مہدویت، انسانیت کا روشن مستقبل

(سیدہ ندا حیدر)

نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

مہدویت کا آغاز
عقیدہ مہدویت صدر اسلام سے ہی مسلمانوں میں موجود تھا۔ پیغمبر اسلام نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد بار حضرت مہدیؑ کے وجود کی خبر دی ہے، حضور نے وقتاً فوقتاً ان کی حکومت، آثار و علامات اور نام و کنیت کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے۔ عبداللہ ابن مسعودؓ نے پیغمبر اسلام سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک فرد جو مہدیؑ ہوگا، حکومت نہیں کرے گا۔

نظریہ مہدویت
نظریہ مہدویت درحقیقت اسلام کی آفاقیت اور ہمہ جہتی کا نظریہ ہے۔ یہ عنوان اسلام کی پوری دھرتی پر حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے حضرت امام مہدیؑ کی قیادت میں نفاذ اور عدالت الٰہیہ کے مکمل طور پر قیام و رائج کرنے کا نظریہ ہے۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں تمام اہل اسلام کو یہ خبر دی گئی کہ اسلام ہر حوالے سے دین غالب ہے۔ نظریہ مہدویت کسی نئی شریعت لانے کا نام نہیں ہے، نہ ہی اسلام کے علاوہ کسی اور دین و نظام کی حکومت ہے اور نہ ہی اسلام میں کوئی نئی بات شامل ہوگی بلکہ وہی اسلام جو قرآن میں ہے، جس کی تشریح ختمی مرتبت نے فرما دی، جس پر مدینہ منورہ میں عمل کرکے دکھایا گیا۔

نام و القابات
ان کا نام خود ان کے جد امجد محمد کے نام پر ہے، تمام مؤرخین اور محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ خود نبی پاک نے ان کا نام رکھا ہے۔ یہ بات بغیر دلیل و علت کے نہیں ہوسکتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے پیغمبر اسلام کے آنے سے دنیا کو گمراہی و جہالت سے نجات مل گئی، انہی کے ہم نام فرزند کے ظہور سے ہی انسانیت کو تاریکی و ظلمت سے نجات ملے گی۔ آپؑ کے القابات میں کچھ مندرجہ ذیل ہیں: مہدی (ہدایت یافتہ)، منتظر(جس کا انتظار کیا جائے)، حجت اللہ اور قرآن کی زبان میں بقیۃ اللہ۔ نیز ولی العصر، صالح وغیرہ۔

مہدیؑ تمام ادیانِ عالم میں
عقیدہ مہدویت مسلمانوں ہی سے مختص نہیں ہے بلکہ وہ تمام ادیان اور مذاہب جن کا تعلق آسمانی ہدایات سے ہے، اس عقیدہ میں اشتراک رکھتے ہیں کہ عالم کے ایک تاریک دور میں جب فساد و ظلم ہر مقام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو عالم میں ایک عظیم نجات دہندہ ظاہر ہوگا اور معجزانہ غیبی طاقت کے وسیلہ سے وہ زمانے کے حالات کی اصلاح کرے گا اور مادہ پرستی و بے دینی پر خدا پرستی کو غلبہ دلائے گا۔ سب لوگ ایسے ہی ”موعود“ فرد کے انتظار میں زندگی بسر کر رہے ہیں، یعنی ایسی شخصیت جس کے آنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ہر مذہب و ملت کے لوگ اس کو اس کو ایک مخصوص لقب سے یاد کرتے ہیں۔ زرتشتی اُسے ”سوشیانس“ (نجات دہندہ) کہتے ہیں، اسی کو عربی میں ”منجی“ کہا جاتا ہے۔

ابو الحجاف سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام نے تین مرتبہ فرمایا: "تم لوگوں کو مہدیؑ کی بشارت ہو۔ وہ لوگوں کے افتراق و انتشار اور انتہائی رنج و زحمت میں مبتلا ہونے کے وقت ظاہر ہوگا اور زمین کو جو ظلم و جور سے پر ہوگی، اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ وہ اپنے پیروکاروں کے دلوں کو ذوق عبادت سے سرشار کرے دے گا اور اس کا انصاف ہر فرد کو حاصل ہوگا۔” امام مہدیؑ کی حکومت ایک ایسی حکومت ہوگی، جو عدل و انصاف سے تمام دنیا کو ظلم سے نجات دلائے گی کیونکہ زمانے کی قابل افسوس حد تک خرابی نے لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ گرم و سرد جنگ، اسلحہ کی دوڑ، مشرق و مغرب کی آویزش اور وحشت ناک بحرانوں نے اہل جہان کے اعصاب کو تھکا دیا ہے، ایسے حالات میں ہر انسان جس پر ظلم و ستم ہو رہا ہے، اس کی آواز کون سنتا ہے؟ اگر کوئی ہمددر انسان یا کوئی تحریک اس کے لیے آواز بلند کرتی ہے تو کچھ عرصے بعد اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

عالمگیر حکومت کا قیام
انسانیت کی ہمیشہ سے یہ آرزو رہی ہے کہ کوئی ایسا نظام حکومت آئے جس میں انسانوں کے تمام حقوق پورے ہوسکیں۔ ظلم کا خاتمہ ہوسکے اور عدل و انصاف قائم ہو۔ انسانی تاریخ میں بہت سے ایسے نظام، ایسی حکومتیں یا تحریکیں وجود میں آئیں، جو بظاہر عوام کے ووٹ کے ذریعے یعنی الیکشن کے ذریعے وجود میں آئیں، جن کے لیڈروں نے عوام سے بہت سے وعدے کئے کہ عوام کے مسائل حل کریں گے، تمام فیصلوں میں عدل سے کام لیا جائے گا، جو کمزور طبقہ ہے، اسے اس کے حقوق دلوائیں گے اور معاشرے میں امن و ترقی کو فروغ دیں گے، لیکن حکومتوں کے وجود میں آنے کے بعد تمام وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ابھی تک کوئی بھی ایسی حکومت یا نظام وجود میں نہیں آسکا، جس میں انسان کو امن و سکون ملے، ابھی تک انسانیت مضطرب ہے اور ایک ایسے نظام عدل کی خواہش مند ہے، جس میں اس کی تمام آرزوئیں پوری ہوسکیں، جبکہ امام مہدیؑ کی حکومت ایک ایسی حکومت ہوگی جو تمام دنیا کے لوگوں کو ظلم و ستم سے آزاد کروا کر دنیا پر عدل و انصاف کو قائم کرے گی۔

امام مہدیؑ کوئی نیا مذہب یا کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے بلکہ ان کی حکومت پوری اسلامی شرائط کے ساتھ ہوگی اور ایک الٰہی حکومت ہوگی، چونکہ پروردگار سب عالم کا پروردگار ہے اور امام مہدیؑ اللہ کے نمائندے ہیں، اس لیے پوری دنیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔ اگر دیکھا جائے تو ابھی تک اسلام اپنی پوری شرائط کے ساتھ نافذ نہیں ہوسکا یا باطل قوتوں نے ہونے نہیں دیا تو چونکہ تمام انبیاء انسانوں کو ہدایت دینے کے لیے آئے، تاکہ ان کی راہنمائی کرکے انسانیت کو اللہ سے قریب کرسکیں، انسانوں میں عدل و انصاف قائم کرسکیں اور ظالم حکمرانوں سے انسانوں کو چھٹکارہ دلوائیں۔ امام مہدی انبیاء کی ان کوششوں کو نتیجہ خیز بنائیں گے۔

امام مہدیؑ کے متعلق احادیث میں عدالت کا ذکر بہت زیادہ آیا ہے کہ وہ دنیا کو ظلم و ستم کے اندھیروں سے نکال کر عدل و انصاف کی روشنی میں لائیں گے، جہاں حقوق انسانی کے درمیان عدل و انصاف ہوگا تو جب ہر انسان کو اس کے حقوق ملیں گے تو پھر ایک ایسی حکومت قائم ہوگی، جو امن و سلامتی محبت و بھائی چارہ پر مشتمل ہوگی، کیونکہ عدالت ایک ایسا لفظ ہے، جو اپنے اندر وہ تمام معنی رکھتا ہے، جو انسانی زندگی کو سعادت مند اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں عدالت خواہی کی تڑپ پائی جاتی ہے اور سب اس بات کے انتظار میں ہیں کہ کب ان کی خواہش پوری ہوگی۔ امام مہدیؑ کے ظہور کے بعد تمام انسانوں کی آرزوئیں پوری ہوں گی، کیونکہ وہ ایسا معاشرہ، ایسا عالمی نظام قائم کریں گے جو کہ الٰہی قوانین پر مشتمل ہوگا اور انسان کو کمال تک پہنچائے گا، پھر انسان قربت الٰہی حاصل کرے گا، یعنی حق غالب آئے گا اور باطل کا نام و نشان مٹ جائے گا۔