فلسفہ قیام حسینی اور اسکی تاثیر

(تحریر: ہما مرتضٰی)

واقعہ کربلا کہنے کو تو صرف ایک واقعہ ہے مگر چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ ہر آنے والی نئی نسل کو حق و باطل کی پہچان کروانے کے لیے نئے زاویوں اور نئے سلیقوں سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کی تازگی، جوش اور کشش میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ کربلا علامت حق ہے۔ حق جو بلاشبہ امام حسینؑ سے منسوب ہوچکا، آپ (ع) حق کے ترجمان ہیں اور اس کے نگہبان ہیں۔ محرم 61ہجری کو کربلا شہادت امام حسین (ع) کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ درحقیقت شروع ہوگئی تھی۔ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کے اثرات اتنے گہرے اور زخم اتنے تازہ ہیں کہ یوں گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابھی کل کا واقعہ ہو۔ رنگ و مذہب سے بالاتر ہو کر دنیا میں جتنی بھی زبانیں لکھی اور پڑھی جاتی ہیں، ان سب میں اس واقعہ کے بارے میں سب سے زیادہ آگاہی ہے۔

دنیا کے ہر مکتب فکر نے اس پر اپنے تاثرات کا اظہار ضرور کیا ہے۔ اس عظیم قربانی کے بعد آسمان برسوں سرخ رہا۔ صحرائے کربلا کے جس پتھر کو اٹھایا جاتا خون آلودہ نکلتا اور آج بھی دنیا کے بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں روز عاشور تازہ اور سرخ خون ٹپکتا ہے اور یہ خون بنی نوع انسان کو یاد دلاتا ہے کہ امام حق، امام صبر، امام عالی مقام امام حسینؑ نے جہالت و گمراہی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں کو آزاد کروانے کے لیے جام شہادت نوش فرمایا۔ بنی امیہ نے بندگان خدا کو گمراہی اور سرگردانی میں رکھا ہوا تھا اگر قیام امام حسینؑ نہ ہوتا تو خدا جانے وہ کب تک اسی جہالت و گمراہی کے اندھیروں میں باقی رہتے۔

کربلا جنگ کا میدان تھا مگر امام حسینؑ نے یہاں بھی گمراہ انسانوں کو انسانیت کا درس دیا۔ آخری وقت تک اسلام کی زریں تعلیمات کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، سامنے آنے والوں کو گمراہی کا راستہ چھوڑ کر حق کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ اپنے آخری خطبے میں آپ (ع) نے دشمنوں کو دنیا کے فریب میں آنے اور اس پر مغرور ہونے سے ڈرایا۔ آپ فرماتے ہیں: "خدا کے بندو! خدا سے ڈرو، دنیا سے دامن بچا کر رکھو، اگر دنیا کسی کے لیے باقی رہتی اور اگر کوئی دنیا میں ہمیشہ باقی رہتا تو خدا انبیاء کی بقاء اور خدا کی رضا اور اس کی قضا پر راضی رہنے کے زیادہ حقدار تھے لیکن خدا نے دنیا کو امتحان و آزمائش اور اہل دنیا کو فنا کے لیے پیدا کیا۔ یہاں پر ہر نئی چیز پرانی ہوجاتی ہے، اس کی نعمتیں ختم ہوجاتیں ہیں اور اس کی مسرتیں رنج میں بدل جاتی ہیں۔ دنیا رہنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ توشہ و زاد راہ فراہم کرنے کی جگہ ہے۔ پس زاد راہ فراہم کر لو اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ خدا کا تقویٰ اختیار کرو، تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔”

آج بھی وقت کے یزید کو شکست دینے کے لیے حوصلہ ہمیں کربلا سے ملتا ہے۔ وہ کربلا جس نے بے زبان کو زبان دے دی، جس نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بیان کرنے کا حوصلہ دیا۔ کربلا ایک تحریک ہے اور امام عالی مقامؑ اس تحریک کے بانی ہیں۔ کربلا ایک مشن، مقصد اور ایک نظریئے کا نام ہے، ایک فکر کا نام ہے، اپنی ذات پر اللہ کی رضا کو ترجیح دینے کا نام ہے، دین اسیر کو آزاد کروانے کا نام ہے کیونکہ فکر حسین (ع) کبھی بھی فکر یزید کے سامنے سرنگوں نہیں ہوسکتی کیونکہ یزید نام ہی خود غرضی، دنیاوی ہوس، عہدے اور منصب کی طلب کا ہے۔ یہ بات واضح و روشن ہے کہ جب پیغمبر اکرمؐ نے بشریت کو بت پرستی یا خرافات اور جہالت سے نجات دلانے کے واسطے فکری و اجتماعی انقلاب کی رہبری کے لیے قدم اٹھایا تو مخالفین نے اس آواز کو خاموش کرنے کی خاطر اپنی تمام تر کوششیں کر ڈالیں۔

اس اسلام دشمن سازش کے پیچھے بنی امیہ کا ہاتھ تھا مگر ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا چلا گیا تو انھیں بھی اپنے ارادوں کو منافقانہ رنگ دینا پڑا اور وہ بظاہر اسلام کے حلقے میں داخل ہوگئے لیکن اسلام ان کے حلق سے نیچے اترا ہی نہیں۔ یہ مناسب وقت کے انتظار میں بیٹھ گئے اور جب رحلت رسول خداؐ ہوئی تو ان کے اندر کی خیانت باہر آگئی۔ انھوں نے لوگوں کو پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف دھکیلنے کی کوشش شروع کر دی اور یہ سازش اس قدر شدید تھی کہ حضرت علی علیہ السلام کو بھی اپنی خلافت کے دوران انہی منافقین کا سامنا کرنا پڑا اور یہ اسلام دشمن عناصر اس قدر آشکار ہوتی چلی گئی کہ خود اس کے بانی بھی اس کو چھپا نہ سکے۔ بنی امیہ کے ہاتھ میں حکومت آئی تو ایک بوڑھے نابینا منافق نے کہا: اے بنی امیہ کوشش کرو کہ حکومت اب تمھارے ہاتھ سے جانے نہ پائے اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جنت و دوزخ کا وجود نہیں اور محمدؐ کا قیام ایک سیاسی چال تھی۔

عراق جب حضرت علی (ع) کی شہادت کے بعد ان کے ہاتھ آیا تو ان کے سرغنہ نے کہا: اے لوگو! میں اس لیے نہیں آیا کہ تم لوگ نماز پڑھو اور روزہ رکھو، میں تم پر حکومت کرنے آیا ہوں اور جو شخص میری مخالفت کرے گا، میں اس کو ختم کردوں گا۔ اس کے بعد یزید پلید کا کردار سامنے آیا جو شہدائے کربلا کے سروں کو دیکھ کر یہ کہتا تھا کہ اے کاش! آج میرے بزرگان زندہ ہوتے جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے اور دیکھتے کہ میں نے کس طرح طرح بنی ہاشم سے بدلہ لیا ہے۔ ان کم نسلوں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام دشمن تھے، اب ایسے میں امام وقت امام حسینؑ کے ذمے دین کی حفاظت کی ذمہ داری آپڑی۔
60 ہجری میں امت مسلمہ کو یزید کی خلافت کے مسئلہ سے دو چار ہونا پڑا۔ عام لوگوں کی فکر محدود تھی۔ وہ حکومت، دولت اور طاقت بنی امیہ کے خاندان میں دیکھ رہے تھے۔ اس لیے انھوں نے بغیر کسی مزاحمت کے یزید کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کی بیعت کر لی، لیکن امام حسینؑ کا مرتبہ و مقام دوسروں سے بلند اور جدا تھا۔ آپ کی گہری بصیرت اسلامی معاشرے کی پست حالی کو دیکھ رہی تھی، آپ بخوبی جانتے تھے کہ یزید جیسا شخص اسلامی قیادت کے منصب کے لیے سزوار نہیں۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جو شراب کے نشے میں چور رہتا تھا، اس کی راتیں مستی اور دن خمار میں بسر ہوتے تھے۔ لوگوں کو بے گناہ قتل کرنے والا اور فسق و فجور کو انجام دینے والا تھا۔ اس میں وہ اہلیت نہیں تھی کہ مسند خلافت پر بیٹھے اور جانشین پیغمبر قرار پائے۔

ایسے میں امام (ع) اس ظالم اور عیاش حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، جو اسلام اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑا رہی تھی۔ آپ (ع) کے قیام کا بنیادی مقصد بنی امیہ کے مذموم اور اسلام دشمن مقاصد کو آشکار کرنا تھا۔ آپ (ع) نے اپنے پاک خون سے شجر اسلام کی آبیاری کی اور دنیا کے سامنے حقیقی اسلام کا چہرہ پیش کیا۔ آپ (ع) نے حر ابن ریاحی کے لشکر سے مخاطب ہو کر فرمایا: "لوگو! رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کسی ظالم حکمران کو اس حال میں دیکھو کہ وہ حرام کو حلال کرتا ہے، اللہ کے عہد کو توڑتا ہے، سنت رسول (ص) کی مخالفت کرتا ہے اور اللہ کے بندوں سے زیادتی کرتا ہے تو ان حالات میں اپنی آواز یا عمل کے ذریعے اسے نہ روکے تو وہ اس ظالم کی طرح مستحق عذاب ہے۔ لوگو! ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت کرکے رحمان کی اطاعت چھوڑ دی ہے، فساد و فتنہ برپا کیا ہے اور اسلامی حدود و تعزیرات کو معطل کر دیا ہے۔ ان لوگوں نے بیت المال کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور اللہ کی شریعت کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے لیا ہے۔”
اسی طرح امام نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ
"میں جنگ و جدل کے ارادہ سے نہیں نکل رہا ہوں اور نہ میرا مقصد فساد پھیلانا اور ظلم کرنا ہے بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔”

وہ چیز جو امام حسینؑ کی نظر میں باعث تشویش تھی اور جس کی خاطر آپ نے قیام کیا اور تحریک چلائی وہ یہ تھی کہ آپ (ع) دیکھ رہے تھے کہ سیرت پیغمبر (ص) ختم ہوچکی ہے اور اس کی جگہ دوسرے طریقے اختیار کر لیے گئے ہیں۔ ایسے طریقے جو اسلامی نہیں، حکومت ایک شہنشاہیت میں بدل گئی ہے، پیغمبر (ص) اسلامی معاشرتی امور اسلامی قوانین کی اساس پر چلاتے تھے، اب حاکم اپنی دلی خواہش کے مطابق عمل کرتا ہے۔ پیغمبر (ص) بیت المال کو فقرا اور مساکین کے امور کی بہتری کے لیے صرف کرتے تھے، اب اسے حکومت بچانے کے لیے لٹایا جا رہا ہے۔ پیغمبر اسلام (ص) نے بعض کاموں کی ممانعت کی تھی، اب حکمران خود انہی کاموں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور جب کوئی عمل معاشرے کا حکمران انجام دینے لگتا ہے تو عام لوگوں میں بھی عمل رائج ہوجاتا ہے۔ اسلام پر عمل نہیں ہو رہا تھا، حق کی پروا نہیں کی جاتی تھی اور اس پر عمل نہیں ہوتا۔

امام حسین (ع) کا مقصد ایک خاص زمانے اور ایک خاص عمر کے لیے نہیں تھا۔ حسینؑ ایک استعارہ ہے جبر کے مقابلے میں صبر کا، جہاں جبر ہوگا وہاں یزید کی فکر اس کی سوچ سامنے آئے گی اور جہاں یزید ہوگا وہاں مقابلے میں ایک کربلا آباد ہوگی۔ جہاں وقت کا حسینؑ اپنے اہل و عیال کے ساتھ جرأت و صبر کا اعلٰی نمونہ بن کر کھڑا ہوجائے گا۔ آپ (ع) کو معلوم تھا کہ نہی عن المنکر کرنے کے لیے اس حکومت کے خلاف مختلف پہلوؤں میں جدوجہد کرنا ہوگی اور اسی مقصد کیلئے آپ نے اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ آپ (ع) اپنی تحریک کو امت کی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ آپ (ع) نے دوران تحریک جب کبھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر کیا تو آپ کے پیش نظر حکومت ہوا کرتی تھی۔
آپ (ع) کی مقدس تحریک کے بنیادی دو مقاصد تھے۔ دین اسلام کو نابودی سے بچانا اور اسلام و قرآن کی بقا کا تحفظ۔
ظلم کی حکومت کا خاتمہ، خلافت اسلامیہ کو ظالم و فاسق حکمرانوں سے بچانا۔
کیونکہ ایسے حکمرانوں کے سائے میں فاسق و فاسد معاشرے ہی وجود میں آتے ہیں کہ جن میں حق اور مظلوم کی پامالی عام چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں فاسد روحیں ہی پیدا ہوتی ہیں، پاکیزہ روحیں کبھی پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ اس لیے ظالم حکومتوں کے سائے میں حقیقی اسلام کا وجود خطرے میں ہوتا ہے، حرامِ خدا کو حلال قرار دیا جاتا ہے۔

آج ہمارے مسلمان ممالک پر قابض ظالم حکمران ہی تو اس بات کا موجب بنے ہیں کہ ان ممالک میں آج فقط اسلام نام کا باقی رہ گیا ہے۔ عرب حکمرانوں کی امریکا و اسرائیل دوستی تمام عالم اسلام پر عیاں ہوچکی ہے۔ فلسطین پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملے پر عرب لیگ اور او آئی سی کی مجرمانہ خاموشی ثابت کرتی ہے کہ یہ عرب حکمران نام کے مسلمان ہیں اور عملی طور پر یزیدیت کے پیروکار ہیں۔ خود انہی کے عوام اب آہستہ آہستہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ مصر کے حسنی مبارک، لیبیا کے معمر قذافی، عراق کے صدام حسین کا ذلت انگیز انجام دنیا کے سامنے ہے، جو ایک طویل عرصہ ظلم کرتے رہے۔ ایسے ہی انقلابی تحریک بحرین، یمن، تیونس اور دیگر مسلم ممالک میں جاری ہیں۔
مشہور ہندو راہنما گاندھی کے مشہور قول ہے:
میں نے امام حسینؑ کی زندگی کا غور سے مطالعہ کیا اور صفحات کربلا پر پوری توجہ دی اور میرے لیے واضح ہوگیا کہ اگر ہندوستان کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اسے امام حسینؑ کو نمونہ عمل بنانا پڑے گا۔
اس لیے قیام امام ایک زمانے سے مربوط نہیں بلکہ جب یہ صورت حال پیش آئی گی، کربلا ایک نمونہ عمل کے طور پر سامنے آئے گی۔