یا رب المہدی (عج)! عجل لولیک الفرج

( عرفان علی)

زندگی بنی آدم کو گذارتی چلی جا رہی ہے لیکن بنی نوع انسان صدیوں سے اپنی ایک اجتماعی کمی کو پوری نہیں کر پا رہا۔ چلیں مجھ جیسے گناہگار، حقیر پر تقصیر کی وجہ سے نہ سہی، وارثان انبیاء علماء، فقہاء، عرفاء، اولیاء اللہ کی اس زمین خاک پر موجودگی، عبادتوں، ریاضتوں، نیکیوں کی وجہ سے ہی سہی، عالم انسانیت کے اجتماعی مفاد کی خاطر ہی سہی، اب تو عالم بشریت کے نجات دہندہ کی عادلانہ عالمی حکومت کے قیام کا اعلان ہو جانا چاہیئے اور یوں دنیا کے ان جامع الشرائط نیک اور صالح بندگان خدا کی وجہ سے یہ کمی پوری ہو جائے، جو میری ساری عمر میں ایک ہی کمی ہے۔ ہر سال حج پر جو ہستی ہوتے ہوئے بھی حجاج کرام کے لئے ناشناختہ رہتی ہے، وہ جو ملائک کے نزول کا مقام ہے، اسکے عام ظہور کا دوطرفہ انتظار اب تو ختم ہو جانا چاہیئے۔ کب تلک وہ خود انتظار کریں اور کب تلک مستضعفین جہان منتظر رہیں؟! کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ مستضعفین جہان اور انکے نجات دہندہ، اللہ کے معصوم ولی کے مابین حجاب ہی دور ہو جائے کہ کم از کم انکی عام زیارت تو کی جاسکے، ان کی اطاعت تو کی جاسکے۔

کیا یہ ایک سوال زندگی میں ہیجان برپا نہیں کرتا؟ کیا یہ سوال صدیوں سے اپنے جواب کا منتظر نہیں؟ کب تلک بندگان خدا کو خالق کل مخلوقات کی حجت واقعی کی حکومت سے محروم رہنا ہے؟ کہتے ہیں کہ صدقہ لوح محفوظ میں لکھے کو بدل دیتا ہے، کہتے ہیں کہ صدقہ موت کو زندگی میں تبدیل کر دیتا ہے، کہتے ہیں کہ صدقہ انہونی کو ہونی اور ہونی کو انہونی میں بدل دیتا ہے۔ یہ کیسی ہونی انہونی ہے، کیا آج تک وہ صدقہ نہیں دیا گیا کہ منجی عالم بشریت کو اذن ظہور دیا جاتا اور دنیا خانہ کعبہ سے "یا اھل العالم” کی اس دلنشین صدائے دلبر خدا کو سنتی! آخر کب تلک اور کہاں تلک۔؟

یا دلیل المتحیرین! میرے جیسے گناہگار سرگردان کہاں جائیں! کب تلک اور کہاں تلک ڈھونڈیں، این وجہ اللہ الذی الیہ یتوجہ الاولیاء!؟! کون اس فریاد مظلوم و مستضعف کو سن کر جواب دے گا اور کب دے گا! پہلے فلسطین و کشمیر کو ضرورت تھی، اب تو پوری دنیا ہی استکبار کے ظلم و ستم کا شکار ہے، کیا یمن، کیا بحرین، کیا عراق و شام تو کیا ایران و افغانستان و پاکستان و بھارت، تو کیا عربستان نبوی ﷺ، ہر جگہ حجت واقعی خدا کی رعیت پر مختلف نوعیت کی جنگیں مسلط کر دی گئیں ہیں اور ہر جگہ وہی ایک ہستی آخری امید سمجھی جا رہی ہے۔ یا رب المہدی! یہ دنیا ایک صاحب رکھتی ہے، یہ تیرے بندے ایک صاحب رکھتے ہیں، یہ دنیا جو تیرا محضر ہے کہ جس کو تو نے اپنی حجت واقعی سے کبھی محروم نہیں رکھا، ایسی کونسی خطا ہوئی ہے تیرے بندوں سے کہ اسکے ہوتے ہوئے بھی اسکی رعیت اسکے دیدار سے، اسکے فرمان سے محروم ہے۔

اے عدالت و آزادی کے وہ خدا کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں، بنی آدم نے تیرے صاحبان وحی کو رہبر و رہنماء و پیشوا مان کر ہزاروں برس گذارے ہیں اور اگر نبوت کا سلسلہ اپنی تکمیل کو پہنچا ہی دیا تو بعد از نبوت کے دور کا تذبذب بھی ختم فرما، اپنے قرآن کے صاحب کی الٰہی حکومت سے اب اپنے بندوں کو محروم نہ رکھ۔ گستاخی معاف، جسارت کی معذرت، کیا پوچھ سکتا ہوں کہ یہ دنیا مشرکین مکہ سے زیادہ جاہل ہے یا پھر بنی اسرائیل کی امت سے زیادہ سرکش، جو اس کے لئے سنت الٰہی تبدیل دکھائی دے رہی ہے جبکہ تیرا وعدہ ہے کہ تیری سنت میں نہ تبدیلی ہے اور نہ ہی تحول! دنیا اور اہلیان دنیا کو اسکی ضرورت ہے اور تیرے نظام میں تو طلب پر رسد کی گواہی آنکھ بند کرکے دی جاسکتی ہے، ممکن نہیں کہ تجھ سے مانگا جائے اور نہ ملے، ایسا ممکن نہیں ہے لیکن اس ایک طلب کو صدیاں بیت چکی ہیں، اشکو الیک اور ابکی کی فریادیں کب تلک۔؟!

کہتے ہیں کہ کسی در کو زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ کھٹکھٹاؤ اور در نہ کھولا جائے تو پلٹ جاؤ، تجھ سے زیادہ تو تیرے بندوں پر مہربان کوئی نہیں، اے اسمع السامعین، اے ابصر الناظرین، عمر تمام ہو رہی ہے، زندگی کی شام ہو رہی ہے، کیا تیرے در سے اس نیمہ شعبان پر بھی سوالی خالی پلٹایا جائے گا؟! کیا ظہور طلب عریضے پر منظوری کا حکم صادر نہیں ہوگا!؟ اے لیس کمثلہ شی! تجھ سے زیادہ کون علم رکھتا ہے کہ زندگی کی ہر شے پر اسکو ترجیح دی ہے، زندگی کی ہر گھڑی میں اسکو اپنا حاکم، صاحب، سرپرست مانا ہے، تجھ سے مانگا ہے تو سب سے پہلے اسکے عام ظہور کو مقدم رکھ کر مانگا ہے، تو تو جانتا ہے کہ اسکو مائنس کرکے زندگی گذارنے کا سوچا تک نہیں، تو تو جانتا ہے کہ دل و دماغ پر اسکی حکومت کا اقرار و اعتراف کیا ہے؟ تو تو جانتا ہے کہ ہر چیز کو اس پر قربان کرنے تک کی پیشکش کی جا چکی ہے کہ پہلے اسکا ظہور عام کر دے پھر چاہے سب کچھ لے لے، یہ سودا بھی منظور ہے، لیکن ایسا کیوں ہے کہ ڈیل بھی قبول نہیں کی جا رہی، کیوں؟!

یا صاحبی فی وحشتی! تیرے ہوتے ہوئے بھی عالم وحشت کس لئے؟ اس لئے کہ تیری حجت واقعی، تیرا معصوم ولی عالم بشریت کے سامنے ظاہر نہیں ہے۔ دنیا کے ہر مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ عالم استکبار تو دنیا کا ڈی فیکٹو حاکم ہے، لیکن بندگان خدا کا اصلی حاکم اللہ کا معصوم ولی تاحال عوام الناس کے درمیان بھی ان سے اوجھل ہے! یہ دنیا بنی اسرائیل کے سرکش، دور جاہلیت کے عرب مشرکین کی طرح بھی ہے، تب بھی اللہ کے معصوم ولی، اسکی حجت واقعی کو موجود ہونا چاہیئے، کیونکہ ماضی میں معصومین اپنی امتوں کے درمیان ظاہر رہتے ہوئے قیادت، رہبری و رہنمائی کیا کرتے تھے۔ بدترین گناہگاروں کی موجودگی کے ہوتے ہوئے بھی اللہ کا یہ لطف و کرم اپنے بندوں پر رہا، اسلئے اب امت محمدی پر بھی یہ لطف و کرم بحال ہونا چاہیئے۔ دکھی انسانیت کا نالہ و فریاد، آہ و بکا اب وارث معصومین (ع) کے عام ظہور، انکی حکومت کی صورت میں قبول کر لیا جانا چاہیئے۔ مظلوم کی فریاد آسمانوں کو چیر کر مقام قبولیت سے ہوتی ہوئی مقام اجراء تک پہنچ جانی چاہیئے۔

یا من الیہ معولی، یا من الیہ شکوت احوالی! زندگی کا یہ جمعہ بھی اسکے ظہور کے بغیر گذر چکا۔ اس برس بھی نیمہ شعبان تک اسکی زیارت سے محروم بشریت کے صدیوں طویل دکھ کا نوحہ تیری بارگاہ میں پہنچا دیا ہے۔ جان عالم بر لب آمد، ای خدا،، مھدی نہ آمد، چشم عالم پر ز خون شد، ای خدا،، مھدی نہ آمد! عالم انسانیت کا یہ نوحہ آج بھی فضاء کو غمگین کر رہا ہے اور دنیا کے یہ ندبہ خواں چشم براہ ہیں کہ اب عام ظہور ہو، دکھی انسانیت کا نجات دہندہ، عدالت اجتماعی کو قائم کرنے والی الہیٰ حکومت کا حاکم اب فرمان جاری کرے تو لبیک یا مہدی کا عالمگیر نعرہ دنیائے استکبار کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکے۔ کاش کہ ایسا ہو، یہی وہ دعا ہے، یہی وہ خواہش ہے، جس پر دل و دماغ سمیت پورے وجود کا اتفاق ہے، اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیونکہ مائنس امام زمان (عج) دکھی انسانیت، مستضعفین، پا برہنہ، ستم رسیدہ انسانوں کی مشکلات کا مداوا ممکن نہیں ہے.