حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

(تحریر،مصطفی علی فخری)

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ، رسول مقبول حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتویں جانشین اور ہمارے ساتویں امام ہیں ۔سلسلہ عصمت کی نویں کڑی ہیں.

آپ کے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور مادر گرامی حضرت بی بی حمیدہ خاتون ہیں جو مکتب جعفری کے تربیت یافتہ ہونے کے ناطے طہارت باطنی اور پاکیزگی روح کے اعلا درجات تک پہنچ گئی تھیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا : «حمیدۃ مصفاۃ من الادناس کسبیکۃ الذہب ما زالت الاملاک تحرسہا حتی ادیت الی کرامۃ من اللہ لی والحجۃ من بعدی » . [1]

حمیدہ خالص سونے کی مانند آلودگیوں سے پاک ہیں ،مجھ تک پہنچنے تک فرشتے ہمیشہ ان کی حفاظت کرتے تھے، یہ اللہ کاکرم ہے مجھ پر اور میرے بعد والی حجت پر .

امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ خاتون کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: آپ دنیا میں حمیدہ اور آخرت میں محمودہ ہیں ۔

ولادت با سعادت :

ابوبصیر کہتا ہے کہ ہم حضرت امام صادق علیہ السلام کے ساتھ حج پہ جا رہے تھے جب ابواء کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ہمارے لئے ناشتے کا اہتمام کیا ، ہم ناشتہ کرنے میں مصروف تھے اتنے میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی زوجہ کی طرف سے ایک شخص خبر لے کرآیا کہ ان کی حالت خراب ہو گئی ہے اور درد زہ شروع ہو چکا ہے چونکہ آپ نے فرمایا تھا جلدی اس بارے میں خبر دوں اس لئے حاضر ہوا ہوں.آپ علیہ السلام اسی وقت کھڑے ہو گئے اور اس شخص کے ساتھ زوجہ کے پاس چلے گئے تھوڑی دیر بعد واپس آگئے آپ کو شاد مان دیکھ کر ہم نے مبارکباد کہا اور زوجہ کی صحت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : اللہ تعالی نے حمیدہ کو سلامتی عطا کی ہے اور مجھے ایک بیٹا دیا ہے جو مخلوقات میں سب سے بہتر ہے، میری زوجہ نے اس بچہ کے بارے میں ایک مطلب مجھے بیان کیا اور گمان کررہی تھی کہ مجھے معلوم نہیں ہے لیکن میں اس بارے میں ان سے زیادہ جانتا ہوں.

میں (ابو بصیر) نے اس مطلب کے بارے میں پوچھا تو فرمایا :” حمیدہ کہہ رہی تھی کہ جب یہ بچہ پیدا ہوا تو ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور سر آسمان کی طرف بلند کیا ” تو میں نے حمیدہ سے کہا یہ رسول خدا (ص) اور آپ کے بعد والے وصی کی نشانی ہے .[2]

اس طرح حضرت ابو الحسن موسی کاظم علیہ السلام ہفتم صفر المظفر سنہ 128ھ (بمطابق ۱۰نومبر ۷۴۵ء) بروز ہفتہ سر زمین ابواء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ) میں پیدا ہوئے .[3] ولادت کے فوراً بعد ہی آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ٹیک کر آسمان کی طرف رخ کرکے کلمہ شہادتین زبان پر جاری فرمایا۔ یہ عمل آپ نے بالکل اسی طرح انجام دیا جس طرح آپ (ع) کے جد بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انجام دیا تھا۔آپ کے داہنے بازو پر یہ کلمہ ” تمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا “ لکھا ہوا تھا۔

حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے القاب :

آپ کا نام موسی کنیت :ابو الحسن اول، ابو الحسن ماضی، ابو ابراہیم، ابو علی، ابو اسماعیل اورآپ کے القاب :کاظم، عبدصالح، نفس زکیہ، زین المجتہدین، وفی، صابر، امین اور زاہر ہے. ابن شہرآشوب کہتے ہیں :چونکہ آپ اخلاق کریمہ کے ساتھ چمک گئے اس لئے «زاہر» اور چونکہ غصوں کو پی لیتے تھے اس لئے «کاظم » مشہور ہو گئے .[4]

ولادت سے امامت تک :

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے اجداد طاہرین کی مانند ولادت کے وقت سے ہی خاندان اہلبیت (علیہم السلام ) میں ایک خورشید تابندہ کی طرح چمک رہے تھے،بچپن سے ہی آثار امامت آپ میں نمایاں تھے، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے آپ کی ولادت کے بعد شیعوں کو حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کے متعلق آگاہ فرمایا اور اس طرح فرمایا : «فعلقوا بابنی ہذا المولود… فہو واللہ صاحبکم من بعدی ».میرے اس فرزند کے ساتھ ہو جاؤ…اللہ کی قسم یہ میرے بعد تمہارے صاحب (امام )ہیں. [5]

یعقوب بن سراج کہتا ہے کہ "ایک مرتبہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس گیا تو دیکھا کہ آپ اپنے فرزند موسی کے گہوارے کے پاس کھڑے ہیں اور آپ کا فرزند گہوارہ میں ہے، امام علیہ السلام نے تھوڑی دیر ان کے ساتھ راز وگفتگوکی اور گفتگو تمام ہونے کے بعد میں قریب گیا تو مجھ سے فرمایا : اپنے مولا کے پاس جا کر سلام کرو . میں نےگہوارہ کے نزدیک جا کر سلام کیا تو موسی بن جعفر علیہ السلام نے جبکہ گہوارے میں تھا اچھےانداز میں میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا ” جا کر اپنی بیٹی کیلئے کل جو نام (حمیرا )انتخاب کیا ہےتبدیل کرو پھر میرے پاس آجاؤ چونکہ اللہ تعالی ایسا نام پسند نہیں کرتا "تو میں نے جاکر ان کا نام تبدیل کر دیا .[6]

حضرت امام موسی کاظم اہلسنت علماء کی نظر میں:

إبن حجر الہیتمی، الصواعق المحرقۃ میں کہتا ہے: امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے لوگوں میں بہت بڑے عابد تھے [7] أبو الفرج کہتا ہے : ان کی عبادت ان کی کوشش ان کی محنت کی وجہ سے ان کو (عبد صالح ) کہا جاتا تھا ۔ [8] ذھبی لکھتا ہے : « قد کان موسی من أجواد الحکماء و من العباد الأتقیاء» (حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سخاوت مند حکماء اور خدا کے پرہیزگار بندوں میں سے تھے) ۔ [9] تاریخ یعقوبی میں آیا ہے :« کان موسی بن جعفر من اشد الناس عبادۃ »

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے عابد ترین شخص تھے ۔[10] جمال الدین محمد بن طلحہ شافعی (مطالب السوال) کتاب میں اس طرح لکھتے ہیں : ان کی عبادت مشہور اور خدا کی اطاعت و عبادت میں محتاط اور ملازم تھے ۔ شب کو سجدے میں اور صبح کو قیام کی صورت مین گزارتے تھے، روز کو صدقہ اور روزے سے تمام کرتے تھے ۔ [11] شفیق بلخی کہتا ہے : سنہ ۱۴۹ ھ قمری میں حج کے انجام کے لئے نکلا اور قادسیہ پہنچا وہاں میں نے بہت بڑی جمعیت کو دیکھا جو حج انجام دینے کے لئے جانے کو آمادہ تھے جس میں ایک خوبصورت گندمی رنگ کے جوان کو دیکھا جو کمزور تھا اپنے لباس کے اوپر پشمی لباس پہنے ہوئے تھا اور اپنے پاؤں میں نعلین پہنے کنارے بیٹھا ہوا تھا میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان صوفیوں میں سے ہے ،وہ چاہتا ہے کہ لوگ راستہ بھر اس کو اپنے سر پر بٹھائے رہیں ۔

اس کے نزدیک گیا جیسے ہی اس کی نگاہ مجھ پر پڑی انھوں نے فرمایا کہ «شقیق! اجْتَنِبُوا کَثِیراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ» مجھ کو وہیں پر چھوڑ دیا اور اپنے راستے پر چلنے لگے ، اپنے راستے ہو لئے میں نے اپنے آپ سے کہا یہ بہت بڑی بات ہے اتنا بڑا کام انجام دیا وہ میرے دل کے اندر کی خبر دے رہا ہے اور میرا نام بھی جانتا ہے یہ بہت ہی نیک اور صالح ، خدا کا بندہ ہے میں خود اس کے پاس پہنچوں گا اور اس سے عذر خواہی کروں گا جتنی بھی جلدی کر سکا کہ ان تک پہنچ جاؤں مگر نہیں پہنچ سکا وہ میری نظروں سے غائب ہو گئے تھے ۔ جب میں واقصہ پہنچا تو دیکھا وہ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں ان کے جسم کے تمام اعضاء و جوارح لرز رہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھا ۔ میں نے خود سے کہا یہ وہی شخص ہے میں جاتا ہوں اور ان سے معافی مانگتا ہوں ۔ میں کھڑا رہا تاکہ ان کی نماز تمام ہو جائے میں ان کی طرف گیا ۔ جیسے ہی انھوں نے مجھے دیکھا فرمانے لگے شفیق ! اس آیت کو پڑھو: وَ إِنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اہْتَدى»‏ پھر مجھے چھوڑ کر وہ اپنے راستے ہو لئے ۔

میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان کوئی بہت بزرگ اور صوفی ہے ۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اس نے میرے دل کے اندر کی خبر دی ہے ۔ جب منزل زبالہ پہنچے ، تو دیکھا کہ کنواں کے کنارے ہاتھ میں کوزہ لئے کھڑے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کنویں سے پانی نکالیں ۔ کوزہ ہاتھ سے چھوٹ کر کنویں میں گر جاتا ہے وہ حضرت آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہتے ہیں :
انت ربى اذا ظمئت الى الماء و قوتى اذا اردت الطعاما انت

خدایا اس کوزے کے علاوہ میرے پاس کوزہ نہیں ہے اس کو میرے پاس واپس کر دے ۔
اس وقت میں نے دیکھا کنویں کا پانی اوپر آیا ہاتھ بڑھا کر کوزے کو پانی سے بھر کر باہر نکالا ۔ وضو کیا اور چار رکعت نماز پڑھی ۔ اس کے بعد ریت کے ٹیلے کے پیچھے گئے ، اور اس ریت کو ہاتھوں سے کوزے میں ڈالا اور کوزے کو ہلا کر پی جاتے تھے ۔ میں ان کے پاس گیا اور سلام عرض کی انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا ۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کی خدا نے جو آپ کو زیادہ غذا عنایت کی ہے مجھ کو بھی اس سے مستفید فرمائیں ۔ انھوں نے فرمایا : شفیق مسلسل خدا کے ظاہری و باطنی نعمتیں ہمارے شامل حال ہیں ۔ خدا کے لئے حسن ظن رکھو کوزے میری طرف بڑھایا میں نے کوزے کاپانی پیا دیکھا اس میں خوشبو دار میٹھا شربت ہے ۔ خدا کی قسم میں نے کبھی اس سے لذیذ اور خوشبوتر نہیں کھایا تھا اور نہں پیا تھا ۔ سیر بھی ہو گیا اور پیاس بھی ختم ہو گئی ۔ یہاں تک کہ کچھ روز تک بھوک ہی نہیں لگی اور نہ پانی پینے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ اس کے بعد ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گیا ۔ اتفاق سے ایک رات میں نے ان کو دیکھا آدھی رات ہے اور وہ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں ۔ اور تمام خشوع و خضوع کے ساتھ آنکھوں سے آنسو جاری ہے ۔ اس طرح وہ صبح تک تھے ۔ یہاں تک کہ اذان صبح ہوئی ، اور نماز کے لئے بیٹھے اور تسبیح خدا کرنی شروع کر دی اس کے بعد اپنی جگہ سے اٹھے اور نماز صبح پڑھی ۔ سات مرتبہ خانہ خدا کا طواف کیا اور مسجد حرام کی طرف سے باہر چلے گئے ۔ میں ان کے آگے بڑھا ۔ تو دیکھا کہ ضرورت مند اور محتاج ان کے پاس حلقہ کئے ہوئے جمع ہیں ۔ اور بہت سارے غلام ان کی خدمت میں تیار ہیں ۔ اور ان کے حکم کے منتظر ہیں ۔ ان تمام چیزوں کو اس کے خلاف دیکھ رہا ہوں جو پہلے دیکھ چکا تھا ۔ نزدیک اور دور سے لوگ پہنچ کر ان کو سلام کر رہے ہیں ۔ ایک آدمی جو ان سے بہت قریب تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں اس نے کہا : یہ موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب علیہم السلام ہیں ۔ تب میں نے کہا : تب تو اس طرح کے تعجب اور حیرت انگیز کام ان بزرگوار سے ہی ہونگے ۔ [12]

حضرت امام کاظم علیہ السلام کےہمعصر خلفاء:

آپ کا دورِ امامت چار ظالم عباسي خلفاءکے ساتھ رہا يعني (منصور، مہدي، ہادي او رہارون الرشيد)۔

1- منصوردوانیقی (۱۳۶/ ۱۵۸ ھ ):

148ھ میں امام جعفر صادق علیہ السّلام کی شھادت ہوئی اس وقت سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام بذاتِ خود فرائض امامت کے ذمہ دار ہوئے اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پر منصور دوانقی بیٹھا تھا. یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں لاتعداد سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے اور تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے یا دیواروں میں چنوا دیئے یاقید رکھے گئے تھے . خود امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اور مختلف صورتوں سے تکلیفیں پھنچائی گئی تھیں یہاں تک کہ منصور ہی کا بھیجا ہوا زہر تھا جس سے اب آپ دنیا سے رخصت ہورہے تھے اس کے بعد دس برس تک منصور زندہ رہا لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سے کوئی تعرض نہیں کیا اور آپ مذہبی فرائض امامت کی انجام دہی میں امن وسکون کے ساتھ مصروف رہے . یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں منصور شہر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 157ھ میں یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پہلے اسے فراغت ہوئی . اس لئے وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نہیں ہوا .
2- مہدي عباسی(۱۵۸ /۱۵۹ ):

158ھ کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا بیٹا مھدی تخت سلطنت پر بیٹھا شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں کیا مگر چند سال کے بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 164ھ میں جب وہ حج کے نام پر حجاز کی طرف آیاتو امام موسی کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کردیا. ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا .
مہدي نے عوام کو دھوکہ دينے کے لئے اعلان کيا کہ حکومت پر جس کسي کا کوئي حق ہو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔ اس نے بظاہر لوگوں کے حقوق ادا کرنا شروع کر ديئے۔ امام موسيٰ کاظم نے بھي اپنے حق کا مطالبہ کيا۔ اس موقع پر خليفہ مہدي عباسي اور امام کے درميان يہ مکالمہ ہوا:
خليفہ: آپ کا حق کيا ہے؟
امام: فدک۔
خليفہ: فدک کي حدود معين کرديں تاکہ ميں آپ کو واپس کر دوں۔
امام: اس کي پہلي حد کوہِ احد، دوسري حد مصر کا عريش، تيسري حد سيف البحر (دريائے خزر) اور چوتھي حد دومۃ الجندل (عراق) ہے۔
خليفہ: يہ سب؟!
امام: ہاں۔
خليفہ کا چہرہ غيظ و غضب سے سرخ ہوگيا اور وہ چلايا: يہ بہت زيادہ ہے۔ ہميں سوچنا پڑے گا۔
امام موسيٰ کاظم عليہ السلام نے دراصل اسے يہ سمجھا ديا کہ حکومت امام کا حق ہے اور دنيائے اسلام کي حکومت کي باگ ڈور اہلبيت عليہم السلام کے ہاتھ ميں ہوني چاہئے۔

ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدینہ آیا اور امام مو سیٰ کاظم سے مسٔلۂ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص میں خیال کرتا تھا کہ معاذاللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینتہ العلم ہیں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کی قران سے دلیل دیجیے ٔ امام نے فرمایا ’’خداوند سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب !کہہ دو کہ میرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفی و اثم و ستم بنا حق حرام قرار دیا ہے اور یہا ں اثم سے مراد شراب ہے ‘‘ امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں خدا وند نیز سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے اے میرے حبیب !لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں بہت عظیم گناہ ہے اسی وجہ سے شراب قرآن میں صریحاً حرام قرار دی گئی ہے مہدی، امام کے اس عالما نہ جواب سے بہت متأثر ہوا اور بے اختیارکہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا.
3- ہادی ( ۱۵۹ /۱۷۰ ):

مھدی کے بعد اس کابھائی ہادی192ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مہینے تک اُس نے حکومت کی . اس کے بعد ہارون رشید کازمانہ آیا جس میں پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نہیں ہوا
4- ہارون رشید (۱۷۰ / ۱۹۳ ):

ہارون رشید ( پانچواں عباسی خلیفہ) کی اہل بیت اطہار کے ساتھ شدید دشمنی ناقابل انکار تھی، اولاد فاطمہ زہراء(س) اور ذریات علی(‏‏‏ع) پر مظالم ڈھانے میں کوئی کمی نہ کی،وہ چونکہ عباسی حاکموں میں سے زیادہ جنایت کار اور ظالم تھا،لوگوں کا امام موسی کاظم (ع) کے نسبت احترام اور امام کا معنوی مقام دیکھنا برداشت نہیں ہوتا اور اس سے بہت پریشان رہتا تھا،

دلوں پر حکومت:
ايک دن خانہ کعبہ کے نزديک ہارون الرشيد نے امام کاظم سے ملاقات کي اور دورانِ گفتگو امام سے کہا: ’’کيا آپ ہي وہ ہيں جن سے لوگ خفيہ طور پر بيعت کرتے ہيں اور آپ کو اپنا رہبر قرار ديتے ہيں؟‘‘
امام نے کمالِ شجاعت سے فرمايا: انا امام القلوب و انت امام الجسوم۔ ميں دلوں پر حکومت کرتا ہوں اور تم جسموں پر۔
ايک مرتبہ امام کاظم ہارون کے محل ميں تشريف لے گئے۔ ہارون نے پوچھا: يہ دنيا کيا ہے؟
فرمايا: يہ فاسقوں کا ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد سورہ اعراف کي آيت ١٤٦ کي تلاوت کر کے ہارون کو خبردار کيا کہ: ساصرِف عن اٰياتي الذين يتکبرون في الارض بغير الحق و ان يروا کل اٰيۃ لا يومنوا بھا و ان يروا سبيل الرشد لايتخذوہ سبيلا و ان يروا سبيل الغيِّ يتخذوہ سبيلاً۔ ترجمہ : ميں عنقريب اپني آيتوں کي طرف سے ان لوگوں کو پھيردوں گا جو روئے زمين ميں ناحق اکڑتے پھرتے ہيں اور يہ کسي بھي نشاني کو ديکھ ليں ايمان لانے والے نہيں ہيں۔ان کا حال يہ ہے کہ ہدايت کا راستہ ديکھيں گے تو اسے اپنا راستہ نہ بنائيں گے اور گمراہي کا راستہ ديکھيں گے تو اسے فوراً اختيار کر ليں گے۔
ہارون نے پوچھا: دنيا کس کا گھر ہے؟
فرمايا: دنيا ہمارے شيعوں کے لئے جائے سکون اور دوسروں کے لئے آزمائش ہے۔
اس گفتگو کے آخر ميں ہارون نے تنگ آکر پوچھا: کيا ہم کافر ہيں؟
امام نے فرمايا: نہيں، ليکن ايسے ہو جيسا کہ خدا نے فرمايا ہے: الذين بدلوا نعمت اللّٰہ کفراً و احلُّوا دار البوار۔ ترجمہ : کيا تم نے ان لوگوں کو نہيں ديکھا جنہوں نے اللہ کي نعمت کو کفرانِ نعمت سے تبديل کر ديا اور اپني قوم کو ہلاکت کي منزل تک پہنچا ديا۔
امام موسی کاظم علیہ السلام فرزند رسول اللہ :
ہارون الرشيد ايک مرتبہ مدينہ آيا اور ايک بڑي تعداد ميں لوگوں کے ساتھ حرمِ نبوي ميں پہنچا۔ اس نے قبر مبارک کے سامنے کھڑے ہوکر بڑے فخر کے ساتھ اس طرح سے سلام کيا: السلام عليک يابن عمّ۔ (يعني اے ميرے چچا کے بيٹے آپ پر سلام ہو)۔ اس موقع پر امام کاظم بھي وہاں موجود تھے، آپٴ نزديک تشريف لائے اور غاصب خليفہ کو اس کي اوقات ياد دلانے کے لئے اس طرح سے سلام کيا: السلام عليک يا رسول اللّٰہ، السلام عليک يا آبہ۔ (يعني سلام ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! سلام ہو آپ پر اے بابا)۔ ہارون يہ سن کر سخت ناراض ہوا اور دنيا اس کي نظروں ميں تاريک ہوگئي، کيونکہ امام نے اس طرح سے جانشيني رسول کے لئے اپنے حق کو اور ہارون رشيد کي نالائقي کو ثابت کرديا تھا۔

دربار ہارون میں امام کا نفوذ:

علی بن یقطین ہارون الرشید کا وزیر ہے یہ مملکت کا دوسرا ستون ہے۔ لیکن شیعہ ہے۔ تقیہ کی حالت میں زندگی بسر کررہا ہے۔ ظاہر میں ہارون کا کارندہ ہے لیکن پس پردہ امام امام موسی علیہ السلام کے پاک و پاکیزہ اہداف کی ترجمانی کرتا ہے ۔ دو تین مرتبہ علی بن یقطین کے خلاف خلیفہ کو رپوٹ پیش کی گئی لیکن امام علیہ السلام نے اسے قبل از وقت بتا دیا اور اس کو ہو شیار رھنے کی تلقین کی جس کی وجہ سے علی بن یقطین حاکم وقت کے شر سے محفوظ رہا۔ ہارون کی حکومت میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو امام علیہ السلام کے بیحد عقیدت مند تھے۔ لیکن حالات کی وجہ سے امام علیہ السلام سے رابطہ نہیں رکھ سکتے تھے ۔

اہواز کا رہنے والا ایک ایرانی شیعہ کھتا ہے کہ حکومت وقت نے مجھ پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کر دیا تھا۔ ادائیگی کی صورت ہی میں مجھے چھٹکارا مل سکتا تھا۔ اتفاق سے انھیں دنوں میں ا ہواز کا گورنر معزول ہو گیا۔ نیا گورنر آیا مجھے خوف تھا کہ اس نے آتے ہی مجھ سے ٹیکس کا مطالبہ کرنا ہے ۔ میری فائل کھل گئی تو میرا کیا بنے گا؟ لیکن میرے بعض دوستوں نے مجھ سے کہا کہ گھبراؤ نہیں نیا گورنر اندر سے شیعہ ہے اور تم بھی شیعہ ہو ۔ ان کی باتوں کو سن کر مجھے قدرے دلی سکون ہوا۔ لیکن مجھ میں گورنر کے پاس جانے کی ہمت نہ تھی ۔
میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ مدینہ جا کر امام موسی کاظم علیہ السلام کا رقعہ لے آؤں (اس وقت آقا گھر پر تھے) میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا گوش گزار کیا۔ آپ نے تین چار جملے تحریر فرمائے جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ ہمارا حکم ہے کہ اس مرد مومن کی مشکل حل کی جائے ۔ آخر میں آپ نے لکھا کہ مومن کی مشکل کو حل کرنا اللہ کے نزدیک بہت ہی پسندیدہ عمل ہے ۔وہ خط لے کر چھپتے چھپاتے اہواز آیا۔ اب مسئلہ خط پہنچانے کا تھا۔ چناچہ میں رات کی تاریکی میں بڑی احتیاط کے ساتھ گورنر صاحب کے گھر پہنچا۔ دق الباب کیا۔ گورنر کا نوکر باہر آیا میں نے کہا اپنے صاحب سے کہہ دو کہ ایک شخص موسیٰ ابن جعفر (ع) کی طرف سے آپ کو ملنے آیا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ گورنر صاحب فوری طور پر خود دروازے پر آگئے۔ سلام ودعا کے بعد آنے کی وجہ پوچھی میں نے امام علیہ السلام کا خط اس کو دے دیا۔ اس نے خط کو کھول کر اپنی آنکھوں پر لگایا اور آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا اور میری پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس کے بعد مجھے اپنے گھر میں لے گیا۔ اور مجھے کرسی پر بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ گیا۔ بولا کیا تم امام علیہ السلام کی خدمت اقدس سے ہو کر آئے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں پھر گورنر بولا کہ آپ نے انہی آنکھوں سے امام علیہ السلام کی زیارت کی ہے ۔ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر کہا آپ کی پریشانی کیا ہے ؟میں نے اپنی مجبوری بتائی۔ آپ نے اسی وقت افسروں کو بلایا اور میری فائل کی درستگی کے آرڈر جاری کیے۔ چونکہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مومن کو خوش کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے گورنر صاحب جب میرا کام کرچکے تھے تو مجھ سے بولے ذرا ٹہر جاؤ میں آپ کی خدمت کرنا چاھتا ہو ں، وہ یہ کہ میرے پاس جتنا سرمایہ ہے اس کا آدھا حصہ آپ کو دیتا ہوں، میری آدھی رقم اور میرا آدھا سرمایہ آپ کا ہے ۔ وہ مومن روایت کرتا ہے کہ ایک تو میری بہت بڑی مشکل حل ہو چکی تھی دوسرا گورنر صاحب نے مجھے امام علیہ السلام کی برکت سے مالا مال کردیا تھا۔ میں گورنر کو دعائیں دیتا ہوا گھر واپس آگیا۔ ایک سفر پہ میں امام (ع) کی خدمت اقدس میں گیا تو سارا ماجرہ عرض کیا آپ علیہ السلام سن کر مسکرا دیئے اور خوشی کا اظہار فرمایا۔

مسند خلافت کے واقعی حقدار :

مورخین نے مامون سے نقل کیا ہے کہ میں ایک مرتبہ اپنے بابا کے ہمراہ حج پر گیا اس وقت میں بچہ تھا سب لوگ بابا سے ملنے کیلئے آجار ہے تھے ۔ خاص طور پر علماء و مشائخ اور زعمائے ملت کی خلیفہ وقت کے ساتھ خصوصی میٹنگیں تھیں ۔ بابا کا حکم تھا کہ جو بھی آئے سب سے پہلے اپنا تعارف خود کروائے، یعنی اپنا نام تمام شجرہ نسب بیان کرے تاکہ خلیفہ کو معلوم ہو کہ یہ قریش سے ہے یا غیر قریش ہے ۔ اگر انصار میں سے ہے تو خرزی قبیلہ سے ہے یا اوسی قبیلہ سے۔ سب سے پہلے نوکر اطلاع کرتا کہ آپ کو فلاں شخص، فلاں کا بیٹا ملنے آیا ہے ۔ ایک روز نوکر آیا اس نے بابا سے کہا کہ آپ سے ایک نوجوان ملنے آیا ہے ، اور کہتا ہے کہ وہ موسی ابن جعفر بن محمد بن علی ابن الحسین بن علی ابن ابی طالب (ع) ہے ۔ اس نے اتنا ہی کہنا تھا کہ میرا بابا اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا کہ ان سے کہو کہ تشریف لے آئیں۔ پھر بولا کہ ان کو سواری سمیت آنے دیا جائے اور ہمیں حکم دیا کہ اس عظیم القدر شہزادے کا استقبال کیا جائے۔ جب ہم استقبال کیلئے گئے تو دیکھا کہ عبادت وتقویٰ کے آثار آپ کی پیشانی سے جھلک ر ہے تھے۔ چہرہ اقدس پر نور ہی نور تھا۔ ان کو دیکھتے ہی ہر انسان نجوبی سمجھ جاتا تھا کہ یہ نوجوان انتھائی پرہیزگار اور متقی شخص ہے ۔ بابا نے دور سے زور سے آواز دی کہ آپ کو قسم دیتا ہو ں کہ آپ سواری سمیت آئیں۔ وہ نوجوان چند قدم سواری سمیت آیا ہم جلدی سے دوڑے اور اس کی رکاب پکڑ کر اس کو نیچے اتارا۔ انھوں نے انتہائی شائستگی و متانت سے سب کو سلام کیا۔ بابا نے ان کا بہت زیادہ احترام کیا ان کی اور ان کے بچوں کی خیر خیریت دریافت کی۔ پھر پوچھا کوئی مالی پریشانی تو نہیں ہے ۔ انھوں نے جواب میں کہا الحمد للہ میں اور میرے اہل و عیال سب ٹھیک ہیں۔ اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے ۔ جب وہ جانے لگے تو بابا نے ہم سے کہا جاؤ ان کو گھوڑے پر سوار کراؤ۔
جب میں ان کے قریب گیا تو آہستگی سے مجھ سے کہا کہ تم ایک وقت خلیفہ بنو گے میں تم کو ایک نصیحت کرتا ہوں کہ میری اولاد سے برا سلوک نہ کرنا۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ کون ہیں۔ واپس آیا میں تمام بھائیوں کی نسبت زیادہ جرات مند تھا۔ موقع پا کر بابا کے پاس آیا اور کہا کہ جس کا آپ اتنا زیادہ احترام کر ر ہے تھے وہ تھا کون؟ بابا مسکرا کر کہنے لگے بیٹا اگر تو سچ پوچھتا ہے تو جس مسند پر ہم بیٹھے ہیں یہ ان ہی کی تو ہے ۔ میں نے کہا کیا آپ جو کہہ ر ہے ہیں دل سے کہہ ر ہے ہیں؟ بابا نے کہا کیوں نہیں۔ میں نے کہا پس خلافت ان کو دے کیوں نہیں دیتے؟کہا کیا تو نہیں جانتا کہ "الملک عقیم”؟ تو میرا بیٹا ہے اگر مجھے پتا چلے کہ میری حکومت کے خلاف تیرے دل میں فطور پیدا ہوا ہے اور تو میرے خلاف سازش کرنا چاھتا ہے تو تیرا سر قلم کر دوں گا۔ وقت گزرتا رہا ہارون لوگوں کو انعامات سے نوازتا رھا۔ پانچ ھزار سرخ دینار ایک شخص کی طرف اور چار ہزار دینار کسی دوسرے شخص کی طرف۔ میں نے سمجھا کہ بابا جس شخصیت کا حد سے زیادہ احترام کر رہے تھے ان کی طرف بھی زیادہ مقدار میں بھیجیں گے لیکن اس نے ان کی طرف سے سب سے کم رقم ارسال کی یعنی دوسو دینار۔ میں نے وجہ پوچھی تو بابا نے کہا کیا تو نہیں جانتا کہ یہ ہمارے رقیب ہیں سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ہمیشہ تنگدست رہیں۔ ان کے پاس پیسہ نہ ہو کیونکہ اگر ان کے پاس دولت آگئی تو ممکن ہے ایک لاکھ تلوار کے ساتھ تمھارے بابا کے خلاف انقلاب برپا کردیں ۔

امام علیہ السلام مختلف زندانوں میں:
آخر کار سن 179 ھ کو رمضان کے مہینے میں ہارون رشید،عمرہ کرنے کیلئے مکہ میں داخل ہواور وہاں سے مدینہ چلا گیا اور امام موسی کا‎ظم (ع) کو گرفتار کرکے قید خانے میں ڈالنے کا حکم صادر کیا، اس وقت امام موسی کاظم (ع) اپنے جد گرامی رسول خدا کے روضے میں نماز و دعا میں مشغول تھے اور وہیں پر ہارون رشید کے سپاہیوں نے امام (ع) کو گرفتار کرکے ہارون کے پاس لے گئے.
ہارون رشید نے حکم دیا کہ امام موسی کاظم کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر عراق کے زندان میں منتقل کیا جاۓ اور لوگوں کی مخالفت سے بچنے اور انکو گمراہ کرنے کیلئےدو محمل بنائےگئے ایک کو بغداد کی طرف اور دوسرے کو بصرہ کی طرف روانہ کیا گیا،امام (ع) کو بصرہ میں رکھا گیا ہارون کے سپاہیوں نے 7 ذی الحجہ سن 179 ھ کو بصرہ میں امام (ع) کو ہارون رشید کے چچیرے بھائی عیسی بن جعفر بن منصور دوانقی کی تحویل میں دے دیا اور اس نے آنحضرت کو اپنے گھر کے ایک کمرے میں قیدی بنائے رکھااور پہلے پہلے امام کے ساتھ نہایت سختی کے ساتھ رفتار کرتا تھا مگر جب امام (ع) کی عبادت اور راز و نیاز کا حال مشاہدہ کیا تو امام کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنے لگا اور ہارون کو لکھا کہ امام کو اس کے گھر سے نکال لیں اگر ایسا نہ کیا تو میں امام کو آزاد کر دوں گا ہارون نے مجبور ہو کر امام کو وہاں سے نکالنے اور بغداد میں فضل بن ربیع کے قید خانے میں رکھنے کا حکم صادر کیا، جس دوران امام کو فضل بن ربیع کے قید خانے میں تھے ہارون نے اسے امام کو شہید کرنے کو کہا مگر وہ ایسا کرنے سے کتراتا رہا،
ہارون نے امام کو فضل بن ربیع کے قید خانے سے نکلواکر فضل بن یحیی برمکی کے گھر میں قیدی بنا‎ئےرکھنے اور امام کو شہید کرنے کو کہا لیکن اس نے بھی ایسا کرنے کی جرأت نہ کی بلکہ امام کی نسبت زیادہ سے زیادہ احترام اور اکرام کرنے لگا ،ہارون فضل کی ایسی رفتار سے اس پر خفا ہوا اور حکم دیا کہ فضل کو سو کوڑے مار کر تمام عہدوں سے برطرف کیا جا‎ئے اور امام موسی کاظم علیہ السلام کو سندی بن شاہک کے زندان میں منتقل کیا گیا اور وہاں پر وہ مسلسل امام کو اذیتیں دیتا رہا

سندی بن شاہک انتہائی ظالم اور سفاک آدمی تھا اور مسلمان بھی نہ تھا، اس لیے امام علیہ السلام کے بارے میں اس کے دل میں ذرا بھر رحم نہ تھا۔ اس لئے امام علیہ السلام پر سختی کی جانے لگی اس کے بعد میرے آقا نے کسی لحاظ سے سکون نہیں دیکھا ۔ مرزا دبیر کہتے ہیں:
مولا پہ انتہائے اسیری گزر گئی ۔
زندان میں جوانی و پیری گزر گئی

ہارون کا امام علیہ السلام سے تقاضا:

امام علیہ السلام کے زندان میں آخری دن تھے، یہ تقریباً شھادت سے ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے۔ ہارون نے یحییٰ برمکی کو امام علیہ السلام کے پاس بھیجا اور انتہائی نرم اور ملائم لہجہ کے ساتھ اس سے کہا کہ میری طرف سے میرے چچا زاد بھائی کو سلام کہنا اور ان سے یہ بھی کہنا کہ ہم پر ثابت ہو چکا ہے کہ آپ بے قصور ہیں آپ کا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن افسوس کہ میں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس کو توڑ نہیں سکتا۔ میری قسم یہ کہ جب تک آپ اپنے گناہ کا اعتراف نہ کریں گے اور مجھ سے معافی نہیں مانگیں گے تو آپ کو آزاد نہیں کروں گا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے آپ صرف یحییٰ کے سامنے اعتراف جرم کرلیں۔ میرے سامنے معافی مانگنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اعتراف جرم کے وقت بہت سے لوگ موجود ہوں میں تو صرف اتنا ہی چاہتا ہوں کہ اپنی قسم نہ توڑوں۔ آپ یحییٰ برمکی کے سامنے اعتراف گناہ کر لیں اور صرف اتنا کہہ دیں کہ معافی چاہتا ہوں، میں نے غلطی کی ہے مجھے معاف کر دیجئے تو میں آپ کو آزاد کردوں گا۔ اس کے بعد میرے پاس تشریف لے آیئے اور میں آپ کی ہر طرح کی خدمت کروں گا۔
اب اس استقامت کوہ گراں کی طرف دیکھئے۔ یہ شفیع روز جزاء کیوں ہیں؟ یہ شہید کیوں ہو جاتے ہیں؟ یہ ایمان اور اپنے نظریہ کی پختگی کی وجہ سے شہید کیے گئے اگر یہ سب آئمہ اپنے موقف کو بدل دیتے اور حکام وقت کی ہاں میں ہاں ملاتے تو ہر طرح کا آرام و سکون حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن رات اور دن اور حق و باطل، روشنی اور تاریکی، سچ اور جھوٹ ایک جگہ پر جمع نہیں ہوسکتے۔ بھلا امام وقت کسی حاکم وقت کے ساتھ کس طرح سمجھوتہ کر سکتا ہے؟! آپ نے یحییٰ کو جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ ہارون سے کہہ دینا کہ میری زندگی کے دن ختم ہو چکے ہیں اس کے بعد تو جانے اور تیرا کام جانے۔ ہم نے جو کرنا تھا وہ کرچکے۔

امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت :

کئی سالوں کی اذیت اور آزار کے بعد ہارون کے حکم سے امام کوانگور یا خرمے میں زہر ملا کر 25 رجب سن 183 ھ کو شہید کیا گیا،
امام موسی کاظم علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد سندی بن شاھک نے بغداد کے بزرگوں قاضیوں اور فقہا کو فریب کارانہ انداز میں بلا کر امام کا جسد مبارک دکھلا کر کہا کہ آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ امام پر کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی ہے بلکہ طبیعی طورپر آنحضرت کی موت واقع ہوئی ہے اور امام کے پیکر پاک کو بغداد کے پل پر رکھ کر آواز دیتا تھاکہ لوگو دیکھو یہ ہے موسی ابن جعفر،جو دنیا سے کوچ کر گیا ہے ۔

امام علی رضا علیہ السلام کفن و دفن اور نماز کے لئے مدینہ منورہ سے با اعجاز پہنچ گئے۔آپ نے اپنے والد ماجد کو سپرد خاک فرمایا۔
تدفین کے بعد امام علیہ السلام مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے ۔ جب مدینہ والوں کو آپ کی شہادت کی خبر ملی تو کہرام برپا ہو گیا ۔ نوحہ و ماتم اور تعزیت کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔

امام موسی ابن جعفرعلیہما السلام کے حکمت آمیز اقوال:

– صالح افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود کی طرف دعوت دیتاہے۔علماءکا ادب کرنا عقل میں اضافہ کا سبب ہے۔
– جو شخص اپنے غیظ و غضب کو لوگوں سے روکے تو قیامت میں خدا اس کواپنے غضب سے محفوظ رکھے گا۔
– معرفت الٰہی کے بعد جو چیزیں انسان کو سب سے زیادہ خدا سے نزدیک کرتی ہیں وہ نماز ، والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ، حسد نہ کرنا، خود پسندی سے پرہیز کرنا، فخر و مباہات سے اجتناب کرنا۔
– مخلوقات کا نصب العین اطاعت پروردگار ہے ۔ اطاعت کے بغیر نجات ممکن نہیں ۔ اطاعت علم کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ علم عقل کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ علم تو بس عالم ربانی کے پاس ہے ۔عالم کی معرفت اس کی عقل کے ذریعہ سے ہے۔
– تمھارے نفس کی قیمت تو بس جنت ہے۔پس اپنے کو جنت کے علاوہ کسی اور چیز کے بدلے نہ فروخت کرو۔
– نعمت اس شخص کے پاس رہتی ہے جو میانہ روی اور قناعت کو اپناتاہے ۔اور جو شخص بے جا مصرف اوراسراف کرتا ہے تو اس سے نعمت دور ہوجاتی ہے۔
– امانت داری اور سچائی رزق مہیا کرتے ہیں ۔خیانت اور جھوٹ فقر اور نفاق پیدا کرتے ہیں ۔
– عاقل وہ ہے جسے رزق حلال شکر سے باز نہیں رکھتا اور نہ کبھی حرام اس کے صبر پر غالب آتا ہے ۔
– علی بن یقطین سے فرماتے ہیں: ظالم بادشاہ کی نوکری کرنے کا کفارہ یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان کرو۔
– جو شخص حمد و ثنائے پرور دگار اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے بغیر دعا مانگتا ہے وہ بالکل اس شخص کے مانند ہے جو بغیر ہدف کے تیر چلائے۔
– غور فکر کرنا نصف راحت ہے اور لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے کیوں کہ لوگ تمھیں تمھارے عیوب سے آگاہ کریں گے ۔ اور یہی لوگ تمھارے حقیقی مخلص ہیں۔
– وہ شخص ہم سے نہیں ہے ( ہمارا دوست نہیں ہے ) جو اپنی دنیا کو دین کے لئے ترک کر دے یا اپنے دین کو دنیا کے خاطر ترک کردے ۔
-لیس منا من لم یحاسب نفسہ کل یوم “ جو شخص ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

-” ایاک ان تمنع فی طاعت اللہ، فتنفق مثلیہ فی معصیۃ اللہ “ اطاعت خدا میں مال خرچ کرنے سے پرہیز نہ کرو ، ورنہ دو برابر خدا کی معصیت میں خرچ ہو جائے گا ۔
-” ان الزرع ینبت فی السہل و لا ینبت فی الصفا فکذالک الحکمۃ تعمر فی قلب المتواضع و لا تعمر فی قلب المتکبر الجبار !“ جس طریقے سے زراعت نرم زمین میں ہوتی ہے نہ کہ سخت زمین میں، اسی طرح سے علم و حکمت متواضع انسان کے دل میں پروان چڑھتے ہیں نہ کہ متکبر و جبار کے ۔

– الموٴمن مثل کفتی المیزان کلما زید فی ایمانہ زید فی بلائہ “مومن ترازو کے دو پلڑوں کے مانند ہے جتنا ایمان میں اضافہ ہو گا اتنا بلا و مصیبت میں بھی اضافہ ہو گا ۔

– المصیبۃ للصابر واحدۃ و للجازع اثنتان صبر کرنے والوں کے لئے ایک مصیبت ہے لیکن جزع وفزع کرنے والوں کے لئے دو مصیبتیں ہیں ۔

___________________
[1] -) اصول کافی، ج 1 ص 477.

[2] – اصول کافی، ج 1 ص 385، حدیث 1، باب موالید ائمہ و المحاسن ص 314.

[3] – 129 ہجری بھی نقل ہوا ہے کافی ج 1 ص 476، بحار الانوار ج 48 ص 2، ارشاد مفید ص 269، کشف الغمہ ج 2، ص 212 و اعلام الوری ص 286، و 310،

[4] – مناقب ابن شہرآشوب، ج 2 ص 382، کشف الغمۃ، ج 2 ص 212، الارشاد مفید ص 270 و فصول المہمۃ، ص 214.

[5] – محاسن برقی، ج 2، ص 314.

[6] – اصول کافی، ج 1، ص 310.

[7] – ابو عباس أحمد بن محمد بن محمد بن علی إبن حجر الہیتمی؛ الصواعق المحرقۃ، ج2، ص590-593؛ تحقیق : عبدالرحمن بن عبداللہ الترکی وکامل محمد الخراط ، مؤسسۃ الرسالۃ – بیروت، اول ، 1997م.

[8] – عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج؛ صفۃ الصفوۃ؛ تحقیق : محمود فاخوری – د.محمد رواس قلعہ جی، دار المعرفۃ – بیروت ، دوم ، 1399ق – 1979م.

[9] – ذہبی؛ میزان الاعتدال ، ج 4 ، ص 204؛ بیروت ، دار المعرفۃ ، { بی تا }.

[10] – احمد بن ابی یعقوب ؛ تاریخ الیعقوبی ، ج2 ، ص414 ، قم ، مؤسسہ و نشر فرہنگ اہلبیت .

[11] – نقل از مسند الامام الکاظم ، ج1، ص 6 . عطاردی ، عزیز اللہ ، مسند الامام الکاظم ، اول ، مشہد ، 1409ق .

[12] – عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج؛ صفۃ الصفوۃ؛ تحقیق : محمود فاخوری – د.محمد رواس قلعہ جی، دار المعرفۃ – بیروت ، دوم ، 1399ق – 1979م * عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج؛ صفۃ الصفوۃ؛ تحقیق : محمود فاخوری – د.محمد رواس قلعہ جی، دار المعرفۃ – بیروت ، دوم ، 1399ق – 1979م* مجلسی ، محمد باقر؛ زندگانى حضرت امام موسى کاظم علیہ السلام( ترجمہ جلد یازدہم بحار الانوار) ، ص72؛ ترجمہ: موسی خسروی، اسلامیہ ، تہران، دوم، 1377ش.