تاجدار ولایت و امامت حضرت امام علی (ع)

(تحریر: محمد ذاکر رضوان)

سلسلہ ولایت و امامت کے پہلے تاجدار ولی اللہ الاعظم، امام الاول، وصی المصطفٰی الخاتم، خلیفۃ الرسول، امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی بابرکت زندگی کو پانچ مرحلے میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

1۔ پیدائش سے بعثت نبی تک
بعثت پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دس سال قبل، آپ علیہ السلام کی ولادت خانہ خدا میں ہوئی۔ تاریخ انسانیت میں یہ اعزاز صرف حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ مشہور عالم جوینی اپنی کتاب فرائد السمطین میں رقمطراز ہیں۔ وہ چیز جس کے ثابت ہونے پر مورخین اور راویان متفق ہیں، وہ یہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے کعبہ مقدسہ میں ولادت پائی۔ آپ علیہ السلام کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ آپ نے آغوش رسالت میں آنکھ کھولی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کی ہی آغوش میں آنکھ بند کی۔

2۔ بعثت سے ہجرت تک
آپ علیہ السلام کی زندگی کا دوسرا مرحلہ بعثت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شروع ہوکر ہجرت کے دور تک مشتمل ہے۔ اس مرحلے میں آپ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور اتباع میں اسلام کے لئے بے پناہ قربانی، فداکاری اور جانثاری کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ مسلم اول کی حیثیت سے آپ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ توحید کے پیغام کی ترویج کے لئے قدم قدم پر ہر قسم کی مشکلات اور مصائب کو استقامت اور پامردی سے برداشت کئے۔ چنانچہ اطاعت کا یہ عالم تھا کہ شب ہجرت حضرت علی علیہ السلام وفا کا پیکر بن کر اخلاص کامل کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بستر پر سوگئے اور خداوند متعال کو یہ عمل اس قدر پسند آیا کہ جبرئیل امین اللہ تعالٰی کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں سورہ توبہ کی یہ آیت لے کر نازل ہوا کہ "یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال جنت کے عوض خرید لئے ہیں” آیت نمبر ١١١۔
فضل ابن عباس سے روایت ہے کہ میرے ایک سوال کے جواب میں میرے والد نے کہا کہ بچپنے میں علی علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کبھی جدا نہیں دیکھا گیا۔ مزید کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ مہربان کسی باپ کو اور علی علیہ السلام سے زیادہ فرمانبردار بیٹا نہیں دیکھا۔

3۔ ہجرت سے رحلت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک
آپ علیہ السلام کی زندگی کا تیسرا دور اسلام کی ترویج اور دفاع کے سلسلے میں مشرکین، منافقین اور کفار کے خلاف جنگوں اور غزوات سے عبارت ہیں۔ تمام اسلامی جنگوں میں آپ علیہ السلام نے لیڈرشپ رول ادا کیا اور اسلام و مسلمین کو فتح و کامرانی سے ہمکنار فرمایا۔ ان جنگوں میں آپ علیہ السلام نے جنگ کے رہنما اصول بھی بتائے۔ آپ علیہ السلام نے شجاعت اور بہادری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے کفر و نفاق کے سرغنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ احد میں لا فتٰی الا علی لا سیف الا ذوالفقار، جنگ خندق میں ایمان کُل کا اعزاز آپ کے سر پر سجایا اور جنگ خندق میں ہی آپ علیہ السلام کی صرف ایک ضربت کو ثقلین کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا۔
اس مرحلے واقعہ میں مباہلہ بھی پیش آیا اور عیسائیوں نے شکست تسلیم کرکے اسلامی ریاست کو جزیہ دینے پر تیار ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آخری حج سے واپسی کے دوران مقام غدیر پر جبرئیل امین آیت بلغ ما انزل الیک لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو جمع کرنے کے بعد اپنے بعد اپنی جانشینی اور مسلمانوں کی آئندہ لیڈرشپ کا اعلان کیا اور تمام مسلمانوں سے حضرت علی علیہ السلام کے لئے بیعت لیا۔ خصوصاً خلفاء راشدین حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے آپ علیہ السلام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اے علی آپ آج سے ہمارے اور تمام مسلمانوں کے مولا و آقا بن گئے ہو۔

4۔ رحلت رسول سے خلافت تک
آپ علیہ السلام کی زندگی کا یہ دور خلفاء ثلاثہ کی خلافت کے پچیس سالہ دور پر مشتمل ہے۔ اس مرحلے میں آپ علیہ السلام نے مسلمانوں میں اتحاد و بھائی چارگی کو ٹھوس بنیادوں پر قائم رکھتے ہوئے مسلمانوں کو مضبوط اور متحد رکھا۔ آپ علیہ السلام نے دینی، علمی، سیاسی، اقتصادی، انتظامی میدانوں میں خلفاء راشدین کی قدم قدم پر رہنمائی فرمائی۔ چنانچہ حضرت عمر نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ یہ حقیقت عیاں ہے کہ اس دور میں بھی دینی اور علمی مرجعیت اور لیڈرشپ آپ علیہ السلام کے پاس ہی تھی۔

5۔ خلافت سے شہادت تک
یہ عرصہ تقریباً پانچ سال پر مشتمل ہے، اس مختصر عرصہ میں امام علی علیہ السلام نے حکومت اسلامی کا عملی طریقہ، اسلامی حکمرانوں کا فریضہ، حکومت اسلامی کے مقابل میں لوگوں کی ذمہ داری، اندرونی اور بیرونی مشکلات کا کیسے مقابلہ کرنا ہے، دنیا والوں کو بتانے کے ساتھ دکھا بھی دیا۔ اس عرصہ میں تین بڑی جنگیں پیش آئیں۔ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان۔ ان جنگوں کے باوجود آپ علیہ السلام نے اسلامی حکومت بہتر طور پر چلائی اور اس دوران آپ علیہ السلام نے سائنسی حقائق، معاشرت، اقتصادیات، سیاسیات، نفسیات، انسان شناسی اور معاشرہ سازی کے رہنما اصولوں کے علاوہ خدا شناسی اور دین کے اخلاقی و کلامی معارف پر گرانبہا تعلیمات انسانیت کے سامنے پیش کیں۔ آپ علیہ السلام نے مصر کے نامزد گورنر مالک اشتر کو گڈگورنینس کا ایک ایسا شاہکار جامع خط لکھا، جس میں عدل و انصاف پر مبنی ایک فلاحی ریاست چلانے کے تمام رہنما اصول موجود ہیں اور یہ خط اقوام متحدہ کے چارٹر کا حصہ بھی قرار دیا گیا۔ یہ خط آپ علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات اور شاہکار کلمات کے مجموعہ "نہج البلاغہ” میں مکتوب نمبر 53 کے عنوان سے موجود ہے۔