واقعہ عاشورا کے جاودانہ اور اثرانگیز ہونے کا راز

(تحریر: رضا گرمابدری )

خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے زمین پر اپنی خلافت اور جانشینی کا شرف عطا کیا ہے۔ انسان کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی تاریخ کو ذہن نشین رکھتا ہے۔ یہ کام تاریخ کا علم انجام دیتا ہے۔ اگرچہ تاریخ اب تک بے شمار واقعات اور حادثات کو اپنے دامن میں سمو چکی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ تمام واقعات ایک جیسی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح اگرچہ تاریخ خود اپنے اندر سموئے ہوئے واقعات کے بارے میں کسی قسم کا اظہار نظر اور فیصلہ نہیں کرتی، لیکن ان کے بارے میں ہونے والے اظہار نظرات اور فیصلوں کو اپنے اندر محفوظ ضرور رکھتی ہے۔ ایک واقعے پر تاریخ کی توجہ، جو درحقیقت ہر زمانے کے اسکالرز اور علماء کی جانب سے حالیہ یا گذشتہ واقعات پر توجہ ہی کا دوسرا نام ہے، اس کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انسانی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ، عاشورا کا عظیم واقعہ ہے۔

اس بے مثال واقعے کی اہمیت، چاہے وہ اپنی ذات کی وجہ سے ہو یا دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والی نسلوں پر اثرانداز ہونے کے ناطے ہو، اس بات کا باعث بنی ہے کہ مختلف زمانے کے محققین اسے اپنی توجہ کا مرکز بنائیں اور اس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ واقعہ عاشورا کے بارے میں لکھی گئی بے شمار کتابیں اور بیان کئے گئے لاتعداد مطالب اس بات کا باعث نہیں بنے کہ دانشمند حضرات واقعہ کربلا کے بارے میں اظہار خیال کرنا بند کر دیں بلکہ جیسے جیسے محققین اس عظیم واقعے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، اس کے نت نئے پہلو اور حقائق بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس قدر عظیم ہے کہ اب بھی اس کے کئی ناشناختہ پہلو باقی ہیں، جنہیں عالم بشریت کیلئے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں میں سے ایک پہلو واقعہ عاشورا کا جاودانہ اور اثرانگیز ہونا ہے۔ اس مضمون میں ہم نے اس جاودانگی اور اثرانگیزی کے راز کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ واقعہ عاشورا کے جاودانہ اور اثرانگیز ہونے کا راز چار اہم اسباب میں پوشیدہ ہے:
1۔ دین مبین اسلام
2۔ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت
3۔ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب اور ساتھی
4۔ کربلا کے پیغام کی ترویج کرنے والی شخصیات

1۔ دین مبین اسلام:
انسانی زندگی کی تاریخ کا اہم ترین پہلو اس کا الوہی ادیان سے برخوردار ہونا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بنی نوع انسان الوہی ادیان سے آشنا نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی انسانیت کے راستے پر نہ آسکتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے وجود کا صرف حیوانی پہلو ہی روز بروز بڑھتا چلا جاتا۔ چونکہ انسان کی پیدائش کا مقصد تربیت اور سعادت کا حصول ہے اور یہ کام انسان بذات خود انجام دینے سے قاصر ہے۔ لہذا خداوند سبحان نے انسان کیلئے الہی ادیان کو بھیجا، تاکہ انسان کی الہی تربیت کے ذریعے اس میں موجود عظیم صلاحیتیں بیدار ہو کر نشوونما پاسکیں۔ حیات بشری کے تاریخی سفر پر الہی ادیان کا اثر اس قدر گہرا اور شدید ہے کہ انسانی تاریخ کا کوئی حصہ ایسا نہیں ملتا، جس میں انسانوں کی زندگی پر دین کے اثرات دکھائی نہ دیتے ہوں۔ انسانی زندگی پر دین کے اثرات دو طرح سے ہیں: ایک براہ راست اور دوسرا بالواسطہ۔ انبیاء الہی کے زمانے میں انسانوں پر دین کے اثرات براہ راست ہوتے تھے جبکہ ایسے وقت جب کوئی پیغمبر کسی معاشرے میں موجود نہ ہو، یہ اثرات بالواسطہ مرتب ہوتے ہیں۔ انبیاء الہی کی غیر موجودگی میں بھی ان کی پیش کردہ الہی تعلیمات انسانی زندگی میں موجود رہتی ہیں۔

لہذا انسان اور الہی ادیان دو ایسی چیزیں ہیں جو ایکدوسرے سے جدا پذیر نہیں اور الوہی ادیان سے عاری انسان کی پیدائش بلکہ عالم خلقت کا کوئی عقلی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ الوہی ادیان کو انسانی زندگی میں اس لئے شامل کیا گیا کہ انسان کی زندگی بامعنی ہوسکے۔ دوسرے الفاظ میں انسان صرف الوہی ادیان کے ذریعے ہی ایک ایسی نورانی دنیا سے آشنا ہوسکتا ہے جو اسے اپنی پیدائش کے حقیقی مقصد تک پہنچانے کا راستہ فراہم کرسکتا ہے۔ الہی ادیان کے بغیر انسان، ایک حیوان کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی تاریخ میں کسی معاشرے پر ایک ظالم و جابر حکمران برسراقتدار آیا، اس نے اپنے معاشرے کو انسانی زندگی کے الہی راستے سے منحرف کر دیا اور انسانوں کی زندگی بھی حیوانیت کی سطح تک محدود ہو کر رہ گئی۔ الہی ادیان کی تعلیمات کی روشنی میں انسان کی تربیت کا یہ سفر رفتہ رفتہ ایک ایسے مقام تک پہنچا، جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اعلان ہوا اور آپ نے خداوند متعال کی جانب سے عالم بشریت کیلئے "دین خاتم” کا اعلان کیا۔ دین مبین اسلام ایک جامع دین ہے، جس کے بعد کسی نئے دین، نئی شریعت اور نئے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ دین اسلام قیامت تک انسان کی خدا کی طرف رہنمائی اور ہدایت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح دین مبین اسلام بھی بعض شیطان صفت اور جاہ طلب افراد کے ناپاک ہاتھوں سے محفوظ نہ رہا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد دینی تعلیمات سے بے بہرہ تسلط پسند عناصر اسلامی معاشرے پر حکمفرما ہوگئے۔

یہ امام حسین علیہ السلام کی زندگی کا زمانہ تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے بعض مصلحتوں کے تحت معاویہ کی حکومت کو برداشت کیا اور اس کے خلاف قیام نہ کیا۔ لیکن جب معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنے بعد حاکم بنانے کا اعلان کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ امام حسین علیہ السلام یزید کی شخصیت کو اچھی طرح جانتے تھے اور اسے اسلامی معاشرے پر حکومت کے لائق نہیں سمجھتے تھے۔ جب معاویہ کے بعد یزید مسند حکومت سنبھالنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ مخالفت بھی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ اگرچہ تاریخ میں یزید اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان جنگ کی بڑی وجہ امام حسین علیہ السلام کی جانب سے یزید کی بیعت کرنے سے انکار بیان کی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یزید کی جانب سے امام حسین علیہ السلام سے بیعت کا مطالبہ نہ بھی کیا جاتا تو یہ ٹکراو اور جنگ حتمی تھی۔ کیونکہ یزید نہ صرف لادین بلکہ فاسق انسان تھا اور کھلم کھلا شراب خواری جیسے حرام کاموں کا ارتکاب کیا کرتا تھا اور دوسری طرف امام حسین علیہ السلام نواسہ رسول اور امام معصوم ہونے کے ناطے کبھی بھی اس بات کو برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ایک ایسا شخص خلیفہ رسول (ص) کے روپ میں مسلمانوں پر حکومت کرتا رہے۔ مزید برآں، معاویہ کے دور حکومت میں موجود مسائل اپنی جگہ باقی تھے۔

امام حسین علیہ السلام، پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد پیش آنے والے واقعات اور نیز یزید کی مکمل طور پر اسلام سے دور اور منحرف شخصیت سے بخوبی آشنائی کے سبب اچھی طرح جانتے تھے کہ یزید کے برسراقتدار آجانے کے بعد دین مبین اسلام نابودی کے دہانے پر آن کھڑا ہوا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے فرامین میں واضح طور پر اس امر کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ مثال کے طور پر جب معاویہ کی موت کی خبر مدینہ پہنچی تو مدینہ کے حاکم ولید ابن عقبہ نے امام حسین علیہ السلام سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا۔ اگلے دن جب مروان کی اچانک امام حسین علیہ السلام سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ ولید کے مطالبے کو دہراتا ہے تو آپ فرماتے ہیں:
"انا لله و انا الیه راجعون و علی الاسلام السلام اذ قد بلیت الامه براع مثل یزید و قد سمعت رسول‌الله یقول: الخلافه محرمه علی آل ابی‌سفیان و علی‌الطلقاء و ابناء الطلقاء”۔
ترجمہ: ہم سب خدا کیلئے ہیں اور اسی کی جانب پلٹ کر جانے والے ہیں۔ اگر امت مسلمہ پر یزید جیسا شخص حاکم ہوتا ہے تو اسلام کا فاتحہ پڑھ لینا چاہئے۔ میں نے رسول خدا (ص) سے سنا کہ ابوسفیان کی اولاد اور "طلقاء” [فتح مکہ کے وقت آزاد ہونے والے افراد] اور طلقاء کی اولاد پر خلافت حرام ہے۔”

امام حسین علیہ السلام کے اس موقف کی وجوہات کو بہتر انداز میں جاننے کیلئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد پیش آنے والے واقعات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ معروف تاریخ دان مسعودی اس بارے میں لکھتا ہے: "جب خلیفہ سوم نے خلافت سنبھالی تو ابوسفیان نے بنی امیہ کی مرکزی شخصیات کو اپنے گھر میں جمع کیا اور ان سے کہا: کوئی غیر تو ہماری محفل میں نہیں؟ [یاد رہے ابوسفیان اس وقت نابینا ہوچکا تھا]۔ سب نے جواب دیا کہ نہیں، سب اپنے ہی ہیں۔ ابوسفیان بولا: اے بنی امیہ، خلافت کو ایک گیند کی مانند ایکدوسرے کے درمیان گھماتے رہیں۔ خدا کی قسم، مجھے یہی امید تھی کہ خلافت آپ کے ہاتھ آجائے اور پھر آپ کی نسل میں وراثت کے طور پر چلتی رہے۔”
اہلسنت کے معروف محقق ابن ابی الحدید اس بارے میں لکھتے ہیں:
"مطرف بن مغیرہ کہتا ہے کہ میں ایک رات معاویہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے معاویہ سے درخواست کی کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ مہربانی سے پیش آئے اور بیت المال سے ان کے حصے میں کچھ اضافہ کر دے۔ معاویہ نے مجھے جواب دیا: میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ ابوبکر اور عمر آئے اور چلے گئے اور کوئی انہیں یاد کرنے والا نہیں۔ لیکن یہ ابی کبشہ کا بیٹا [حضرت محمد (ص)] ایسا ہے جس کا نام ہر روز پانچ بار اذان میں لیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے اشھد ان محمدا رسول اللہ۔ میں جب تک محمد کا نام خود اس کی طرح زمین میں دفن نہ کر دوں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔”

اسی طرح یزید کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ جب واقعہ کربلا کے بعد امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک اس کے پاس لے جایا گیا تو اس نے یہ اشعار پڑھے:
لعبت ھاشم بالملک فلا خبر جاء و لا وحی نزل
ترجمہ: بنی ہاشم نے بادشاہی اور حکومت کا کھیل کھیلا اور نہ ہی آسمان سے کوئی خبر آئی اور نہ ہی کوئی وحی نازل ہوئی [نعوذ باللہ]۔
یزید، اس کے باپ اور دادا کی دین مبین اسلام کے بارے میں ایسی نگاہ تھی۔ یہی سوچ اور نگاہ اس دشمنی اور کینے کی آگ کا سبب تھی جو بنی امیہ کے دل میں اہلبیت اطہار علیھم اسلام کی نسبت شعلہ ور تھی۔ یہ کینہ بنی امیہ کے دین مخالف اقدامات کا بنیادی محرک تھا۔ انہوں نے دین اسلام اور خدا سے جنگ کی۔ ان کی خدا دشمنی کا ایک اور ثبوت امام حسین علیہ السلام کے فرامین میں ملتا ہے، جن کا ذکر ہم آگے چل کر کریں گے۔

2۔ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت:
امام حسین علیہ السلام عالم اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں، جن کی تعریف خود پیغمبر اکرم ص نے بے مثال انداز میں کی ہے۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
"ایک دن رسول خدا (ص) نے حسن اور حسین (علیھما السلام) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جو کوئی بھی مجھ سے، ان دو بچوں سے اور ان کے والدین سے محبت کرے گا وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے مقام پر ہوگا۔”
اسی طرح رسول خدا (ص) فرماتے ہیں:
"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جو حسین سے محبت کرتا ہے خدا اس سے محبت کرتا ہے۔”
پیغمبر اکرم (ص) سے اس جیسی بے شمار روایات نقل ہوئی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی واقعہ عاشورا میں امام حسین علیہ السلام کے کردار اور مقام کو بیان نہیں کرتی۔ امام حسین علیہ السلام کی عاشورائی شخصیت کو سمجھنے کیلئے یزید کے برسراقتدار آنے کے بعد والے واقعات پر ایک نظر دوڑانا ضروری ہے۔ یزید نے حکومت سنبھالنے کے بعد مدینہ کے حاکم ولید ابن عتبہ کو حکم دیا کہ جس طرح ممکن ہو حسین (ع) سے میرے حق میں بیعت لو۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے انتہائی ذہانت سے یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے بچتے ہوئے عاشورائی راستے کا انتخاب کیا۔ اس وقت سے امام حسین علیہ السلام کی عاشورائی شخصیت کا آغاز ہوتا ہے جو روز عاشورا اپنے عروج تک جا پہنچتی ہے۔ عاشورا کے دن امام حسین علیہ السلام کی شخصیت انسان کامل کے اعلی ترین درجات پر فائز ہوئی۔ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کے تمام پہلو بے مثال اور منفرد ہیں۔

ان چند ماہ کے دوران امام حسین علیہ السلام نے ان الہی اصول اور تعلیمات کو روشناس کروایا جن کی ترویج کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء نے اپنی زندگیاں صرف کر دیں اور آخر میں انہیں اصول اور تعلیمات کی خاطر اپنی جان کو نچھاور کرکے ان کی بقاء اور جاودانگی کی ضمانت فراہم کر دی۔ امام حسین علیہ السلام نے اس مختصر لیکن ہمیشہ کیلئے درخشان اور نورانی مدت میں دین کے اصول اور تعلیمات کو بیان فرمایا، تاکہ ایک طرف اپنا ہدف اور مشن واضح کرسکیں اور دوسری طرف دین اور دینی اصولوں کا بھی بھرپور دفاع کرسکیں۔ اسی طرح امام حسین علیہ السلام نہیں چاہتے تھے کہ مستقبل میں ان کی اس عظیم انقلابی تحریک پر انحراف اور خروج کے لیبل لگائے جائیں۔ واقعہ عاشورا میں امام حسین علیہ السلام کا کردار اس قدر منفرد اور واضح ہے کہ آپ (ع) کی شخصیت کو عاشورا کا مرکز و محور قرار دیا جاسکتا ہے۔ عاشورا یعنی حسین علیہ السلام۔ عاشورا میں جو کچھ بھی ہوا اسے امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ وہی چیز ہے جو اسلام دشمن عناصر کی آنکھوں کا کانٹا بنی ہوئی ہے۔ امام حسین علیہ السلام جب بھی کربلا کے میدان میں حضرت محمد مصطفٰی (ص)، حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ (س) سے اپنی نسبت کو بیان فرماتے تھے، یزیدی لشکر کا رویہ مزید شدت پسندانہ اور دشمنانہ ہوجاتا تھا۔

کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام کو صرف ایک چیز کی فکر تھی اور وہ یہ کہ کیسے "دین خدا و رسول اکرم (ص)” کی حفاظت کی جاسکے۔ گویا آپ (ع) کے مدنظر رسول خدا (ص) کا یہ دستور مبارک تھا کہ: "اذا حضرت بلیه فاجعلوا اموالکم دون انفسکم و اذا نزلت نازله فاجعلوا انفسکم دون دینکم”۔
ترجمہ: اگر تمہاری جانوں کو کوئی خطرہ پیش آئے تو اپنے مال سے اسے دور کرو اور جب دین کو کوئی خطرہ پیش آئے تو اپنی جانوں کو دین کی ڈھال قرار دو۔”
امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان کو دین مبین اسلام کی ڈھال قرار دیا۔ امام حسین علیہ السلام مکہ سے بصرہ کی بزرگ شخصیات کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں: "انا ادعوکم الی کتاب الله و سنه نبیه فان السنه قد امیتت و البدعه قد احییت فان تسمعوا قولی اهدیکم الی سبیل الرشاد”۔
ترجمہ: میں آپ کو خدا کی کتاب اور سنت پیغمبر (ص) کی طرف دعوت دیتا ہوں، کیونکہ سنت پیغمبر (ص) کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور بدعتوں کو زندہ کر دیا گیا ہے۔ اگر میری آواز پر لبیک کہیں گے تو میں آپ کو نجات کے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا۔”
اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے کوفہ کی بڑی شخصیات کے نام اپنے خط میں لکھا: "فلعمری ما الامام الا العامل بالکتاب والآخذ بالقسط و الدائن بالحق و الحابس نفسه علی ذات‌الله”۔
ترجمہ: اپنی جان کی قسم، مسلمانوں کا امام اور حاکم ایسا شخص ہوسکتا ہے جو کتاب خدا پر عمل کرنے والا اور حق کی بنیاد پر معاشرے کو چلانے والا اور اپنی ذات کو الہی اصولوں کا پابند کرنے والا ہو۔

3۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھی:
اگرچہ یزید کے خلاف امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے میں بہت زیادہ خطرات کا سامنا تھا لیکن آپ (ع) کی عظیم الشان شخصیت اس بات کا باعث بنی کہ اسلامی معاشرے کی بزرگ شخصیات امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں میں شامل ہوجائیں۔ اصحاب امام حسین علیہ السلام کی عظمت اور بزرگی کو جاننے کیلئے خود امام حسین علیہ السلام کا یہ فرمان کافی ہے، جس میں آپ (ع) نے عاشورا کی رات انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
"مجھے اپنے اصحاب اور ساتھیوں سے زیادہ باوفا اور مخلص ساتھی کسی اور کے نظر نہیں آتے۔”
امام حسین علیہ السلام نے اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں نے تم لوگوں سے اپنی بیعت ہٹا لی ہے، لہذا جو یہاں سے جانا چاہے چلا جائے۔ امام حسین علیہ السلام کی اس بات نے آپ (ع) کے ساتھیوں کے دلوں میں عجیب کیفیت ایجاد کر دی اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ (ع) پر ہزار مرتبہ قربان ہونے کیلئے تیار ہیں۔ اصحاب امام حسین علیہ السلام نے اگلے دن جو روز عاشورا کے نام سے معروف ہے، اپنے اس دعوے کو سچا کر دکھایا اور داد شجاعت پیش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ مثال کے طور پر جب مسلم بن عوسجہ زخمی ہوئے تو امام حسین علیہ السلام اور حبیب ابن مظاہر ان کے پاس تشریف لائے۔ حبیب ابن مظاہر نے مسلم بن عوسجہ کو کہا کہ اگر کوئی وصیت ہے تو بیان کریں۔ انہوں نے زخمی حالت میں کمزور آواز میں حبیب ابن مظاہر کو کہا کہ میری وصیت یہ ہے کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک امام حسین علیہ السلام کی جان کی حفاظت کریں۔ بس یہ کہا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔

4۔ کربلا کا پیغام پہنچانے والی ہستیاں:
عاشورا جیسا عظیم واقعہ کربلا تک محدود نہ رہا، کیونکہ دو عظیم شخصیتیں ایسی تھیں جنہوں نے کربلا کا پیغام عام کرنے میں اپنی پوری زندگی لگا دی۔ ایک امام زین العابدین علیہ السلام اور دوسری حضرت زینب سلام اللہ علیھا۔ یہ دونوں بزرگ شخصیتیں جو خود میدان کربلا میں موجود تھیں انتہائی عظیم روح کی مالک بھی تھیں۔ وہ اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ انہیں اپنی اسیری کے دوران عاشورا کے پیغام کو بھی عام کرنا ہے، تاکہ اس طرح انسانیت کو اپنے نفس کی قید سے آزاد کروا سکیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ امام سجاد علیہ السلام کی امامت اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی شجاعت اور ذہانت نے کربلا میں بہنے والا امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کے اہلبیت اور اصحاب کا خون ضائع نہ ہونے دیا۔ ان بزرگ ہستیوں کی زحمات اور محنتوں کے نتیجے میں شہداء کربلا کا خون جاودانہ ہوگیا اور نسل در نسل کربلا کا پیغام دہرائے جانے لگا۔ واقعہ عاشورا درحقیقت ایسے آزاد ضمیر انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے چراغ راہ بن گیا جو ہر قسم کے ظلم اور ناانصافی سے آزاد رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ روز عاشورا کے دن پیش آنے والے عظیم مصائب نے ان دو بزرگ ہستیوں کی روح کو زخمی کر دیا تھا اور زندگی کے آخر تک انہیں شدید غم کا شکار کر دیا تھا لیکن انہوں نے مسلمانوں تک کربلا کا پیغام پہنچا کر بہت سے انسانوں کی مردہ روحوں کو بیدار کیا۔

امام حسین علیہ السلام نے روز عاشور موت کا اس انداز میں استقبال کیا کہ آپ (ع) کی یاد پوری تاریخ کے انسانوں کیلئے حریت اور انسانیت کا پیغام بن گئی۔ کربلا کو جس قدر پہچانا جائے کم ہے۔ واقعہ عاشورا کے بارے میں جس قدر غور و فکر کی جائے کم ہے۔ اہلسنت کے معروف تاریخ دان ابن اثیر نے لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن بے شمار زخم کھائے۔ تیروں اور پتھروں سے آنے والے زخموں کے علاوہ آپ (ص) کے بدن مبارک پر 67 زخموں کے نشان موجود تھے جن میں سے 34 زخم ایسے تھے جو دشمن کی تلواروں سے آئے تھے۔ شاید مکہ میں امام حسین علیہ السلام کے اس خطبے میں اسی زخمی بدن کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ آپ (ع) فرماتے ہیں:
"میری قتل گاہ مشخص ہوچکی ہے جس میں میں قتل کیا جاوں گا۔ گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ صحرا کے درندے نواویس اور کربلا کے درمیان سرزمین پر میرے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں۔”
ایسے زخمی بدن کے مالک شخص نے زندگی کے آخری لمحات میں ان الفاظ کے ساتھ دنیا کو خیرباد کہا:
"رضی‌ الله رضا نا اهل‌البیت نصبر علی بلائه و یوفینا اجور الصابرین”۔
ترجمہ: خدا کی رضا ہم اہلبیت کی رضا ہے۔ ہم آزمایش اور مصیبت پر صبر کرتے ہیں اور خدا صبر کرنے والوں کو اجر عطا کرتا ہے۔”
اللھم اجعل محیای محیا محمد و آل محمد و مماتی مماۃ محمد و آل محمد۔