امام حسین (ع) امت محمدیہ کا مشترک سرمایہ ہیں۔

مولانا سيد ابوالاعلي مودودی رحمه الله عليه نے اپنے دوست محمد علی زیدی ایڈووکیٹ مرحوم کی رہائش گاہ واقع ٹیمپل روڈ لاہور پر مجالس عزا سے خطاب کیا، جس کی دو تقریریں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ اس سے مولانا کے روابط اور ان کی مشترکہ محفلوں میں شرکت کا اظہار ہے۔ ان مجالس میں آپ نے انہی خیالات کا اظہار فرمایا جو آج بھی فہم و شعور رکھنے والے پاکستانی کی آواز ہے کہ مکتب امام حسین (ع) کو رسم و رواج سے نکال کر عمل اور کردار میں ڈھالنا چاہیئے۔ اسی لیے وہ مقصد شہادت حسین (ع) پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہر سال کروڑوں مسلمان شیعہ بھی اور سنی بھی، امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ان غم گساروں میں بہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں جس کے لیے امام نے نہ صرف اپنی جان عزیز قربان کی، بلکہ اپنے کنبے کے بچوں تک کو کٹوا دیا۔ کسی شخصیت کی مظلومانہ شہادت پر اس کے اہل خاندان کا اور اس خاندان سے محبت و عقیدت یا ہمدردی رکھنے والوں کا اظہار غم کرنا تو ایک فطری بات ہے۔ ایسا رنج و غم ہر خاندان اور اس سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی کوئی اخلاقی قدروقیمت اس سے زیادہ نہیں ہے کہ اس شخص کی ذات کے ساتھ اس کے رشتہ داروں کی اور خاندان کے ہمدردوں کی محبت کا ایک فطری نتیجہ ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ امام حسین کی وہ کیا خصوصیت ہے جس کی وجہ سے 1320 برس گزر جانے پر بھی ہر سال ان کا غم تازہ رہے؟ اگر یہ شہادت کسی مقصد عظیم کے لیے نہ تھی تو محض ذاتی محبت و تعلق کی بنا پر صدیوں اس کا غم جاری رہنے کا کوئی معنی نہیں ہے اور خود امام کی اپنی نگاہ میں اس محض ذاتی و شخصی محبت کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے؟ انہیں اگر اپنی ذات اس مقصد سے زیادہ عزیز ہوتی تو وہ اسے قربان ہی کیوں کرتے؟ ان کی یہ قربانی تو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس مقصد کو جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے۔ لہٰذا اگر ہم اس مقصد کے لیے کچھ نہ کریں بلکہ اس کے خلاف کام کرتے رہیں تو محض ان کی ذات کے لیے گریہ کرکے اور ان کے قاتلوں پر لعن طعن کرکے قیامت کے روز ہم امام ہی سے کسی داد کی امید رکھ سکتے ہیں اور نہ یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ ان کا خدا اس کی کوئی قدر کرے گا۔ (1)

بشکریہ اسلام ٹائمز