سیرت حضرت عباس علیہ السلام

(تحریر: محمد اشرف ملک)

4 شعبان 26 ہجری تاریخ ولادت
امیرالمومنین حضرت علی (ع) نے حضرت فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے دس سال بعد حضرت ام البنین سے شادی کی اور چار شعبان 26 ہجری کو حضرت عباس (ع) قمر بنی ہاشم کی مولائے کائنات کے گھر میں ولادت باسعادت ہوتی ہے۔ امیرالمومنین علی (ع) کے ساتھ اپنی زندگی کے چودہ سال گزارتے ہیں اور جب مولا عباس (ع) کی شہادت ہوتی ہے، اس وقت آپ کی عمر مبارک تقریباً چونتیس سال بنتی ہے۔

حضرت عباس (ع) کا مقام عظمت
حضرت عباس (ع) کے کمالات کی تعریف کوئی عام افراد نہیں بلکہ معصو م ہستیاں بیان کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اگر معصومین نے اس فضیلت کہ بیان نہ کیا ہوتا تو خاندان عصمت و نبوت کی اس عظیم شخصیت کے کمال کا حق ادا کرنا نہ تو کسی زبان کے لئے امکان پذیر تھا اور نہ ہی کسی قلم میں مولا کے فضائل کی حقیقت کا احصاء کرنا ممکن تھا۔ حضرت امام صادق حضرت عباس (ع) کو اس طرح خطاب کرکے سلام بھیجتے ہیں:”السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلَّهِ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِمْ وَ سَلَّم” امام کے اس بیان سے حضرت ابوالفضل العباس (ع) کی بلندی کمال کو درک کیا جا سکتا ہے، اس طرح کہ جسے معصوم امام عبد صالح، مطیع امر خدا اور مطیع امر رسول کہیں اس کے کمال کا کیا کہنا ہوگا۔ امام نے اپنے ان جملات میں یہ بھی واضح کر دیا کہ مطیع خدا اور مطیع رسول وہی ہوسکتا ہے جو مطیع امام معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے امام کا مطیع بھی ہو اور ان کے سامنے اپنی ہستی اور وجود کو کچھ نہ سمجھتا ہو۔ اگر ضرورت کا تقاضا ہو تو امام وقت کے سامنے اور مقابلہ میں آنے کی بجائے اپنی ذات کو ان پر قربان کر دے۔ جسے امام صادق مطیع امیرالمومنین، مطیع امام حسن اور مطیع امام حسین کہے، اسے انسانیت کی تاریخ میں عباس (ع) ابن علی کہتے ہیں۔

جانثاری، وفا اور ایثار
حضرت عباس (ع) جب تمام مشکلات و مصائب کے باوجود ہزاروں کے لشکر سے مقابلہ کرتے ہوئے جب نہر فرات کو دشمن سے خالی کروا لیتے ہیں، اس کے بعد کی حالت ایسی ہے کہ جس کو کائنات نے سوائے اس منظر کے کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت عباس (ع) کا اپنے وجود میں اللہ کی ذات، وحی، نبوت اور اپنے وقت کے امام پر اس قدر ایمان، محبت اور عقیدت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، جس کے سامنے تکالیف، مشکلات، مصائب، بھوک اور پیاس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب نہر فرات پر قبضہ کر لیتے ہیں تو مشک تو امام حسین کے بچوں کی پیاس بجھانے کے لئے پر کرتے ہیں، لیکن خود شدید پیاس کے باوجود پانی نہیں پیتے، اس لئے کہ جب حسین کے بچے پیاسے ہیں تو میں کیسے پانی پی سکتا ہوں۔ امام حسین اور ان کے بچوں کی پیاس کو یاد کرتے ہیں اور بہتے دریا سے پیاسے واپس آجاتے ہیں۔

دشمن کی سازش کو سمجھنا اور تا حد امکان اسے ناکام بنانا
تاریح انسانی میں بہت سارے ایسے واقعات ہیں، جن میں دشمنان دین نے اہل کمال کا ساتھ دینے والوں لوگوں کو تاحد امکان گمراہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ امیر المومنین سے کس قدر اور کن کن سازشوں کے ذریعے لوگوں کو دور کیا گیا۔ امام حسن کے کمانڈر کو دنیا کا لالچ دے کر امام سے جدا کر دیا گیا اور وہ کمانڈر چار ہزار کا لشکر لیکر دشمن سے مل گیا۔ کس قدر غلط تبلیغ کرکے کوشش کی گئی کہ لوگوں کو حق و حقیقت سے دور رکھا جائے، اہل کمال کی تعلیمات سے لوگوں کو دور کیا جائے۔ انتہائی پست اور اخلاقی و معنوی لحاظ سے ٹکے ٹکے کے لوگوں کو صاحبان کمال کے مقابل میں لانا، ہمیشہ دشمن عناصر کا کام رہا ہے۔ ان حالات میں حق کا ساتھ دن اور زندگی کی آخری سانس تک اس پر ثابت قدم رہنا، یہ ہر کسی کا کام نہیں ہوا کرتا۔ اس کام کے لئے انسان کو ہمیشہ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعا مانگنی چاہئے۔ ظالم، فاسق، فاجر، گناہگار بننے کی بجائے درس بندگی و عبدیت کی کلاس میں آکر اپنے آپ کو صالح اور نیک بنانے کی ہمت کرے، تب جا کر اللہ کی خاص نگاہ کرم سے ہی انسان مطیع امام وقت، مطیع رسول و مطیع خداوند بن سکتا ہے۔ حضرت عباس (ع) کا اتنا بڑا مقام اس لئے ہے کہ صاحب بصیرت ہیں، اپنی شجاعت، جرات، بصیرت اور صبر سے، اپنا کمال اسی میں سمجھتے ہیں کہ امام وقت کے سامنے ہمیشہ مطیع بن کر رہیں، امام کا ہر حوالے سے دفاع کریں، چاہے اس کے لئے جان کا نذرانہ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔

سیرت حضرت عباس (ع) اور ہم
حضرت عباس (ع) نے جو کچھ کیا، وہ خدا کے لئے کیا، دین کی بلندی کے لئے کیا۔ امام حق کا ساتھ دیکر دین اسلام کو زندہ کیا اور دین اسلام کی پاسداری کا جو حق تھا، وہ ادا کیا۔ کیا حضرت عباس (ع) جو اتنی عظمتوں کے مالک ہیں، ان کی معنویت اور عبودیت سے لبریز زندگی، وفا اور صبر کا مکمل نمونہ صرف اس زمانہ کے لئے الگو اور نمونہ تھا یا آج بھی ہے۔؟ اگر آج بھی ہیں اور یقیناً ہیں تو ہمیں آج چار شعبان 2018ء کو مولا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے کیا سبق حاصل کرنا چاہئے۔؟ پاکستان میں پاکستانی قوم کے لئے ہمارے پاس مولا کی سیرت کے حوالے سے کیا پروگرام ہے؟ مشکل سے مشکل حالات میں بھی پاکستان کے اہل علم نے حضرت عباس (ع) کی سیرت طیبہ پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کی ہدایت کی ہے۔ مدارس دینیہ کا سلسلہ قائم کرکے پاکستان کے ہر علاقہ، ہر صوبہ، ہر شہر اور تقریباً ہر یونین کونسل کی حد تک مذہبی مبتلاء بہ مسائل سے لیکر اجتماعی و سیاسی مسائل تک، ہر دور میں احسن طریقہ سے وہاں کے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کی ہے۔ کیا اب تقاضا یہ ہے کہ اس سب کو بھلا دیا جائے، مدارس علمیہ کی مخالفت کی جائے، بزرگ علماء کی توہین کی جائے؟ یا حضرت عباس (ع) کی سیرت سے سبق لیتے ہوئے جو علماء واقعاً پاکستان میں دین کے محاتظ ہیں اور جن کی بہت زیادہ خدمات ہیں، ان کی سرپرستی میں اس کام کو آگے تک لایا جائے؟ آخر پر دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو سیرت حضرت عباس (ع) کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا ترمائے۔(آمین )