گھریلو اختلافات کے عوامل اور علاج

( فدا حسین حلیمی(بلتستانی)

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے اور یہ کہنا بےجابھی نہیں کہ انساں فطری طور پر اجتماعی اورمعاشرتی زندگی کرنے کی طرف میل رکھتا ہے اوریہ اس لیے بھی ہے کہ اسی راہ سے ہی ہر فرد کی مادی اور معنوی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں ؛کیونکہ انسان کی بعض مادی اور معنوی ضروریات ایسی ہوتی ہیں جو جب تک معاشرتی اور اجتماعی صورت میں زندگی نہ گزارے ؛اس وقت تک اسکی یہ ضروریات پوری نہیں ہوتی ؛ لہذا ہمیں بھی اجتماعی زندگی کی اہمیت اور قدروقیمت انہی مادی اور معنوی ضروریات میں ڈھونڈنی ہوگی ؛ چنانچہ ان ضرورتوں کو معلوم کرنے کے لیے ہمیں دوسروں کی طرف محتاج ہونے کو زندگی کے مختلف مراحل میں ہم دیکھ سکتے ہیں ۔
پہلا مرحلہ: انسان اس عالم ہستی میں قدم رکھنے کے لیے دوسرں کا محتاج ہے جیسا کہ بچہ کی ضرورت ماں باپ کی طرف ،جب تک ماں باپ کا تصور نہ ہو اس وقت تک کسی بچے کا اس دنیا میں قدم رکھنا قانوں طبیعت کے خلاف ہے ۔
دوسرا مرحلہ : اسی طرح دنیا میں آنے کے بعد زندگی کے مختلف مراحل میں دوسروں کا محتاج ہوتا ؛جیسا کہ بچے کی نشوونما؛ نگہداری اور پرورش کے لیے وہ ڈائرکٹ اپنی ماں کا محتاج ہوتا ہے یا تو بلواسطہ ؛تحصیل علم ؛ کمالات او رمعرفت حاصل کرنے کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے ۔

پس انساں جب اپنے اصل وجود میں دوسروں کا محتاج اور ضرورت مند ہے تو پھر ان ضرورتوں اور حاجتوں کے تقاضوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔تاہم بسا اوقات ایسے عوامل وجود رکھتے ہیں جنکی وجہ سے اس اجتماعی زندگی سے نہ صرف وہ ضروریات پوری نہیں ہوتی؛ بلکہ الٹا اسے نقصان اٹھانا بھی پڑتا ہے اور رفتہ رفتہ اجتماعی زندگی پاش پاش ہو کر رہ جاتی ہے اور ایک معاشرے کے اندر یا ایک فیملی کی شکل میں ساتھ زندگی کرنے والوں کی درمیان دشمنی اور ناچاکی پیدا ہوجاتی ہے ۔
ہاں ایک نکتے کی طرف متوجہ رہنا انتہائی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جب اجتماعی اور سماجی زندگی کی بات ہوتی ہے تو اس اجتماعی زندگی میں فیملی اوگھریلو زندگی کی اہمیت سب سے ذیادہ ہے اور خانوادگی محیط میں ہی انسان کے اکثر مادی اور معنوی ضروریات پوری ہو جاتی ہے لہذا اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں فیملی زندگی کی اہمیت بہت ہی نمایاں ہے ۔چنانچہ اس اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہاں بطور مثال گھریلو زندگی کو سامنے رہ کر اعضائے خانوادہ کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والی اور ان اعضاء کے درمیان باہمی الفت اور یک جھتی کو نقصان پہنچانے والے بعض عوامل کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ان عوامل کی ریشہ کنی اور ان اختلافات کو ختم کرنے یا کم کرنےوالی راہوں کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
فیملی زندگی میں اختلافات کے موجب عوامل ۔

١: سوء ظن اور بد گمانی ۔
دوسروں کی نسبت سوء ظن (منفی سوچ) اور بد گمانی ان اخلاقی رذائل میں سے شمار ہوتے ہیں جو فیملی؛ ہمسائیگی ؛اور دیگر اجتماعی اور سماجی مناسبات اور ارتباطات پر منفی اثر چھوڑتےہیں اور ان باہمی ارتباطات کو مختل یا سست کردیتے ہیں اور بعض دیگر گناہوں کے انجام پانے کا زمینہ فراہم کر دیتے ہیں ۔ بد گمانی سے جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے وہ فیملی اور معاشرے کے افراد کے درمیان سے روح اعتماد اور اطمینان کا اٹھ جانا ہے ،یوں معاشرتی زندگی میں بد اعتمادی پھیل جاتی ہے جو رفتہ رفتہ رشتہ داروں کے درمیاں خونی اور سببی رشتوں کے ٹوٹ جانے کا سبب بنتی ہے ۔اس لئے مکتب اسلام ایمان لانے والوں کو اس بری اخلاقی صفت سے بچ کے رہنے اور اسکے مقابلے میں دوسروں پراعتماد کرنے اور حسن ظن رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہوتا ہے ۔( یَأَیہا الَّذِینَ ء َامَنُواْ اجْتَنِبُواْ کَثِیرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ ثمٌ ) ۔
اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو، بعض بدگمانیاں یقیناً گناہ ہیں۔
اسی طرح معصومین کے ارشادات میں بھی انسان کے اپنے بارے میں سوء ظن رکھنے جبکہ دوسروں کے بارے میں حسن ظن اور مثبت سوچ رکھنے کی تاکید کی ہے ۔چنانچہ اسی بارے میں رسول اکرم صلعم ؐسے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں ۔ بد گمانی سے بچ کے رہو کیونکہ بد گمانی اور سوء ظن بد ترین قسم کا جھوٹ ہے ( بحار الانوار: ج 72: ص 195 )
اسی طرح بد گمانی کی مذمت میں امیر المؤمنین ؑ فرماتے ہیں :پروردگار عالم کسی مومن کو ایمان لانے کے بعد عذاب نہیں کرتا سوائے بدگمانی اور بد خلقی کے ۔
اسی طرح روایات میں بد گمانی کے منفی اثرات جو معاشرتی زندگی پر مترتب ہوتے ہیں انکی طرف بھی اشارہ ہوا ہے اور انہی اثرات میں سے بعض یوں بیان ہوئے ہیں
1: عبادات کا فاسد ہوجانا ۔2:گناہوں کا بوجھ سنگین ہونا ۔3: معاشرہ؛ صلح وصفائی کے فقدان کا شکار ہونا۔
چنانچہ امام سجاد صحیفہ سجادیہ میں اس خطرناک بیماری سے نجات پانے کی دعا کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ۔ومن ظنۃ اہل الصالح الثقۃ ۔پروردگارا میرے بارے میں صالح افراد کی بد گمانیوں کو اطمینان اور اعتمادمیں تبدیل فرما !لہذا اسی خطرناک بیماری کا توڑ ایک دوسرے کے اوپر حسن ظن رکھنا اور جتنا بھی ہو سکے دوسروں کے نامناسب کردار کو خیر اور اچھائی پر حمل کرنا ہے اگر انسان اپنے اندردوسروں کو مثبت نگاہ سے دیکھنے کی عادت ڈالے تو خود بخوداسے بہت ساری بیماریوں سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا ۔
٢: حسد
اخلاقی برائیوں میں سے ایک اور انتہائی خطرناک بیماری جو خود بہت ساری دیگر اخلاقی بیماریوں کو جنم دیتی ہے؛ اور اسی وجہ سے قرآن کریم نے قتل جیسے نا قابل معافی جرم کے نفسیاتی اسباب میں سے ایک سبب حسد کو قرار دیا،جس کی وجہ سے روئے زمین پر سب سے پہلا قتل؛ہابیل کے ہاتھوں قابیل کا واقع ہوا جیسا کہ قرآن کریم سورۃ مائدہ میں اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے ۔ وَ اتْلُ عَلَیہمْ نَبَأَ ابْنیَْ ء َادَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِہِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الاَْخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّہ مِنَ الْمُتَّقِین(غرر الحکم :ج 2:ص 857۔)
ترجمہ: اور آپ انہیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہا: میں تجھے ضرور قتل کروں گا، (پہلے نے)کہا: اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے۔ ایسے ہی حضرت یعقوب پیغمبر ؑ کے دیگر بیٹوں نے حسد کی بنا پر حضرت یوسف ؑ کو چاہ کنعان میں پھینک دیا:(اقْتُلُواْ یُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوہ أَرْضًا یخَْلُ لَکُمْ وَجْہ أَبِیکُمْ وَ تَکُونُواْ مِن بَعْدِہ قَوْمًا صَالِحِین)۔
( سورہ یوسف: 8)۔
تم لوگ یوسف کو قتل کردو یا کسی زمین میں پھینک دو تو باپ کا رخ تمہاری ہی طرف ہوجائے گا اور تم سب ان کے بعد صالح قوم بن جاؤ گے۔
اور جب یہ روحی بیماری فیملی اعضاء کے درمیان پھیل جائے اور خدا نخواستہ بھائی بھائی سے یا بہن بھائی سے یا ساس بہو سے تو پھر اس گھریلو اور فیملی زندگی میں افراد کے درمیان محبت؛ صمیمیت ؛اعتماد اور ہمدلی جیسی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور آہستہ آہستہ باہمی زندگی پاش پاش ہو کے رہ جاتی ہے ۔ اسلئے بعض علماء فرماتے ہیں حسد ایک فعّال اور محرک احساس ہے جو انسان کی حرکات سکنات اور رفتاروکردار اور تصمیم پر بہت بڑا اثر چھوڑتا ہے اور اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے اکثر اختلافات ؛لڑائی جھگڑے کی بنیادی جڑ حسد ہے یہی وجہ ہے روایات میں حسد کوکفر سے تعبیر کیا ہے ۔

حسد کی بعض نشانیاں ۔
حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوے حسد کی نشانیاں کچھ یوں بیاں کرتے ہیں ۔
١: حسد کرنے والا جس سے حسد کرتا ہے اسکی غیبت کرتا ہے ۔
٢: اسکے حضورمیں اسکی چاپلوسی کرتا ہے ۔
٣: وہ جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اسکی مذمت اور سرزنش کرتا ہے ۔
حسد کے بعض منفی آثار روایات میں۔
١:حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو (4 غرر الحکم ج:1 ص: 266)
چھٹے امامؑ فرماتے ہیں :حسد ایمان کو تباہ کردیتا ہے ۔ حسد انسان کو غرور ؛ تکبر ؛ فخر جیسی بیماری میں مبتلا کردیتا ہے ۔اور شیطان ملعون نے حسد کی بنا پر آدم کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور حکم الھی پر عمل کرنے سے بغاوت کی ۔(5 ۔کافی ج 2: ص 307۔)
لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس خطرناک بیماری کی نشانیوں کے ذریعے نشاندھی کرنے کی کوشش کریں تاکہ اسے بچ کے رہ سکیں ۔
٣: استھزا اور تمسخر ۔
معاشرتی زندگی کو پاش پاش کرنے اور اعضائے خانوادہ کے درمیاں باہمی الفت ؛محبت کو ختم کرکے انھیں ایک دوسرے سے دور کرنے کے اسباب میں سے ایک اور اہم سبب ایک دوسرے کا تمسخراور مذاق اڑانا ہے ؛بعض لوگ مسخرہ کرنے اور مذاق اڑانے کے ذریعے دوسروں کی شخصیت کونیچا دکھانے اور انکی اجتماعی موقعیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں یہ لوگ دیگر افراد جنہیں اپنا ہم سلیقہ نہیں پاتے یا انہیں انکے اپنے مادی مفاد اور زندگی کے دیگر امور میں مزاحم دیکھتے ہیں، استھزا اور انکی شخصیت کی تحقیر کرنے کے ذریعے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اس امید کےساتھ تاکہ انکا بھی معاشرتی اور فیملی زندگی میں کچھ نہ کچھ مقام بن جائے ۔بہرحال کسی بھی معاشرے اور فیملی کے متعدد افراد اور عضوہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا اپنا مقام اور سماجی موقعیت ہوتی ہے اور ہونا یہ چاہیے کہ اس مقام اور موقعیت سے معاشرتی اور فیملی محیط کوگرم رکھنے اور اسے مذید مظبوط اور مستحکم کرنے میں استفادہ ہونا چاہیے لیکن اسکی شخصیت کشی اور تحقیر وتمسخر سے نہ صرف اسکی شخصیت سے درست استفادہ ہوتا ہے بلکہ الٹا نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ اسکی روح پر برا اثر پڑتا ہے اور اسکے اندر روح انتقام اُجاگر ہو جاتی ہے اور اپنے مد مقابل سے انتقام لینے اور اسکو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتا ہے اور ایسے غم واندہ اس پر طاری ہوتا ہے جسے اسکو نفسیاتی اور روانی بیماری میں مبتلا کردیتا ہے ۔اور نہ صرف معاشرے میں اسکا وقار اور شخصیت خدشہ دار ہو جاتی ہے بلکہ فردی زندگی میں بھی بری طرح شکست کھا جاتا ہے ۔چنانچہ قرآن کریم نے ان منفی اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف مقامات پر اس بری صفت سے پرہیز کرنے کا حکم دیتا ہے اور اسے منافقین اور کافروں کے اوصاف میں سے قرار دیا ہے لہذا سورۃ حجرات میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے ۔۔ یَأَیہا الَّذِینَ ء َامَنُواْ لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسیَ أَن یَکُونُواْ خَیرًْا مِّنہمْ وَ لَا نِسَاء ٌ مِّن نِّسَاء ٍ عَسیَ أَن یَکُنَّ خَیرًْا مِّنہنَّ وَ لَا تَلْمِزُواْ أَنفُسَکمُْ وَ لَا تَنَابَزُواْ بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْایمَانِ وَ مَن لَّمْ یَتُبْ فَأُوْلَئکَ ہمُ الظَّالِمُو(لقمان/٨1)۔
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگایا کرو اور ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کیا کرو، ایمان لانے کے بعد برا نام لینا نامناسب ہے اور جو لوگ باز نہیں آتے پس وہی لوگ ظالم ہیں۔ پس اس آیہ مبارکہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں ملتا کی وہ کسی مومن کا استہزا اور تمسخر کرے ۔ بلکہ مؤمن کو چاہیے کہ وہ ہمشہ متواضع رہے اور اپنے آپ کو دوسرے مؤمنین کے سامنے ذلیل اورپست دیکھے اور یہ کہنا کہ مؤمن عزیز ہے مؤمن کی عزت کرنی چاہے اسکا مطلب یہ ہے کہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ مؤمن کی عزت اور آبرو کا خیال رکھے اور اسکی نظر میں کتنے ہی گرا ہوا گھٹیا شخص کیوں ہی نہ ہوپھر بھی اپنے کو اسے اچھا اور بڑا نہ سمجھے ۔اسی لئے امام سجاد دعائے مکارم اخلاق میں اس طرح دعا فرماتے ہیں ولا ترفعنی فی الناس درجہ ـــــ ( صحیفہ سجادیۃ/دعاء مکارم الاخلاق/)۔
پروردگارا ،مجھے ظاہری طور پر بڑائی نہ دے مگر یہ کہ مجھ کو باطنی طور پر اپنے نفس کے نزدیک اتنا ہی پست کر دے خود سازی اور تربیت نفس کی لیے بہتریں راہ بھی یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے آپ کو حقیر ؛ناقص اور کمتر دیکھے۔
بے اعتنائی اور منہ بنا کر پیش آنا ـ ۔
گفتگو میں دوسروں کے ساتھ بے اعتنائی اور منہ بنا کی پیش آنا معاشرتی زندگی پر برباد کن اور ویران کن اثر چھوڑٹاہے ایک طرف معاشرتی اور فیملی اعضاء کے درمیان انس محبت اور ہمدلی کو ختم کردیتا ہے اورانکی درمیان خواہ مخواہ فاصلہ ڈ ال دیتا ہے تو دوسری طرف ایک دوسرے کی نسبت احساس مسؤلیت اور ہم دردی کوکمزور کردیتا ہے اور یہ رویہ آہستہ آہستہ دشمنی اور نا چاکی مین تبدیل ہو جاتا ہے قرآن کریم نے سورہ عبس میں ایک شخص کے کسی دوسرے شخص کے ساتھ بے اعتنائی کے ساتھ پیش آنے اور توجہ نہ دینے کی سخت مذمت کی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہوتا ہے عبس و تولی ان جائہ الاعمی ۔۔۔۔۔ (عبس/١٤)
اسی طرح سورہ لقمان میں بھی پروردگار عالم حضرت لقمان حکیم کی زبانی اس نصیحت کو نقل کرتا ہے جس میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوے اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛ اور اس بری صفت کو دیگر اخلاقی برائیوں خودپسندی ؛تکبر ؛ فخرفروشی اور تندخوئی کے ساتھ ذکر کیا ہے لہذا مومن کوچاہیے کہ وہ معاشرتی اور فیملی زندگی میں اپنی روح کو اس بری صفت سے پاک رکھیں اور ہمیشہ نرم خوئی نرم مزاجی محبت اورخندہ پیشانی کے ساتہ پیش آئیں جو پیغمبر اکرم کی صفات میں سے ہے(آل عمران/١٥٩)۔
یہ ہیں وہ بعض اسباب جن سے معاشرتی اور فیملی زندگی میں اختلاف پھیل جاتا ہے ۔
باہمی اختلافات کو دور کرنے کاطریقہ ۔
اب ہم ایسے اسباب اور راستوں کے بیان کی کوشش کریں گے کہ جنکے ذریعے ان اختلافات کی ریشہ کنی ہونے کے ساتھ ساتھ ان اختلافات کی وجہ سے پیش آنے والی ناچاکی اور دشمنی کو دوستی اور ہمدلی میں چینج کر سکیں؛ انہی اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المومنین علی فرماتے ہین تین چیزین افراد کے درمیان دوستی اور محبت کے مضبوط ہونے کا سبب بنتے ہیں وہ تین ہیں( ١): تواضع اور فروتنی (2) : مدارا اور نیک برتاؤ (۳) : حسن خلق
(غرر الحکم /ج 2/ 1506 /ح 4684 )۔

١: تقویٰ اور پرہیزگاری
تقویٰ سے مراد یہ کہ انسان اپنے نفس کے اندر ایک ایسی حالت پیدا کرے جسکی وجہ سے انسان خود ساختہ طور پر اپنے آپ کو ہر حالت میں گناہوں سے بچا سکے تقوی کا حاصل کرنا عبادت ہے بلکہ فلسفہ عبادت بدنی اور مالی اور اخلاقی حصول تقوی ہے لہذا تمام مومنین کی ذمہ داری ہے کہ ایک دوسرے کو میٹھی زبان اور اچھے اخلاق کے ذریعے تقوی کی طرف دعوت دے چنانچہ تقوی جب معاشرتی اور ایک گھریلو زندگی میں آجائے توپھراس معاشرے اور فیملی کو آپس میں متحد ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی اور معشرتی زندگی میں پیش آنے والےاکثراختلافات اور برائیاں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں چنانچہ صادق آل محمد فرماتے ہیں: بہتریں مومن بھائی وہ ہے جو تمہیں سیدھا راستے کی طرف ہدایت کرے اور لباس تقوی سے تمھیں آراستہ کرے اورتمھیں خواہشات کی پیروی سے بچا کے رکّھے ۔ (غرر الحکم /ج1 /ص32 /ح 5029)

٢: تواضع اور فروتنی ۔
لوگوں کے درمیان مقام ومنزلت کا پانا ایک خدا داد نعمت ہے لیکن بسا اوقات یہی نعمت فخر فروشی؛ تکبر؛ غرور جیسی خطرناک بیماریوں کا انسان نفس کے اندر وجود میں آنے کا سبب بنتی ہے اور انسان بجائے اس خداداد نعمت سے درست استفادہ کرے یہی اسکے ہلاک ہونے کا موجب بنتی ہے مگر یہ کہ خدا اس کو یہ توفیق دے کہ وہ اپنی حقیقت سے آگاہ ہوجائے کہ خدا کے سامنے اسکی کوئی حیثیت نہیں ہے ؛جو کچھ میرے پاس ہے وہ اسنے عطا کیا ہے اور میں ایک لحظہ کے لیے بھی بے نیاز نہیں ہوسکتا ؛وہ ذات غنی مطلق ہے جبکہ میں نادار اور فقیر اور جب انسان اس نکتے کی طرف متوجہ ہو جائے تو پھر وہ اپنی جگہ خاضع ہو جاتا ہے اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے سامنے تواضع اور انکساری کے ساتھ پیش آتا ہے اور خود بخود غرور ؛تکبر اور فخر فروشی جیسی خطرناک بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ مکتب اسلام میں تواضع اور انکساری کی اہمیت اتنی زیادہ اسلئے ہے چونکہ ان صفات حمیدہ کے پیچھے انسان کا درست نگاہ اور سوچ کار فرما ہوتی ہے اسی لے پیغمبر اکرم ؐفرماتے ہین: ـ قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے ذیادہ نزدیک شخص وہ ہوگا جسکا اخلاق سب سے اچھا اور تواضع میں سب سے ذیادہ فروتن اورمتواضع ہو اور مجھ سے دور ترین شخص وہ ہو گا جو سب سے ذیادہ مغروراورمتکبر ہو (نہج الفصاحہ /ص 483/ ح 228)
اور یہ نکتہ ذہن مین رکھنا چاہے کہ تواضع کی اس وقت اہمیت ذیادہ ہو جاتی ہے کہ جب وہ شخص کسی بلند اجتماعی مقام ومنزلت کا مالک ہو چنانچہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں : تم میں سے برترین لوگ وہ ہیں جوبزرگی اور بڑائی کے وقت فروتنی اور انکساری کے ساتھ پیش آئیں(نہج الفصاحہ /ص 233 /ح 119)
جیسا کہ حضرت موسی ؑکے بارے میں یہ قصہ معروف ہے کہ ایک دفعہ پروردگار عالم کی جانب سے خطاب آتا ہے اے موسی! اس دفعہ کوہ طور پر میری درگاہ میں آنے سے پہلے اپنے ساتھ اپنے سے پست کسی مخلوق کو لے کرآنا ہے حضرت موسی ؑامر الہی کی اطاعت کرتے ہوے اپنے سے پست مخلوق کی تلاش میں نکلتے ہیں سب سے پہلے اپنے ہم نوع انسانوں کے درمیان ڈھونڈتے ہیں لیکن انسانوں کے درمیان کوئی نہیں ملتا کیونکہ یہ ممکن تھا کہ در عین حال وہ شخص جو حضرت موسیؑ کی نگاہ میں فاسق؛ گنہگار اور ابتر کیوں نہ ہو لیکن خدا کی نظر میں ان سے زیادہ عزیز ہو چنانچہ حضرت موسی ؑ انسانوں کو چھوڑ کر حیوانات کے درمیان گئےڈھونڈتے ڈھونڈتے کسی متعفن کتے کو پایا اسی کو ساتھ لے جانے کا قصد کیا پھر سوچا یہ حیوان جو میری نگاہ میں کتنا ہی پست کیوں نہ ہو لیکن آخر کار حیوان ہے حیوان گناہ سے پاک ہوتا ہے جسکے انسان مرتکب ہونے کی وجہ سے حیوان سے بھی ذیادہ پست ہو جاتا ہے چانچہ حضرت موسیؑ خالی ہاتھ واپس لوٹ آے اور عرض کیا پروردگار خالی ہاتھ تیری درگاہ میں واپس آیا ہوں اسلئے کہ کسی مخلوق کو اپنے سے پست ترنہیں پایا !خطاب آیا اے موسی! اگر تم اسی متعفن کتے کو لے کے آتے تو آج تم سے منصب نبوت ہمشہ کے لیے چھین جاتا۔
اس داستان سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ دوسرے انسان کے ساتھ خصوصاً کسی مومن کے ساتھ چاہے وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو تواضع اور فروتنی کے ساتھ پیش آئے اور ہمشہ اپنے کو دوسروں سے پست دیکھے۔

٣: مدارا اور خندہ پیشانی سے پیش آنا ـ
ائمہ معصومیں ؑکے نورانی ارشادات کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں مدارا انتہائی پسندیدہ صفت ہے کہ جسکا فرد مومن متخلق اور دارا ہونا چاہیے؛ مدارا سے مراد گفتگوکے دوران نرم مزاجی اور معاشرتی زندگی میں اورخصوصاً دوسروں سے ملاقات کے دوران خندہ پیشانی اور گشادہ روئی کے ساتھ پیش آنا ہے امیر المومنین علیؑ فرماتے ہیں: لوگون کے ساتھ مدارا کرو (نرم مزاجی سے پیش آؤ)تا کہ انکے بھائی چارگی سے لطف اندوز ہو جاؤ اور خندہ پیشانی کےساتھ پیش آؤ تاکہ دلوں کا کینہ مٹ جائے (غرر الحکم/ج1 ص/455/ح 5129 )
اسی طرح پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں: عاقل ترین شخص وہ ہے جو زیادہ سے زیادہ مدارا کرے اور ذلیل ترین شخص وہ ہے جو لوگوں کی تحقیر اور توہین کرے (بحار ج 72/ص 52/ح7503 )
ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے حقیقت میں دوسروں کے ساتھ مدارا کرنا اور رفتار میں خندہ پیشانی سے پیش آنا انسان کی اپنی شخصیت کے احترام اور اکرام کرنے کے مترادف ہے اسلئےامام سجاد دعا مکارم اخلاق میں فرماتے ہیں: ومن حب المدارین تصحیحی الثقہ ـ (دعا مکارم الاخلاق لامام سجاد )

٤: نیک برتاؤ
پہلے بھی عرض ہوا معاشرتی اور اجتماعی زندگی سے مراد معاشرے میں مختلف افراد ؛اشخاص یا گروپوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور زنگی گزارنا ہے یعنی فیملی معاشرت؛ ہمسائیگی معاشرت ؛علمی معاشرت ؛کام کاج میں معاشرت اور دیگر قسم کے معاشرتوں کا نام ہے اوراس معاشرتی زندگی میں خود بخود ایک مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان تمام مذکورہ موارد میں اپنے مد مقابل کی تحقیر؛ اہانت اور مذاق اڑانے سے سخت پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ انکے ساتھ نیک برتاؤ کرے ؛ ورنہ وہ شخص سخت گناہ کا مرتکب ھوجاتا ہےاور عذاب نازل ہوجاتا ہے چنانچہ اس بارےمیں چھٹے امام ؑ فرماتے ہیں ـ جبرئیل آنحضرت ؐ کی خدمت میں حاضرہونے کے بعد عرض کرتے ہیں اے اللہ کے رسول ؐ! ارشاد خداوندی ہے کوئی شخص کسی مومن کی اہانت کرے تو اسنے تیر وتلوار کے ساتھ میرا مقابلہ کیا ہے (کافی /ج1 /ص105 )
یا اچھے برتاؤ کے بارے میں فرماتے ہیں: لوگوں کے ساتھ گھل مل کے رہو انکے جلسے جلوس میں شرکت کرو کاموں میں ہاتھ بٹاؤ عزلت گزینی سے بچ کے رہو معاشرتی زندگی میں حکم خدا پر عمل کرو اور انکے ساتھ نیک برتاؤ کرو (احدیث /ج3 /ص 229 )

٥: خوش خلقی ـ
خوش خلقی کے بارے میں چھٹے امام فرماتے ہیں: پروردگار عالم نے کسی نبی کو اس طرح وحی کی کہ خوش خلقی گناہوں کواسطرح کھا جاتی ہے جس طر ح سورج برف کو پگھلا دیتا ہے (کافی /ج2/ ص 118 )
اسی طرح حدیث میں آیا ہے ـ ایمان کے اعتبار سے کامل ترین شخص وہ ہے جو لوگوں میں سب سے ذیادہ خوش خلق ہو(مصدر سابق ص 240 )
اور خوش خلقی کیا ہے اس بارے میں صادق آل محمدؑ سے سوال ہوتا ہے تو آپ یوں جواب دیتے ہیں :ـ ملتے وقت تواضع اور فروتنی ، گفتگو میں نرم مزاجی اور خندہ پیشانی سے پیش آنا ہے(مصدر سابق ص 240)
یہ ہے اجتماعی زندگی میں خصوصاً نمونے کی طور پر فیملی زندگی میں باہمی اختلافات کے بعض اسباب اور اسکے درمیان کے بعض عوامل اورراستے۔
آخر میں امید ہے کہ پروردگار عالم ہم سب کو فردی اورمعاشرتی زندگی میں ان اصولوں کو اپنانے اور خود سازی اور نفس کو تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔