امیرالمومنین حضرت علی (ع) ابن ابی طالب کی فصاحت و بلاغت

(علامہ محمد رمضان توقیر)

خاتم المرسلین رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی (ص) کی ذات گرامی قدر ’’افصح العرب ‘‘ کے نام سے مشہور ہے، یعنی فصاحت و بلاغت آپ کی ذات پر ختم ہے۔ آپ (ص) نے انتہائی مختصر الفاظ میں معانی و مفاہیم کو اپنے کلام میں پرو دیا ہے۔ کلام میں اختصار آپ (ص) کی ذات کا خاصہ ہے۔ صحن کعبہ اس بات کا گواہ ہے کہ جب امیرالمومنین (ع) کی ولادت باسعادت ہوئی اور آپ نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے پہلے جس شخصیت کا دیدار کیا وہ پیغمبر اکرم (ص) کی ذات والا صفات ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) نے علی (ع) سے ملنے اور انہی دیکھنے کے بعد سب سے پہلے جو حسین عمل انجام فرمایا وہ یہ تھا کہ اپنی زبان وحی لسان علی (ع) کے دہن میں دے دی اور بہت دیر تک علوم جہانی و قرآنی وجود رسالت سے وجود امامت میں منتقل فرماتے رہے۔ یہ عمل فقط دو بھائیوں کی محبت اور قربت کا مظہر نہیں تھا بلکہ دنیا پر واضح کرنا تھا کہ بعد از نبی (ص) اگر علوم نبوی و علوم الٰہی کا وارث ہے تو صرف اور صرف علی (ع) ہے۔ خود امیرالمومنین (ع) نے کئی مواقع پر اس حقیقت کا بیان کیا کہ انہیں حاصل ہونے والے الہی و نبوی علوم اسی زبان رسالت کی عطیہ ہیں۔

شاید اس قول کی اصلیت بھی علی علیہ السلام کے ساتھ وابستہ ہے جس میں کلام الامام کو امام الکلام کہا گیا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کو کائنات میں یہ عجیب فوقیت حاصل ہے کہ ایک ہی وقت میں جہاں شجاعت و بہادری کا پیکر اور تلوار زنی میں بےمثال ہیں وہاں فصاحت و بلاغت اور علم و دانش کا لاثانی نمونہ ہیں۔ ایسی شخصیت کائنات میں اور کوئی نہیں جسے ایک ہی وقت میں مختلف یا متضاد میدانوں پر قبضہ حاصل ہو۔ حیرت کی انتہاء اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنین نے فصاحت و بلاغت کے اکثر جواہر اپنی ظاہری خلافت کے کٹھن ترین دنوں میں ظاہر کئے ہیں، جب جنگ و جدل اور سازشوں کا عروج تھا۔ یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ آپ (ص) کے علوم اور فصاحت کسی موسم مزاج یا حالات کے تابع نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مستقل ودیعت تھی جو آپ نے کسی قسم کے حالات کا دباؤ قبول نہ کرتے ہوئے لوگوں تک پہنچائی۔

دنیا کے اہل علم، اہل فن، اہل زبان، اہل ادب اور صاحبان فصاحت نے صدر اسلام سے اب تک یہ بات اصول کے طور پر طے کر دی ہے کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اگر کسی کلام کی کوئی حیثیت یا مقام ہے تو وہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا کلام ہے، جس میں سے چند نمونے نہج البلاغہ کے نام سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ علی (ع) کی فصاحت و بلاغت پر سب بڑی شہادت اور گواہی خود افصح العرب رسول اکرم (ص) کی ذات مبارکہ ہے جنہوں نے علوم و فنوں اور فصاحت و بلاغت پر مشتمل جتنی احادیث فرمائی ہیں، سب میں علی (ع) کو اپنے ساتھ شریک رکھا ہے۔ انا مدینۃ العلم کے نبوی فرمان سے لے کر ذکّاً ذکّاً کے علوی اقرار تک ہر مقام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ علی (ع) کی ذات ہی علوم و فصاحت کا مرکز و محور ہے۔ اہل اسلام میں سے متعدد اہل علم نے علی (ع) کی فصاحت و بلاغت کا ببانگ دہل اقرار کیا ہے۔

علامہ شیخ کمال الدین محمد ابن طلحہ قریشی شافعی اعتراف حقیقت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ علی (ع) علم فصاحت و بلاغت میں امام کا درجہ رکھتے ہیں، جن کے قدموں کی خاک تک پہنچنا ناممکن ہے۔ وہ ایسے پیش رو تھے جن کے نشان قدم کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں حضرت (ع) کے خطبے اور موعظے اپنے اوامر و نواہی کو مکمل طور پر ظاہر کرتے ہیں اور فصاحت و بلاغت کے انوار کو اپنے الفاظ و معانی سے تابندہ شکل میں نمودار کرتے اور فن معانی و بیان کے اصول اور اسرار کو مختلف انداز بیان میں ہمہ گیر صورت سے ظاہر کرتے ہیں۔ علامہ ابو حامد عبدالحمید ابن ہبتہ اللہ المعروف بابن ابی الحدید مدائنی بغدادی فرماتے ہیں کہ علی (ع) کی فصاحت کا یہ عالم تھا کہ آپ فصحاء کے امام اور اہل بلاغت کے سرگروہ ہیں۔ آپ (ع) ہی کے کلام کے متعلق یہ مقولہ ہے کہ وہ خالق کے کلام کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالاتر ہے اور آپ ہی سے دنیا نے خطابت و بلاغت کا فن سیکھا۔

محمد بن علی بن طباطبا معروف بہ ابن طقطقی کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کتاب نہج البلاغہ کی طرف توجہ کی جو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کلام ہے کیونکہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس سے حکم اور مواعظ اور توحید اور زہد کی تعلیم حاصل ہوتی ہے اور اس کا سب سے ادنٰی فیض فصاحت و بلاغت ہے۔ علامہ محدث ملّا طاہر فتنی گجراتی اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم آپ علی (ع) کی فصاحت کے سامنے تمام فصحا کی فصاحت اور بلیغوں کی بلاغت اور حکماء روزگار کی حکمت مفلوج و معطل ہوکر رہ جاتی ہے۔ علامہ یعقوب لاہوری کہتے ہیں کہ جو شخص آپ (ع) کی فصاحت کو دیکھنا اور آپ کی بلاغت کو سننا چاہتا ہو وہ نہج البلاغہ پر نظر کرے اور ایسے فصیح و بلیغ کلام کو کسی شیعہ عالم کی طرف منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔

ملک عرب کے مشہور مصنف، خطیب اور انشاء پرداز شیخ مصطفٰی غلائنی فرماتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں بلیغ کلام اور ششدر کر دینے والے طرز بیان اور خوش نما مضامین اور مختلف عظیم الشان مطالب ایسے ہیں کہ مطالعہ کرنے والا اگر ان کی صحیح مزادلت کرے تو وہ اپنی انشاء پردازی اپنی خطابت اور اپنی گفتگو میں بلاغت کے معیار پر پورا اتر سکتا ہے۔ استاد محمد کرد علی رئیس مجمع علمی دمشق نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر بلاغت کا اس کے مکمل ترین مظاہرات کے ساتھ مشاہدہ مطلوب ہو اور اس فصاحت کو جس میں ذرہ بھر بھی زبان کی کوتاہی شامل نہیں ہے، دیکھنا ہو تو تم کو نہج البلاغہ کا مطالعہ کرنا چاہیئے، جو امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کے خطب و مکاتیب کا مجموعہ ہے۔

استاد محمد محی الدین مدرس جامعہ الازہر کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان، سب سے زیادہ قدرتِ کلام کا مالک اور قوت استدلال میں زیادہ اور الفاظِ لغت عربی پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والا تھا کہ جس صورت سے چاہتا انہیں گردش دے دیتا تھا اور وہ بلند مرتبہ حکیم کہ جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ عبدالمسیح انطاکی صاحب جریدہ، العمران، مصر کہتے ہیں کہ اس میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا کہ سیدنا حضرت علی امیرالمومنین فصیحوں کے امام اور بلیغوں کے استاد اور عربی زبان میں خطابت اور کتابت کرنے والوں میں سب سے زیادہ عظیم المرتبت ہیں اور ان کے کلام کے بارے میں بالکل صحیح کہا گیا ہے کہ یہ کلام خلق سے بالا اور خالق کے کلام سے نیچے ہے۔

غرض یہ کہ جس اہل علم کے قلب کی کیفیت دریافت کریں ہر ایک یہی پکار اٹھے گا کہ میرا امام علی (ع) ہے۔ علی (ع) کے کلام کی فصاحت کا ثبوت ان کے زیر بیان موضوعات ہیں۔ توحید الٰہی سے لے کر انسانی رویئے تک کوئی بھی موضوع نہیں ہے، جس میں علی (ع) نے اپنی بلاغت لسانی اور فصاحت بیانی کے جوہر نہ دکھائے ہوں۔ حتی کہ جنگ کے دوران پڑھے گئے رجز و اشعار بھی فصاحت و بلاغت سے مرصع ہیں۔ مشکل سے مشکل ترین اور آسان سے آسان ترین موضوع کو بھی آپ (ع) نے فصاحت و بلاغت سے مزین کر دیا ہے۔ ایک عام موضوع سے آپ (ع) نے ایسے ایسے بلیغ نکات نکالے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ کے کلام میں ادب اور انشاء پردازی اس قدر نمایاں ہے کہ اہل ادب و اہل عرب میں یہ بات مسلمہ سمجھی جاتی ہے کہ اگر کسی نے فنِ تحریر و تقریر میں کمال حاصل کرنا ہو تو اسے امیرالمومنین کے کلام عالی مقام کا مطالعہ و مشاہدہ کرنا چاہیئے اس کے بغیر کبھی بھی انسان ایک ادیب و شاعر و انشا پرداز و خطیب نہیں بن سکتا۔

ہم علی (ع) کی فصاحت و بلاغت پر جتنا لکھیں اور بیان کریں وہ ایک قطرے کی حیثیت کا حامل بھی نہیں ہو سکتا، علی (ع) کی فصاحت و بلاغت کا اقرار و اظہار بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ علی (ع) کا کلام خالق کے کلام کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالا و فوقیت کا حامل ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہے کہ صدیوں سے موجود نہج البلاغہ اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی چلی آ رہی ہے اور تاقیامت کرتی رہے گی اور علی (ع) کا کلام قیامت تک مخلوق کے کلام سے افضل و برتر رہے گا۔