عظیم درسگاہ انسانیت میں داخلہ جاری ہے

(تحریر: سید اسد عباس تقوی)

موجودہ صدی کو معلومات یا علم کی صدی کہا جاتا ہے، تاہم میری نظر میں ضروری نہیں کہ علم یا معلومات کسی ایک زمانے سے مخصوص ہوں۔ میری حقیر رائے میں ہر زمانہ علم کا زمانہ اور ہر صدی علم کی صدی ہے۔ ہاں! موجودہ صدی کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں علم نے بہت تیزی سے جغرافیائی اور لسانی حدوں کو عبور کرنا شروع کر دیا ہے، جس میں اہم کردار جدید ٹیکنالوجی کا ہے۔ ہر چیز کی معلومات نیٹ پر دستیاب ہیں، آپ کسی دوائی کے بارے میں جاننا چاہیں، کسی موٹر کی ہلکی پھلکی مرمت کرنا چاہیں، کسی لفظ کا کھوج لگانا چاہیں، کسی عبارت کا معنی جاننا چاہیں، کسی جگہ یا مقام کی تصویر دیکھنا چاہیں، کسی علم کے بارے میں تفاصیل سے آگاہ ہونا چاہیں، خبروں کی ضرورت ہو، لوگوں کا رہن سہن، مزاج، نفسیات غرضیکہ جو سوال بھی ذہن انسانی میں پیدا ہو، جواب نیٹ پر موجود ہے۔ مختصراً یہ کہ علم کا ایک سمندر ہے جو انسان کی دسترس میں آچکا ہے، جس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہم سے پہلے لوگوں کو میلوں کا سفر کرنا پڑتا تھا۔

انسان کی موجودہ علمی ترقی ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے، جس کا آغاز تخلیق آدم سے ہی ہوگیا تھا۔ درس و تدریس، تلمیذ و تلمذ، قلم و قرطاس سب اسی علم دوستی کے لئے وضع کئے گئے۔ ہم نے بذات خود علم کو بھی بہت ترقی دی، وہ معلومات جو پہلے ایک ہی صنف علم کے تحت آتی تھیں، کو اب الگ الگ اصناف میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ہر ہر صنف علم کے ہزارہا ماہرین اور ان علوم کے تعلم کے ہزارہا ادارے۔ پھر تعلم کے معیارات کا سلسلہ شروع ہوا کوئی یونیورسٹی اے کیٹیگری کی ہے تو کوئی بی کیٹیگری کی، کہیں کی فیکلٹی کمال ہے تو کہیں کا نصاب۔

علم کی اس قدر ترقی کے باوجود انسان نے آج تک انسانیت کی تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں بنایا۔ جہاں انسان کو یہ سکھایا جائے کہ اچھا انسان کیا ہوتا ہے؟ انسانیت کیا ہے؟ انسان کو دوسرے انسانوں کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہیے؟ انسان کی بحیثیت انسان کیا ذمہ داریاں ہیں؟ وغیرہ۔ اگرچہ یہ معلومات اخلاقیات کی کتب میں تفصیلاً درج ہوتی ہیں، تاہم اس اخلاقیات کی عملی مثالیں یا واقعاتی تطبیق بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ اخلاقیات اس وقت تک کہانی ہی ہے جب تک اس کی واقعاتی تطبیق موجود نہ ہو۔ جب اخلاقیات کو واقعاتی مطابقت مل جاتی ہے تو اس وقت یہ اخلاقیات دوسرے انسانوں کے لیے بھی قابل تقلید ہوتی ہے، وگرنہ ان باتوں کو جاننا ظاہراً زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام تر الہامی کتب میں اخلاقی موضوعات کو واقعات کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔

قرآن میں بھی اسی روش کو جاری رکھا گیا۔ شرف و پاکیزگی کو بیان کرنا مقصود ہوا تو یوسف و زلیخا کے واقعے کے ذریعے اس اخلاقی وصف کی تفصیل کو بیان کیا گیا۔ قربانی اور اطاعت کا اظہار مقصود ہوا تو ابراہیم و اسماعیل علیھم السلام کے واقعہ کے ذریعے ان اوصاف کی توصیف کی گئی۔ صبر پر اظہار خیال کرنا چاہا تو ایوب کی بیماری کا واقعہ بیان کیا گیا۔ خدا پر توکل کا اظہار کرنا چاہا تو طوفان نوح کے واقعات کا سہارا لیا گیا۔ قرآن میں جابجا ان انسانی اوصاف کو واقعات کی صورت میں بیان کرنے کا مقصد یقیناً آنے والی نسلوں کے سامنے عملی مثالیں رکھنا تھا، تاکہ آنے والے لوگ ان واقعات سے سیکھتے ہوئے اپنے باطن کو پاکیزہ کریں اور انسانیت سے قریب تر ہوجائیں۔

اس کے بجائے یہ بھی کیا جاسکتا تھا کہ لوگوں کو اخلاق حسنہ اور اطوار جمیلہ جو انسانیت کا خاصہ ہیں، کے بارے میں لفظی تلقین پر ہی اکتفا کیا جاتا، جیسا کہ فقط یہ کہا جاتا کہ انسان وہ ہے جو سچ بولے، انسان وہ ہے جو ہمسائے کا خیال رکھے، انسان وہ ہے جو والدین سے حسن سلوک سے پیش آئے، انسان وہ ہے جو حق بات کہے، انسان وہ ہے جو منافقت نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن خالق کائنات جانتا تھا کہ اس لفظی تلقین کا اثر اتنا ہی ہوگا جتنا آج کل کے بچے کسی مولوی کی تلقین کا اثر لیتے ہیں۔ اگر بفرض محال کسی طرح مولوی کے جال میں پھنس جائیں اور انسانیت پر لیکچر سننا پڑ جائے تو جان اٹکی رہتی ہے کہ نہ جانے کب مولانا کو کوئی کام یاد آئے گا اور ہماری اس سمع خراشی سے جان چھوٹے گی۔ اکثر مولانا بھی اپنے وعظ اور تلقین کو آخری تلقین کے طور پر انجام دیتے ہیں، جس سے اخلاقیات کے درس میں ہی بداخلاقیاں جنم لینا شروع ہوجاتی ہیں۔

کسی بھی علم کے انسان پر اثر پذیری کا ایک اہم عامل انسان کی اس علم سے جذباتی وابستگی بھی ہے۔ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ افراد جو کسی خاص واقعہ کے تحت طب کے شعبہ سے منسلک ہوتے ہیں، عام ڈاکٹرز کی نسبت زیادہ حاذق اور اپنے شعبے کے ماہر ہوتے ہیں۔ یہی حال دیگر علوم کا بھی ہے۔ لہذا تعلیم و تربیت میں جذباتی وابستگی ایک اہم عنصر ہے، شاید اسی سبب قرآن کریم میں اخلاقیات کی تعلیم کے لئے انسان کی جذباتی وابستگی کو اہمیت دی ہو۔ لفاظی بہت ہوچکی اب میں اپنے اصل موضوع کی جانب آنا چاہوں گا۔ آج میرا موضوع سخن، علم انسانیت کی عظیم درسگاہ ’’کربلا‘‘ ہے۔ اپنی عمر کے بیتے ہوئے تمام برسوں میں، میں اس درسگاہ کا طالب علم رہا ہوں۔ یہ وہ درسگاہ ہے جو قریباً چودہ سو سال سے انسانوں کو رموز انسانیت سکھا رہی ہے۔ اس درسگاہ کے طلاب کے لئے کسی خاص مسلک، گروہ یا عقیدے سے ہونا شرط نہیں۔ ہر ابن آدم خواہ ہندو ہو یا سکھ، عیسائی ہو یا یہودی، مسلمان ہو یا بدھ اس درسگاہ سے کسب فیض کرسکتا ہے۔

معلم درسگاہ اس قدر فیاض ہے کہ الامان و الحفیظ۔ اس درسگاہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں آدم سے لے کر خاتم تک دیئے گئے تمام دروس انسانیت کا ایک ہی مقام پر عملی مظاہرہ کرکے دکھایا جاتا ہے۔ صبر، شکر، توکل، شجاعت، قناعت، حق پرستی، اطاعت، پاکیزگی، قربانی، وفا، عزم، ہمت، ارادہ، بندگی، عشق، رضا، لقاء اور بقاء سب کچھ۔ جی ہاں پوری انسانیت اس ایک درسگاہ میں عملی مظاہر کے ذریعے سکھائی جاتی ہے۔ اگر آج تک آپ اس درسگاہ کے دروس انسانیت سے محروم رہیں ہیں تو جان لیجئے کہ آپ نے آج تک انسانیت کے بارے میں کچھ سیکھا ہی نہیں۔ اس درسگاہ پر کسی خاص گروہ کی اجارہ داری کا منظر دیکھ کر دروازوں سے مت لوٹ جایئے۔ طلاب حق ظاہری رکاوٹوں سے گھبرایا نہیں کرتے۔

اس درسگاہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان میں عمل کا وہ جذبہ بھر دیتی ہے، جس کے بعد اس کی حالت پہلے جیسی نہیں رہ جاتی۔ اگر بزدل ہے تو شجاع بن کر نکلتا ہے۔ اگر فکری غلام ہے تو ہر طرح کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اگر بے وفا ہے تو وفا کے چشمے سے سیراب ہو کر ہمیشہ کے لئے وفاداری کو اپنا شعار بنا لیتا ہے، اگر مغرور ہے تو یہ درسگاہ بندگی کا سلیقہ سکھاتی ہے، اگر لقاء چاہتا ہے تو ایسا تمسک بخشتی ہے کہ پھر دوئی کا تصور باقی نہیں رہتا۔ یہاں ایثار و قربانی کے وہ جام پلائے جاتے ہیں جن کو پینے کے بعد انسان کو اپنا وجود ہدف و مقصد کے سامنے بے معنی نظر آتا ہے۔ انسانی فکر پاکیزگی کی ان بلندیوں کو چھونے لگتی ہے، جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میں اس درسگاہ کا ایک ادنٰی سا طالب علم ہوں اور اپنی نااہلی کے سبب ہنوز زیرتربیت ہوں، تاہم اس درسگاہ کے سب طلاب مجھ جیسے نہیں بلکہ اس درسگاہ نے ایسے ایسے فرزند پیدا کئے ہیں، جنہوں نے تاریخ انسانیت کا دھارا موڑ دیا۔ یہاں آپ کو آداب فرزندی بھی سکھائے جائیں گے اور تسلیم و رضا کے باب بھی پڑھائے جائیں گے۔ جی ہاں یہ انسانیت کی سب سے عظیم درسگاہ ہے۔ یہ کربلا ہے۔