ماہ رمضان کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

(تحریر: ساجد محمود)

لغت میں لفظ رمضان کے معنی "جلانا” کے ہیں(1) اور یہ کلمہ "رمضاء” سے لیا گیا ہے کہ جس کے معنی حرارت کی شدت ہے، چونکہ اس مہینے میں انسانوں کے گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے، اس لئے اسے ماہ مبارک رمضان کہا جاتا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں؛
"انما سمی الرمضان لانه یرمض الذنوب” (2)
ماہ رمضان کو رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی اس مہینہ میں گناہوں کو جلا دیتا ہے۔ رمضان قمری مہینوں میں سے ایک مہینہ کا نام ہے، یہ تنہا وہ مہینہ ہے کہ جس کا قرآن مجید میں نام آیا ہے اور ان چار مہینوں میں سے ایک ہے کہ جس میں خداوند متعال نے جنگ کو حرام قرار دیا ہے ( البتہ دفاع کی صورت ہو تو جائز ہے)۔ اس مہینہ میں آسمانی کتابیں قرآن کریم، انجیل، تورات، مختلف صحیفے اور زبور نازل ہوئی ہیں۔ (3) اسلامی روایات کے مطابق اس مہینہ کو خدا کا مہینہ اور اللہ تعالی کی جانب سے امت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مہمانی کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی اس مہینہ میں اپنے بندوں کے ساتھ انتہائی کرامت اور مہربانی سے مہمان نوازی کرتا ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں، "رجب کا مہینہ خدا تعالی کا مہینہ ہے، شعبان کا مہینہ، میرا مہینہ ہے اور ماہ رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ جو شخص اس مہینے میں سارے روزہ رکھے، خدا تعالی پر واجب ہے کہ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے، اس کی باقی عمر کی گارنٹی دے اور اس کو قیامت کی دردناک پیاس سے امان میں رکھے”۔ مسلمان لوگ اس مہینے کے لئے ایک خاص اہمیت، مقام اور احترام کے قائل ہیں۔ یہ مہینہ ان کے لئے روحانی اور عرفانی درجات طے کرنے کا مہینہ ہے۔ مومنین، ہر سال اپنے آپ کو رجب اور شعبان کے مہینے میں معنوی اور روحانی طور پر ماہ رمضان میں داخل ہونے کے لئے آمادہ کرتے ہيں۔ اور جب ماہ مبارک رمضان آتا ہے تو نیازمندوں اور فقراء کو کھانا کھلانے، افطاری دینے، شب بیداری، عبادت، تلاوت قرآن، دعا، استغفار، صدقہ، روزہ کے ذریعہ سے اپنے روح و روان کو اس سرچشمہ فیض الٰہی سے سیراب کرتے ہيں۔

ماہ مبارک رمضان کے فضائل
ماہ مبارک رمضان کے تمام فضائل کا اس تحریر میں ذکر کرنا مشکل ہے لیکن قرآن و حدیث سے کچھ فضائل کو ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہيں۔

1۔ سال کا بہترین مہینہ
چونکہ قرآن مجید اسی مہینہ میں نازل ہوا، اس لئے یہ مہینہ دوسرے مہینوں پر فضیلت و شرافت رکھتا ہے، قرآن کریم فرماتا ہے، "ماہ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں انسانوں کی ہدایت کے لئے قرآن مجید نازل ہوا ہے۔” (4) پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس مہینے کے بارے میں فرماتے ہیں؛ اے لوگو! اللہ کا مہینہ تمھارے لئے اپنے ساتھ برکت، رحمت اور مغفرت لے کر آیا ہے، یہ وہ مہینہ ہے کہ جو خدا کے نزدیک تمام مہینوں سے بہتر، اس کے دن تمام دنوں سے برتر، اس کی راتیں تمام راتوں سے برتر، اس کی گھڑیاں تمام گھڑیوں سے بہتر ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں تم اللہ کی مہمانی پر بلائے گئے ہو اور اس کی جانب سے مورد لطف قرار پائے گئے ہو، اس مہینے میں تمھارا سانس لینا، تسبیح، سونا، عبادت، تمھارا عمل قبول، اور تمھاری دعائیں مستجاب ہیں۔۔۔۔۔ یہ بہترین گھڑیاں ہیں کہ جن میں خدا تعالی اپنے بندوں پر نظر رحمت کرتا ہے۔ (5)

2۔ کتب آسمانی کا نزول:
تمام بڑی آسمانی کتابیں جیسے قرآن کریم، تورات، انجیل، زبور اور صحیفے اس ماہ میں نازل ہوئے ہيں۔ حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہيں؛”پورے کا پورا قرآن مجید ماہ رمضان میں بیت المعمور پر نازل ہوا، پھر بیس سال کی مدت میں وقتا فوقتا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوتا رہا۔ ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے، ماہ رمضان کی پہلی رات اور تورات، ماہ رمضان کے چھٹے دن، انجیل ماہ رمضان کے تیرھویں دن اور زبور ماہ رمضان کے اٹھارہویں دن کو نازل ہوئیں۔ (6)

3۔ روزہ کی توفیق:
خداوند متعال اس ماہ مبارک میں اپنے بندوں کو روزہ داری کی توفیق عطا کرتا ہے؛ پس جو بھی اس مہینہ کو پائے، اسے چاہيئے کہ وہ روزہ رکھے۔ (7) انسان، جسمانی اور مادی پہلو رکھنے کے علاوہ معنوی اور روحانی پہلو بھی رکھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے حد کمال تک پہنچنے کے لئے کچھ خاص چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے؛ یعنی اگر انسان چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو معنوی اعتبار سے رشد دے اور کمال و طہارت کے اوج پر پہنچا‌ئے تو اسے چاہیئے کہ اپنی خواہشات نفسانی کو کنٹرول کرے اور جو چیزیں معنوی رشد میں رکاوٹ بنتی ہیں، انہیں ایک ایک کر کے دور کرے اور اپنے آپ کو جسمانی لذتوں اور شہوات کا عادی نہ بننے دے، ان اعمال میں سے ایک مؤثر اور مفید عمل روزہ ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے، "اے صاحبان ایمان! روزہ تم پر واجب کیا گیا ہے، جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر واجب کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن سکو” (8)۔

روزہ کے فوائد اور فضائل:
الف۔ تقوی، پرہیزگاری اور اخلاص کی تقویت
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہيں، خدا تعالی فرماتا ہے، "روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا ہوں (میں اس کی پاداش دوں گا)”۔(9) حضرت فاطمہ زہراء (علیہا السلام) فرماتی ہیں، خدا تعالی نے روزہ کو اس لئے واجب کیا ہے تاکہ اخلاص میں پختگی آۓ”۔(10)

ب۔ دنیوی اور اخروی عذاب سے مانع
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں، "روزہ آنتوں کو باریک کرتا ہے اور (زیادہ) گوشت کو کم کرتا ہے اور دوزخ کی جلا دینے والی گرمی سے محفوظ رکھتا ہے”۔ (11) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں، روزہ جہنم کی آگ کے مقابلے میں سپر ہے”۔ (12)

ج۔ جسم و جان کے اطمینان کا باعث
روزہ رکھنا، جسم اور روح کو سکون دیتا ہے اور روح کی سلامتی اور جسم کی تندرستی کا باعث بنتا ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا، "روزہ رکھو تاکہ صحتمند رہو”۔ ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں، "معدہ تمام دردوں کا گھر ہے اور روزہ اس کی بہترین دوا ہے”۔(13) حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہيں، "روزہ اور حج دلوں کے لئے آرام بخش اور سکون آور ہے”۔ (14) آج کل کے میڈیکل اور صحت کے قوانین میں ثابت ہو چکا ہے کہ روزہ رکھنا، انسان کے جسم و روح پر بہت تاثیرگذار ہے، زائد چربی ، بلڈ پریشر، شوگر وغیرہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ (15)

د۔ شیطان کے نفوذ سے مانع ہے
امام علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کی، یا رسول اللہ! کون سی چیز ہمیں شیطان سے دور کرتی ہے؟ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، "روزہ اس کے چہرہ کو سیاہ کرتا ہے اور صدقہ اس کی کمر توڑ دیتا ہے”۔ (16) پس، روزہ شیاطین جن و انس کے نفوذ سے مانع ہے اور ان کے وسوسوں کا بہترین توڑ ہے۔

ہ۔ ثروتمند اور فقیر کے درمیان مساوات
انسان جب روزہ رکھتا ہے تو وہ فقراء اور بے نوا لوگوں کی بھوک اور پیاس کو محسوس کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام روزہ کے وجوب کے فلسفہ کے بارے میں فرماتے ہیں، اللہ نے روزہ کو اس لئے واجب کیا تاکہ ثروتمند بھوک کا مزہ چکھے اور حاجت مندوں کی مدد کرے”۔ (17)

و۔ فضائل اخلاقی کی زندہ کرنا
حضرت امام علی رضا علیہ السلام روزہ کے وجوب کی علت بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہيں،
"۔۔۔۔ تاکہ لوگ بھوک اور پیاس کی تکلیف کو برداشت کریں اور آخرت میں اپنی نیازمندی کی طرف متوجہ ہوں”۔
روزہ دار کو بھوک اور پیاس کے مقابلے میں خاشع، متواضع طالب رضاء خدا، عارف اور صابر ہونا چاہیئے تاکہ اجر و ثواب کا مستحق قرار پائے، ۔۔۔روزہ شہوت رانی سے بچنے کا موجب بنتا ہے، روزہ، نصیحت کرتا ہے اور انسان کو تکلیف کے انجام دینے پر اکساتا ہے اور اجر کے حصول کا مستحق بنا دیتا ہے، جب مال و منال رکھنے والے لوگ روزہ رکھتے ہيں تو وہ دنیا کے فقراء اور مسکین لوگوں کی بھوک اور پیاس کا مزہ چکھتے ہیں، جس کے نتیجہ میں وہ اپنے مال سے ان کے حقوق کو ادا کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ (18)

4۔ شب قدر کا پایا جانا:
شب قدر وہ رات ہے کہ جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور فرشتے اس رات میں اللہ کے اذن سے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور بندوں کے سارے سال کے مقدورات کو معین کرتے ہیں (19)۔ اس رات کا ماہ مبارک میں پایا جانا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت پر بہت بڑا اللہ کا انعام اور احسان ہے۔ انسان کے سال بھر کے مقدرات (انسان کی موت و حیات اور رزق وغیرہ) اس کی لیاقت کی بنا پر معین کئے جاتے ہیں۔ اس رات میں انسان تفکر اور تدبر کے ذریعے سے اپنے آپ میں تبدیلی لا سکتا ہے، سال بھر کے اپنے اعمال کا وزن کرتا ہے اور مناسب مقدمات فراہم کرکے اپنی سرنوشت کو بہترین صورت میں ڈھال سکتا ہے۔ (20)
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہيں،
ماہ رمضان کی انیسویں کی رات کو انسان کی تقدیر، اکیسویں رات کو اس کو محکم کیا جاتا ہے اور تئیسویں کی رات کو اس تقدیر پر دستخط ہوتے ہيں۔ (21)

5۔ قرآن کی بہار:
چونکہ قرآن کریم اس ماہ مبارک رمضان میں نازل ہوا ہے اور اس کی آیات کی تلاوت، اس مہینہ میں بہت فضیلت رکھتی ہیں، اسلامی روایات کے مطابق، ماہ رمضان کو قرآن کی بہار کے نام سے یاد کیا گیا ہے؛ جیسا کہ امام باقر علیہ السلام فرماتےہيں، "ہر چیز کی بہار ہوتی ہے اور قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے۔” (22)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع و مآخذ:
1۔ مفردات الفاظ القرآن، راغب اصفهانی، ص 209، دارالکتاب العربی، بیروت۔
2۔ بحارالانوار، علامه مجلسی، ج 55، ص 341، مؤسسه الوفاء، بیروت۔
3۔ ر.ک: الکافی، محمد بن یعقوب کلینی، ج 2، ص 628، دارالکتب الاسلامیة، تهران۔
4۔ سوره بقره، آیه 185۔
5۔ ر.ک: وسائل الشیعه، همان، ج 10، ص 313۔
6۔ ر.ک: الکافی، همان، ج 2 ،ص 628۔
7۔ سوره بقره، آیه 185۔
8۔ سوره بقره، آیه 183۔
10۔ میزان الحکمة، محمد محمدی ری شهری، ترجمه: حمیدرضا شیخی، ج 7، ص 3207، مؤسسه دارالحدیث، قم۔
10۔ ایضا، ص 3209۔
11۔ایضا۔
12۔ ایضا
13۔ ایضا
14۔ ایضا
15۔ تفسیر نمونه، آیت الله مکارم شیرازی و دیگران، ج 1 ،ص 631، دارالکتب الاسلامیة، تهران۔
16۔ مستدرک الوسائل، محدث نوری، ج 7، ص 154، مؤسسه آل البیت، قم۔
17۔ میزان الحکمة، ایضا۔
18۔ ایضا، ص 3209.۔
19 ۔ سوره قدر، آیه 1 ـ 5.
20۔ تفسیر المیزان، علامه طباطبایی، ج 18، ص 132؛ ج 19، ص 90، مؤسسه مطبوعاتی اسماعیلیان، قم۔
21۔ وسائل الشیعه، ج 10، ص 354۔
22۔ وسائل الشیعه، ج 6، ص 203۔