عمارت ہے، جو دریائے ابہر کے کنارے پر تاکستان کی طرف واقع ہے۔ یہ مسجد، مسجد جمعہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ دورہ سلجوقی ﴿ پانچویں صدی ہجری﴾ کے آثار قدیمہ میں سے ہے۔ یہ مسجد چار محرابوں کی صورت میں تعمیر کی گئی ہے، اور ان پر گنبد واقع ہے اور اس کا ایک گنبد والا شبستان ہے اور اس کے علاوہ دو طرف خام اینٹوں اور پختہ اینٹوں کے شبستان بنے ھوئے ہیں اور ان کے اندرونی حصہ میں چونے پر نقاشی کی گئی ہے۔ یہ نقاشی نباتاتی شکل میں ہے اور اس مسجد کی معماری آل بویہ کے زمانہ کی معماری کے مانند ہے۔ اس کے محراب میں چونے کے برجستہ اور خوبصورت خط ثلت میں ایک کتبہ ہے اور اس کتبہ پر اس کی عبارت میں یہ لکھا گیا ہے کہ اس عمارت کی تعمیر ۴١۳ ہجری قمری میں شروع کی گئی ہے۔

مسجد جامع قروہ - ايران

اس عمارت کے حاشیہ پر ایک اور کتبہ ہے جو خط ثلت میں لکھا گیا ہے اور بہت ہی خوبصورت اور گراں بہا ہے۔ اس کتبہ پر اس مسجد کے مکمل ہونے کی تاریخ ۵۸۵ ہجری قمری لکھی گئی ہے۔

مسجد جامع قروہ - ايران

اس مسجد کا ایک عظیم گنبد ہے جو اینٹوں سے بنا ھوا ہے ۔ اس گنبد کے نیچے والی چھت چار گوشہ ہے اور اس کو خط کوفی میں لکھے گئے کتبہ سے مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کے محراب کا اوپر والا حصہ آل بویہ کے زمانہ کی معماری کی صورت میں بنا ھوا ہے اور اسے محراب نما مختلف شکلوں میں مزین کیا گیا ہے۔

مسجد جامع قروہ علاقہ ابررود ﴿بڑے دریا﴾ کی ایک تاریخی اور گراں قیمت عمارت ہے۔ اس مسجد کے شبستان مسجد جامع قزوین اور کابل کے شبستانوں سے قابل موازنہ ہیں۔ مسجد جامع قروہ ایک ہزار سال پرانی مسجد ہے اور قصبہ ابہر کے مشرق میں ١۸ کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔