امامت و خلافت اور مہدویت کا زندہ مفہوم

(تحریر: محمد سجاد شاکری)

امامت و خلافت:
قرآن کریم میں جہاں امامت و ولایت کا لفظ امت کی وسیع رہبری اور قیادت کے معنی میں استعمال ہوا ہے وہاں خلافت کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں اکثر و بیشتر یہ کلمات شریعت اور الٰہی قوانین کے اجراء و نفاذ، حفاظت و پاسداری اور بیان و تفسیر کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں، لیکن تاریخ اسلام میں مسلمانوں میں آنے والے انحرافی بھونچالوں کے نتیجے میں لفظ خلیفہ مسلمانوں کے ایک گروہ اور امامت کا لفظ دوسرے گروہ کے ساتھ مختص ہو کر رہ گیا۔ ہم یہاں پر ان کلمات کے لغوی و اصطلاحی تعریفوں کی موشگافی اور تحقیق کرنا نہیں چاہتے، اور نہ ہی ہمارا مقصد ان دونوں میں سے کسی ایک فریق کو غلط ٹھہرا کر اپنا الو سیدھا کرنا ہے، کیونکہ اس موضوع پر بات کرنے والوں نے اتنی تفصیل سے بات کی ہے کہ اب ہمارے لئے کوئی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ ہم فقط یہی کہنا چاہتے ہیں کہ دینی اور قرآنی اصطلاحات کو اپنا من پسند معانی پہنانے کی بجائے ان کے اپنے اصل معانی میں استعمال کریں۔ کلمہ امامت اپنے آغاز سے ہی رہبری، قیادت اور لیڈرشپ کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور معنی کے مطابق قرآن نے ابراہیم کو امام کہا ہے اور ہمارے پیارے نبی ؐ بھی اپنی امت کا امام تھے۔ لہذٰا اسی بنیاد پر آپ کی وفات کے بعد بھی ایک ایسی ہستی کی ضرورت تھی جو اس عظیم امت کی امامت و رہبری کی ذمہ داری اٹھا سکے، جس کے لئے آپ نے اپنی زندگی میں ہی کافی و شافی ہدایات دے کر گئے تھے۔

آج کے انسان کے لئے امامت کا مسئلہ، نبوت اور رسالت کے مسئلے کی طرح فقط ایک تاریخی مسئلہ نہیں ہے کہ سابقہ انبیاء اور ہمارے آخری نبی حضرت محمد ؐ خدا کی طرف سے منتخب ہوئے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور اس دنیا سے چلے گئے اور ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ اس ماضی پر ایمان اور اعتقاد رکھیں کیونکہ انبیاء کے بعد نبوت کا دروازہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے۔ اب کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا، لیکن امامت، نبوت کی طرح نہیں ہے بلکہ امامت ہر دور کے ہر انسان اور اسلامی معاشرے کی ضرورت ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسلامی معاشرے خصوصا علماء اور دانشوروں نے مسئلہ امامت کی طرف فقط اور فقط ایک تاریخی مسئلے کی حیثیت سے نگاہ کی۔ وہ مسئلہ امامت کو مسئلہ نبوت کی طرح سمجھنے لگے لہذٰا اسی وجہ سے امامت اور خلافت کے مسئلے پر اتنی کثیر تعداد میں تحقیقات اور ریسرچز انجام پانے کے باوجود مولوی کی امامت ڈیڑھ انچ کی مسجد سے زیادہ وسیع نہ ہو سکی۔ ہم نظام امامت کے نفاذ کے لئے جدیت اور عقلمندی دکھانے کی بجائے امامت کے نام پر دیوانہ پن دکھانے لگے۔ ہم نے انسانیت اور خاص طور پر امت کی امامت و رہبری سنبھالنے کے لائق افراد کی تلاش اور پرورش کی بجائے امامت کے مسئلے پر جنگ و جدال اور خون خرابے کی فضا قائم کی۔ لہذا دور حاضر میں امامت کے پرستار، الحادی افکار و نظریات کے حامل، ظالم و جابر شخصیات اور پارٹیوں کی اقتدار کی کرسی کو مضبوط کرتے ہوئے نعرۂ حیدری کی صدا بلند کرتے ہیں تو ان لوگوں کی عقل پر ماتم کرنا ہی مناسب نظر آتا ہے۔ ایسے لوگوں کی عقل پر فاتحہ اس وقت پڑھنے کو من کرتا ہے جب وہ اسی ظالمانہ نظام کو بھی مانتے ہوئے مہدویت کے عقیدے کا بھی اظہار کرتے ہیں اور دن رات العجل العجل العجل کی دعا پڑھتے نہیں تھکتے۔

مہدویت:
قیامت سے پہلے عالمی سطح پر ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام حکومت کی برپائی اور دنیا کے ظالمانہ نظام سے انسان کی آزادی کا وعدہ خود خدا نے قرآن مجید سمیت تمام آسمانی کتابوں میں دیا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے: ’’اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بےبس اور کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں زمین کا پیشوا بنائیں اور انہیں وارث بنائیں‘‘(سورہ قصص، آیت ۵)۔ مذکورہ اصلاحی تحریک کے بانی اور عالمی نظام حکومت کے امام کو اسلامی روایات میں امام مہدی (عج) کے نام سے یاد کیا ہے لیکن امت اسلامیہ کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ جس مہدیؑ کے آنے کا وعدہ کیا گیا ہے کیا وہ ابھی تک پیدا ہوئے ہیں یا نہیں؟ اہلسنت کی اکثریت اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ مہدی موعود ابھی تک پیدا نہیں ہوئے ہیں لیکن شیعہ مکتب کے مطابق امام مہدی، پیغمبر اکرمؐ کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہراؑ کی نسل کے نویں فرزند حضرت حسن بن علی العسکریؑ کے گھر ۲۵۵ھ میں شعبان کی ۱۵ تاریخ کو جناب نرجس خاتون کے بطن سے اس دنیا میں تشریف لا چکے ہیں اور تقریبا ۵ سال بعد امام عسکریؑ کی شہادت کے فورا بعد آپ پردۂ غیب میں چلے گئے۔ خداوند عالم کی طرف سے اپنے اس نمائندے کو پردۂ غیب میں اٹھانے کے فلسفلے اور ظہور کے وقت کے مسئلے سے قطع نظر امام مہدیؑ کی غیبت کے دوران مسلمانوں پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں پر گفتگو کرنا زیادہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔

۱۔ انحراف سے دوری:
شیعہ در واقع اسی اسلام کے تسلسل کا نام ہے جسے محمد مصطفیٰ ؐ لے کر آئے تھے اور جسے امت تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ لہذٰا یہ تاثر غلط ہے کہ شیعہ اصل اسلام سے منحرف ہونے والا ایک فرقہ ہے بلکہ شیعہ اسی تسلسل کا نام ہے جسے بزرگ اصحاب رسول اللہ اور آئمہ ہدیٰ نے اپنے خون پیسنے سے برقرار رکھا۔ شیعہ نہ فقط انحرافی فرقہ نہیں بلکہ وہ مرکز و محور ہے جس سے لوگوں نے انحراف کیا ہے۔ جس کی واضح دلیل امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا وہ خط ہے جو آپ نے اہل مصر کے نام لکھا: "اللہ سبحانہ، نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کو ڈرانے والا اور تمام رسولوں پر گواہ بنا کر بھیجا، پھر جب رسول اللہ ؐ کی وفات ہوگئی تو ان کے بعد مسلمانوں نے خلافت کے بارے میں کھینچا تانی شروع کردی۔ اس موقع پر بخدا مجھے یہ کبھی تصور بھی نہیں ہوا تھا اور نہ میرے دل میں یہ خیال گزرا تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد عرب خلافت کا رخ اُن کے اہل بیت سے موڑ دیں گے اور نہ یہ کہ اُن کے بعد اُسے مجھ سے ہٹادیں گے۔ مگر ایک دم میرے سامنے یہ منظر آیا، کہ لوگ فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے دوڑ پڑے۔ ان حالات میں میں نے دیکھا کہ مرتد ہونے والے اسلام سے مرتد ہو کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کو مٹا ڈالنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اب میں ڈرا کہ اگر کوئی رخنہ یا خرابی دیکھتے ہوئے میں اسلام اور اہل اسلام کی مدد نہ کروں گا تو یہ میرے لئے اس سے بڑھ کر مصیبت ہوگی جتنی یہ مصیبت کہ تمہاری یہ حکومت میرے ہاتھ سے چلی جائے جو تھوڑے دنوں کا اثاثہ ہے۔” (نہج البلاغہ، خطوط ۶۲ ترجمہ مفتی جعفر حسین مرحوم)  شیعیت کی تاریخ اس بات سے پُر ہے کہ اس مکتب کے بزرگوں اور رہنماؤں نے ہمیشہ سے امت میں پیش آنے والے انحرافات کا مقابلہ کیا ہے۔ اور اس راہ میں اپنی جانیں پیش کرنے سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا ہے۔ پس آج بھی ایک حقیقی شیعہ ہونے کے ناطے امام مہدی کے منتظر کی بنیادی ذمہ داری خالص محمدی اسلام سے انحراف کا مقابلہ کرنا ہے نہ خود کبھی انحراف کا شکار ہو اور نہ ہی کسی کے دینی انحراف پر خاموش رہے۔

۲۔ دینی اقدار کی حفاظت:
شیعہ کو سب سے زیادہ دین کا محافظ اور پاسدار ہونا چاہیئے جیسا کہ ابھی ابھی امیر المومنین ؑ کا فرمان گزر گیا کہ آپ نے کس طرح کی حفاظت اور پاسداری کے لئے قربانیاں دی ہیں اور کربلا والوں کی قربانیاں تو دنیا کبھی بھلا بھی نہیں سکتی اور اس کے علاوہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی خلافت کا منصب دوسروں کے ہاتھ میں ہونے کے باوجود شیعوں نے ہمیشہ دین کی پاسداری کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ نہج البلاغہ کے خطبہ شقشقیہ اور مذکورہ بالا خط کے علاوہ آپ کے دیگر فرامین اور تاریخی روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ نے اپنا حق غصب کرنے کے باوجود بھی خلفائے وقت کا ساتھ دیا ہے تو فقط اور فقط اسلام کی بقا اور حفاظت کے خاطر۔ لہذٰا آج شیعہ لاشیں اٹھا کر بھی امت کی وحدت کی بات کرتے ہیں تاکہ امت کا شیرازہ اس سے بھی مزید بکھرنے سے بچائے رکھے، اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے امت کو آمادہ کر سکے۔

۳۔ عالمی نظام کے قیام کی تیاری:
خدا کے وعدے کے مطابق قیامت سے پہلے عالمی منظرنامے پر صالحین کی حکومت ظاہر ہو کر رہی گی، لیکن آج ہم اگر اس صالح نظام کے نفاذ اور قیام کی کوشش نہ کریں تو یہ کسی اور نسل کے نصیب میں آئے گا۔ ہمیں کم سے کم اس نظام کے لئے راہ ہموار کرنے والوں میں شمار ہونا چاہیئے اور یہ تب ممکن ہے جب ہم عالمی حکومت کے لوازم اور تقاضوں کو جانیں اور ان کے حصول کے لئے کوشاں ہوں۔ ایک عالمی حکومت کے لئے عالمی نظام تعلیم، عالمی نظام اقتصاد، عالمی نظام قدرت اور آخر میں عالمی نظام سیاست کی ضرورت ہے۔ اسلام میں ان تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس کے آج مغربی مفکرین بھی قائل ہیں۔ عالم سطح پر اشتراکی اور سرمایہ داری نظام کی شکست کے بعد بشریت کے پاس اسلامی نظام کی آزمائش کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ بھی نہیں ہے، جس کا عندیہ بہت سارے مشرقی اور مغرفی مفکرین دے بھی چکے ہیں، لیکن ان تمام ضروریات اور تقاضوں کو دیکھتے ہوئے آج کی اسلامی دنیا اور اس کی حالت زار پر نظر ڈالتے ہیں تو مجھ جیسے ایک منتظر کو ظہور کا زمانہ نزدیک نظر آنے کی بجائے بہت دور نظر آتا ہے کیونکہ ہم ابھی تک اس نہج اور مقام پر اپنے آپ کو پہنچانے کی کوشش ہی نہیں کر رہے ہیں جس پر پہنچنے کے بعد عالمی صالحانہ نظام امامت قائم ہوگی۔ پس اگر ہم جلدی ظہور کے خواہش مند ہیں اور اگر چاہتے ہیں کہ دنیا میں وہ عالمی نظام عدل نافذ ہو، جس کا بشریت صدیوں سے انتظار کر رہی ہے تو ہمیں ان میدانوں میں اپنے آپ کو مسلح کرنا پڑے گا۔

ہم اپنے محلے، علاقے اور ملک کی سطح پر ایک کامیاب نظام تعلیم بنانے اور اس کو چلانے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر امام زمانہ کی حکومت کے عالمی نظام تعلیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ہم اپنے علاقے، قوم اور ملک کی سطح پر ایک کامیاب اسلامی اقتصادی نظام کو چلانے میں کامیاب ہو جائیں تب جاکر عالمی عادلانہ حکومت کے عالمی نظام اقتصاد کو ہضم کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے محلے اور ملکی سطح پر اتنے قدرت مند ہو جائیں کہ ہر شام ہمیں کسی کی میت کو لئے سڑک پر احتجاج کرنے کی ضرورت نہ پڑے، تب ہم امام زمانہ کی حکومت کے نظام قدرت کا جزء بن سکتے ہیں۔ ہم اپنے شہر، صوبہ اور ملک کی سطح پر ہی صحیح کوئی عادلانہ نظام سیاست قائم کرنے اور ظالمانہ نظام سیاست کی بیخ کنی کرنے میں کامیاب ہوجائیں تب جا کر ہم امام زمانہ کے عالمی عادلانہ نظام سیاست کا حقیقی منتظر کہلا سکتے ہیں۔ ورنہ مرحوم شہید سبط جعفر زیدی کے اس شعر کا بھی ہم جواب نہیں دے پائیں گے۔
العجل جو کہتے ہو، آگئے تو کیا ہوگا…؟