مسجد کوفہ – عراق

عراق کے شہر نجف ا شرف کا ایک اہم زیارتی مقام مسجد کوفہ ہے، جو شہر کوفہ اور نجف اشرف کے جوار میں واقع ہے۔

یہ مسجد، شائد پہلی عمارت ہے جو اس شہر کے تشکیل پانے کے وقت تعمیر کی گئی ہے، کیونکہ جب سعد بن وقاص نے اس علاقہ کو مسلمان سپاہیوں کو مستقل طور پر مستقر کرنے کے لئے منتخب کیا، تو پہلا اقدام عبادت کے لئے ایک مسجد تعمیر کرنا تھا۔

انہوں نے پہلے ایک مسجد تعمیر کرنے کے لئے ایک مفصل اور جامع نقشہ کھینچا اور اسی بنا پر شہر کے مرکز میں مسجد کی سنگ بنیاد ڈالی۔ اس مسجد کی مساحت کو ایک تیر اندآز کی تیر اندازی سے معین کیا گیا اور اس نے چاروں طرف تیر پھینکے۔ اس کام کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس مسجد کے لئے ایک بڑا رقبہ مخصوص کرنا چاہتے تھے تاکہ اس علاقہ کے ساکن اور سپاہی ، جن کی تعداد چالیس ہزار افراد پر مشتمل تھی، نماز ادا کرنے کے لئے اس میں سما سکیں۔

مسجد کوفہ کی سنہ 1915 میں لی گئی ایک تصویر

یہ مسجد مربع شکل میں تعمیر کی گئی ہے اور اس کی دیواریں پست ہیں۔ اس کے اکثر حصہ پر چھت نہیں تھی۔ اس مسجد کی تعمیر کے دن سے سنہ 41ہجری تک ، عراق کے حاکم زیاد بن ابیہ نے اس کی تعمیر و ترقی کے لئے اقدام کیا ہے، لیکن مسجد میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔ اس دوران مسجد کی دیواریں مضبوط اور بلند تر کی گئیں اور اس کو تھوڑا بڑھا یا گیا، اس کے لئے ایک چھوٹا محراب تعمیر کیا گیا اور اس کے فرش پر ریت ڈال دی گئی ہے۔

مختلف ادوار میں، اس مسجد میں تعمیر نو اور مرمت ہوتی رہی ہے اور اس کی مساحت تھوڑی سی بڑھ گئی ہے، اس مسجد کی موجودہ عمارت چالیس ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہے کہ اس کے ضلعے بالترتیب 110، 116، 109اور116 میٹر لمبے ہیں اور مسجد کے تین اطراف میں زائرین کے لئے کمرے تعمیر کئے گئے ہیں۔ مسجد کی عمارت شمال سے جنوب کی طرف مستطیل شکل میں ہے اور تقریباً 21درجہ قبلہ، یعنی مغرب کی طرف ٹیڑھی ہے۔

   مسجد کے دروازے

اس مسجد کی تعمیر کے دن سے ہیاس میں داخل ہونے کے لئے متعدد دروازے بنائے گئے ہیں:

1۔ باب السدہ: حضرت علی(ع) اس دروازہ سے مسجد میں داخل ہوتے تھے۔

2۔ باب کندہ: یہ دروازہ مغرب کی طرف واقع ہے۔

3۔ باب الانماط: یہ دروازہ باب الفیل کے موازی ہے۔

4۔ باب الفیل یا باب الثعبان: یہ دروازہ شمال کی طرف واقع ہے، آج صرفیہی ایک دروازہ ہے جو اس زمانہ سے باقی بچا ہے۔ باب الفیل کے پاس ہی مسجد کا میناربھی ہے۔

مسجد کوفہ میں تعلیم و تربیت

مسجد کوفہ، اس کی داغ بیل ڈالنے کے دن سے ہی شہر کا ایک ثقافتی مرکز شمار ہوتی تھی۔ جب سنہ 36ھ میں امام علی (ع)کوفہ میں داخل ہوئے، سب سے پہلے مسجد کوفہ میں تشریف لئے گئے اور وہاں پر لوگوں سے خطاب کیا۔امام علی علیہ السلام نے کوفہ میں مستقر ہونے کے بعد مسجد کوفہ میں تفسیر قرآن اور دوسرے علوم کا درس دینا شروع کیا۔ کمیل بن زیاد اور ابن عباس جیسے بہت سے شاگرد آپ (ع) کے درس سے مستفید ہوتے تھے۔

مسجد کوفہ کے محراب اور مقا مات:      

محراب امیرالمؤمنین:

مسجد کوفی کا یہ محراب، وہ جگہ ہے، جہاں پر امام علی علیہ السلام کے فرق مبارک پر جہل و ستم کی تلوار کا ایک بزدلانہ وار کیا گیا کہ جس کے نتیجہ میں امام شہید ہوئے۔ مسجد کے اندر مذکورہ محراب کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ جو بھی اس مسجد میں داخل ہوتا ہے، وہ سب سے پہلے اس جگہ کی طرف دوڑتا ہے، جہاں پر حضرت علی (ع) عبادت کرتے تھے اور جہاں پر آپ (ع) نے شہادت پائی ہے۔ یہ محراب مسجد کے اندر دوسرے چھ محرابوں کے پاس زائرین کی خاص توجہ کا مرکز ہے۔ محراب امیرالمؤمنین (ع) جس کی حال ہی میں تعمیر نو کی گئی ہے، شبستان کی جنوبی دیوار میں واقع ہے۔ آج وہاں پر ایک دروازہ نصب کیا گیا ہے، جس کے اوپر یہ عبارت لکھی گئی ہے: ” ھذا محراب امیرالمؤمنین”۔

یہ محراب قبلہ کی طرف دیوار پر واقع ہے۔

محراب و مقام امام زین العابدین (ع):

یہ امام زین العاابدین (ع) کی عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کی جگہ ہے۔ یہ محراب صحن کے اندر دوسرے محرابوں اور مقامات کے پاس واقع ہے ۔

محراب امام صادق (ع)

یہ امام صادق علیہ السلام کی عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کی جگہ ہے۔

مقام خضر(ع)

یہ مقام حضرت خضر نبی (ع) کی عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کی جگہ ہے۔

دکة المعراج

مقام ابراھیم (ع)

سفیینة نوح

دکة القضاء: یہ چبوترہ مربع شکل میں ہے اور مسجد کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہاں پر امام علی (ع) لوگوں کے فیصلے کرتے تھے۔ خاص مواقع پر اس جگہ پر بٹھ کر فیصلے سناتے تھے۔

بیت الطشت:

یہ وہ جگہ ہے جہاں پر امام علی (ع) نے ایک کرامت دکھائی ہے۔ بیت الطشت ایک سرداب ہے جہاں تک پہنچنے میں دو سیڑھیاں طے کرنی ہوتی ہیں۔ بعض اہل ریاضت افراد اس سرداب میں وقت گزارتے تھے۔

مقام حضرت آدم (ع)

ایسا لگتا ہے کہ یہ مقامات مسجد کے ستونوں کی جگہ پر واقع ہیں۔

مسجد کوفہ کے جوار میں مقبرے:

مسلم بن عقیل:

مسجد کوفہ کی مشرق میں، امام حسین علیہ السلام کے سفیر حضرت مسلم بن عقیل کی قبر ہے، حقیقت میں یہ قبر دار الامارہ کے پاس مسجد کوفہ کی دیوار سے متصل واقع ہے۔ پہلے شخص جس نے اس قبر پر ایک عمارت تعمیر کی، وہ مختار بن ابی عبیدة ثقفی تھے۔

سنہ 368 ھ میں، آل بویہ کے زمانہ میں،عضد الدولہ نے بھی اس مقبرہ کو وسعت دیدی۔ سلطان اویس جلایری نے سنہ 767ھ میں اور صفوی بادشاہوں نے سنہ 1055 ھ میں اور قاجار بادشاہوں نے سنہ 1232ھ میں وہاں پر کچھ تعمیرات کی ہیں۔ دوسرے لوگوں میں، جنہوں نے اس مقبرہ کی تعمیر نو کی ہے، ان میں شیخ محمد حسین المعروف صاحب جواہر قابل ذکر ہیں، انھوں نے سنہ 1263ھ میں، لکھنو کے سلطان کی طرف سے اس کام کے لئے بھیجی گئی ایک مخصوص رقم سے اس پر ایک وسیع تعمیری کام انجام دیا۔ انھوں نے مسلم کی قبر پر ایک ضریح نصب کی۔

اس کے قریب ہی امام حسین (ع) کی دو بیٹیوں عاتکہ اور سکینہ کی قبریں بھی واقع ہیں، حالیہ برسوں کے دوران حضرت آیت اللہ حکیم اور بعض نیکو کاروں کی ہمت سے اس پر ایک نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے جو حرم اور رواق پر مشتمل ہے۔

ہانی بن عروة

ہانی بن عروہ امام علی (ع) کے صحابی ہیں، جنھوں نے امام (ع) کے زمانہ میں واقع ہوئی جنگوں میں شرکت کی ہے، انھوں نے مسلم بن عقیل کو پناہ دیدی تھی۔ سنہ 60 ہجری میں مسلم بن عقیل کے ہمراہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھوں شہید کئے گئے۔ امام حسین (ع) کے اس یار باوفا کی قبر مسلم بن عقیل کے حرم کے نزدیک واقع ہے کہ ان دونوں کی ایک مشترک عمارت اور مشترک صحن ہے۔ ہانی کی قبر پر ضریح کو ہندوستان کے مسلمانوں نے بنایا ہے۔ اس پر نیلے رنگ کی ٹائیلوں کا بنا ہوا ایک بڑا گنبد بھی ہے۔

مختار بن ابی عبیدہ ثقفی

قبلہ کی طرف، مسجد سے متصل، مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کا بقعہ اور مزار واقع ہے۔ مختار وہ شخصیت ہیں، جو عبیداللہ بن زیاد کی سپاہ سے کربلا کے شہیدوں کا انتقام لینے میں کامیاب ہوئے اور کوفہ کو ایک مدت کے لئے اپنے تسلط میں قرار دیا۔

مختار کا مقبرہ، مسلم بن عقیل کے حرم کے اندر واقع ہے اور دونوں پر ایک مشترک عمارت تعمیر کی گئی ہے۔

مختار کی قبر پر لکڑی کی بنی ہوئی ایک ضریح نصب کی گئی ہے اور اس کے مشرقی زاویہ میں مسجد کوفہ کی جنوب کی طرف ایک پنجرہ کھلتا ہے۔ ان کی قبر پر ایک پتھر ہے، جو دوسری صدی ہجری سے ہے اور اس پر خط کوفی میں لکھا گیا ہے: ” ھذا قبر مختار بن ابی عبیدہ الثقفی الآخذ بثارات الحسین”۔

آٹھویں صدی ہجری کے مشہور سیاح، ابن بطوطہ کہتے ہیں: ” قبرستان کوفہ کے مغرب کی طرف، مختار کی قبر کے قریب، سفید زمین پر ایک تیز سیاہ رنگ کی چیز نے ہماری توجہ کو جلب کیا، کہ لوگ کہتے تھے کہ یہاں پر ابن ملجم معلعون کی قبر ہے  اور کوفہ کے لوگ ہرسال لکڑی جمع کرکے سات دن تک اس قبر پر آگ جلاتے تھے”۔

مسجد کوفہ کے حدود کے باہر امام علی (ع) کی بیٹی اور حضرت عباس (ع) کی بہن خدیجہ کی قبر ہے۔