مسلم کو تنہا نہ چھوڑو!!

( علامہ صادق رضا تقوی)

یہ مسلم ابن عقیل ابن ابی طالب ابن عبدالمطلب ہے!
یہ حسین (ع) کا نمائندہ ہے!
اس حسین (ع) کا نمائندہ جو چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہیں!
مسلم اس چراغ ہدایت کو تند و تیز آندھیوں سے بچانے کیلئے ایک شیشہ ہے جو اس کے گرد حصار کئے ہوئے ہے!
مسلم اس کشتی نجات کا عرشہ ہے کہ جس سے گزر کر کشتی میں سوار ہوا جاتا ہے!
لوگ اندھیروں سے نکلنے کے متمنی ہیں!
وہ ظلمتِ شب کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں!
یہ ظلمت ِ شب ابن زیاد کے اعمال اور لوگوں کی بے طرفی، خاموشی اور سکوت کی وجہ سے طاری ہوئی ہے!
وہ اپنے سر پر برسنے والے ابن زیادی کوڑوں کو ہٹانا چاہتے ہیں!
مسلم آیا ہے
نجات دینے
ظلمتِ شب کا مقابلہ کرنے کیلئے نور حسین (ع) کی کرنوں میں سے ایک کرن لے کر
بحر تلاطم اور طوفانی لہروں سے ڈوبتی انسانیت کو نجات دینے
نائب بن کر
سفیر بن کر
تاکہ اپنے ہاتھوں پر بیعت لے کر امام کے آنے کی راہ ہموار کرے،
آؤ لوگو!
میں حسین فاطمہ (ع) کی جانب سے تمھارے پاس آیا ہوں بلکہ بھیجا گیا ہوں،
میں حسین ابن علی (ع) کا نمائندہ، نائب اور سفیر ہوں!
میرا حکم حسین ابن علی (ع) کا حکم،
میرا ہاتھ حسین ابن علی (ع) کا ہاتھ
اور میری بیعت حسین ابن علی (ع) کی بیعت ہے!!
جان لو!
میری اطاعت حسین ابن علی (ع) کی اطاعت ہے!
میں اس کی جانب سے ہوں جو خدا کی جانب سے امام قرار دیا گیا ہے!
مجھے تنہا کرنا درحقیقت حسین ابن علی (ع) کی آمد کے راستے کو روکنا اور مسدود کرنا ہے!
میرا ساتھ نہ دنیا دراصل ہدایت و نجات کے دروازے کو اپنے اوپر اپنے ارادے و اختیار سے بند کرنا ہے!
میں تو ایک سپاہی ہوں!
میں اپنے آقا کا ایک ادنٰی سا غلام ہوں
سپاہی اپنے سالار کے حکم کا پابند ہوتا ہے اور غلام اپنے حکم آقا کے علاوہ کسی اور کام کیلئے سوچنے کا تصور بھی ذھن میں نہیں لا سکتا!
مجھے اپنی جان پیاری نہیں!
عرشے کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ساحل پر کھڑے لوگوں کو اپنے اوپر سے گزار کر صحیح و سالم کشتی تک پہنچا دے،
خواہ ٹوٹ جائے، چٹخک جائے یا اس کا وجود ہی ختم ہو جائے!
لیکن جان لو!
جان تو آئی ہے تو جانے والی ہے!
لیکن یہ کشتی ہمیشہ اسی ساحل پر لنگر انداز نہیں رہے گی!
اسے آگے بڑھنا ہے،
دوسرے انسانوں کو بھی تلاطم و طوفان سے نجات دینی ہے!
اس نے آگے بڑھنا ہے
یہ تمھارا انتظار نہیں کرنے والی!
یہ کشتی نجات تمھارے پاس آنے والی ہے
میں آیا ہوں کہ تم کو بیدار، ہوشیار اور خبردار کروں
آمادہ و تیار کروں!
مجھے اپنی جان کا کوئی خوف نہیں!
چراغ ہدایت لئے ہوئے قافلہ اگر کوفے سے آگے نکل جائے تو پھر ابدی اندھیرا اور تاریکی ہے
اگر کشتی نجات ساحل سے روانہ ہو جائے تو تو بحر تلاظم کی طوفانی لہریں ہیں جو تمھارے انتظار میں ہیں!
لیکن یہ بدھو!
بے عقل،
کم فہم لوگ
حسین ابن علی (ع) کی ہدایت و نجات سے زیادہ ان کی شخصیت پرستی میں گرفتار تھے اور ایسے لوگ کردار اور تعلیمات کو بھول کر جسموں کے پجاری ہو جاتے ہیں!
اہل کوفہ چیخ رہے تھے حسین کو بلاؤ!
نجات کو آواز دو!
چراغ راہ لے کر آؤ
حسین (ع) نے مسلم بھیجا
لیکن یہ شخصیت پرست صرف حسین (ع) کے بدن کو دیکھنا چاہ رہے تھے!
انہیں حسین ابن علی (ع) کے مقاصد، اہداف، تعلیمات اور آرزؤوں سے کوئی تعلق نہیں تھا!!
انہوں نے جب حسین ابن علی (ع) کے نمائندے سے وفا نہیں کی تو اب حسین سے کس وفا کی تمنا کریں!!!
مسلم دوراں سید علی خامنہ ای، حسین وقت (ع) کی جانب سے آیا ہے
یہ کشتی نجات اور چراغ ہدایت کا سفیر اور نائب ہے!!
اسے تنہا کرنا اپنی ہلاکت و بربادی کو دعوت دینے کے مترادف ہے!