صراط علی حق نمسکہ

(تحریر: سیدہ ایمن نقوی)

امیرالمومنین علی علیہ السلام کا مقام اتنا بلند ہے کہ جبرائیل جیسا عظیم فرشتہ بھی حضرت علی علیہ السلام کا شاگرد ہے۔ آپ وہ بے مثال شخصیت ہیں کہ جنہوں نے رسول خداﷺکی گود میں پرورش پائی ہے۔ یہ انسان کامل اتنے بلند مرتبے پر فائز ہے کہ جبرائیل جیسے عظیم فرشتے نے بھی حضرت علی علیہ السلام سے تعلیم حاصل کی ہے۔ کتاب "بستان الکرم” میں نقل ہوا ہے کہ ایک دن جبرائیل امین خاتم النبین ﷺ کے پاس تھے کہ امیرالمومنین علیہ السلام داخل ہوئے، جب جبرائیل نے امام علیہ السلام کو دیکھا تو اٹھ کر تعظیم کی، حضرت رسول خداﷺ نے فرمایا یا جبرائیل آپ اس جوان کی تعظیم کرتے ہیں؟ جبرائیل نے عرض کیا یا رسول اللہ؛ میں کس طرح تعظیم نہ کروں جبکہ وہ میری گردن پر استاد کا حق رکھتے ہیں؛ رسول خدا ﷺنے پوچھا، تمہیں کس چیزکی تعلیم دی ہے اور واقعہ کیا ہے؟ جبرائیل نے کہا: جب خداوند متعال نے مجھے خلق فرمایا تو مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو اور میں کون ہوں؟ تمہارا نام کیا ہے اور میرا نام کیا ہے؟ میں جواب دینے سے عاجز ہو گیا اور خاموش ہو گیا؛ کچھ عرصہ تک میں حیران و پریشان رہا کہ اس جوان نے آ کر مجھے تعلیم دی اور کہا، کہو تو پروردگار جلیل ہے اور تیرا نام جمیل ہے اور میں بندہ ذلیل ہوں اور میرا نام جبرائیل ہے۔ اس بنا پر جب میں نے انہیں دیکھا ہے تو ان کی تعظیم کی ہے۔ اس کے بعد رسول خدا ﷺ نے جبرائیل سے پوچھا تمہاری کتنی عمر ہے؟ جبرائیل نے کہا یا رسول اللہ؛ ایک ایسا ستارہ ہے کہ جو ہرتیس ہزار سال میں ایک مرتبہ طلوع کرتا ہے اور میں نے اس ستارے کو تیس ہزار مرتبہ دیکھا ہے۔ یہ روایت اور اس طرح کی دیگر روایات، حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کے عمیق پہلووں کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس لئے "صِراطُ عَلی حَقٌّ نُمْسِکُهُ” علی کا راستہ حق کا راستہ ہے اسے تھامے رہو ۔ مسلمان، اس الٰہی اور بے مثال آئیڈیل کی پیروی کرکے سعادت اور نجات کی منزل پرفائز ہو سکتے ہیں۔

ظلم کے خلاف جنگ اور عدل و انصاف کا قیام:
امیرالمومنین علیہ السلام کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ظلم کے خلاف جنگ اور عدل و انصاف کا قیام ہے، آج اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمان بالخصوص اہل تشیع کو چاہیئے کہ آپ کی پیروی کرکے ظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ مسلمان وہ ہے جس کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں دینی اور علوی ثقافت جلوہ گر ہو۔ حضرت علی علیہ السلام اخلاق اور عدل کا نمونہ عمل ہیں، اُس دور میں شام کے حکمران معاویہ نے ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی، اسی طرح ہر دور میں علی علیہ السلام کے پیروکاروں پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا، لیکن وہ علوی ہی کیا جو دشمن سے خوف کھا جائے، علی علیہ السلام تو دلوں پر حکومت کرتے تھے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں آئے دن مختلف ادیان کے پیروکاروں کے درمیان امیرالمومنین علی علیہ السلام کی محبت میں اضافہ ہو رہا ہے، اربعین پر اس کی بہترین مثال دیکھنے کو ملتی ہے، ہر رنگ و نسل و مذہب کے لوگ کربلا و نجف میں زیارت کیلئے آتے ہیں کہ جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی ہے، ان ہستیوں نے ہر دور میں دلوں پہ حکومت کی ہے۔ امام علی علیہ السلام ہمیشہ، دنیا اور مادی امور سے دوری اختیار کیا کرتے اور اس کی ظاہری خوبصورتی پر توجہ نہیں کرتے تھے، لہٰذا ہمیں بھی حضرت علی علیہ السلام کے شیعہ ہونے کے ناطے اپنی آخرت اور اس کے لئے زاد راہ پر توجہ دینی چاہیئے۔ پیغمبر کی امت کو دنیا پرست نہیں ہونا چاہیئے، دنیا کی عیش و عشرت بلند مدت نہیں ہے اور ہمیں نیک اور اچھے کام انجام دینے چاہیئے تاکہ انتہائی سکون سے ابدی دنیا کی طرف سفر کر سکیں۔

معرفت امام علی کے ذرائع:
امام علی علیہ السلام کی معرفت کے لئے ہم روایات کا سہارا لیتے ہیں جبکہ ایک اور راستہ یہ ہے کہ ہم قرآن کریم میں علی علیہ السلام کی شخصیت کا مطالعہ کریں۔ لوگ حضرت علی علیہ السلام کو ایک شجاع اور بہادر انسان کے طور پر جانتے ہیں اور اس کی دلیل بھی جنگ خندق کے وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روایت ہے۔ اسی طرح حضرت علی علیہ السلام اپنے دور کے سب سے زیادہ زاہد انسان تھے۔ بعض اوقات فصاحت و بلاغت کے ذریعے بھی حضرت امام علی علیہ السلام کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے کہ جس کا ایک نمونہ نہج البلاغہ ہے، یہاں یہ بہت افسوس سے کہنا چاہوں گی کہ یہ کتاب ہمارے لوگوں میں اور بالخصوص شیعیان علی میں غریب ہے، جبکہ غیر مسلموں نے اس کتاب سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات اخلاق کے ذریعے حضرت علی علیہ السلام کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے کہ آپ کا حسن خلق کسی پر پوشیدہ نہیں ہے اور یہ سالکین کے لئے ایک درس ہے۔ امام علی علیہ السلام کے علم کا ادراک رکھنا ہو تو یہ کہ ہم نے تاریخ میں نہیں دیکھا ہے کہ آپ نے کسی طرف رجوع کیا ہو، تاہم تمام لوگ آپ کی طرف رجوع کرکے آپ سے استفادہ کرتے رہے ہیں، اور جناب عمر نے تو یہ کہہ کر "لولا علی لھلک العمر” کہ علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ کھلم کھلا آپ کے علم و فراست کا اعتراف کیا۔ قرآن کریم امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی شناخت کا بہترین ذریعہ ہے کہ اس سلسلے میں سب سے پہلا موضوع ، آپ کا ایمان ہے اور آپ وہ پہلی ہستی ہیں کہ جو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرایمان لائے تھے۔ "وَاَنْذِرْ عَشيرَتَكَ الاَقرَبين۔”حضرت علی علیہ السلام ایثار و قربانی کی مثال قائم کرتے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر سوئے اور وہاں پر رہے اور جب دشمنوں نے حملہ کیا تو آپ نے دفاع کرتے ہوئے آنحضرت کی حفاظت کی تھی۔ سورہ ہل اتٰی کی خصوصیات میں حضرت علی علیہ السلام کی صورت کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اس سورہ میں بہترین دلیل موجود ہے اور یہ سورہ مدنی ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت میں نازل ہوا ہے۔ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے واپس آ رہے تھے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہو کر کہتے ہیں کہ آپ ایک اہم موضوع کو بیان کریں اور اگر اسے انجام نہ دیا تو رسالت ختم ہو جائے گی۔ لہٰذا ایک مرتبہ پھر امام علی علیہ السلام کی شخصیت کا تعارف کروایا جاتا ہے۔ تربیت پیغمبرؐ کا اثر ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کمالات کا مجموعہ ہے، امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "نبی اکرمؐ نے مجھے علم کے ایک ہزار ابواب تعلیم دیئے اور میں نے ہر باب سے مزید ہزار باب اپنی جستجو سے پید ا کئے”۔

انسان کی زندگی اور اسکے انجام پہ اثرانداز ہونیوالے عوامل:
انسان کی زندگی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انسان کے انجام پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں سے ایک اہم عامل اس کے دوست و رفقاء ہیں جن کی صحبت میں وہ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ دوست اور رفقاء دینی تعلیمات کی روشنی میں انسان کی سعادت و شقاوت اور خوش بختی اور بدبختی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں مناسب دوستوں کے انتخاب پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور نہ صرف اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے بلکہ ان اچھے دوستوں کی شناخت بھی کروائی گئی ہے اور اس ضمن میں بہترین نصیحتیں بھی کی گئی ہیں۔ امام علی علیہ السلام اپنی ایک حدیث شریف میں فرماتے ہیں، "عقلمند اور دانشمند افراد کی صحبت میں بیٹھو تا کہ تمہاری عقل و دانش کمال پائے، عزت و شرافت نفس ہاتھ آئے اور نادانی تجھ سے دور ہو جائے”۔ (غرر الحكم : 4787)۔ اسی طرح ایک اور مقام پر امام علیہ السلام فرماتے ہیں۔ غریبوں کے ساتھ بیٹھو تاکہ تمہاری طرف سے خدا کی شکرگزاری میں اضافہ ہو۔” (غرر الحكم : 47239)۔ امیر المومنین علیہ السلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں، "پاکدامن اور دانشمند افراد کے ساتھ بیٹھو، ان کے ساتھ زیادہ بحث و مباحثہ کرو، کیونکہ اگر تم نادان ہوئے تو تمہیں علم سے نوازیں گے اور اگر تم دانا ہو تو تمہاری دانش میں اضافہ ہو جائے گا”۔ (غرر الحكم : 4783)۔ امیرالمومنین امام المتقین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہ السلام نہج البلاغہ کی حکمت نمبر ۱۹۳میں ارشاد فرماتے ہیں: (إِنَّ لِلْقُلُوبِ شَهْوَهً وَإِقْبَالًا وَإِدْبَاراً، فَأْتُوهَا مِنْ قِبَلِ شَهْوَتِهَا وَإِقْبَالِهَا فَإِنَّ الْقَلْبَ إِذَا أُکْرِهَ عَمِیَ) "دلوں کے لئے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کرکے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا ہے”۔ حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام اپنی ایک نورانی اور مبارک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں، "الإمامُ عليٌّ عليه السلام إنَّ أخاكَ حَقّا مَن غَفَرَ زلّتَكَ و سَدَّ خَلّتَكَ، و قَبِلَ عُذْرَكَ، و سَتَرَ عَوْرَتَكَ، و نَفى وَجلَكَ، و حَقّقَ أملَكَ”۔ تمہارا حقیقی بھائی وہ ہے کہ جو تمہاری لغزشوں اور غلطیوں سے درگزر کرے، تمہاری ضرورت اورحاجت کو پورا کرے، تمہاری عذرخواہی اور معذرت کو قبول کرے، تمہارے عیوب پر پردہ ڈالے، تمہارے خوف و ہراس کو دورکرے اور تمہاری آرزو کو پورا کرے۔ (غرر الحكم : 3645)۔

حکومت دنیاوی خواہشات تک پہنچنے کی بجائے جدوجہد اور جہاد کا ایک مورچہ:
اسلام میں حکومت دنیاوی خواہشات تک پہنچنے کی بجائے جدوجہد اور جہاد کا ایک مورچہ ہے، امیرالمومنین علی علیہ السلام کی نظر میں حکومت روحانی اور معنوی اہداف تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے اور یہ کوئی آخری ہدف نہیں ہے، اسلامی حکومت باطل کو کچلنے اور حق کے احیاء کا ایک مورچہ ہے۔ امیرالمومنین علی علیہ السلام ہمیشہ فقرا اور ضرورتمندوں کے درد و غم کی فکر میں رہتے تھے، اور فقراء کے ہوتے ہوئے امیرالمومنین جیسے لقب پرآپ خوش نہیں ہوتے تھے۔ آپ کی نظر میں اسلام اور قرآن کریم کے دستورات کی بنا پرحکومت حق کے احیاء اور باطل کی تباہی کا ایک وسیلہ ہے۔ ان دنوں پاکستاں میں بھی پچھلی حکومت کا اختتام ہو چکا ہے اور نئی حکومت کے قیام کے لئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جا چکا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی عوام عدل و انصاف سے عاری حکمرانوں کے زیر سایہ زندگی بسر کر رہے ہیں، لیکن اس میں بھی کسی شبے کی گنجائش نہیں کہ ان حکمرانوں کا انتخاب اسی عوام نے کیا ہے، عوام امیدوار کو منتخب کرتے ہوئے عموما اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں جبکہ اسلامی معاشرے میں امیدواروں کو معاشرے میں دین کے احیاء اور تمام شہروں میں اصلاح کے فروغ کے معیار کو دیکھتے ہوئے منتخب کرنا چاہیئے۔ اسلامی حکومت کا ایک اہم معیار اور پروگرام عدل و انصاف کا قیام ہے، جس کا بےپناہ فقدان ہمیں اپنے ملک میں نظر آتا ہے، متاسفانہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں اسلام صرف نام کا رہ گیا ہے، حالانکہ اسلامی معاشرے کے حاکم کو الٰہی احکام کو تعطیل سے نکال کر اجراء تک پہنچانا چاہیئے۔

انتخابات میں شرکت نہ کرنیکا کا کہنے والے پاکستانی شیعہ اکابرین کے لئے مولا امیرالمومینین کا بہترین پیغام:
ایک حکومت کے لوگ اس وقت اپنےحقوق سے صحیح استفادہ کرسکتے ہیں کہ جب حقیقی طور پر ان کی شراکت کا امکان فراہم ہو اور وہ حکومت کے فیصلوں اور اس کے نظام میں موثر کردار ادا کر سکیں اورحکمرانوں کے کاموں کی نگرانی کریں اور اپنی رائے کا اظہارکریں اور ان کی نظر پر توجہ دی جائے۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کا نظریہ تھا کہ تمام لوگ حکومت میں شرکت کریں اور کردار ادا کریں، جیسا کہ فرمایا "لَيْسَ امْرُؤٌ ـ وَ إِنْ عَظُمَتْ فِي الْحَقِّ مَنْزِلَتُهُ، وَ تَقَدَّمَتْ فِي الدِّينِ فَضِيلَتُهُ ـ بِفَوْقِ أَنْ يُعَانَ عَلَى مَا حَمَّلَهُ اللهُ مِنْ حَقِّهِ. وَ لاَ امْرُؤٌ ـ وَ إِنْ صَغَّرَتْهُ النُّفُوسُ، وَ افْتَحَمَتْهُ الْعُيُونُ ـ بِدُونِ أَنْ يُعِينَ عَلَى ذلِکَ أَوْ يُعَانَ عَلَيْهِ”۔ (نهج البلاغه، نامۀ ۵۳ ( عهدنامۀ مالک اشتر)۔ حکومت میں تمام لوگوں کی شرکت کے لئے راہ ہموار کرنا ان لوگوں کی کرامت کی حفاظت ہے اور امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے اس شرکت اس حد تک ضروری قراردیا ہے کہ کوئی بھی اس سے محروم نہ ہو اور کوئی اپنے آپ کو اس سے بےنیاز قرار نہ دے۔ امام علی علیہ السلام نے اس حوالے سے تمام لوگوں پر راستہ کھول دیا ہے تاکہ ہرکوئی اپنی طاقت کے مطابق شرکت کرسکے۔ "فَلاَ تَكُفُّوا عَنْ مَقَالَةٍ بِحَقٍّ، أَوْ مَشُورَةٍ بِعَدْلٍ”۔(همان، خطبۀ۲۱۶)۔ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ حق پسندی، اظہار رائے اور عدل و انصاف کے حصول میں مختلف امور میں شرکت کرنے سے اجتناب نہ کریں، اور اپنے حق رائے دہی کو بہترین طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کریں، آج اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو دشمن ان پر مسلط تر ہوتا چلا جائے گا۔ جو لوگ ایسے فتاوی دے رہے ہیں وہ یقیناً کسی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں، مقام معظم رہبری کی نظر میں بھی پاکستانی عوام کو اپنے حقوق کے حصول و دفاع کے لئے انتخابات میں بھرپور طریقے سے شرکت کرنی چاہیئے۔ یہ تو طے ہے کہ علی کا رستہ حق کا راستہ ہے اور اسی پہ چل کے ہم دنیا و آخرت کی سعادت پا سکتے ہیں۔