امثال وحکم قرآنی

خداوند متعال نے اعلی عقلی مفاہیم کو مثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے تاکہ عام لوگ ان مفاہیم کو اپنی عقل کے تناسب سے سمجھ سکيں ۔ بنابرایں قرآنی مثالوں کا فلسفہ اعلی اور گہرے مسائل کو سادہ اور لوگوں کے عقل وفہم کے مطابق بیان کرنا ہے ۔

مثل یعنی حقائق علمی کو محسوس کی جانے والی چیزوں سے تشبیہ دینا ،اس تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے عقلی مسائل ہیں کہ اکثر لوگوں میں جنھیں سمجھنے اور درک کرنے کی طاقت اور صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے ۔ لیکن عادت کی وجہ سے محسوساتی اشیاء کو بہتر اور آسانی سے درک کرلیتے ہیں ۔، عقلی بحثوں میں توضیح وتفسیر کے سلسلے میں مثال کا کردار ناقابل انکار ہے اسی لئے حقائق کو واضح اور روشن اور انھیں ذھن سے نزدیک کرنے میں ہم ہمیشہ مثال کے محتاج ہیں کیونکہ کبھی ایک مثال دقیق اور مقصود سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ وضاحت کے بارے میں ایک کتاب کا کام کرتی ہے اور مشکل مطالب کو سب کے لئے عام فہم بنادیتی ہے ۔

مثل کےخوبصورت اور عام فہم ہونے کی وجہ سے تمام تہذیبوں نے استقبال کیا ہے اورہر ایک قوم کے نزدیک قابل قبول ہے اور ہر قوم کی تہذیب کی طاقت کی علامت ہے ۔ فارسی ادب میں بھی بارہا اس ادبی صنعت سے استفادہ کیا گیا ہے تاکہ مخاطبین پر اس کا ڈبل اثر پڑے ۔

مثال کبھی ایک عمل ہے اور کردار کی زبان سے اسے بیان کیا جاتا ہے اور عمل میں اس کے معنی پیدا ہوتے ہیں اور کبھی ایک لفظ ہے جو زبان پر جاری ہوتی ہے ،جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام کی سیرت میں ، کبھی عملی مثالوں کو دیکھا جاتا ہے کہ فطری طور اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے ۔ بطور مثال ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم اپنے اصحاب وانصار کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ان چھوٹے گنا ہوں کی طرف اصحاب کو متوجہ کردیں جن کے خطرات کی طرف لوگوں کی توجہ بہت کم ہوتی ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بے آب وگیاہ اور خشک بیابان میں اصحاب وانصار کو حکم دیا کہ تھوڑی سی لکڑی جمع کریں ۔ اصحاب نے عرض کی یا رسول اللہ اس بے آب وگیاہ اور خشک بیابان میں دور دور تک لکڑی کاکہیں بھی وجود نہیں ہے! آپ نے فرمایا که تلاش کرو ، تھوڑی ہی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو کافی ہے ۔اصحاب لکڑی کی تلاش میں نکلے اور ہر ایک نے تھوڑی دیر کے بعد مختصر اور تھوڑی بہت مقدار میں لکڑیاں جمع کیں اور لے آیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لکڑیوں کو ایک جگہ ڈال دیں ، جب ان تھوڑی بہت لکڑیوں کو ایک جگہ لاکر ڈال دیا گیا تو لکڑیوں کی ایک بڑا ڈھیر دکھائی دینے لگا ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں آگ لگادی ، آگ شعلہ ور ہوئی اور اس میں شدید حرارت پیدا ہوگئي اور اصحاب شدت حرارت کی وجہ سے وہاں سے دور ہوگئے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ گناہ بھی ان لکڑیوں کی طرح سے اکھٹا ہوجاتے ہیں ! بنابرایں چھوٹے گناہوں سے پرہیزکریں ۔

چھوٹے چھوٹے گناہ بھی ان لکڑیوں کی طرح جمع ہوجاتے ہیں اور اچانک آگ کے دریا میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، گناہان صغیرہ کے بارے میں سب سے بڑا خطرہ جے توجہی ہے جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملا اس مثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے۔

کیونکہ قرآن کریم ایک کتاب ہے اس لئے فطری بات ہے کہ اس کی مثالیں بھی لفظی ہیں ۔ قرآن کریم میں ضرب المثل کے بیان کی خاص علامت ہے جس سے آپ بہت زیادہ متائثر ہوتے ہیں اور اس مؤثر عامل سے قرآن کریم کو بہت زیادہ فائدہ پہونچا ہے ، بنیادی طور پر قرآن کریم نے اپنی اعلی تعلمیات کو مثال ، تشبیہ اور استعارہ کے ذریعہ بیان کیا ہے اور کبھی اس سے بھی بالا تر تخیلاتی اور نفسیاتی صورت میں بیان کیا ہے ، دعوت کے لئے ادبی اور فنی روش مؤثر اور ممکن ترین وسیلہ شمار ہوتی ہے ،قرآن کریم کی ہرایک مثال ایسے خوبصورت بورڈ کی مانند ہے جو مخاطبین کے سامنے بڑی مہارت کے ساتھ حالات کے مطابق نقشہ کھنچ دیتا ہے تاکہ خود انسان اپنی حیات کے خوبصورت اور برے مناظر کو دیکھر اس کے بارے میں فیصلہ اور خدا کی مہارت کا تصور کرے تاکہ قرآن کریم کے اعجاز کے بارے میں اسے دلیل قرار دیا جاسکے ۔

خداوندمتعال نے بعض اعلی عقلی مفاہیم کو م‍ثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے تاکہ عام لوگ ان مفاہیم کو اپنے فہم وادراک کے مطابق سمجھ سکیں بنابرایں قرآن کریم میں بیان کی گئیں مثالوں کا فلسفہ اعلی اورگہرے مفاہیم اور مسائل کو لوگوں کے فہم وادراک کے مطابق بیان کرنا ہے ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرما یا ہے کہ قرآن کریم پانچ چیزوں کی وجہ سے نازل ہوا ہے ۔: حلال ،حرام ۔ محکم ، متشابہ اور امثال کے لئے ، پس حلال پر عمل اور حرام سے پرہیز کریں ، محکم کی پیروی کریں اور متشابہ پر یقین رکھیں اور مثالوں سے عبرت حاصل کریں ۔

مختلف اور گوناگوں مثالیں دی جاتی ہیں جو مختلف اہداف ومقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں ،قرآن کریم کے اعلی و ارفع اور فصیح کلام میں جو کچھ ذکر ہوا ہے وہ تعقل ، فکر تذکر ، یاد دھانی اور نصیحت وعبرت حاصل کرنے کے لئے ہیں ۔ خدا وندمتعال نے مختلف مثالوں کو بیان کرنے کے ہدف کو مختلف آیات میں بیان فرمایا ہے ،چنانچہ سورہ ابراہیم کی پچیسویں آیت میں مثال بیان کرنے کے ہدف کو تذکر اور یاد دھانی قرار دیا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے یضرب اللہ الامثال للناس لعلہم یتذکروں ۔ خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید ہوش میں آجائیں ، سورہ حشر کی اکیسویں آیت میں بھی خدانے مثال بیان کرنے کے مقصد کو غور وفکر قرار دیا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے { وتلک الامثال نضربہاللناس لعلہم یتفکرون } ہم ان مثالوں کو انسانوں کےلئے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ کچھ غور وفکر کرسکیں، اسی طرح سورہ عنکبوت کی تنتالیسویں آیت میں مثال بیان کرنے کے مقصد کے بارے میں ارشاد ہوتاہے { وتلک الامثال نضربہا للناس وما یعقلہاالا العالملون } ہم ان مثالوں کو تمام عالم انسانیت کے لئے بیان کررہے ہیں لیکن انھیں صاحبان علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے ۔ مذکورہ آیات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان پر مثالوں کے اثرات کو تین مرحلوں میں سمجھا جاسکتا ہے ۔پہلا مرحلہ تذکر اور یادھانی کا ہے کہ جس میں پیغام الہی کی حقیقت کا ذھن دھرانا ہے،دوسرامرحلہ غور وفکر کا ہے کہ انسان میں مثال اور اس کی حکمت میں غور وفکر کرتا ہے ، تیسرا مرحلہ ادراک ہے کہ جس میں گہری فکر کے ساتھ حقائق کی شناخت اور ادراک ہوتا ہے ۔

ایران کے معروف عالم دین جاری اللہ زمخشری مثل کے بارے میں کہتے کہ کلام عرب میں دراصل مثل کے معنی مثل یعنی نظیر کے ہیں ، اعراب اور علماءکے نزدیک ضرب المثل کی شان اعلی اوراہم ہے کیونکہ اس میں مخفی اور پوشیدہ معانی سے پردے ہٹادئیے جاتے ہیں اور مبہم نکات کی وضاحت کی جاتی ہے تاکہ تخیلاتی امر واضح وروشن اور غائب ظاہرکی طرح عیاں ہوجائے ، اسی لئے قرآن کریم اور تمام آسمانی کتابوں میں مثالوں سے بہت زیادہ استفادہ کیا گیا ہے ۔

مثالوں کے بہت سے فوائد ہیں ، مثالوں کے ذریعہ عقلی مسائل محسوس کئے جاتے ہیں ، مطالب سب کے لئے عا م فہم ہوجاتے ہیں اور مسائل کے بارے میں یقین میں اضافہ ہوجاتا ہے ،سرانجام مناسب مثال سےہٹ دھرم لوگ خاموش اور کبھی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ بعض محققین نےقرآنی مثالوں کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کیا ہے اور سو سے زائد مثالوں کا تجزیہ وتحلیل کی ہے ، بلاشبہ قرآنی امثال معجزہ ہیں اور اس حقیقت تک پہونچنے کے لئے کافی ہے کہ ان کی ایک تعداد کا دقیق جائزہ لیا جائے ۔ چنانچہ ہم اگلے پروگرام میں قرآنی مثالوں کے نمونے پیش کریں گے تاکہ آپ مثالوں سے استفادہ کے بارے میں قرآن کریم کی فصاحت وبلاغت اور اہم نکات سے بہرہ مند ہوسکیں ۔