امامِ زمانہ عجل اللہ کیساتھ ارتباط کی معنویت

(تحریر: فدا حسین بالہامی)

کسی بھی شخصیت کے ساتھ رابطہ استوار کرنے کے لئے چار بنیادی چیزوں کو پیشِ نظر رکھنا نہایت ہی لازمی ہےاور وہ بنیادی امور کچھ یوں ہیں۔
۱۔اس شخصیت کا قد و قامت اور اسکی حیثیت سے کماحقہ شناسائی۔
۲۔ محبوب و مطلوب شخصیت کا مشن اور ہدفِ زندگی کو ملحوظِ خاطر رکھنا ۔
۳۔شخصیت کے اعتبار سے شایانِ شان ارتباطی وسائل ۔
۴۔ اپنے آپ کو ارتباط و انسلاک کے قابل بنانا۔

معرفتِ صاحب العصر ۔۔۔ پیش منظر اور پس منظر:
امامِ زمانہ کے ساتھ رابطہ استوار کرنے کے لئے بھی ان بنیادی اور لازمی شرائط کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے رابطے کے لئے اولین شرط معرفتِ امام ہے۔ معرفت بھی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ہو کیونکہ سطحی معرفت کی بنیاد پر کوئی بھی فرد مطلوبہ شخصیت کے قرب اور نزدیکی کی جس قدر تگ و دو کرے اسی قدر وہ اس سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ باالفاظ دیگر اس صورت میں نتیجہ بالکل برعکس برآمد ہو گا۔۔ قاعدہ کلیہ ہے کہ’’ کُل‘‘ کو مدنظر رکھ ہی ’’جُز‘‘ کی تعریف ہو سکتی ہے۔ اس لحاظ سے امام مہدی کی معرفت اس تصورِ امامت سے آشنائی کے بغیر ممکن ہی نہیں، جس امامت کے وہ رکنِ رکین ہیں۔ گہری نظر سے دیکھا جائے تو تمام اماموں کی حیات، فرمودات اور کارنامے آپس میں مربوط و منضبط ہیں، لہٰذا کسی بھی امام کا حقیقی عرفان اسوقت تک غیر ممکن ہے کہ جب تک دیگر اماموں کی حیاتِ طیبہ پیشِ نظر نہ ہو۔ دراصل امامِ زمانہ اسی دین و نظام کو نافذ کرنے کے لئے ظہور فرمائیں گے جس نظام کی ترویج و اشاعت پر تمام انبیاء اور امامانِ برحق نے اپنی پوری زندگی صرف کی بلکہ یوں کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ولی العصر ما قبل اماموں اور نبیوں کی آرزووں اور تمناووں کو پورا کرنے پر مامور ہوں گے۔ وہ انہی کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کریں گے۔ نیز ان رکاوٹوں کا مکمل طور پر قلع قمع کریں گے جن رکاوٹوں کا سامنا دیگر اماموں کو اپنے اپنے زمانے میں کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر امام مہدی (عج) جو حکومتِ الٰہیہ تشکیل دیں گے وہ ان ہی خطوط پر استوار ہو گی کہ جن کی نشاندہی خود رسولِ اکرم ؐ نے مدینے میں ایک ریاست قائم کر کے کی تھی، نیز بعد ازاں جو حکومتِ علوی نے معین و مشخص کئے تھے۔ المختصر امام شناسی کے اس اصول کو ایک مثال کے ذریعے بھی واضع کیا جا سکتا ہے کہ بالفرض کوئی قاری چند ایک منضبط اور مربوط ابواب پر مشتمل کتاب کسی ایک باب کو پڑھ کر کماحقہ سمجھنے کی خواہش رکھتا ہو تو اس کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس کتاب کے تمام ابواب کا مطالعہ کرے۔ ٹھیک اسی طرح کتابِ امامت کے آخری باب کو ذہن نشین کرنے کے لئے لازمی ہے کہ اس کتاب کے مقدم و موخر پر نظرہو اور تمام مبادیات کے پیشِ نظر ہی کسی مخصوص باب کے متعلق صحیح نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

عرفانِ امام اور مشن امام:
دوسرا اہم نکتہ امام کی معرفت کے حوالے سے یہ ہے کہ صاحب العصر کی رفیع الشان شخصیت کی معرفتِ کاملہ ہر کس و ناکس کے لئے ممکن نہیں ہے تاہم ہر نام لیوا کے لئے ضروری ہے کہ وہ بقدر ظرف و بساط اپنے امام سے واقف ہو۔بصورتِ دیگر اس کی زندگی جہل پر مبنی ہو گی اور اس کی موت بھی جہالت کی موت ہو گی۔ بلند مرتبت شخصیات کو جاننے کے لئے بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ ان شخصیات کے منصب اور مشن سے متعلق تمام ضروری معلومات حاصل کی جائیں۔ چنانچہ امام زمانہ کے منصب و مشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان ہی کے وجودِ بابرکت سے نظامِ الٰہی اس کی اصل صورت میں کاملاً نافذ ہوگا اور ابلیسی نظام کا جنازہ نکلے گا، انسانیت کا بول بالا ہوگا، درندگی اور وہشت و بربریت کا خاتمہ ہوگا۔ مظلومیت کی ٹوٹتی ہوئی آس و امید میں دوبارہ جان پڑ جائے گی۔ عالمی استعماریت کی ناک میں نکیل ڈال دی جائے گی۔ بگڑی ہوئی کائنات میں پھر سے توازن پیدا ہوگا۔ امن و امان کو فروغ، اور فتنہ و فساد برطرف ہو گا۔ ایک صالح معاشرہ وجود پذیر ہو گا تمام تر معاشرتی اور معاشی نا ہمواریوں کی جگہ معاشی و معاشرتی انصاف اپنے پورے جوبن پر نظر آئے گا۔ ماحولیاتی عدم توازن کا خاتمہ ہوگا۔ صلاحیتوں کو ابھارنے کے لئے ایک بہتریں اور متوازن ماحول فراہم ہوگا۔ موقع پرستی، ابن الوقتی چاپلوسی، اور شخص پرستی کے رائج الوقت سکہ کی اہمیت ایک کھوٹے سکے سے زیادہ نہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ پوری انسانیت بلکہ پوری کائنات کسی نہ کسی صورت میں امام کی منتظر ہے۔ اور ہر چاہنے والا اپنے امام سے ملاقات و ارتباط کا خواہاں ہے۔

امامِ زمان سے رابطہ کے اصل وسیلے:
رابطہ اور ارتباط کے حوالے سے وسائلِ ارتباط کی تلاش بھی ان لوازمات میں سے ہے جن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی ہے، اگرچہ موجودہ دور میں رسل و رسائل اور ابلاغ و ترسیل کے و سائل کی بھرمار ہے کہ جسے ایک شخص سینکڑوں میل دور دوسرے شخص کے ساتھ بآسانی اور چٹکیوں میں رابطہ استوار کر سکتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ان وسائل میں سے کوئی بھی وسیلہ امامِ زمانہ کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں گارگر نہیں ہے۔ یہاں پر ایک نہایت ہی اہم اور جواب طلب سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام کے ساتھ ارتباط کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا مسافتی فاصلوں کو کم کر کے امام تک رسائی ہی ارتباط کہلایا جائے گا؟۔چنانچہ اس صورت میں امام کی جائے سکونت کا پتہ لگانا اولین وظیفہ قرار پائے گا جو فی الوقت خارج از امکان ہے اور پھر ضروری نہیں ہے کہ زمانی یا مکانی قرب معنوی قرب کا پیش خیمہ بن جائے اور یہ قرب زمانۂ غیبت میں ایک امرِ محال نہیں تو امرِمشکل ضرور ہے، بلکہ امام کے ظہور کے بعد بھی یہ توقع رکھنا بعید از حقیقت ہے کہ امام کا ہر چاہنے والا مکانی قرب سے فیض یاب ہوگا۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ بعدِ ظہور جو لوگ مکانی اعتبار سے امام کے نزدیک نہ ہوں وہ دور ہوں گے اور جنہیں مکانی قرب حاصل ہو وہ امام کے مقرب ہوں گے، بعض اوقات ساتھ ساتھ چلنے والا دور ہوا کرتا ہے اور آنکھوں سے اوجھل شخص قربِ معنوی سے سرشار ہو۔ اس بات کا ثبوت حضرتِ اویسِ قرنی کے والہانہ عشقِ رسول سے بھی ملتا ہے گو کہ حضرت اویسِ قرنی آنحضرت سے زندگی بھر مکانی اعتبار سے قریب نہ ہوئے لیکن وہ معنوی اعتبار سے نہایت ہی قریب تھے۔ اس حقیقت کو حکیم سنائی نے عمدہ پیرائے میں بیان کیا ہے ؂
گرفت چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا
یعنی حرمِ پاک سے بہت دور چینیوں نے احرام باندھ لیا ہے اور اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے نکل چکے ہیں لیکن مکہ میں بود و باش رکھنے والے ہنوز خوابِ غفلت میں مست ہیں۔ حکیم سنائی کے اس مصرعے کو اگر موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے سنائی نے یہ مصرعہ دورِ حاضر کے عالم علی الخصوص عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں کہا ہو۔ اس بات میں شک و تردد کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ فی زمانہ بذعم خود خادم الحرمین کہلانے والے مکانی اعتبار سے جس قدر قریب ہیں اس سے ہزار گناہ زیادہ وہ معنوی اعتبار سے دور ہیں۔ اس مسئلے کی وضاحت ضمناً اس وجہ سے کرنا پڑی کیونکہ امام کا قرب چاہنے والوں میں سے ایک بڑی تعدادان لوگوں کی ہے جو اسی زمانی اور مکانی ارتباط کے خواہشمند ہیں۔ ان کی بس اور بس یہی آرزو ہے کہ جب امام ظہور فرمائیں گے تو وہ ان کے ہمرکابی میں اپنی زندگی کے لمحات گزاریں۔ جہاں امام رہیں وہ بھی وہیں پر بوریا بسترہ ڈال دیں اور جن راہوں سے ولی العصر گزریں وہ بھی ان ہی راہوں سے ان کی معیت میں گزریں۔ فرض کریں تمام عاشقان امام اپنے امام کے اردگرد جمع ہوں تو کیا ایک غیر ضروری بھیڑ بھاڑ نہیں ہو گی؟۔

مہدوی انقلاب کے متعلق ایک ناقص تصور:
جیسا کہ عمومی تاثر یہی ہے کہ امامِ زمانہ محض اپنے دشمنوں سے جنگ و جدل کے لئے تشریف لائیں گے، اس سے انقلاب مہدی کی ہمہ جہتی اور عالمگیریت مجروح ہوئی ہے۔ دراصل انقلابِ مہدی (عج) عالمگیر اور ہمہ جہت انقلاب ہو گا۔ تمام شعبہ ہائے زندگی اور جہاں کے شش جہات منقلب ہوں گے۔ انسان کی رفتار و گفتار میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ اقتصادی، معاشرتی اور تعلیمی نظام یکسر متغّیر ہوگا۔ ماحولیاتی توازن پھر سے بحال ہوگا۔ قدرتی وسائل کے حصول اور استعمال کے بارے میں جتنے بھی اصول اس وقت دنیا میں ہیں ان کی کایا پلٹ ہو گی۔ غرض دنیا میں ہر اعتبار سے انقلاب آئے گا۔ سب سے بڑی اور اہم تبدیلی فکری دنیا میں برپا ہو گی، بلکہ بقولِ علامہ اقبال عالمِ افکار تہہ و بالا ہوگا۔
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالمِ افکار

فکری انقلاب بنیادی مقصد:
یقینا انسانی معاشرے کے لئے فکری بحران سب سے بڑا بحران ہوا کرتا ہے کیونکہ کسی بھی قسم کی پستی، پست فکری کا ہی نتیجہ ہوتی ہے۔ اس لئے جن ہمہ جہت بحرانوں سے اس وقت دنیا جو جھیل رہی ہے اس کا اصل سبب وہ فکری بحران ہے جس کا شکار عالمِ انسانیت ہوئی ہے اور امامِ زمانہ بھی اسی بنیادی سبب کو سب سے پہلے دیکھ لیں گے اور نئی دنیا تعمیر کرنے سے پہلے فکری بنیادوں کو تعمیر کریں گے۔ بقول علامہ اقبالؒ

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

چنانچہ یہی فکری انقلاب ہی تمام انقلابات کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور سوچ و فکر کی تبدیلی کے بغیر جب کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں تو کس قدر بے تکی بات ہے کہ ہمارے قلب و ذہن فرسودہ افکار و خیالات اور گھسے پٹے احساسات سے مملو ہوں اور اس کے باوجود ہم انقلابِ مہدی کے منتظر بھی ہوں۔ فرسودہ خیالات و توہمات اور انقلابِ مہدی کے مابین ہم آہنگی ممکن ہی نہیں ہے۔ پس اس سے پہلے کہ ہم امام کے ساتھ ارتباط اور تعلق پیدا کرنے کی آرزو ظاہر کریں، ہمیں ہر طرح کی فرسودگی سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا۔ اس لحاظ سے امامِ زمانہ کے ساتھ رابطے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جب امام ظہور فرمائیں گے تو ہم جا کے ان کے پہلو میں بیٹھ جائیں۔ اسے پہلے کہ ہم ایک عظیم انقلاب کے نقیب امام کی دمسازی کا دعوٰی کریں ہمیں اس عظیم تر انقلاب سے متصل ہونے کے لئے امام کے انقلابی مشن کو سمجھنا ہوگا اور اس مشن کی آبیاری کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنا ہوگا کیونکہ حقیقت میں وہی مومن امام کے ساتھ مرتبط اور متوصل ہے جو کسی نہ کسی لحاظ سے مشنِ امام کے ساتھ منسلک ہے۔ پھر ظاہری مسافتیں معنوی قرب میں حائل نہیں ہوں گی اور زمان و مکان کی حیثیت ثانوی ہوگی بلکہ بسا اوقات فراق آتشِ عشق کو مہمیز دینے میں ایک طاقتور وسیلہ بن جاتا ہے اور عاشق کے تحرّک اور فعالیت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ دنیائے عشق میں’’ فراقِ محبوب ‘‘ وصلِ محبوب‘‘سے بھی کم تر اثر نہیں رکھتا ہے ؂

عالمِ سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کر فراق
وصل میں مرگِ آرزو! ہجر میں لذتِ طلب
گرمئ آرزو فراق، شورشِ ہائے ہو فراق
موج کی جستجو فراق، قطرہ کی آبرو فراق
علامہ اقبالؒ

اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ کا کردار مومنانہ ہے اور جس قسم کی صلاحیت خدا نے آپ کو ودیعت کی ہے اس کو مشنِ امامِ زمانہ کے لئے وقف کریں۔ جیسا کہ اس سے قبل ہی بتایا جا چکا ہے کہ امام اس نیٹ ورک کی گرفت سے باہر ہیں کہ جس کے ہم خوگر ہیں۔ اس لئے ایک معنوی نیٹ ورک کے توسط سے روحانی دنیا میں داخلہ لینا پڑے گا۔ جب ایک مرد مومن اسلامی اقدار و اصول کے سانچے میں ڈھل جائے تو اس کی باطنی صورت اس قدر جاذبِ نظر ہو گی کہ وہ بھی امام کا مطلوب بن جائے اور ہر عاشقِ امام کا مقصدِ حیات ہی یہ ہونا چاہیئے کہ اس کا ارتباط یک طرفہ نہ ہو اگر وہ عاشقِ امام ہے تو ایسا عاشق ہو کہ وہ بھی امامِ زمانہ کا مطلوب بن جائے کیونکہ امام تو ہر کس و ناکس کا محبوب ہو سکتا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ محبِ امام، محبوبِ امام بھی ہو۔ قائدہ کلیہ ہے کہ یک طرفہ محبت کسی کام کی نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر ایک بچہ اپنی ماں سے متنفر ہو۔ اس پر ماں کی مامتا اثرانداز نہیں ہو سکتی ہے اور بسا اوقات اظہارِ مامتا سے اس کی نفرت میں ہی شدت آجاتی ہے اور اگر ایک ماں مامتا سے تہی دامن ہو تو ماں کی جانب تمام تر رغبتوں کے باوجود ایک بچے کے لئے وہ ماں نہ ہونے کے برابر ہے۔

دو طرفہ ارتباط:
اسلامی تاریخ میں ہمیں بہت سی ایسی زندہ مثالیں جابجا نظر آتی ہیں، جہاں ارتباط اور عشق و محبت ہر دو جانب تھا۔ امام علی ؑجیسا عاشقِ رسولؐ کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور پیغمبرِ اکرام ؐ کو بھی علیؑ کے ساتھ بے انتہاء محبت تھی۔ قرآنِ مجید نے بھی اس دوطرفہ محبت کے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قْل اِن کْنتْم تْحِبّْونَ اللَّہَ فَاتَّبِعْونِی یْحبِبکْمْ اللَّہَ کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے۔ بادی النظر میں صرف مخلوق پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ محبت رکھے لیکن قرآن کی رو سے اگر مخلوق کی محبت تمامتر شرائط کی پابند ہو اور الٰہی معیار پر کھری اترتی ہو تو اللہ بھی بدلے میں اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ سلمان، ابو زد، مقداد، مالکِ اشترِ، عمارِ یاسر، قنبر، بلال جیسے امام علیؑ کے رفقائے خاص میں بھی ایک جانب مودتِ علی ؑبدرجہ اتم موجود تھی تو دوسری جانب امام علیؑ کو ان شخصیات سے بےانتہاء لگاؤ تھا۔ وہ عاشقانِ امام اپنے محبوب کے اس قدر مطلوب تھے کہ امام علیؑ ہمیشہ ان کی وقتی جدائی کو بھی برداشت نہیں کر پاتے، انہیں پاس نہ پاتے تو کہتے ’’این عمار، این ابا زر، این مالک ،این سلمان، این مقداد، این قنبر، یعنی سلمان و ابوزر و مقداد و مالک و قنبر جیسے میرے اصحابِ باوفا کہاں ہیں، کربلا تو اسی دوطرفہ عشق و محبت کی بے نظیر داستاں ہے۔ اس لئے اگر ہم بھی آج کے دور میں محبوبیت اور مطلوبیت کا جوہر اپنے آپ میں پیدا کر لیں، الفت اور التفاتِ امام کو مدعو کرنے والی صفات خود میں جاگزیں کر لیں۔ تو کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ امامِ زمانہ بھی امام علی ؑ اور امام حسینؑ کی طرح کہیں کہ کہاں ہے این فلاں، این فلاں یعنی فلاں، فلاں کہاں ہیں کیونکہ یہ بات طے ہے کہ امت کی بنسبت امام کو امت کے ساتھ ہزار گناہ زیادہ انس و محبت ہوتی ہے۔ بظاہر امام کے چاہنے والے امام کے منتظر نظر آتے ہیں لیکن کس شدت کے ساتھ کے امامِ زماں اپنے انصار و یاوراں کی تلاش میں ہیں اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

دو رِ حاضر میں دو طرفہ الفت کے دو نمونے:
المختصر یہ کہ ہم ہر لحاظ سے اس قابل ہوں کہ ہم امام کی نصرت کر سکیں۔ ہم میں کوئی نہ کوئی ایسا خاص گن ہو جسے ہمارے لئے امام کے مشن کی آبیاری ممکن ہو کیونکہ ان کے مشن کو ایک معیاری افرادی قوت کی ضرورت ہے ان کے مشن میں ارور مرور اور حرج و مرج کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء اور امامت کے مشن سے جو لوگ حقیقی طور وابستہ ہوئے وہ اگرچہ کمیت کے اعتبار سے اکثریت میں نہیں تھے لیکن کیفیت کے اعتبار سے اکثریت پر بھاری رہے ہیں۔ عاشق و معشوق اور محب و محبوب کے مابین یہ مثالی ارتباط صرف گذشتگان کا ہی کام نہیں تھا بلکہ دورِ حاضر میں بھی اس طرح کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ دورِ حاضر میں امام خمینی ؒ اور رہبر معظم کے حقیقی پیروکاروں میں یہ مطلوبہ خصائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر ڈاکٹر مصطفٰی چمران جیسے بہت سے جیالوں کی حیاتِ عشق پرور کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ شہید مصطفٰی چمران پیدائشی طور پر بہت سی مخصوص صلاحیتوں سے مالا مال تھے اور انہوں نے ان صلاحیتوں کو ایمان و عشق سے جلابخشی۔ انسانی ہمدری اور باطل ستیزی کی راہ میں انہیں استعمال کیا۔ خلوص کا یہ عالم تھا کہ امریکا میں پی ،ایچ ،ڈی کرنے کے بعد انہیں غالباً دنیا کی پہلی اور سب سے بڑی خلائی کمپنی ناسا (NASA) میں بحیثیت سائنسداں کام کرنے کی پیش کش کی گئی، لیکن وہ اس پیش کش کو خاطر میں نہ لائے گویا اس کے نتیجے میں ملنے والی عیش و عشرت پر پیشگی ہی لات مار دی۔ برعکس اس کے اپنی قوم کی ناگفتہ بہ حالت کو سدھارنے کے لئے تمام تر مصیبتوں کو گلے لگا لیا اور ہمہ تن انقلاب اسلامی کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف و محو ہو نے کے ساتھ ساتھ انقلاب دشمن عناصر کے سامنے سینہ سپر ہو گئے، اور یوں امام راحل کے کاروانِ عشق میں شامل ہو گئے۔ شہید مصطفٰی چمران کی صلاحیتوں اور خلوص کے پیش نظر انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کا پہلا وزیر دفاع بنایا گیا۔ لیکن معمول کے مطابق ڈاکٹر چمران، جماران میں جاکر امام خمینی ؒ کے پہلو میں نہیں بیٹھ گئے بلکہ ایران عراق جنگ میں سرحد پر جا کر عام عسکری رضاکاروں اور سپاہیوں کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ یہ بات غیر معمولی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک عظیم سائنس داں، بےنظیر مفکر، اور ملکی وزیر دفاع ہونے کے باوجود وہ سرحدی علاقوں میں برسر پیکار رہتے اور مختلف مہموں میں اس قدر مصروف رہا کرتے کہ ایک عرصے تک اپنے گھر واپس نہ لوٹتے۔ یہاں تک کہ امام خمینی ؒ کہتے کہ مصطفٰی کو پیغام بھیج دو کہ وہ تہران آجائے اس کی ملاقات کیلئے دل بےتاب ہے اور آنکھیں اس کی دیدار کے لئے ترس گئی ہیں۔ اسی طرح صیاد شیرازی، عباس بابائی، جیسے پاکباز شہداء کی زندگی امام کے حقیقی پیروکاروں کو امام کے ساتھ مرتبط رہنے کا ہنر سکھاتی ہے اور ان کی شہادت کی داستان بھی اس سلسلے میں سبق آموز ہے۔ چنانچہ جب صیاد شیرازی کو شہید کیا گیا تو رہبر معظم ان کی دائمی جدائی سے اس قدر بے چین، مغموم، اور دل برداشتہ ہو گئے کہ رات کے پچھلے پہر چل کر ان کی قبر پر جا کر بیٹھ گئے اور باربار یہ جملہ دہراتے رہے کہ ’’دلم برائے صیاد گرفتہ‘‘ کہ صیاد کی جدائی سے میرا دل غمزدہ ہے‘‘۔