دو بری عادتیں

حدیث :

قال رسول الله(ص) :ایاکم وفضول المطعم فانہ یسم القلب بالقسوة،ویبطیٴ باالجوارح عن طاعة،ویصم الهمم عن سماع الموعظة وایاکم وفضول النظر فان یبدر الهویٰ،ویولد الغفلة

ترجمہ :
حضرت رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں کہ زیادہ کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے آدمی سنگدل بن جاتا ہے اور اعضاء بدن میں سستی آ تی ہے۔ جو الله کے حکم پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اور زیادہ کھانا کانوں کو بہرہ بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان نصیحت کو نہیں سنتا۔ اسی طرح ادھر ادھر دیکھنے سے پرہیز کرو کیونکہ آنکھوں کی یہ حرکت ہوا وہوس کو بڑھاتی ہے اور انسان کو غافل بنادیتی ہے ۔

حدیث کی شرح :

اوپر کی حدیث میں زیادہ کھانے اور ادھر ادھر فضول نگاہ کرنے سے منع کیاگیا ہے ۔

1. زیادہ کھانا :

غذا میں اعتدال وہ مسئلہ ہے جس کی اہمیت سے ہم واقف نہیں ہیں اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ اس سے جسم اور روح پر کتنے اہم اثرات پڑتے ہیں۔
پس زیادہ کھانا جسمانی اورروحانی دونوں پہلوؤں سے قابل غور ہے ۔

الف:جسمانی پہلو

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کی اکثر بیماریاں زیادہ کھانے کی وجہ سے ہے اسکے لئے کچھ طبیب یہ استدلال کرتے ہیں کہ: جراثیم ہمیشہ چارمشہور طریقوں (ہوا،کھانا،پانی اور کبھی کبھی بدن کی کھال کے ذریعہ)سے بدن میں داخل ہوتے ہیں اور ان کو روکنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔
جس وقت بدن کی یہ کھال (جو جراثیم کو بدن میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ایک مضبوط ڈھال کا کام انجام دیتی ہے ) زخمی ہو جائے تو ممکن ہے کہ اسی زخم کے ذریعہ جراثیم بدن میں داخل ہو کر بدن کی دفاعی طاقت کو تباہ کردیں۔اس بنا پر ہم ہمیشہ مختلف قسموں کے جراثیموں وبیماریوں کے حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ اور ہمارا بد ن اسی صورت میں ا ن سے دفاع کرسکتا ہے جب اس میں عفونت کے مرکز نہ پائے جاتے ہوں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بدن کی فالتو چربی جو بدن میں مختلف جگہوں پر اکٹھا ہو جاتی ہے وہی بہت سے جراثیموں کے پھلنے پھولنے کا ٹھکانہ بنتی ہے ۔ٹھیک اسی طرح جیسے کسی جگہ پر کافی دنوں تک پڑا رہنے والا کوڑا بیماری اور جراثیم کے پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔ جوچیزیں ان بیماریوں کا علاج کرسکتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس اضافی چربی کو پگھلایا جائے۔ اور چربی کو پگھلانے کا آسان طریقہ روزہ ہے اور یہ وہ استدلال ہے جس کاسمجھنا سب کے لئے آسان ہے ۔کیونکہ ہر انسان جانتا ہے کہ جب بدن میں فالتو غذا موجودہو اور وہ بدن میں جذب نہ ہو رہی ہو تو بدن میں اکٹھاہو جاتی ہے جس کے نیتجہ میں دل کا کام بڑھ جاتاہے ،بطور خلاصہ بدن کے تمام اجزا پر بوجھ بڑھ جاتا ہے جس کی بنا پر دل اور بدن کے دوسرے حصے جلد بیمار ہو جاتے ہیں اوراس سے آدمی کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ اس بنا پر اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ صحت مند رہے تو اسے چاہئے کہ زیادہ کھانے سے پرہیز کرے اور کم کھانے کی عادت ڈالے خاص طور پر وہ لوگ جوجسمانی کام کم کرتے ہیں ۔
ایک طبیب کا کہنا ہے کہ میں بیس سال سے مریضوں کے علاج میں مشغول ہوں میرے تما م تجربوں کا خلاصہ اس ایک جملے میں ہے:”کھانے میں اعتدال اور ورزش “

ب: روحانی پہلو :

یہ حدیث زیادہ کھانے کے تین اہم روحانی اثرات کی طرف اشارہ کررہی ہے :
1. زیادہ کھانا سنگدل بناتا ہے ۔
2. زیادہ کھانا عبادت میں سستی کا سبب بنتا ہے۔یہ بات پوری طرح سے واضح ہے کہ جب انسان زیادہ کھاتا ہے تو پھر صبح کی نماز آسانی کے ساتھ نہیں پڑھ پاتااور اگرجاگ بھی جاتا ہے تو سست رہتا ہے ۔لیکن جب ہلکا و کم کھانا کھاتا ہے تو اذان کے وقت یا اس سے کچھ پہلے جاگ جاتا ہے خوش و خرم ہوتا ہے اور عبادت و مطالعہ کے لئے تازہ دم ہوتا ہے۔
3. زیادہ کھانا انسان سے وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کی قوت چھین لیتا ہے۔ جب انسان روزہ رکھتاہے تو اس کے اندر رقت قلب پیدا ہوتی ہے اور اس کی معنویت بڑھ جاتی لیکن جب پیٹ بھرا ہوتا ہے تو انسان کی فکر صحیح کام نہیں کرپاتی اور وہ اپنے آپ کوالله سے دور کرلیتا ہے۔
شاید آپ نے غور کیاہو کہ ماہ رمضان المبارک میں لوگوں کے دل وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کے لئے زیادہ آمادہ رہتے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ بھوک اور روزہ دل کوپاکیزہ بناتے ہیں۔

۲ ۔ ادھرادھر دیکھنا :

روایت میں” نظر “سے کیا مرادہے؟
پہلے مرحلہ میں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شاید مراد نامحرموں کا دیکھنا ہو،جو کہ ہوا پرستی کا سبب بنتا ہے ۔لیکن یہ بھی بعید نہیں ہے کہ اس سے بھی وسیع معنی مراد ہوں یعنی ہر وہ نظر جو انسان میں ہوائے نفس پیدا کرنے کا سبب بنے مثال کے طور پر ایک عالیشان گھر کے قریب سے گذرتے ہوئے اسے ٹکر ٹکر دیکھنا اور آرزو کرنا کہ کاش میرے پاس بھی ایسا ہی ہوتا یا کسی گاڑی کے آخری ماڈل کو دیکھ کر اس کی تمنا کرنا۔آروز و شوق ،طلب و چاہت کے ساتھ کسی چیز کو دیکھنا تیزی کے ساتھ غفلت کے طاری ہونے کاسبب بنتاہے کیونکہ اس سے انسان میں دنیا کی محبت پیدا ہوتی ہے ۔ورنہ نگاہ عبرت ،نگاہ توحیدی یا وہ نگاہ جو فقیروں کی مدد کے لئے ہو یا وہ نگاہ جو کسی مریض کے علاج کے لئے ہو ان کے لئے تو خاص تاکید کی گئی ہے اور یہ پسندیدہ بھی ہے ۔

نکتہ :

جیسا کہ روایات اور نہج البلاغہ میں بیان ہوا ہے کہ دنیاکے بہت سے مال اور مقام ایسے ہیں جو” کل شیٴ من الدنیا سماعه اعظم من عیانه“ کا مصداق ہیں یعنی د نیا کی ہر چیز دیکھنے کے مقابلے سننے میں بڑی ہے بقول مشہور ڈھول کی آواز دور سے سننے میں اچھی لگتی ہے لیکن جب کوئی ڈھول کو قریب سے دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اندر سے خالی ہے اور اس کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے والی ہے ۔
مرحوم آیة الله العظمیٰ بروجردی رحمة الله علیہ نے ایک زمانہ میں اپنے درس میں نصیحت فرمائی کہ ”اگر کوئی طالب علم اس نیت سے درس پڑھتا ہے کہ وہ اس مقام پر پہنچے جس پر میں ہوں تو اس کے احمق ہونے میں شک نہ کرو۔آپ لوگ فقط دور سے اس مرجعیت کو دیکھتے ہیں اور فکر کرتے ہیں (جب کہ وہ مرجع علی الاطلاق تھا اور ان کاکوئی ثانی نہیں تھا ) لیکن میں جس مقام پر ہوں نہ اپنے وقت کا مالک ہوں اور نہ اپنے آرام کا“تقریباً دنیا کی تمام بخششیں ایسی ہی ہیں ۔