مسجد شیخ انصاری – نجف اشرف ۔ عراق

امام خمینی (رہ) نے تیرہ سال تک اس مسجد میں تدریس کی ہے۔

   مسجد شیخ انصاری، شہر نجف اشرف کے محلہ "حُوَیش” میں واقع ہے۔ یہ مسجد شیخ مرتضی انصاری (رہ) کی مدد اور نظارت میں تعمیر کی گئی ہے۔

   یہ مسجد، حوزہ علمیہ نجف کے بزرگ اساتید، من جملہ سید محمد کاظم یزدی اور نجف میں جلاوطنی اور اقامت کے دوران امام خمینی (رہ) کی تدریس کا مرکز رہی ہے۔ اس مسجد میں امام خمینی (رہ) نماز جماعت پڑھانے کے علاوہ تدریس بھی کرتے تھے۔

   امام خمینی (رہ) اپنی جلاوطنی کے دوران تقریباً تیرہ سال تک نجف اشرف کے حوزہ علمیہ میں مسجد شیخ انصاری میں معارف اہل بیت (ع) اور فقہ کی بلند سطح پر تدریس کرتے تھے۔

   امام خمینی (رہ) نے خود غرض افراد کی طرف سے تمام مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود سنہ 1965ء میں اس مسجد میں درس خارج فقہ شروع کیا اور ان کی تدریس کا یہ سلسلہ عراق سے پیرس ہجرت کرنے تک جاری رہا۔

   فقہ و اصول میں امام خمینی (رہ) کے متقن مبانی اور معارف اسلامی میں ان کا تسلط اس حد تک تھا کہ مختلف افراد کی طرف سے روڈے اٹکانے کے باوجود دروس شروع کرنے کے تھوڑے ہی زمانہ کے بعد، ان کا حوزوی درس معیار و مقدار کے لحاظ سے نجف اشرف کے ایک نامور ترین درس میں تبدیل ہوا اور شاگردوں نے ان کے درس کا والہانہ استقبال کیا۔

 علوم دینی کے طلاب کی ایک بڑی تعداد ، من جملہ ایرانی، پاکستانی، عراقی، افغانی، ہندوستانی اور خلیج فارس کے ممالک کے طلبہ ہر روز امام خمینی (رہ) کے درس میں شرکت کرکے بہرہ مند ہوتے تھے۔

  اسی مسجد میں امام خمینی(رہ) نے پہلی بار ولایت فقیہ کے نظری مبانی پر کئی جلسات میں درس دیا۔

   حضرت امام خمینی (رہ) طلاب کو فارسی میں کتاب ولایت فقیہ بیان فرماتے تھے اور حتی کہ آیت اللہ شہید سید محمد باقر الصدر جیسے بزرگ علماء بھی اپنے شاگردوں کو امام کی تائید اور تقویت کی غرض سے ان کے درس میں شرکت کرنے کے لیےبھیجتے تھے۔

اس وقت بھی مسجد شیخ انصاری دینی علوم کی تدریس کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس وقت اس مسجد میں مقدمات، اور سطح 2،1 اور درس خارج کے کلاس تشکیل پاتے ہیں۔

  مسجدشیخ انصاری وقف ہے اور اس کے متولی آیت اللہ سید رضی الدین مرعشی ہیں جو نجف اشرف کے ایک مشہور عالم دین اور فقہ و اصول کے درس خارج کے استاد ہیں۔