امام رضاؑ کا طاغوت سے مبارزہ

(تحریر: سجاد حسین آہیر)

ہر معصوم ھادیؑ نے اپنے دور کے طاغوت کے عزائم اور سازشوں کا حکمت اور تدبر کے ساتھ مقابلہ کیا، یہی وجہ ہے کہ ظاہری طور پر ہر امامؑ کا کردار دوسرے سے مختلف نظر آتا ہے، ایک نے خاموشی اختیار کی تو دوسرے نے جنگ، ایک نے صلح کا سہارا لیا تو دوسرا راہ شہادت کو اختیار کرتے ہوئے نظر آیا، اس کی وجہ ایک دور کے طاغوت کی سازشوں کا دوسرے کی سازشوں سے مختلف ہونا ہے۔ بدقسمتی سے تاریخ میں امام رضاؑ کی ہارون الرشید کے زمانہ میں دس سالہ زندگی اور اس کی موت کے بعد بغداد اور خراسان کے درمیان ہونے والی جنگ کے پانچ سالوں میں امامؑ کی سیرت کو بیان نہیں کیا گیا، لیکن تدبر کے نتیجے میں اس دور میں امام ؑ کے مبارزہ کا علم ما سبق معصومینؑ کی سیاسی سیرت اور مبارزہ سے لگایا جاسکتا ہے، کیونکہ امامؑ بھی انہی اھداف کی پیروی کر رہے تھے جو آپ کے اجداد ؑ کے پیش نظر تھے۔

امام ؑ کی پوری زندگی طاغوت کے ساتھ مبارزہ پر محیط ہے، لیکن اس مختصر مقالہ میں اتنی وسعت نہیں کہ اس سب کو تحلیل کے ساتھ بیان کیا جاسکے۔ لہذا امامؑ کے مبارزات کے دو اہم پہلوؤں کو مختصراً بیان کیا جا رہا ہے۔
1۔ مامون کا امام ؑ کو ولیعہدی کی پیشکش کرنا اور امامؑ کا ولی عہدی کو قبول کرنا
2۔ امامؑ کا علمی میدان میں دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانا۔
امام ؑ کا سیاسی میدان میں مبارزہ
جب مامون نے امامؑ کو مدینہ سے بلایا اور ولیعہدی کی پیشکش کی، یہ ایک تاریخی موقع تھا اور ایک عظیم سیاسی حکمت عملی کا متقاضی تھا کہ جس میں کامیابی یا ناکامی دین مقدس اسلام کے مستقبل کو سنوار یا بگاڑ سکتی تھی، خصوصاً مکتب اہلبیتؑ کے ماننے والوں کا مستقبل اسی سے وابستہ تھا اور گہری دقت اور بصیرت کا متقاضی تھا۔ مامون کا امامؑ کو مدینہ سے بلانا اور ولیعہدی کی پیشکش کرنا کئی مقاصد اور اھداف کا حامل تھا، جن کو امام ؑ نے اپنی خاص حکمت عملی کے ذریعے پورا نہ ہونے دیا اور پوری قوت سے مبارزہ کیا۔

مامون کے اھداف:
پہلا: مامون کا اولین اور مہم ترین ھدف امامؑ کے شیعوں کی انقلابی اور دائمی مبارزہ و مقاومت کی روح میں تبدیلی پیدا کرنا تھا۔ شیعہ تقیہ کی ڈھال میں مسلسل مقابلہ اور مقاومت کرتے آرہے تھے، ان مبارزات کی دو خصوصیات تھیں، جو ناقابل بیان حد تک بساط خلافت کو لپیٹنے میں تاثیر گزار تھیں، ایک مظلومیت اور دوسری تقدس و قداست۔ مامون نے معصوم ؑ کو ولیعہدی دے کر ان دونوں تاثیر گزار خصوصیات کو علویان سے لینے کی کوشش کی، کیونکہ اب شیعوں کا رہبر حکومتی مشینری کا ممتاز فرد اور وقت کے مطلق العنان بادشاہ کا ولیعھد اور امور حکومت میں بااختیار ہے، پس مظلوم ہیں اور نہ ہی مقدس۔

دوسرا: مامون کا ھدف امامؑ کی طرف سے حکومت کو لاحق خطرے سے نجات حاصل کرنا تھا۔ مامون اپنی حکومت کے لئے سب سے بڑا خطرہ امامؑ کو محسوس کر رہا تھا اور خیال کر رہا تھا کہ امامؑ کے ماننے والوں کی طرف سے ہونے والا قیام اس کی حکومت کی چولیں ہلا سکتا ہے، اس خطرے کا حل اس نے یہ سوچا کہ امامؑ کو اپنے پاس بلا لیا جائے اور انہیں ولی عھد اور موجودہ حکومت میں ظاہراً شریک بنا کر حکومت کے خلاف ممکنہ اقدامات سے باز رکھا جائے۔

تیسرا: مامون کا ہدف امامؑ کی شخصیت کو مسخ کرنا تھا اور ان کی اہمیت اور فضیلت کو کم کرنا تھا
چوتھا: شیعوں کے دعویٰ کہ اموی اور عباسی خلافت غاصب ہے، کو غلط ثابت کرنا اور خلافت کو مشروعیت بخشنا چاہتا تھا۔
پانچواں: مامون امامؑ کو جو مقاومت کا مرکز تھے، کی تمام سرگرمیوں اور امام ؑ کے علاوہ جتنے بڑے بڑے علوی سردار اور جنگجو تھے، کو زیر نظر رکھنا چاہتا تھا۔

چھٹا: مامون، امامؑ جو لوگوں کی امیدوں کا مرکز مشکلات اور مصائب میں عوام کی پناہگاہ تھے اور لوگ انہیں اپنے میں سے سمجھتے تھے، ان سے یہ عوامی رنگ چھیننا چاہتا تھا اور پھر آھستہ آھستہ لوگوں کے دلوں میں موجود محبت کو محو کرنا چاہتا تھا۔
ساتواں: مامون کا ساتواں ھدف یہ تھا کہ امام کو ولیعہدی دینے کی بدولت اس کی شان و منزلت اور مقبولیت میں اضافہ ہوگا کیونکہ یہ ایک طبیعی بات تھی کہ پوری دنیا اسکی تعریف کرے گی کہ اس نے اولاد پیامبرﷺ ، مقدس اور پاکیزہ شخصیت کو اپنا ولیعھد بنایا ہے اور اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو اس امتیاز سے محروم کیا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی دین دار لوگ دنیا داروں کے قریب ہوتے ہیں، دین داروں کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے اور دنیا طلب افراد کی عزت میں اضافہ۔
آٹھواں: مامون یہ سوچ رہا تھا کہ امام ؑ اگر ولیعہدی قبول کرلیں تو حکومت کے ہر غلط کام کے لئے ڈھال بن جائیں گے، کیونکہ امامؑ کی مقدس اور علمی شخصیت سب کے لئے عیاں ہے۔ اگر امامؑ حکومتی غلطیوں کے لئے ڈھال بن جائیں تو کسی مخالف میں جرات نہیں کہ مشکل پیدا کرے، کیونکہ امام ؑ وہ واحد ڈھال تھے جو حکومتی برائیوں اور خطاؤں کو لوگوں کی نظروں سے چھپا سکتے تھے۔

امام رضاؑ نے تدبیر اور حکمت عملی کے ذریعے دشمن کی ان تمام سازشون کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔
1: جس وقت امامؑ کو مدینہ سے خراسان کی طرف دعوت دی گئی تو امام ؑ نے مدینہ کی فضا کو غم و غصے سے بھر دیا اور مدینہ کو عزادار اور سوگوار بنا دیا، اس طرح کہ ہر ایک کو یقین ہوگیا کہ مامون نے امامؑ کو برے ارادہ سے بلایا ہے۔ امام ؑ نے اپنی پیش بینی کو مختلف طریقوں سے لوگوں تک پہنچایا۔ رسول اکرمﷺ کی قبر سے وداع کے وقت دعا اور گریہ سے سب پر یہ روشن کیا کہ یہ سفر موت کا سفر ہے۔ مامون کی سازش کے مطابق جن لوگوں کو اس سے خوش ہونا چاہیے تھا اور امام ؑ سے بدبین۔ امامؑ نے اس سفر کے ابتدائی لحظات میں ہی ان کے دل مامون کے خلاف کینہ اور دشمنی سے بھر دیئے۔

2۔ امامؑ نے بجائے مسلح جدوجہد کے علمی، نظری اور فکری حوالے سے لوگوں کو آمادہ کرنے اور دشمن کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کی، جو کہ بروقت اور مؤثر ثابت ہوئی اور دشمن کا ہدف نہ صرف پورا نہ ہوا بلکہ امامؑ کا خراسان میں موجود ہونا امامؑ کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوا اور دشمن کا ھدف خاک میں مل گیا۔ امام ؑ نے مدینہ سے خارج ہوتے وقت امام جوادؑ کو اپنا وصی قرار دیا اور اس عمل سے ماضی کی جدوجہد کو محفوظ کر لیا اور مستقبل میں امامؑ کو اپنے ہدف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک نئی فرصت حاصل ہو رہی تھی، جس سے امامؑ نے بھرپور استفادہ کیا اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے امت کی فکری اور نظری تربیت اور دشمن کے چہرے کو بے نقاب کرنے کی ٹھان لی، جس میں امامؑ کامیاب ہوئے اور ماضی کی جدوجہد کے تداوم سے بھی دشمن کو غافل کر دیا، کیونکہ دشمن کی ساری توجہ امامؑ پر مرکوز ہوگئیں اور امام جوادؑ کو کام کرنے کا موقع مل گیا۔ وکلا کا مؤثر نظام مضبوط ہوگیا اور امام جوادؑ کی سرپرستی میں مکتب اہل بیتؑ شمالی افریقہ تک پہنچ گیا۔

دوسری طرف مامون سے کچھ ایسے افعال سر زد ہوئے، جو امامؑ کی منصوبہ بندی اور پلاننگ کے لئے معاون اور دشمن کی سازشوں کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوئے، ان کے پیچھے عامل بھی امامؑ کی موقع کی مناسبت سے کارآمد، موزوں اور بروقت حکمت عملی کا اختیار کرنا تھا۔
جیسے خود مامون کا تمام اسلامی ممالک سے سربراہان کو بلا کر امامؑ کا تعارف کروانا اور بیعت کے لئے کہنا، مختلف مکاتب فکر کے علماء اور دانشوروں کے ساتھ مناظرہ کی محافل کا انعقاد کرنا، نماز عید کی ذمہ داری امامؑ کو سونپنا، نماز استسقا کے لئے امامؑ کی خدمت میں آنا اور موقع فراہم کرنا وغیرہ۔

3۔ طاغوت کا خطرناک ترین حربہ حق کے علمبرداروں کی شخصیت کشی کرنا ہے، جو کہ قتل سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ شخص کے قتل سے ایک شخص کا خلا پیدا ہوتا ہے جبکہ شخصیت کے قتل سے مکتب و نظریات و افکار کو زک پہنچتی ہے۔ تحریف شدہ تورات و انجیل کی ورق گردانی کی جائے تو باطل کی کم ظرفی اور بھیانک سازش کا پول کھلتا ہے کہ انبیاء، معصومین ؑ اور الہی نمائندگان کو انتہائی عجیب صفات سے یاد کیا گیا ہے۔ نقل کفر کفر نباشد۔ اصحاح اور بائبل کتاب پیدائش کے اٹھائیسویں باب میں نعوذ باللہ ایک نبیؑ کا اپنی بہو کے ساتھ زنا کرنے کی تہمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ (ارتوجیمز معالم الکنیست ص۴۵۲طبع استنبول ۱۹۸۲ء) ( الخوئی، البیان فی تفسیر القرآن، ص۵۰، ۳۱طبع ، دارالثقلین، قم ۱۴۲۶ھ)۔ اس کے علاوہ تمام انبیاء پر مختلف قسم کی تہمتوں کی بھرمار باطل کا وطیرہ رہا ہے۔ کبھی ساحر کہا گیا اور کبھی مجنون، کبھی جاہ پرست، کبھی ہوس پرست جیسی صفات سے متہم کیا گیا۔ مولائے متقیانؑ کے خلاف پراپیگنڈہ مشینری اتنی تیز تھی کہ جب شام میں علی ؑ کی شہادت کی خبر پہنچی تو لوگ متعجب تھے کہ کیا علیؑ بھی مسجد میں نماز کے لئے جایا کرتے تھے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک منبر پر مولائے متقیان علی بن ابی طالب ؑ پر سب و شتم کا سلسلہ جاری رہا۔

مامون نے بھی کبھی مناظروں کا انعقاد کروایا، تاکہ امامؑ کی علمی مرجعیت کو نقصان پہنچایا جائے، کبھی ولیعہد بنا کر امامؑ کی شخصیت کو جاہ طلب اور اقتدار خواہ کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی اور اس طرح کے مختلف حربے استعمال کئے، لیکن دشمن کا امام ؑ کی حقیقت کو نہ پہچاننا اور امامؑ کی مؤثر اور بروقت تدابیر کے سامنے سب سازشیں ناکام ہوگئیں۔ مدینہ، مکہ اور دوسرے اہم اسلامی شہروں میں حضرتؑ پر دنیا کی محبت و حرص کی تہمت نہیں لگائی گئی، بلکہ آپ کے ظاہری و حکومتی جاہ و جلال پر آپ کا معنوی مقام و مرتبہ ہمیشہ حاوی رہا اور لوگوں کی زبانیں سالوں بعد آپ کے مظلوم آباؤ اجدادؑ کی شان میں کھل کر حقائق بیان کرنے لگیں۔

4۔ جس وقت مرو میں امامؑ کو ولیعہدی کی پیشکش کی گئی۔ حضرت نے سختی سے انکار کر دیا اور جب تک مامون نے صریحاً قتل کی دھمکی نہیں دی، امام ؑ نے قبول نہیں کی۔ یہ بات ہر جگہ عام ہوگئی کہ امام ؑ نے مامون کے اصرار کے باوجود ولیعہدی اور اس سے پہلے خلافت کو ٹھکرا دیا، یہاں تک کہ فضل بن سھل نے حکومتی کارندوں اور ملازمین کے بیچ میں کہا کہ میں نے خلافت کو آج تک اتنا ذلیل ہوتے نہیں دیکھا، امیرالمؤمنین خلافت کی پیشکش کر رہے ہیں اور علی بن موسٰیؑ اسے ٹھکرا رہے ہیں۔

5۔ امامؑ نے فقط اس شرط پر ولیعہدی قبول کی تھی کہ کسی حکومتی کام جنگ، صلح، نصب و عزل وغیرہ میں مداخلت نہیں کریں گے۔ مامون کا خیال تھا کہ ابتدا میں یہ شرط قابل قبول ہے، بعد میں تدریجاً امامؑ کو حکومتی کام میں ملوث کرلیں گے، اس شرط کو قبول کرنے کی بدولت اس کے بہت سارے عزائم خاک میں مل گئے۔
6۔ امامؑ نے ولیعہدی کو قبول کرکے وہ کام کیا جس کی تاریخ خلافت میں، چالیس ھجری میں خلافت اہل بیت (امیرالمومینؑ) کے خاتمہ کے بعد، مثال نہیں ملتی، شیعہ عقیدہ امامت کو جھان اسلام کی سطح پر بیان کرنا، امامت کو تقیہ کے گہرے پردوں سے نکال کر عالم اسلام تک پہنچانا اور خلافت کا وسیع و عریض پلیٹ فارم آپ کے اختیار میں تھا۔ امامؑ نے اپنا وہ کلام جو 150 سال سے دبا رہا، ببانگ دہل ہر فرد تک پہنچایا اور اس زمانے کے خصوصی وسائل جو فقط خلیفہ اور اس کے نزدیکیوں کے پاس ہوتے تھے کو اپنا پیغام پہنچانے کے لئے پہلی بار استعمال کیا۔

7۔ مامون امامؑ کو لوگوں سے جدا رکھنا چاہتا تھا، تاکہ یہ جدائی امام ؑ کے لوگوں سے معنوی و عاطفی تعلق کے خاتمہ کا باعث بنے، امامؑ کو جہاں بھی موقع ملتا، لوگوں سے ارتباط قائم کرتے، اس کے باوجود کہ مامون نے جان بوجھ کر امامؑ کو خراسان لانے کے لئے اس راستے کا انتخاب کیا جو ان شہروں سے گرزتا نہ ہو جہاں اہل بیتؑ سے محبت کرنے والے رہتے تھے، جیسے کوفہ، قم وغیرہ۔ امام ؑ نے اس راستے میں بھی جہاں موقع ملا لوگوں سے ایک نیا رابطہ اور تعلق بنایا۔ اہواز میں امامت کی کرامات دکھائیں، بصرہ میں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ نیشا پور میں حدیث سلسسلۃ الذہب کو ہمیشہ کے لئے یادگار کے طور پر چھوڑ گئے، جہاں فرصت ملی لوگوں کو ارشاد و ہدایت کی۔ مرو جو کہ آپ کی اصلی رہائشگاہ اور دارالخلافہ تھا، جب بھی آپ موقع و فرصت دیکھتے سرکاری حصار کو لوگوں کے لئے ہٹا دیتے۔

8۔ علم مخالفت بلند کرنے والے شیعوں نے نہ صرف سکوت اختیار نہیں کیا اور حکومت کے ساتھ معاملہ نہیں کیا بلکہ بہت سے قرآئن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ نئی صورتحال ان کی دلگرمی اور مزید ثابت قدمی کا باعث بنی اور جنگجو اور شورش کرنے والے افراد جو اپنی زندگیاں سخت پہاڑوں اور دور دراز بستیوں میں گزارنے پر مجبور تھے، امامؑ کی حمایت کی وجہ سے حکومتی کارندوں کے نزدیک مورد احترام بن گے تھے۔

2۔ علمی میدان میں مبارزہ:
دوسری صدی میں جب تدریجی طور پر کاغذ کا استعمال شروع ہوا تو علوم کی تاسیس اور تقسیم بندی بھی اسی دور میں ہوئی اور عالم اسلام میں مرجعیت علمی کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں مرجعیت علمی امامین صادقینؑ کے پاس تھی، جب بنی عباس کی حکومت آئی تو دیکھا کہ ظاہری طور پر خلیفہ وہ ہیں لیکن حقیقت میں خلیفہ تو امام صادقؑ ہیں۔ بنی عباس کی خواہش تھی کہ مرجعیت علمی ان کے پاس نہ رہے۔ اسی طرح امام رضاؑ کا دور بھی اہل بیتؑ اور خلافت عباسی کے درمیان کشمکش کا زمانہ ہے۔ بنو عباس اپنے سیاسی مقاصد کی وجہ سے چاہتے تھے کہ اس خاندان سے مرجعیت علمی چھین لی جائے۔
تاریخ میں امام رضاؑ کا زمانہ عصر طلائی کے نام سے مشہور ہے، اسی میں یونان، مصر، ہندوستان، ایران اور روم تک جتنی بھی علمی کتب تھیں ان کا عربی میں ترجمہ ہوا۔ مامون نے یونانی کتب کا ترجمہ کروانے میں بڑی کوشش کی اور بے بہا پیسہ خرچ کیا۔ جیسا کہ مشہور ہے کہ مامون ترجمہ شدہ کتاب کے وزن کے برابر سونا دیتا تھا۔

مامون جب امام رضاؑ کو مرو لے کر آیا تو مختلف دانشوروں کے ساتھ متعدد علمی محافل تشکیل دیں۔ علمی محافل تشکیل دینے میں مامون کا ہدف علم دوستی کا تظاہر تھا۔ اصل میں وہ معتزلہ کے ساتھ تھا اور چاہتا تھا کہ اہل حدیث کا مقابلہ کرے۔ وہ امامؑ کو ان ابحاث میں الجھا کرعوام کو یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ یہ علم لدنی کے حامل نہیں۔ مامون امامؑ کے مقابلہ میں ہر فرقہ کے بڑی سطح کے علماء کو لاتا تھا، تاکہ ان کے ذریعے امامؑ کی علمی شخصیت کو مجروح کرے۔ اس کا کینہ امامؑ کی علمی اور اجتماعی قدر و منزلت سے تھا، لیکن جو بھی امامؑ کے ساتھ علمی مناظرہ اور بحث کرنے آتا، مجبور ہو کر ان کے فضل کا اقرار کرتا۔

امام رضاؑ نے مختلف افکار اور منحرف عقائد کے سامنے سد بننے کے لئے مجموعی طور پر چار روشیں اپنائیں۔

الف۔ شاگردوں کی تربیت:
مکتب اہل بیتؑ کی ترویج و بقاء کی خاطر سارے آئمہؑ کی یہ روش رہی کہ انہوں نے اصحاب اور فاضل شاگردوں کی تربیت کی، تاکہ ان کے ذریعے اسلام کے صحیح عقائد کو منتشر کرسکیں اور منحرف عقائد کا مقابلہ کرسکیں۔ امام رضا ؑ کے اہم ترین اصحاب اور شاگردان میں سے احمد بن محمد، محمد بن فضل ازدی، حسن بن علی، محمد بن سنان، حماد بن عثمان، حسن بن سعید اہوازی، عبداللہ بن مبارک کا نام لیا جاسکتا ہے۔

ب۔ خط و کتابت:
فکری انحرافات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک روش خط و کتابت اور پیغامات تھے۔ امام ؑ ان خطوط میں وظائف معین فرماتے تھے۔ امام ؑ کے یہ فقین، سیاسی اور عقائدی نوشتہ جات ان کے شاگردوں کے توسط سے لکھے جاچکے ہیں۔

ج: سوالات اور شبہات کے جوابات:
اسلام کے حقائق بیان کرنے کا ایک اہم راستہ سوالات اور ان کے جوابات دینا ہے۔ امامؑ کبھی بھی کسی سوالی کو مطمئن کئے بغیر نہیں لوٹاتے تھے، یہاں تک کہ امام ؑ کو جب مدینہ سے مرو لایا گیا تو راستہ پانچ ہزار کلومٹر لمبا تھا، اس راستہ میں بھی معارف الٰھی کے تشنہ افراد نے استفادہ کیا۔ جب لوگ امامؑ سے ملتے تھے تو سوالات کا جواب لئے بغیر جدا نہیں ہوتے تھے اور امام ؑ نے بھی اس فرصت سے بھرپور استفادہ کیا اور لوگوں کو جواب دے کر معارف اسلامی کی تبلیغ اور فکری انحرافات سے مبارزہ کیا۔

د: مناظرات:
امامؑ کے دور میں کلامی ابحاث اپنے عروج پر تھیں، جس میں دو گروہ (معتزلہ) اور (اہل حدیث) درگیر تھے۔ ایک عقل کو ترجیح دیتا تھا اور دوسرا نقل کو۔ مامون نے اس بحث میں امامؑ کو داخل کرنے کی کوشش کی اور باقی بھی مختلف مذاہب اور فرقوں کے ساتھ مناظروں کا بندوبست کیا، تاکہ امامؑ کی علمی مرجعیت کو زک پہنچائی جاسکے۔ لیکن جو بھی مناظرہ کرنے آتا، وہ امامؑ کے علم و فضل کا قائل ہوجاتا، حتٰی کہ کئی بار مامون نے اظہار کیا کہ "ھذا اعلم ھاشمی۔” امامؑ جس دین اور مکتب کے پیرو کے ساتھ بحث کرتے، اسی کے مذہب اور مصادر سے جواب دیتے۔
جب مامون نے مسیحوں کے عالم (جاثلیق) سے کہا کہ امامؑ سے مناظرہ کرے تو اس نے کہا کہ میں ان کے ساتھ کیسے بحث کروں، وہ ایسی کتاب سے استدلال کرتے ہیں جسے میں قبول نہیں کرتا اور ایک ایسے پیغمبر کا قول لاتے ہیں کہ جس پر میں ایمان نہیں رکھتا۔ حضرت نے فرمایا اے مسیحی، اگر میں تیرے لئے انجیل سے دلیل لاوں تو کیا قبول کر لوگے؟ جاثلیق نے کہا، قبول کروں گا۔ درحقیقت امامؑ نے قابل قبول مشترکہ نکات پر مناظرہ کیا۔ اس کے بعد جاثلیق نے کہا مسیح کی قسم، میرا خیال نہیں تھا کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی آپ جیسا عالم موجود ہو۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ امامؑ کے مناظرات سے مکتب تشیع کو تشخص حاصل ہوا۔ مخالفین شکست دینے آتے تھے لیکن امام ؑ کی کامیابی نے اسلام کا سر فخر سے بلند کر دیا اور ثابت کیا کہ کامیاب اور حقیقت پر مبنی مذہب مکتب تشیع ہے۔ اسی طرح ایک عمران نامی صابی متکلم نے دعویٰ کیا کہ آج تک اسے کوئی مناظرہ میں شکست نہیں دے سکا، لیکن وہ امام رضاؑ کے ساتھ مناظرہ کے بعد مسلمان ہوگیا۔ امامؑ نے مختلف ادیان اور مذاہب کے لوگوں کو مناظرہ میں شکست فاش دی اور امامؑ کے علم و فضل کی شہرت ہر طرف پھیل گئی۔ مامون ہر متکلم اور مناظر کو امام ؑ کے مقابلے میں لایا کہ شاید کوئی ایک آدمی امام ؑ کو جواب دے سکے، لیکن مناظرہ کرنے سے امامؑ کی علمی قدرت آشکار تر ہوتی گئی اور مامون اس طریقہ سے بھی ناامید ہوگیا۔

مختصر یہ کہ مامون جس جال میں امامؑ کو پھنسانا چاہ رہا تھا، خود اس میں روز بروز پھنستا جا رہا تھا، یہاں تک کہ مامون نے شکست کا احساس کیا اور اپنی اس واضح غلطی کا جبران کرنے کے لئے اسی وسیلہ کا سہارا لیا، جس کا پہلے ظالم اور فاسق و فاجر حکمران لیتے رہے تھے، یعنی "قتل”۔ آخری راہ حل اس کے پاس یہی تھا کہ اپنے ہاتھ سے امام ؑ کو زہر دے دے اور اس نے یہی کیا۔ گو ولی عہدی قبول کرنا تاريخ ائمہؑ کے دھارے ميں ايک منفرد واقعہ ہے، جو مزاج امامت سے ناآشنا افراد ميں شکوک پيدا کرسکتا ہے، ليکن درحقيقت يہ امامؑ کی سياسی بصيرت کی عکاسی کرتا ہے کہ ايک مشکل مرحلہ کو کس طرح ايک اعلٰی و ارفع مقصد کے حصول کا ذريعہ بنايا جاسکتا ہے۔ دوران ولی عہدی کے واقعات امامؑ کے مناظروں اور علمی فيوض سے اس حقيقت کی تصديق ہوتی ہے۔ امام رضاؑ نے اپنی تدبیر و حکمت عملی سے يہ ثابت کر ديا کہ خداوند عالم کی خلافت اور نمائندگی کے حقدار صرف ائمہؑ ہيں اور زمين پر خدا کی حجت اور اس کے نمائندہ ہيں۔