غیبت امام زمانہ (عج) اور اسکے اسباب

(تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی )

مقدمہ:
ہر زمانے میں امام معصوم کی امامت پر عقلی دلیل موجود ہے۔ اس دلیل کے مطابق حجت الٰہی کا لوگوں کے درمیان موجود ہونا ضروری ہے، جس کا مصداق تام امام معصوم ہیں۔ قاعدہ لطف {کلامی و عقلی قاعدہ} کا تقاضا بھی یہی ہے۔ امام معصوم کی غیبت ایک امر عارضی ہے، جو اصل اولی{ضرورت وجود امام معصوم} کے ساتھ منافات نہیں رکھتی۔ محقق طوسی اس بارے میں لکھتے ہیں،{وجوده لطف، و تصرفه لطف آخر و عدمه منا}1۔ امام کا وجود بھی لطف {اطاعت و مصالح سے نزدیک اور معاصی و مفاسد سے دور کرنےوالا} ہے اور امام کا تصرف ایک الگ لطف ہے اور ان کا ظاہرنہ ہونا ہماری وجہ سے ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے فرامین کے مطابق زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی، جیساکہ آپ ؑفرماتے ہیں، {اللهم بلی! لا تخلوا الارض من قائم الله بحجته، اما ظاهرا مشهورا و اما خائفا مغمورا، لئلا تبطل حجج الله و بیناته}2۔ خدایا !بے شک زمین حجت الٰہی اور قیام کرنے والے سے خالی نہیں ہو سکتی چاہے وہ ظاہر و آشکار ہو یا خائف و مخفی تاکہ خدا کی حجتیں اور براہین تمام نہ ہونے پائیں”۔ بعض احادیث جیسے حدیث ثقلین اور حدیث آئمہ اثنا عشر قیامت تک امام معصوم کی موجودگی پر دلالت کرتی ہیں۔ تاریخی شواہد سے بھی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آپ{عج} کی ولادت معین زمانے میں مخصوص مقام پر ہوئی ہے، کیونکہ افراد کی ولادت اور موت کے بارے میں جاننے کا متعارف طریقہ یہی تاریخی شواہد ہیں جن پر استناد کیا جاتا ہے۔

ان افراد کی نقل کے مطابق جنہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانے میں آپ ؑکے گھر میں امام زمان {عج} سے ملاقات کی، اور وہ افراد جنہوں نے غیبت صغرٰی کے زمانے میں آپ {عج} سے ملاقات کا شرف حاصل کیا، جن میں نواب اربعہ سرفہرست ہیں۔ نواب اربعہ شیعوں کی برجستہ ترین شخصیات میں سے تھے، جو اپنے زمانے میں پرہیزگاری کے لحاظ سے بے نظیر تھے۔ ان افراد کی نقل کے مطابق جنہوں نے غیبت کبرٰی کے عرصے میں آپ {عج} سے ملاقات کا شرف حاصل کیا، یہ گزارشات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے جعلی ہونے کا احتمال منتفی ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی صحت کے بارے میں انسان کو یقین ہو جاتا ہے۔ انبیاء کی تاریخ میں مسئلہ غیبت ایک واضح مسئلہ تھا۔ بعض اولیاء کا محدود مدت کے لئے لوگوں کے درمیان سے غائب ہونا گذشتہ امتوں میں بھی معمول رہا ہے، چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگانی میں اس کے نمونے دیکھ سکتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام ایک مدت تک اپنی امت سے غائب رہے۔ 3۔ حضرت موسی علیہ السلام چالیس دن تک اپنی امت سے غائب رہے اور انہوں نے یہ ایام میقات میں بسر کئے ۔4 اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت چند مدت تک اپنی امت کے پاس نہیں رہے۔5۔ ان میں سے کسی بھی مورد میں ان افراد کی نبوت اور رسالت پر اعتراض نہیں کیا گیا ہے۔ واضح ہے کہ اگر غیبت مقام نبوت اور مقام امامت کے ساتھ منافات رکھتی تو زمان کے مختصر اور طولانی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بنابریں امام زمانہ{عج} کی غیبت کے طولانی ہونے کو آپ {عج} کی امامت کے ساتھ ناسازگا ر نہیں سمجھنا چاہیئے۔ امام زمانہ{عج} کی غیبت کے اسباب کے بارے میں آئمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں کچھ مطالب بیان ہوئے ہیں ذیل میں ہم ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

1۔ راز الٰہی:
بعض روایات میں اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ امام زمانہ{عج}کی غیبت کا فلسفہ آپ {عج} کے ظہور سے پہلے پوری طرح واضح نہیں ہوگا جبکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ {عج} کے وجود کے بارے میں موجود دلائل سے آشنا ہونے کے بعد اسے تسلیم کرے اور آپ {عج} کی غیبت کے اسرار کو مکمل طور پر درک نہ کرنے کی وجہ سے شک و تردید کا شکار نہ ہو۔ شیخ صدوق عبداللہ بن فضل ہاشمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا، میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا، "صاحب الامر کے لئے یقینا ایک غیبت ہوگی جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس دوران ہر اہل باطل شک و شبہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ میں نے عرض کی، میری جان آپ پر قربان! ایسا کیوں ہے؟ فرمایا وہی حکمت ہے جو ان سے پہلے خدا کی حجتوں کے غائب ہونے کی تھی۔ یقینا غیبت کی حکمت اسی وقت ظاہر ہوگی جب ان کا ظہور ہو جائےگا، بالکل اسی طرح جیسے حضرت خضر علیہ السلام کے امور یعنی کشتی میں سوراخ کرنے، لڑکے کو جان سے مار دینے اور دیوار بنانے کا راز، حضرت موسی علیہ السلام کو اس وقت معلوم ہوا جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے۔ اے فرزندِ فضل یہ غیبت خدا کے امور میں سے ایک امر ہے، اسرار الٰہی میں سے ایک سر ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ خداوند عالم حکیم ہے اور ہم نے یہ گواہی دی ہے کہ اس کا ہرقول و فعل حکمت کے مطابق ہے چاہے اس کا راز ہم پرپوشیدہ ہی کیوں نہ ہو”۔6۔

2 ۔قتل کا خوف:
بہت ساری احادیث کے مطابق امام زمانہ{عج}کی غیبت کا ایک سبب قتل ہونے کا خوف ہے ۔7۔ جیساکہ جناب زرارہ امام باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا، "قائم آل محمد کے لئے قیام کرنے سے پہلے ایک غیبت ہے، میں نے عرض کیا کس لئے؟ فرمایا، {یخاف القتل}۔8۔ اس لئے کہ ان کی جان کے لئے خطرہ ہے۔ قتل سے ڈرنے کے دو ہی سبب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ انسان دنیوی لذتوں سے زیادہ استفادہ کرنا چاہتا ہے دوسرا یہ کہ اس کے اوپر سنگین ذمہ داریاں عائد ہیں، جن کو انجام دینے کے لئے اسے اپنی جان کی حفاظت کرنی چاہیئے۔ ان میں سے پہلی قسم مذموم جبکہ دوسری قسم ممدوح ہے بلکہ بعض اوقات واجب بھی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان کی حفاظت کی خاطر غار حرا میں پناہ لی۔ امام زمان عج کے بارے میں بھی قتل ہونے کا خوف اسی طرح ہے۔ عقلی و نقلی دلائل کے مطابق آپ {عج} زمین پر آخری حجت الٰہی ہیں۔ آپ {عج} پرچم توحید کو پوری دنیا میں لہرانے اور دین اسلام کو پوری دنیا پر حاکم کرنے پر مامور ہیں۔ علاوہ ازیں ظالم و جابر حکمران اپنے ناجائز منافع کی حصول کے راستے میں آپ{عج} کے وجود کو مانع سمجھتے ہیں۔ طبیعی بات ہے کہ یہ افراد آپ {عج} کو قتل کرنے کے لئے ہر طرح کا منصوبہ اور حربہ استعمال کریں گے۔ اس صورتحال میں آپ {عج} کی حفاظت کا بہترین طریقہ آپ {عج} کی غیبت ہے۔

یہاں ممکن ہے کوئی اس طرح اعتراض کرے کہ خداوند متعال معجزے کےذریعے آپ {عج} کی حفاظت کر سکتا ہے مثلا اس طرح کہ کسی اسلحہ یا زہر کا اثر آپ {عج} کے بدن پر نہ ہو۔ جس کے نتیجے میں آپ {عج} ظاہر بھی ہوتے اور لوگ آپ {عج} کے وجود سے زیادہ استفادہ کرتے کیونکہ اس صورت میں آپ {عج}کے وجود کو کسی قسم کا بھی خطرہ نہیں تھا۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کسی فرد کی جان کی حفاظت کے لئے معجزے سے استفادہ کرنا ایک استثنائی بات ہے، جس سے صرف خاص موارد میں استفادہ کیا جاتا ہے، جبکہ اولیاء اور حجت الٰہی کے بارے میں مشیت الٰہی یہ ہے کہ یہ افراد لوگوں کے درمیان طبیعی زندگی گزاریں اور طبیعت پرمبنی قوانین ان کے درمیان یکساں جاری ہوں، تاکہ قانون امتحان و آزمائش الٰہی محقق ہو۔ واضح ہےکہ اگر امام خاص شرائط کے ساتھ زندگی گزاریں تو سب لوگ اجباری اور غیر عادی طریقے سےان پر ایمان لائیں گے۔ علاوہ ازیں ممکن ہے انہیں مافوق بشر قرار دیتے ہوئے ان کی پرستش شروع کردیں۔ یہ سب معجزہ کے ذریعے امام کی حفاظت کرنے اور آپ {عج} کے لوگوں کے درمیان رہنے کے نامطلوب نتائج میں سے ہیں۔ شیخ طوسی اس بارے میں تحریر فرماتے ہیں، اگر کوئی اعتراض کرے کہ خدا نے امام اور اس کے قاتل کے درمیان مانع ایجاد کر کے آپ {عج} کی حفاظت کیوں نہیں کی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کام انسانوں کو مکلف کرنے کے فلسفے کے ساتھ ناسازگار ہے کیونکہ انسانوں کو مکلف کرنے کا مقصد ان کو جزا وسزا کا مستحق بنانا ہے جبکہ ایسی صورت میں مانع ایجاد کرنا اس مقصد کے ساتھ منافات رکھتا ہے۔9۔ امام زمانہ{عج} اور ان کے آباء و اجداد کے درمیان کیا فرق ہے کہ وہ غیبت میں نہیں رہیں بلکہ لوگوں کے پاس ظاہر تھے جبکہ آپ {عج} غائب ہیں اور آپ تک لوگوں کی رسائی بھی نہیں؟ پہلاجواب: آپ {عج}کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ{عج} اگر ظاہر ہوں تو ظالم و جابر افراد کے مقابلے میں تقیہ نہیں کریں گے جبکہ اس صورت میں آپ {عج} کے قتل کا خطرہ زیادہ ہے۔ دوسرا جواب: ہر امام کی شہادت کے بعددوسرے امام نے اس عظیم ذمہ داری کو قبول فرمائی اور انسانوں کی رہبری کی لیکن آپ {عج} آخری امام ہیں اور اگر شہید ہو گئے تو کوئی ایسا فرد نہیں ہےجو اس عظیم ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔ 10۔

3۔ مومنین کا امتحان:
خداوند متعال کی ایک سنت جو ہمیشہ سے مومنین کے بارے میں جاری رہی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے۔ ارشاد رب العزت ہے، {أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُترْكُواْ أَن يَقُولُواْ ءَامَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُونَ.وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِين}11۔ کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنےسے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟ اور بتحقیق ہم ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکے ہیں، کیونکہ اللہ کو بہرحال یہ واضح کرنا ہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرور واضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں۔ امام زمان {عج} کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب مومنین کا امتحان اور ان کی آزمائش ہے س کے بارے میں متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ 12۔ کتاب منتخب الاثر میں اس بارے میں چوبیس احادیث نقل ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب امام زمانہ{عج} کے ظہور اور حکومت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔، امام صادق علیہ السلام نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا، "یہ امر{ظہور} تمہارے سامنے نہیں آئے گا مگر ناامیدی کے بعد۔ خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جبتک تم {مومن اور منافق} ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ خدا کی قسم! یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک اہل شقاوت و اہل سعادت ایک دوسرے سےجدا نہ ہو جائیں۔13۔ شیخ طوسی اس بارے میں لکھتے ہیں، جن روایات میں امام زمانہ{عج} کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب شیعوں کا امتحان اور ان کی آزمائش قرار دی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مسئلہ امام کی غیبت پر مترتب ہونے والےنتائج میں سے ایک ہے اور ایسا نہیں ہے کہ امتحان و آزمائش امام {عج} کی غیبت کا اصلی مقصد ہے بلکہ امام {عج}کی غیبت کا اصلی سبب آپ {عج} کے قتل ہونے کا خوف ہے، جبکہ آزمائش و امتحان غیبت کے نتائج اوراہداف میں سے ہیں۔ 14۔

4۔ غیبت کی کیفیت:
امام زمانہ {عج} کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دو احتمال قابل بحث ہیں۔ پہلا احتمال یہ کہ حقیقت میں آپ {عج} کا وجود لوگوں سے پنہاں ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ {عج} ایسے جگہ پر زندگی کر رہے ہیں جہاں دوسرا کوئی انسان موجود نہیں ہے یا یہ کہ آپ {عج} لوگوں کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن معجزانہ طور پر لوگ آپ {عج} کو نہیں دیکھتے یا آپ کو نہیں پہچانتے۔ آپ {عج}کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں نقل شدہ احادیث دونوں احتمال کے ساتھ سازگار ہیں جیساکہ شیخ صدوق ریان بن صلت سے نقل کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے امام زمانہ{عج} کے بارے میں فرمایا، {لا یری جسمه ولا یسمی باسمه}15۔ نہ ان کے جسم کو دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ان کا نام لیا جا سکتا ہے۔ عبید بن زرارۃ سے ایک حدیث منقول ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے، لوگ اپنے امام کو نہیں پائیں گے جبکہ وہ حج کے موسم میں حاضر ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انہیں نہیں دیکھتے ۔16۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک اور حدیث نقل ہوئی ہے جس میں آپ ؑفرماتے ہیں ساتویں امام کے پانچویں فرزند کا وجود تم لوگوں سے پنہان ہو گا اور ان کانام لینا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ۔17۔ اس احتمال پر عقیدہ رکھنے والوں کا نظریہ یہ ہے کہ جہاں پر مصلحت موجود ہو وہاں امام {عج} کے وجود کو پہچانا جائے گا۔ بنابریں جن افراد نے آپ {عج} کے حضور میں شرفیاب ہونے کا دعوی کیا ہے وہ بھی اس احتمال کے ساتھ سازگار ہےجبکہ دوسرے احتمال کےساتھ مربوط بعض روایات کچھ اس طرح ہیں:

1۔ شیخ طوسی محمد بن عثمان عمری { امام زمان{عج} کے دوسرے نائب خاص} سے نقل کرتے ہیں: {و الله ان صاحب هذا الامر لیحضر الموسم کل سنة و یعرفهم و یرونه و لا یعرفونه} 18۔ خدا کی قسم! امام زمانہ{عج} ہر سال حج کے موسم میں حاضر ہو کر لوگوں کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں اور دوسرے افراد بھی آپ {عج} کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں۔

2۔ محمد بن عثمان عمری سے نقل ہے کہ آپ{عج} کا نام لینا اس لئے جائز نہیں کیونکہ اگر آپ{عج} کا نام لیا جائے تو دشمن آسانی سے آپ {عج} کو پہچان لیں گے ۔19۔ واضح ہے کہ اگر آپ {عج} لوگوں کی نظروں سے سے غائب ہوں تو پھر آپ {عج} کا نام لینا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعے دشمن آپ {عج} کو نہیں پہچان سکتے۔

3۔ ابوسہل نوبختی سے جب سوال کیا گیا کہ آپ امام زمانہ{عج}کےنائب کیوںمنتخب نہیں ہوئے جبکہ ابوالقاسم حسین بن روح نوبختی کو اس منصب کےلئے انتخاب کیاگیا ہے ؟ تو انہوں نےجواب دیا :امام اپنے کاموں کی حکمت سےزیادہ واقف ہیں۔ میں ہمیشہ دشمنوں سے ملاقات کرتا ہوں اور ان کے ساتھ بحث و مناظرہ کرتا ہوں اور اگر بحث کے دوران کبھی مجھے مشکل کا سامناکرنا پڑے تو ممکن ہے کہ میں امام {عج} کے قیام کرنے کی جگہ دشمنوں کو دکھا دوں لیکن ابوالقاسم نوبختی ایمان اور استقامت کا پیکر ہے اگر امام زمانہ{عج} اس کے پاس موجود ہوں اور اس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں تب بھی وہ امام {عج} کی مخفی گاہ کو دشمنوں کو نہیں دکھائیں گے۔ 20۔ واضح ہے کہ امام کی مخفی گاہ دشمنوں کو دکھانا اس وقت خطرناک ہوگا جب لوگ آپ {عج}کے وجود مبارک کو دیکھ سکیں۔ خلاصہ یہ کہ امام زمانہ{عج} کی غیبت کی کیفیت کے بارے میں دونوں احتمالات قابل قبول ہیں اور یہ احتمالات ایک دوسرے کے ساتھ منافات بھی نہیں رکھتے اور یہ مطلب کہ لوگ آپ {عج} کو دیکھیں گے لیکن نہیں پہچانیں گےیا یہ کہ اصلاً کوئی آپ {عج}کو نہیں دیکھ سکتا، یہ تمام مطالب شرائط، مصالح اور افراد کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس بارے میں ایک عام قانون بیان نہیں کر سکتے، کیونکہ امام زمانہ {عج} مصلحت کے مطابق ہی عمل کریں گے۔

منابع:
1۔ تجرید الاعتقاد ،بحث امامت
2۔ نہج البلاغۃ، حکمت147
3۔ اعراف،142
4۔ صافات،140
5۔ کمال الدین ،شیخ الصدوق
6۔ علل الشرائع ،ص244۔ باب،179
7۔ بحار الانوار ،ج53، ص90۔98
8۔ الغیبۃ، شیخ طوسی، ص201
9۔ ایضاً، ص 200
10۔ ایضاً
11۔ عنکبوت،2 – 3
12۔ منتخب الاثر، آیۃ اللہ صافی گلپایگانی، فصل 1، باب8ح4
13۔ کتاب الغیبۃ، ص204۔ کمال الدین، ج2، ص15، ح31
14۔ ایضاً، ص213
15۔ کمال الدین، ص648
16۔کمال ا لدین، ص 349
17۔ ایضاً، ص333
18۔ کتاب الغیبۃ، ص221
19۔ ایضاً ص219
20۔ ایضاً ص240