مقصد قیام امام حسینؑ، بقائے اسلام، احترام انسانیت

(تحریر:ڈاکٹر ندیم عباس )

دنیا میں اٹھنے والی تمام تحریکیں کسی نہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے معرض وجود میں آتی ہیں، جس تحریک کا مقصد جس قدر بلند ہو اس تحریک کو اوراق تاریخ میں اتنی ہی قدر و منزلت ملتی ہے اور اچھے الفاظ میں یاد رکھی جاتی ہے۔ اس کے مدمقابل اگر کسی تحریک کا مقصد فتنہ و فساد اور انسانیت پر ظلم ستم ہو تو اس تحریک کی تاریخ سیاہ دھبوں کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ بہت ساری تحریکیں طوفان کی طرح اٹھتی ہیں، چند دن ان کا بڑا شور ہوتا ہے، پھر تھوڑے عرصے بعد فقط ان کی گرد رہ جاتی ہے۔ مقصد کا پست ہونا تحریک کے خاتمے کا باعث بن جاتا ہے۔ کسی بھی تحریک کا مشاہدہ کرنے کے لئے اس تحریک کے مقاصد کا جاننا بہت ضروری ہے۔ عظیم مقاصد کی حامل تحریکیں ہی عظیم ہوتی ہیں۔ مقاصد کی وسعت تحریک میں وسعت کا باعث بنتی ہے۔ اس سے تحریک چلانے والے کی حیثیت، سوچ، فکر کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں ایک انتہائی اہم نقطہ ذہن میں رہے، عظیم مقاصد عظیم قربانیاں مانگتے ہیں، مقصد جتنا بڑا ہوگا اس کے حصول کے لئے اتنی زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی اور اتنی ہی زیادہ قربانیاں دینا پڑیں گی۔

کربلا ایک الہی انقلابی تحریک ہے، اس نے انسانی زندگی پر دنیا میں چلنے والی تمام تحریکوں سے زیادہ اثرات چھوڑے ہیں۔ ۶۱ہجری سے لے کر آج تک ۱۴ صدیاں ہوگئیں ہیں مگر آج بھی یہ تحریک تروتازہ ہے۔ دنیا کے جس حصے میں چلے جائیں، وہاں کسی نہ کسی صورت میں ذکر کربلا ضرور ہوگا۔ آج یہ تحریک دنیا میں آزادی اور حریت کا نشان بن چکی ہے۔ اس تحریک نے انسانیت کو اس کی معراج تک پہنچا دیا ہے۔ عزم، ہمت، حوصلے اور استقامت کی علامت بن چکی ہے۔ انسانی آزادی کے لئے چلنے والی تمام تحریکیں اس تحریک سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔ اس عظیم تحریک کا مقصد کیا تھا؟ یہ کیوں برپا کی گئی؟ حریت انسانیت کے لئے چلنے والی اس تحریک کے الہی قائد خود اپنے بھائی کے نام اپنی وصیت میں اس مقصد کو بیان فرماتے ہیں۔
"میرا نکلنا نہ خود پسندی اور تفریح کی غرض سے ہے اور نہ میرا مقصد فساد اور ظلم کرنا ہے، میں صرف اس لئے نکلا ہوں کہ اپنے نانے کی امت کی اصلاح کروں، میں چاہتا ہوں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو انجام دوں اور یوں اپنے نانا اور اپنے والد کی سیرت کی پیروی کروں۔”

امام کے ان جملوں پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ امام نے ان تمام وجوہات کی نفی کر دی، جن وجوہات پر اس زمانے میں جنگ ہوا کرتی تھی۔ مثلاً لوگ خود پسندی اور اپنی لڑائی جھگڑے والی طبیعت کی وجہ سے جنگیں کرتے تھے۔ خود پسندی جیسی برائی تربیت یافتہ نبوت کے دل دماغ میں کیسے آسکتی ہے۔ دوسرا لوگ ظلم کرنے اور فساد پھیلانے کے لئے کشت و خون کرتے ہیں۔ امام حسینؑ نے ظلم کے خاتمے اور فساد کی جڑیں کاٹنے کے لئے قیام فرمایا۔ آپ تو پیکر عدل اور عظیم مصلح تھے، ایسا کیوں نہ ہو آپ اس ہستی کے فرزند ہیں جن کے بارے میں مشہور عیسائی مصنف جارج اپنی مشہور زمانہ تصنیف ندائے عدالت انسانی میں لکھا ہے کہ علیؑ کو ان کے شدت عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ خود حضرت علیؑ فرماتے ہیں "دنیا کے ہر حکمران سے دشمنی اس کے ظلم کی وجہ سے کی گئی، میں واحد حکمران ہوں میرے ساتھ دشمنی میرے عدل کی وجہ سے کی گئی۔” امام حسینؑ اپنے بابا کی اسی سیرت عدل کو زندہ کرنے کے لیے قیام فرما رہے ہیں۔

امام نے اپنے قیام کا مقصد اپنے نانا کی امت کی اصلاح کو قرار دیا۔ اصلاح بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے، اس وقت کے حالات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ امت مسلمہ میں اسلام فقط نماز روزے کی حد تک محدود ہوچکا تھا۔ اسلام بطور نظام زندگی کا تصور دم توڑ رہا تھا، لوگ فقط عبادات کو دین سمجھتے تھے، ظلم و بربریت کا دور دورہ تھا، آمریت اسلامی معاشرے کو اپنے پنجوں میں جکڑ چکی تھی۔ اسلام کے نوزائیدہ شجر کی جڑیں کھوکھلی کی جا رہی تھیں، اسلامی اقدار پامال کی جا رہی تھیں، لا دینیت کو دین کے لبادے میں پیش کیا جا رہا تھا اور اس پر ظلم یہ کہ لوگ اسی کو حقیقی اسلام سمجھ رہے تھے۔ ایسے امام حسینؑ اسلام کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لئے اور ان خرافات کو ختم کرنے کے لئے سامنے آتے ہیں۔

امام نے امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کو اپنے قیام کا مقصد قرار دیا۔ کوئی کم سوچ و فکر رکھنے والا یہ کہ سکتا ہے کہ یہ کوئی بڑا مقصد نہیں ہے، جس کے لئے اتنی بڑی تحریک شروع کی جائے، اپنا گھر بار چھوڑا جائے، حج جیسی عظیم عبادت کو ترک کیا جائے، سفر کی مشکلات کے بعد کربلا کے لق و دق صحرا میں اپنے کنبے کو جانثاروں سمیت شہید کرایا جائے۔ یہ امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے کہ اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ اور اس میں کتنی وسعت پائی جاتی ہے؟ امر بالمعرف اور نہی عن المنکر دونوں عربی لفظ ہیں، امر بالمعروف کا مطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا۔ مثلاً عدل کرنا، علم پھیلانا، اولاد کی تربیت کرنا، والدین کے حقوق ادا کرنا، استاد کا احترام، اہل حق کی اطاعت کرنا، معاشرے میں مساوات قائم کرنا، تعلیم عام کرنا، جہالت ختم کرنا، غرباء و مساکیں کا خیال رکھنا، نماز روزے کا حکم دینا، عادلانہ نظام حکومت کو قائم کرنا، یہ تمام نیکیاں ہیں، ان کا حکم دینا امر بالمعروف کہلاتا ہے۔

اسی طرح ظلم کرنا، ظالم کا مدد گار بننا، غربا و مساکین کا حق ادا نہ کرنا، ظلم و تشدد کرنا، والدین اور اولاد کے حقوق ادا نہ کرنا، نماز روزے کو ترک کرنا، ظالم نظام حکومت کا حصہ بننا، یہ سب برائیاں ہیں اور ان سے روکنا نہی عن المنکر کہلاتا ہے۔ یعنی امر بامعروف اور نہی عن المنکر کرنا ایسا ہے جیسے تمام اچھائیوں کا حکم دینا اور تمام برائیوں سے روکنا۔ دنیا کے جس معاشرے میں امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کا رواج ہوجائے وہ معاشرہ جنت نظیر معاشرہ ہوگا اگر سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو پورا دین امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کے دائرہ کار میں آتا ہے اور جب سیدالشہداء اپنے قیام کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امام پورے دین کو اپنے قیام کا مقصد قرار دے رہے ہیں۔ گویا آپ نے پورے نظام اسلام کے قیام کی بات کی ہے، حاکم کو تبدیل کرنا اس کا ایک حصہ ہے۔

اس کے بعد امام نے فرمایا کہ میں اپنے نانا محمد ﷺ اور اپنے بابا علیؑ کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں۔ آپ کے نانا کی سیرت کیا تھی، آپﷺ نے تمام تر مشکلات کے باوجود تبلیغ اسلام کا آغاز کیا اور اس سلسلہ میں آنے والی تمام تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ آپ پر کیا کیا مظالم نہیں ڈھائے گئے، مگر آپﷺ کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آئی بلکہ آپ ﷺ کا سلسلہ تبلیغ بڑھتا گیا۔ آپ ﷺ نے مکہ میں ان تمام مظالم کو برداشت کیا۔ جب آپﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپﷺ پر چاروں طرف سے یلغار کر دی گئی۔ پورا عرب آپ ﷺ کے مدمقابل آگیا، مگر آپ ﷺ نے تبلیغ اسلام کو جاری رکھا۔ آپ کے بابا علی ؑ کی سیرت بھی یہی ہے۔ مکہ میں حضورﷺ کے جان نثار بن کر رہے، ہجرت کے بعد مدینہ میں لشکر رسولﷺ کے علمدار بن کر رہے، جب بھی اسلام پر کوئی مشکل آتی حضرت علیؑ آگے بڑھ کر اس مشکل کا خاتمہ کر دیتے۔ جب آپؑ کو ظاہری خلافت ملی تو آپ نے اسلام ناب محمدی کے احیاء کی بھرپور کوششیں کیں اور اس کے لئے تین خطرناک جنگیں لڑیں۔ آپ کی یہ کوششیں آپؑ کی شہادت تک جاری رہیں۔ امام حسینؑ جب یہ کہتے ہیں کہ میں نانا اور بابا کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ہر صورت میں لوگوں کو دعوت حق دوں گا۔ اگرچہ تم میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے ہاتھ پر سورج رکھ دو۔ اگر کفار سے مقابلہ ہوگا تو نانا کی سیرت سامنے ہے اور اگر نام نہاد مسلمانوں سے مقابلہ ہوگا تو بابا کی سیرت پر چلتے ہوئے ان کا مقابلہ کروں گا۔

امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا "مثلی لا یبایع مثلہ مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا” یہ امام کی پالیسی سٹیٹمنٹ ہے، جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ دیکھو جب بھی کسی ظالم، جابر، آمر کی اطاعت کا سوال ہو تو سیرت حسینؑ یہ ہے سر دے دینا، بیعت نہ کرنا۔ کیونکہ انسان قتل ہونے سے نہیں مرتا بیعت قبول کرکے اپنے نظریے کی موت سے مرجاتا ہے۔ بقول شاعر
جب بھی ضمیر کا سودا ہو دوستو!
تو ڈٹ جاؤ حسین کے انکار کی طرح
امام حسینؑ مکہ تشریف لاتے ہیں، مکہ عالم اسلام کا مرکز ہے، امام کے آباء و اجداد کا مسکن ہے، دنیا بھر کے مسلمان یہاں زیارت کے لیے آتے ہیں۔ یہاں سے اپنا پیغام دنیا بھر کے مسلمانوں تک پہنچانا آسان ہے، سب سے بڑھ کر یہاں بیت اللہ ہے اور مکہ حرم خدا ہے۔ یہاں ہر انسان کو امن حاصل ہے۔ اس لئے امام یہاں قیام فرماتے ہیں۔ حج کا آغاز ہوتا ہے، آپ کو پتہ چلتا ہے کہ حکومت وقت نے حرمت کعبہ کو پامال کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا ہے اور حاجیوں کے لباس میں آپ کو قتل کرنے کے لئے آدمی بھیجے گئے ہیں۔

آپ سے زیادہ حرمت کعبہ کا کسے پاس ہوگا اور دواسرا آپ کعبہ کو اپنے لئے بطور ڈھال استعمال نہیں کرتے بلکہ کعبہ کے لئے ڈھال بن جاتے ہیں۔ حج جیسی عظیم عبادت کے احرام کو توڑ دیتے ہیں۔ اس طرح امام نے اس وقت کے بڑے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ پورے عالم اسلام کے لوگ موجود ہیں، ان کے سامنے جب احرام کو توڑا اور حج کو چھوڑ کر جا رہے ہیں تو ہر حاجی پوچھتا ہے کہ نواسہ پیغمبر نے کیوں احرام توڑا ہے؟ وہ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ وہ وہاں کیوں جا رہے ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سب معلوم کرنے کے بعد جب یہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو سیدالشہداء کا پیغام بھی گھر گھر پہنچ جاتا ہے۔ امامؑ نے مکہ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ اب کہاں کا سفر اختیا ر کیا جائے، یہ ایک انتہائی اہم فیصلہ ہوگا۔ یہاں امام نے تمام لوگوں کی مخالفت کے باوجود کربلا کا سفر کیوں اختیار کیا؟ اگر ہم اس وقت کے حالات کا جائزہ لیں کہ امام کے پاس کیا آپشنز تھے؟ کیا امام نے کوفہ جانے کا جو فیصلہ کیا یہ درست تھا؟ ان حالات میں کہ اہل کوفہ آپ کے والد اور بھائی کے ساتھ بے وفائی کرچکے ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ امام حسینؑ کے قیام کا آغاز مدینہ سے ہوچکا ہے۔ آپ یزید کی بیععت نہ کرنے کا اعلان فرما چکے ہیں۔ اس میں اہل کوفہ کے خطوط کا کوئی کردار نہیں، کیونکہ ان کے خطوط مکہ میں ملے ہیں۔ امام کے پاس اس وقت کیا آپشنز موجود تھے۔ مدینہ آپ چھوڑ چکے ہیں، وہاں بنو امیہ کا مکمل قبضہ ہے، مکہ میں حرمت کعبہ کے پامال ہونے کا خطرہ ہے، یمن اور بصرہ کے حالات بھی کسی طرح سے آپ کے لئے سازگار نہیں ہیں اور شام میں خود یزید موجود ہے۔ اس تمام صورت حال میں صرف کوفہ ایسی جگہ ہے جو کسی بھی تحریک کے چلانے کے لئے انتہائی سازگار جگہ ہے۔ یہاں آپ کے والد اور بھائی کے اصحاب کی ایک جماعت موجود ہے۔ کوفہ ایک فوجی شہر ہے، یہاں سے ایک بڑی سپاہ میسر آسکتی ہے۔ یہ تمام وجوہات درست تھیں کیونکہ جب آپ کے خون کے انتقام کے لئے توابین اور بعد میں امیر مختار نے تحریک کا آغاز کیا تو ہزاروں لوگ انتقام خون حسینؑ کے لئے نکلے اور امام کے قاتلوں سے انتقام لیا۔

دوسرا اہل کوفہ کے ہزاروں خطوط آپ کے پاس آرہے ہیں۔ ان کے قاصد پہ قاصد آرہے ہیں، جو آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اس طرح اتنی بڑی تعداد میں کسی اسلامی شہر سے دعوت نہیں آ رہی، آپ ان تمام خطوط اور کے قاصدوں کے باوجود خود تشریف نہیں لے جاتے بلکہ اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؑ کو اپنا قاصد بنا کر کوفہ بھیجتے ہیں کہ انہوں نے جو رپورٹ دی اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اسی لئے جب حضرت مسلمؑ نے اہل کوفہ کے آمادہ نصرت ہونے کی اطلاع دی تو اس وقت امام نے کوفہ جانے کا فیصلہ کیا۔ امام نے احتیاط کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھا ہے۔ ہم فرض کرتے امام کوفہ نہیں جاتے بلکہ کسی دوسرے اسلامی شہر چلے جاتے یا مکہ میں ہی رہتے اور وہاں اسی طرح بے دردی شہید کر دیئے جاتے تو آج جو لوگ امام کے کوفہ جانے پر معترض ہیں، یہ کہہ رہے ہوتے امام کو جب کوفہ سے اتنی دعوتیں مل رہیں تھیں، ان کو قبول کرکے کوفہ کیوں نہ چلے گئے۔ امام کا یہ انتخاب ہر لحاظ سے درست تھا۔ اسی لئے کرفیو کے باوجود کربلا میں سب زیادہ شہداء اہل کوفہ میں سے ہیں۔

امام حسینؑ نے اصول جنگ اور آداب جنگ کو ہی تبدیل کر دیا، جنگ میں انسان دشمن سپاہ کے درپے ہوتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ جیسے ہی دشمن کا کوئی سپاہی میری دسترس میں آئے اور میں اس کا سر قلم کر دوں۔ مگر نواسہ پیغمبر تو انسانیت بچانے نکلے ہیں، دنیا کو احترام انسانیت کا درس دینا ہے، اسی لئے جب حر بن یزید ریاحی ایک بڑے لشکر کو لیکر آپ سے جنگ کرنے کے لئے آتا ہے، لشکر کی حالت یہ ہے کہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے پورا لشکر قریب المرگ ہے۔ ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جاسکتا ہے، بلکہ ان کو مارنے کے لئے تیروں، تلواروں اور نیزوں کی ضرورت ہی نہیں، یہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے خود ہی مرجائیں گے۔ اگر ان کے مدمقابل کوئی اور لشکر ہوتا تو یقیناً یہی کرتا، مگر امام لشکر کے ساتھ حسن سلوک کی وہ اعلٰی مثال قائم کرتے ہیں جو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے ہدایت کا کام دیتی رہے گی۔

امام کے پاس وافر مقدار میں پانی موجود تھا، جب دشمن کے لشکر نے پانی مانگا تو امامؑ نے حکم دیا کہ تمام لشکر کو پانی پلایا جائے۔ امام کے اصحاب نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور ان لوگوں جو انہیں قتل کرنے کے لئے آئے تھے، ان کو پانی پلایا، جب یہ پانی پی چکے تو امام نے حکم دیا ان کے جانوروں کو پانی پلاؤ اور دیکھنا گھوڑا ایک دفعہ پانی پینے سے سیر نہیں ہوتا، اس لئے اس وقت تک پانی نہ ہٹانا جب تک وہ منہ نہ موڑ لے۔ آج چودہ صدیوں بعد دنیا جانوروں کے حقوق کی بات کرتی ہے، نواسہ پیغمبر نے چودہ صدیاں پہلے جس طرح انسانی پیاس کی شدت کو محسوس کیا، اسی طرح جانوروں کی پیاس کا خیال رکھا۔ یہ اقدار عاشورا ہیں۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے بہن بھائیوں سے ناراض رہتے ہیں، ہمیں امام کے اس طرز عمل سے سبق لینا چاہیے کہ دشمنی میں بھی اسلامی اور انسانی اقدار کی پاسداری کی جائے۔

امام حسینؑ زبالہ کے مقام پر پہنچے تو آپ کو ایک خط ملا، جس میں حضرت مسلم ؑ، حضرت ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عبداللہ بن یقطر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کی خبر تھی اور ساتھ ہی اہل کوفہ کی بے وفائی کا تذکرہ تھا، آپ یہ خط پڑھنے کے بعد اپنے اصحاب کو خطبہ ارشاد فرماتے ہیں، جس میں اس واقعہ کی اطلاع دیتے ہیں اور حالات کے رخ تبدیل ہوجانے کا بتاتے ہیں۔ اس کے بعد تاریخی جملے ارشاد فرماتے ہیں "فمن احب منکم الانصراف فلینصرف لیس علیہ مناذمام، تم میں سے جو کوئی جانا چاہے وہ آزاد ہے اور ہماری طرف سے اس پر کوئی حق نہیں ہے۔” اگر دنیا کا طالب کوئی حکمران ہوتا تو لوگوں سے حالات کو چھپاتا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ساتھ رہیں کیونکہ جہاں جا رہے ہیں، وہاں خطرہ پہلے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ لوگ ساتھ چھوڑ چکے ہیں، زیادہ مددگاروں کی ضرورت ہے، مگر یہ کوئی عام رہنما نہیں، کوئی عام تحریک نہیں، رہنما حسینؑ ہے اور تحریک کربلا ہے۔ یہاں کسی بے خبر اور بے علم کی کوئی گنجائش نہیں۔ سب صاحب معرفت ہونے چاہیں، سب کو معلوم ہو حالات کیسے ہیں، احیاء دین اسلام اور بقائے شریعت محمدی جیسے عظیم مقصد کے لئے اٹھنے والی تحریک میں وہی لوگ شامل ہونے چاہیں جو بابصیرت ہوں ایمان کی اس منزل پر فائز ہوں، جن کے لئے مقصد اہم ہو زندگی اور موت ان کے لیے کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں۔

امام نے گویا یہاں سے اس تحریک میں شامل ہونے والوں کے لئے امتحان کا آغاز کر دیا کہ اس تحریک میں فقط وہی لوگ شامل ہوسکتے ہیں، جن کو جان سے زیادہ مقصد عزیز ہو، اسی لءے امام نے کوفہ کے سارے حالات بتا دیئے، تاکہ ان کو معلوم ہو کہ جس شہر میں وہ جا رہے ہیں وہ شہر اب پھولوں سے نہیں بلکہ تیروں اور تلواروں سے ان کا استقبال کرنے والا ہے۔ وہاں زندگی کی آسائشیں نہیں قربانیاں ہی قربانیاں ہیں، وہاں زندگی نہیں موت ہے۔ امام کے اس اعلان کے بعد کچھ لوگ جو فقط مال دنیا کے لئے آپ کے ساتھ ہو لءے تھے، واپس چلے گئے۔ وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ اس تحریک میں شامل ہوتے، وہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے اپنی جان بچا لی، ہم زندہ رہ گئے، مگر یہ ان کی بھول تھی، زندہ فقط وہی رہے جو اس الہی قافلے میں شامل ہوگئے۔ ان کا ایک ایک کردار تایخ میں ثبت ہوگیا۔ امام حسینؑ آزادی بشر کے بہت بڑے داعی تھے، آپ نے کسی فرد کو اپنی تحریک میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا، ہر آدمی کو مکمل اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی سے اس تحریک میں شامل ہو۔

آپ نے دس محرم کی رات اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میرے خیال میں کل میرے اور ان کے درمیان جنگ کا دن ہوگا، میں آپ سب کو چلے جانے کی اجازت دیتا ہوں، میں نے آپ سب پر سے اپنی بیعت اٹھا لی ہے، آپ لوگوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، رات کی تاریکی نے آپ سب کو چھپایا ہوا ہے، اس سے فائدہ اٹھایئے ہر شخص میر ے اہلبیت میں سے کسی ایک کا ہاتھ تھام کر اس کے ساتھ یہاں سے چلا جائے ۔۔۔۔۔ یہ لوگ میرے درپے ہیں، اگر مجھے مار لیں گے تو پھر دوسروں سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ امام یہ جملے اس رات کو ارشاد فرما رہے ہیں، جس کی صبح جنگ ہونی ہے۔ امام تمام لوگوں حتی اپنے رشتہ داروں کو جانے کا کہہ رہے ہیں۔ ساتھ میں فرما رہے ہیں کہ اندھیرا ہے چلے جاؤ، اس کی وجہ سے شرمندگی بھی نہ ہوگی۔ تمام ذمہ داریوں کو ختم فرما رہے ہیں کہ کسی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، بیعت اٹھا رہے ہیں، غرض ان کے جانے کے تمام موانع کو ختم کر دیتے ہیں۔

یہ آزادی سوائے تحریک کربلا کے کہیں نظر نہیں آتی، اسی لئے یہ ہر تحریک سے منفرد ہے، دنیا کی تحریکوں میں ان تحریکوں کے سربراہ عوام اور افواج کو لڑاتے ہیں، خود محفوظ پناہ گاہوں میں رہتے ہیں، مگر تحریک کربلا کا رہنما کہتا ہے کہ تم چلے جاؤ، میں شہید ہونے کے لیے تیار ہوں، یہ حقیقی آزادی ہے۔ امام اپنے ساتھیوں کو کل پیش آنے والے واقعات کے لئے تیار کر رہے ہیں، کیونکہ دس محرم کا دن کوئی عام دن نہیں ہے، یہ اسلامی اقدار کی بقا کا دن ہے، یہ کٹ جانے، شہید ہو جانے کا دن ہے، یہ انسانیت کی معراج کا دن ہے، اس دن جو کردار سامنے آئیں گے وہ قیامت آنے والے انسانوں کے لیے نمونہ عمل بن جائیں گے۔ دس محرم کی تیاری کے لئے یہ آخری امتحان ہے کہ کل کہیں موت کو سامنے دیکھ کر کوئی ڈر نہ جائے یا دشمن سے مرعوب نہ ہو جائے، اسی آزادی کا نتیجہ ہے کہ دس محرم کو لشکر یزید سے لوگ مرنے کے لئے امام کے لشکر میں آئے ہیں، مگر لشکر حسینی کا کوئی سپاہی زندہ رہنے کے لئے لشکر امام کو چھوڑ کر لشکر یزید میں شامل نہیں ہوا کیونکہ یہ لوگ حقیقت زندگی سے آشنا ہوچکے تھے، موت کو مقصد بنا چکے تھے، شھادت کو منزل کے طور دیکھ رہے تھے اور یہ انسانی فطرت ہے ہر انسان مقصد اور منزل تک جانا چاہتا ہے۔

امام کے اعوان و انصار نے امام کے اس خطبے کے بعد جو ایمان افروز تقاریر کیں، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ آپ کے بھائی حضرت عباسؑ کھڑے ہوئے اور فرمایا: خدا ہمیں کبھی ایسا دن نہ دکھائے کہ آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ حضرت مسلم ؑ کے بھائیوں نے فرمایا: خدا کی قسم ہم ہرگز آپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے، اپنا مال، جان، اولادیں آپ پر قربان کر دیں گے۔ حضرت مسلم بن عوسجہ نے فرمایا: خدا کی قسم آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا، اپنے نیزے سے آپ کے دشمنوں کے سینے چھید ڈالوں گا۔ امام کے صحابی حضرت سعد بن عبداللہؓ نے فرمایا: خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہو کہ ستر مرتبہ مارا جاؤں گا اور ہر مرتبہ زندہ ہونے کے بعد آپ کی مدد کروں گا، ہر مرتبہ میرے جسم کو جلا کر راکھ کرنے کے بعد زندہ کیا جائے گا، تب بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑں گا۔ زہیر بن قینؓ نے فرمایا: اے فرزند رسولﷺ خدا کی قسم میں تو چاہتا ہوں آپ کی حمایت میں ہزار بار مارا جاؤں۔

اس ردعمل پر امام نے اپنے اصحاب کو دعا دی، امام نے اپنے اصحاب کو جو آزادی دی، آپ دس محرم کے دن دشمن سے خطاب میں ان سے بھی اسی آزادی کا تقاضا کرتے ہیں، ان سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں "ان لم یکن دین و کنتم لا تخافون المعاد فکونوا احرارا فی دنیاکم اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور تم کو قیامت کا خوف بھی لاحق نہیں ہے تو اپنی دنیا کی زندگی میں تو آزاد رہو غلامی کی زندگی نہ گزارو۔”
انہی بے نظیر و بے مثال خوبیوں کی وجہ سے تحریک کربلا انسانیت کی آزادی کے چلنے والی تمام تحریکوں کی رہنمائی کرتی ہے، ان تحریکوں کے رہنما نواسہ پیغمبر کی سیرت و کردار کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتے ہیں جو خود شہید ہوگئے مگر ان الہی اقدار کو پامال ہونے سے بچا لیا۔ شاعر اہلبیت ؑ شیخ کاظم یزدی نے کہا تھا
قد غیرالطعن منھم کل جارحۃالا المکارم فی امن من الغیر
دشمن کے نیزوں نے ان کے سارے بدن کو بدل کر رکھ دیا، لیکن ان کی عظمت اور بلند ارادے تبدیلی سے محفوظ رہے
شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے کہا تھا
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ