کمیل بن زیاد نخعی کی آرام گاہ – نجف اشرف – عراق

کمیل بن زیاد نخعی یمانی، تابعین کی ایک عظیم شخصیت اور حضرت علی علیہ السلام کے شجاع اور وفادار صحابی تھے۔ علم رجال کے ماہرین نے ” شجاع”، ” زاہد اور عابد” جیسی صفات سے ان کی تعریف کی ہے۔ وہ اپنے زمانہ کے کوفہ کے آٹھ مشہور عابدوں میں سے ایک شمار ہوتے تھے۔

دعائے کمیل ، امام علی علیہ السلام کی یاد گار اور مشہور و معروف دعا ہے، جسے بہت سے مسلمان شب جمعہ میں پڑھتے ہیں۔ یہ دعا ” دعائے حضرت خضر” کے نام سے بھی مشہور ہے، اور امام علی (ع) نے کمیل بن زیاد کو اس کی تعلیم دی ہے۔ امام (ع)، کمیل سے فرماتے ہیں:” ہر شب جمعہ یا ایک مہینہ میں ایک بار یا سال میں ایک بار یا پوری عمر میں ایک بار اسے پڑھنا، خداوند متعال تمھارے لئے چارہ جوئی کرے گا اور تمھاری مدد کرے گا اور تجھے رزق دے گا اور تجھے مغفرت الہی حاصل ہوگی۔” اس کے بعد کمیل سے فرمایا: لکھدو:” اللّھم انی اسالک برحمتک الّتی وسعت کلّ شیء۔ ۔ ۔”

امام علی (ع) کی شہادت کے بعد، کمیل امام حسن مجتبی (ع) کے صحابی شمار ہوتے تھے اور آپ (ع) کے ساتھ تھے اور صلح امام حسن (ع) کے واقعہ میں مکمل طور پر امام (ع) کے مطیع اور فرمانبردار تھے۔

امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کے وقت کمیل مدینہ میں نہیں تھے۔ کمیل کو امام حسین (ع) کے زمانہ میں گرفتار کیا گیا اور کربلا کے واقعہ کے بعد تک عبیداللہ بن زیاد کے زندان میں تھے۔

انہوں نے زندان سے آزاد ہونے کے بعد کوفہ کے انقلابوں کے دوران حقائق کے سلسلہ میں افشا گری کی اور امام حسین (ع) کی خونخواہی میں مختار ثقفی کا ساتھ دیا اورامام (ع) کے قاتلوں سے جنگ کی۔

جب حجاج بن یوسف عراق کا والی بن گیا، تو اس نے امام علی (ع) کے صحابیوں کا تعاقب کیا۔ ایک دن حجاج نے ” ھیثم اسود” سے کمیل کا پتہ معلوم کیا تاکہ انھیں قتل کر ڈالے۔ اسود نے جواب دیا: وہ ایک بوڑھا ہے۔ حجاج نے کہا: میں نے سنا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان تفرقہ پھیلاتا ہے۔ اس کے بعد حکم دیا تاکہ کمیل کو گرفتار کریں۔ جب کمیل کو حجاج کے ارادہ کے بارے میں خبر ملی، تو کوفہ سے بھاگ گئے۔ جب حجاج انھیں پیدا نہ کرسکا، تو ان پر دباؤ ڈالنے کے لئے ان کے قبیلہ کے افراد کا بیت المال سے ملنے والا وظیفہ بند کیا، جب کمیل کو اس قضیہ کے بارے میں خبر ملی تو اس نے سوچا کہ اب میری زندگی کچھ سال سے زیادہ باقی نہیں بچی ہے، میں کیوں اپنے قبیلہ کے لئے روزی منقطع ہونے کا سبب بنوں! لہذا کوفہ میں داخل ہوئے اور دار الامارہ میں جاکر اپنے آپ کو پیش کیا، حجاج نے ان سے کہا: اے کمیل! میں نے تیرا کافی تعاقب کیا تاکہ تجھے سزادوں۔ جناب کمیل نے جواب میں کہا: جو چاہو کرو کہ میری عمر میں سے کوئی خاص مدت باقی نہ بچی ہے اور جلدی ہی میں اور تم خدا کی طرف پلٹنے والے ہیں، میرے مولانے مجھے خبر دی ہے کہ میرا قاتل تم ہوگے۔

اس وقت حجاج نے امام علی علیہ السلام کا نام لیا تو کمیل نے صلوات بھیجی ۔ حجاج نے غیض و غضب میں آکر ان کو قتل کرنے کا حکم دیا اور انھیں شہید کیا گیا۔

کمیل بن زیاد کو سنہ 82ھ  میں  نوے سال کی عمر میں شہید کیا گیا۔

کمیل کو شہید کئے جانے کے بعد سر زمین تویہ میں انھیں دفن کیا گیا۔ تو یہ، کوفہ کے اطراف میں ایک علاقہ تھا، جہاں پر خیرہ کے حاکم نعمان بن منذر کا زندان واقع تھا۔

اس علاقہ میں بہت سے صحابی اور بزرگ شخصیتیں مدفون ہیں کہ اس وقت ان کی قبروں کے نام نشان موجود نہیں ہیں۔ اس سرزمین میں سپرد خاک کئے گئے بعض شخصیتیں حسب ذیل ہیں:

1۔ خبّاب بن اَرَث: وہ صدر اسلام کے ایک بزرگ صحابی تھے۔ انھوں نے مکہ میں کافی تکلفیں اٹھائی ہیں، یہاں تک کہ مشرکین نے ان کی پشت کو جلادیا۔ وہ مہاجرین میں ایک فاضل شخصیت شمار ہوتے تھے، جنھوں نے جنگ بدر کو درک کیا تھا۔ انھوں نے جنگ صفین اور نہروان میں بھی شرکت کی تھی۔ وہ سنہ 39ھ میں فوت ہوئے ہیں اور امام علی علیہ السلام نے ان کی نماز جناز پڑھی ہے۔ امام علی علیہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں:” خداوندا خبّاب بن اَرَث کو رحمت کرے، وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوا اور فرمانبرداری کے عنوان سے ہجرت کی اور قناعت سے زندگی بسر کی، راضی بہ رضائے الہی تھا اور مجاہدانہ زندگی کی۔”

2۔ جویرة بن مسہر عبدی: ابن زیاد کے حکم سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئے گئے اور اس کے بعد کوفہ میں صلیب پر چڑھائے گئے۔

3۔ احنف بن قیص تمیمی: وہ جنگ صفین میں امام علی علیہ السلام کے صحابی تھے اور سنہ 67ھ میں کوفہ میں وفات پاگئے ہیں۔

4۔ سہل بن حنیف انصاری: وہ مدینہ منورہ میں امام علی علیہ السلام کے گورنر تھے۔ سنہ 38ھ میں کوفہ میں فوت ہوگئے اور امام علی علیہ السلام نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔

5۔ عبداللہ بن ابی اوفی:وہ  رسول (ص) کےبیعت رضوان کے  آخری صحابی تھے اور کوفہ میں سنہ 86ھ میں فوت ہوئے۔

6۔ عبداللہ بن یقطر: وہ امام حسین علیہ السلام کے رضاعی بھائی تھے، امام کی طرف سے کوفہ بھیجے گئے سفیر تھے۔ ان کو عبیداللہ بن زیاد نے قیس بن مسہر صیداوی کے مانند قصر کی چھت سے نیچے گرا کر شہید کیا۔

7۔ عبداللہ بن ابی رافع: امام علی علیہ السلام کے مخصوص کاتب تھے۔

اس وقت مذکورہ بزرگوں میں سے کسی ایک کی قبر معلوم و مشخص نہیں ہے اور صرف معروف و مشہور کمیل بن زیاد کا مقبرہ موجود ہے۔