واقعہ کربلا رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں

(تحریر:محمد علی نقوی)

واقعہ کربلا کا جائزہ اس زاویہ نگاہ سے لینے کی ضرورت ہے کہ ہجرت کے ساٹھ برسوں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد کے پچاس برسوں کے اواخر میں اس دور کے مسلمان حالات کا صحیح تجزیہ نہیں کر پا رہے تھے اور چونکہ تجزیہ نہیں کر پا رہے تھے اس لئے ردعمل بھی نہیں ظاہر کر رہے تھے۔ اس طرح جو لوگ اسلامی معاشرے میں انحراف اور تحریف کے در پے تھے، انہیں بھی کھلی چھوٹ مل گئی تھی۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ ایک فاسق و فاجر، رسوائے زمانہ رئیس زادہ، جس میں اسلامی معاشرے کی حاکمیت اور پیغمبر اسلام ص کی جانشینی کی شرائط موجود ہونا تو درکنار وہ آنحضرت کی روش کے بالکل بر عکس رفتار و گفتار کا مالک تھا، امت مسلمہ کا رہبر اور پیغمبر ص کا جانشین بن بیٹھا۔

آج آپ کی نظر میں یہ واقعہ کتنا حیرت انگیز محسوس ہوتا ہے؟! لیکن اس دور میں موجود لوگوں کے لئے یہ واقعہ عجیب و غریب نہیں تھا۔ خواص نے بھی خطرے کا احساس نہیں کیا، بعض نے اگر خطرہ محسوس بھی کیا تو ان کے ذاتی مفادات اور ان کا چین و سکون آڑے آیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ پیغمبر ص اسلام لائے تھے، تاکہ لوگوں کو توحید، پاکیزگی، مساوات، اخلاقیات اور انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود کی سمت لے جائیں، لیکن آج ایسا شخص پیغمبر اسلام ص کا جانشین بن بیٹھا ہے جو سراپا گناہ اور فسق و فجور ہے۔ اسے نہ تو خدا کے وجود کا یقین ہے اور نہ اس کی وحدانیت پر ایمان۔

پیغمبر اسلام ص کی رحلت کے پچاس سال بعد ایسا شخص مسند خلافت پر بیٹھ جائے؟! یہ چیز آج آپ کی نظر میں بہت عجیب لگ رہی ہے، لیکن اس دور میں بیشتر لوگوں کو یہ چیز عجیب نہیں لگیں۔ یہ کتنے تعجب کی بات ہے؟! یزید خلیفہ بن گیا اور عالم اسلام کے مختلف علاقوں میں بدعنوان اور تشدد پسند کارندوں کو عوام سے بیعت لینے پر مامور کر دیا گيا اور لوگوں نے بھی جوق در جوق بیعت کر لی۔ علماء نے بیعت کی، زاہدوں نے بیعت کی، بڑی شخصیات نے بیعت کر لی، سیاستدانوں نے بیعت کر لی!

ان حالات میں کہ جب عالم اسلام پر ایسی غفلت و بے حسی طاری تھی، حسین ابن علی کی شخصیت جو مظہر اسلام ہے اور "حسین منی و انا من الحسین” کی رو سے پیغمبر اسلام کی ہو بہو تصویر ہے وہ کیا کرے؟! اسے کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ جس سے نہ صرف اس وقت بلکہ صدیوں کے لئے عالم اسلام بیدار ہو جائے اور غفلت سے باہر نکل آئے۔ (اسے چاہئے کہ وہ آگے بڑھ کر) عالم اسلام کو جھنجھوڑ دے۔ یہ کام امام حسین علیہ السلام کے قیام سے شروع ہوا۔ کوفے سے امام حسین علیہ السلام کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت ملی اور آپ نے کوفہ کی جانب سفر شروع کیا۔ یہ سب ظاہری چیزیں تھیں۔

اگر امام حسین علیہ السلام کو دعوت نہ دی گئی ہوتی، تب بھی آپ یقیناً قیام فرماتے۔ امام حسین ع کو یہ قیام کرنا ہی تھا، تاکہ یہ بتائيں کہ ایسے حالات میں ایک مسلمان کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے۔ آپ نے آئندہ صدیوں کے مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل پیش کر دیا۔ آپ نے لائحہ عمل رقم فرمایا۔ یہ لفاظی یا زبانی جمع خرچ پر مبنی لائحہ عمل نہیں تھا۔ یہ عملی طور پر پیش کیا جانے والا لائحہ عمل تھا۔ آپ نے خود آگے بڑھ کر ثابت کر دیا کہ صحیح راستہ کیا ہے۔

آپ نے اپنے نانا پیغمبر اسلام ص کی ایک حدیث کی جانب اشارہ کیا: جب آپ دیکھیں کہ اسلام کو فراموش کر دیا گیا ہے، عوام پر ظالم حکومت اور وہ دین خدا میں تبدیلیاں کر رہے ہیں، عوام سے فاسقانہ و فاجرانہ انداز میں برتاؤ کر رہے ہیں، تو جو شخص ان حالات کے خلاف قیام نہ کرے «كان حقّا على اللَّه ان يدخله مدخله» تو اللہ تعالی اس بے حس اور ساکت شخص کے ساتھ وہ برتاؤ کرے گا جو «مستحلّ حرمات اللَّه» کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تو یہ لائحہ عمل پیش کیا گيا ہے اور یہ ہے حسین ابن علی علیھما السلام کا قیام۔ اس قیام کی راہ میں اگر حسین کی زندگی بھی، جو دنیا کی سب سے برتر اور گرانبہا زندگی ہے، قربان ہو جائے تو امام حسین علیہ السلام کی نظر میں یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے۔

آل اللہ، اہل حرم پیغمبر ص اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا جیسی شخصیت کی اغیار کے ہاتھوں اسیری بھی برداشت ہے۔ حسین ابن علی کو بخوبی علم تھا کہ جب (کربلا کے) صحرا میں انہیں شہید کر دیا جائے گا تو عدو، بچوں اور عورتوں کو اسیر کر لیں گے، لیکن اس عظیم ہدف کے لئے اتنی بڑی اور سنگین قیمت امام حسین علیہ السلام کی نظر میں زیادہ نہیں تھی۔

امام حسین علیہ السلام کی تحریک ایسی ہی تھی۔ آپ نے فرمایا : «انّما خرجت لطلب الأصلاح فى امّة جدّى».، اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا «من رأى سلطانا جائرا مستحلا لحرام الله او تاركا لعهداللَّه مخالفا لسنة رسول‏اللَّه فعمل فى عباداللَّه بالاثم والعدوان ثمّ لم يغيّر عليه بقول و لا فعل كان حقا على اللَّه أن يدخله مدخله»؛ یعنی اگر کسی کو ظلم و بدعنوانی کا مرکز نظر آئے اور وہ خاموش بیٹھا رہے، تو خدا اسے اس کے ساتھ ہی محشور کرے گا۔

امام حسین علیہ السلام کو علم تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو ان کی خاموشی اور ان کے سکوت کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ جب کوئی طاقت تمام سماجی وسائل کے ساتھ کسی سماج پر غالب ہو اور ظلم و جور کا راستہ اختیار کرے اور آگے بڑھے، تو اگر حق کے علمبردار اس کے سامنے نہ کھڑے ہوں اور اس کے راستے کو نہ روکیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی تائید کرتے ہيں۔ یعنی اس صورت میں غیر ارادی طور پر اہل حق بھی ظلم و جور کے حامیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ گناہ تھا، جس کا اس دور میں بڑے بڑے سردار اور بنی ہاشم کے بزرگان مرتکب ہوئے تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے ایسا نہيں کیا اور اسی لئے انہوں نے قیام کیا۔

منقول ہے کہ جب امام زین العابدین علیہ السلام واقعہ عاشور کے بعد مدینہ لوٹے تو ایک شخص نے آپ کی خدمت میں پہنچ کر عرض کیا : اے فرزند رسول! دیکھا آپ گئے تو کیا ہوا؟ وہ سچ کہہ رہا تھا یہ کاروان جب گیا تھا تو اس کی قیادت اہل بیت کے خورشید درخشاں، فرزند رسول امام حسین علیہ السلام کر رہے تھے۔ بنت علی عزت و سرافرازی کے ساتھ گئی تھیں۔ علی کے بیٹے حضرت عباس، امام حسین علیہ السلام کے بیٹے، امام حسن علیہ السلام کے بیٹے، بنی ہاشم کے بہادر جوان سب لوگ اس قافلے میں موجود تھے لیکن جب یہ قافلہ واپس آیا تو اس میں صرف ایک مرد تھا، امام زين العابدین علیہ السلام۔ عورتوں کو اسیر کیا گیا۔ بے پناہ مظالم ڈھائے گئے۔ امام حسین نہیں رہے، علی اکبر چلے گئے، یہاں تک کہ شیر خوار بچہ بھی قافلہ کے ساتھ واپس نہ آیا۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے اس شخص کو جواب دیا : سوچو اگر ہم نہ جاتے تو کیا ہوتا۔ جی ہاں اگر وہ لوگ نہ جاتے تو جسم تو زندہ رہتے، لیکن روح کا وجود نہ رہتا، ضمیر مر جاتے۔ تاریخ میں عقل و منطق کو شکست ہوتی اور اسلام کا نام بھی باقی نہ رہتا۔ اہم نکتہ یہ درس ہے کہ حسین ابن علی علیہ السلام، تاریخ اسلام کے ایک حساس دور میں مختلف فرائض میں اصلی فریضہ کی شناخت کی اور اس پر عمل درآمد کیا۔
انہوں نے اس چیز کی شناخت میں جس کی اس دور میں ضرورت تھی کسی قسم کا وہم و تذبذب نہيں کیا، جبکہ یہی مسئلہ مختلف زمانوں میں زندگی گزارنے والے مسلمانوں کا ایک کمزور پہلو ہے، یعنی یہ کہ عالم اسلام کے عوام اور ان کے اہم رہنما کسی خاص دور میں اصل فریضے کے بارے میں غلطی کریں اور انہيں یہ نہ پتہ ہو کہ کون سا کام اصل اور ضروری ہے اور اسے انجام دینا چاہئے اور دوسرے کاموں کو اگر ضرورت ہو تو اس پر قربان کر دیا جائے، انہیں یہ نہ معلوم ہو کہ کون سا کام اہم اور کون سا کام دوسرے درجے کی اہمیت کا حامل ہے اور کس کام کو کتنی اہمیت دینی چاہئے اور کس کام کے لئے کتنی کوشش کرنی چاہئے۔

حسین ابن علی علیہ السلام کی تحریک کے زمانے میں ہی بہت سے ایسے لوگ تھے کہ اگر ان سے کہا جاتا کہ اب قیام کا وقت ہے اور اگر وہ سمجھ جاتے کہ اس قیام کے اپنے مسائل ہیں تو وہ دوسرے درجے کے اپنے فرائض سے چپکے رہتے، جیسا کہ ہم نے دیکھا کچھ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ حسین ابن علی علیہ السلام کے ساتھ تحریک میں شامل نہ ہونے والوں میں مومن و پابند شرع افراد بھی تھے۔ ایسا نہيں تھا کہ سب کے سب اہل دنیا تھے۔ اس دور میں عالم اسلام کے برگزیدہ افراد اور اہم شخصیات میں مومن اور ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے فریضے پر عمل کرنا چاہتے تھے، لیکن فریضے کی شناخت نہيں کر پاتے تھے، زمانے کے حالات کی سمجھ نہيں رکھتے تھے، اصل دشمن کو نہيں پہچانتے تھے اور اہم اور پہلے درجے کی اہمیت کے حامل کاموں کے بجائے دوسرے اور تیسرے درجے کے کاموں کو اختیار کرتے تھے۔

یہ عالم اسلام کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت رہی ہے، آج بھی ہم اس مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہيں اور زیادہ اہم چیز کے بدلے کم اہم کام کر سکتے ہیں۔ اصل کام کو جس پر سماج اٹکا ہوا ہو، تلاش کرنا چاہئے۔ کبھی اسی ہمارے ملک میں سامراج و کفر و ظلم و جور کے خلاف جدوجہد کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن کچھ لوگ اسے فرض نہيں سمجھتے تھے اور دوسرے کاموں میں مصروف تھے اور اگر کو‏ئی درس دیتا تھا، یا کتاب لکھتا تھا یا چھوٹا موٹا مدرسہ چلاتا تھا، اگر کچھ لوگوں کے بیچ تبلیغ کا کام انجام دیتا تھا تو وہ یہ سوچتا تھا کہ اگر جدوجہد میں مصروف ہو جائے گا تو یہ کام بند ہو جائيں گے! اتنی عظیم جدوجہد کو چھوڑ دیتا تھا تاکہ ان کاموں کو پورا کر سکے! یعنی ضروری اور اہم کام کی شناخت میں غلطی کرتا تھا۔

حسین ابن علی علیہ السلام نے اپنے خطبوں سے یہ سمجھا دیا کہ عالم اسلام کے لئے ان حالات میں ظالم و جابر طافت کے خلاف جدوجہد اور شیطانی طاقتوں سے انسانوں کو نجات دلانے کے لئے قیام سب سے زیادہ ضروری کام ہے۔ ظاہر ہے حسین ابن علی علیہ السلام اگر مدینے میں ہی رہ جاتے اور عوام کے درمیان احکام اسلام اور علوم اہل بیت پھیلاتے تو کچھ لوگوں کی تربیت ہو جاتی، لیکن جب آپ اپنے مشن پر عراق کی سمت بڑھے، تو یہ سارے کام رہ گئے، وہ لوگوں کو نماز کی تعلیم نہيں دے سکتے تھے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث لوگوں کے سامنے بیان نہیں ہو سکتی تھیں، درس گاہ اہل بیت بند ہو جاتی اور مدینہ کے یتیموں اور بے نواؤں کی امداد بھی ممکن نہیں ہوتی۔

یہ سب ایسے کام تھے، جنہيں آپ انجام دیتے تھے، لیکن آپ نے ان تمام کاموں کو ایک زيادہ اہم کام پر قربان کر دیا۔ یہاں تک کہ حج جیسے فریضے کو بھی جس کے بارے میں تمام مبلغین بات کرتے ہيں، اس فریضے پر قربان کر دیا، وہ فریضہ کیا تھا۔؟ جیسا کہ آپ نے فرمایا اس نظام کے خلاف جدوجہد جو بدعنوانی کی کی جڑ تھا۔ آپ نے فرمایا : «اُریدُ اَن اَمُرَ بالْمَعْروف وَاَنْهى‏ عَنِ الْمُنْكَر وَ اَسیرَ بِسیرة جَدّى.» میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور اپنے جد کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں اسی طرح آپ نے ایک دوسرے خطبے میں فرمایا کہ «اَیهاالنّاس! اِنَّ رَسول‏اللَّه، صلّى‏اللَّه‏علیه‏وآله، قال مَنْ رأى‏ سُلطاناً جائراً مُسْتَحِلّاً لِحُرَمِ اللَّه، ناكِثاً لِعَهْداللَّه [تا آخر] فَلَمْ یُغَیِّر عَلَیْهِ بِفِعْلٍ و َلا قَولٍ كانَ حَقاً عَلَى‏اللَّه اَنْ یَدخل یُدْخِلَهُ مُدْخِلَه.» یعنی ظالم و جابر سلطان کے مقابلے میں تبدیلی، یعنی وہ طاقت بدعنوانی پھیلاتی ہے اور جو نظام انسانوں کو تباہی اور مادی و معنوی فنا کی سمت لے جاتی ہے۔

یہ حسین ابن علی علیہ السلام کی تحریک کی وجہ ہے، البتہ اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی مصداق سمجھا گیا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضے کی طرف رجحان میں ان نکتوں پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔ یہی وجہ ہے آپ زیادہ اہم فریضے کے لئے آگے بڑھتے ہيں اور دوسرے فرائض کو بھلے ہی وہ بھی اہم ہوں، اس زیادہ اہم فریضے پر قربان کر دیا۔ آج یہ واضح ہونا چاہئے کہ اہم کام کیا ہے۔؟ ہر زمانے میں اسلامی سماج کے لئے ایک تحریک معین ہے، ایک دشمن، دشمن کا ایک محاذ عالم اسلام اور مسلمانوں کے لئے خطرے پیدا کرتا ہے، اسے پہچاننا چاہئے، اگر ہم دشمن کی شناخت میں غلطی کریں گے، جس سمت سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہچ رہا ہے اور ان پر حملہ ہو رہا ہے، اگر اس کی شناخت میں ہم غلطی کر رہے ہيں تو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوں گے اور بڑے بڑے مواقع ہاتھ سے نکل جائيں گے۔