ہے ہماری درسگاہ کربلا کربلا

(تحریر: محمد حسن جمالی)

واقعہ کربلا پر نظر ڈالنے والے لوگ دو طرح کے ہیں، کچھ لوگ واقعہ کربلا کو سطحی نظر سے دیکھتے ہیں، واقعہ کربلا پر سرسری نگاہ کرکے گزر جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں واقعہ کربلا ان کی نظر میں ایک روز کی جنگ کا نام ہے کہ جس میں کچھ افراد مظلومانہ طریقے سے مارے گئے، جس کے نتیجے میں وہ کہتے ہیں کہ جو ہوا سو ہوا، ہر سال محرم الحرام میں واقعہ کربلا کی یاد میں عزاداری برپا کرنا، لوگوں کے اجتماع میں واقعہ کربلا کو مکرر بیان کرنا، واقعہ کربلا میں مظلوم واقع ہونے والے افراد کا تذکرہ کرنا، ان کی یاد میں سینہ زنی، مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کرنا ضیاع وقت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر ہو کر واقعہ کربلا کو سطحی نظر سے دیکھنے کے بجائے اسے عالمانہ اور مفکرانہ طریقے سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ صرف واقعہ کربلا کو پڑھنے پر اکتفا نہیں کرتے ہیں بلکہ تمام جوانب سے اس میں عمیق فکر بھی کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا معرض وجود آنے کے اسباب و علل کو بھی مورد توجہ قرار دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سامنے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ واقعہ کربلا عبارت ہے حق اور باطل کے ٹکراو سے اور اس واقعے میں بشریت کی عملی زندگی کے لئے وہ اسباق موجود ہیں، جس کی نظیر کائنات میں نظر نہیں آتی۔ واقعہ کربلا میں دقت اور غور کرنے والوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ کربلا درس گاہ سیرت و کردار بھی ہے اور روشنی عالم افکار بھی۔ کربلا مرکز قربانی و ایثار بھی ہے، کربلا کی عظمت و رفعت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کربلا آج بھی تاریخ کی زندہ حقیقت ہے۔ کربلا درس گاہ جذبہ بیدار ہے، مخزن شجاعت ہے، ترجمان مہر و وفا ہے، صبر و استقلال کی معراج ہے، عزم و ہمت اور جرآت کی اعلٰی ترین و عمدہ ترین مثال ہے۔ اگر آج بھی دنیا کے لوگ کربلا کے روحانی انقلاب کا بغور مطالعہ و مشاہدہ کریں تو سکون و نجات ان کا مقدر بن سکتی ہے۔

واقعہ کربلا اور سید الشہداء کے ارشادات عالیہ کا عمیق فکر کے ساتھ مطالعہ کرنے سے ہماری عملی زندگی کے لئے بہت سارے دروس مل جاتے ہیں۔ ان کے کچھ نمونے یہ ہیں:
(1) مشکل ترین وقت میں بهی پیغمبر (ص) کی سنت کو زندہ رکھنا ضروری ہے
بنی امیہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی سنت کو مٹا کر زمانہٴ جاہلیت کے نظام کو جاری کیا جائے۔ یہ بات حضرت کے اس قول سے سمجھ میں آتی ہے کہ ”میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے یا فساد پھیلانے کے لئے نہیں جا رہا ہوں، بلکہ میرا مقصد امت اسلامی کی اصلاح اور اپنے جد پیغمبر اسلام (ص) و اپنے بابا علی بن ابی طالب کی سنت پر چلنا ہے۔”

(2) باطل کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹنا مومن کی ذمہ داری ہے
بنی امیہ اپنے ظاہری اسلام کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ واقعہ کربلا نے ان کے چہرے پر پڑی اسلامی نقاب کو الٹ دیا، تاکہ لوگ ان کے اصلی چہرے کو پہچان سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ نے انسانوں و مسلمانوں کو یہ درس بھی دیا کہ انسان کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور دین کا نقاب اوڑے فریبکار لوگوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔

(3) امر بالمعروف و نہی از منکر کرنا واجب ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اس قیام کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا۔ آپ نے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا کہ: اے اللہ! میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہے۔

(4) واقعہ کربلا نے حقیقی اور ظاہری مسلمانوں کے فرق کو نمایاں کر دیا
آزمائش کے بغیر سچے مسلمانون، معمولی دینداروں اور ایمان کے جھوٹے دعویداروں کو پہچاننا مشکل ہے اور جب تک ان سب کو نہ پہچان لیا جائے، اس وقت تک اسلامی سماج اپنی حقیقت کا پتہ نہیں لگا سکتا۔ کربلا ایک ایسی آزمائش گاہ تھی، جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی و حق پرستی کے دعووں کو پرکھا جا رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے خود فرمایا کہ لوگ دینا پرست ہیں، جب آزمائش کی جاتی ہے تو دیندار کم نکلتے ہیں۔

(5) عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت و آزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سو جانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کر لیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ: ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میں ذلت کو قبول کرنے والا نہیں ہوں۔

(6) طاغوتی طاقتوں سے لڑنا سچے مسلمان کی نشانی ہے
امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا، کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبر اکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ ”اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر رہا ہو، تو اس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے اللہ کی طرف سے سزا دی جائے گی۔”

(7) دین پر ہر چیز کو قربان کر دینا چاہئے
دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں، بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے امام علیہ السلام نے شہادت کو قبول کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اہمیت بہت زیادہ اور وقت پڑنے پر اس کو بچانے کے لئے سب چیزوں کو قربان کر دینا چاہئے۔

(8) شہادت کے جذبے کو ہمیشہ دل میں زندہ رکھنا چاہیے
جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے، وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے، یہ خونی قیام کیا، تاکہ عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو اور عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ: میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔

(9) اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا چاہیے
جو چیز عقیدہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، وہ ہے اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا۔ امام علیہ السلام نے عاشورا کی پوری تحریک میں یہی کیا کہ اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ امام علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک بہترین درس یہ دیا کہ حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکنا چاہئے۔

(10) جب حق کیلئے لڑو تو ہر طبقہ سے کمک حاصل کرو
کربلا سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہئے، تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہوسکے۔ امام علیہ السلام کے ساتھیوں میں جوان، بوڑھے، سیاہ، سفید، غلام، آزاد سبھی طرح کے لوگ موجود تھے۔

(11) افرادی قوت کی قلت
کربلا، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی مکمل طور پر جلوہ گاہ ہے کہ ”حق و ہدایت کی راہ میں افراد کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے۔“ جو لوگ اپنے ہدف پر ایمان رکھتے ہیں، ان کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے اور نہ ہی ہدف سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ امام حسین علیہ السلام اگر تنہا بھی رہ جاتے، تب بھی حق سے دفاع کرتے رہتے اور اس کی دلیل آپ کا وہ قول ہے، جو آپ نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب جہاں چاہو چلے جاؤ، یہ لوگ فقط میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(12) ایثار کے ساتھ سماجی تربیت بھی ضروری ہے
کربلا، تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و وعظ و نصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام پوشیدہ ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا، تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک، اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے۔

(13) تلوار پر خون کو فتح
مظلومیت سب سے اہم اسلحہ ہے۔ یہ احساسات کو جگاتی ہے اور واقعہ کو جاودانی بنا دیتی ہے۔ کربلا میں ایک طرف ظالموں کی ننگی تلواریں تھی اور دوسری طرف مظلومیت۔ ظاہراً امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی شہید ہوگئے۔ لیکن کامیابی انہی کو حاصل ہوئی۔ ان کے خون نے جہاں باطل کو رسوا کیا وہیں حق کو مضبوطی بھی عطا کی۔ جب مدینہ میں حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ابراہیم بن طلحہ نے سوال کیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ تو نماز کے وقت ہوگا۔

(14) پابندیوں سے نہیں گھبرانا چاہئے
کربلا کا ایک درس یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے عقیدہ و ایمان پر قائم رہنا چاہئے۔ چاہے تم پر فوجی و اقتصادی پابندیاں ہی کیوں نہ لگی ہوں۔ امام حسین علیہ السلام پر تمام پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ کوئی آپ کی مدد نہ کرسکے، اس لئے آپ کے پاس جانے والوں پر پابندی تھی۔ نہر سے پانی لینے پر پابندی تھی۔ مگر ان سب پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی کربلا والے نہ اپنے ہدف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی دشمن کے سامنے جھکے۔

(15) نظام
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی پوری تحریک کو ایک نظام کے تحت چلایا۔ جیسے بیعت سے انکار کرنا، مدینہ کو چھوڑ کر کچھ مہینے مکہ میں رہنا، کوفہ و بصرے کی کچھ شخصیتوں کو خط لکھ کر انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لئے دعوت دینا۔ مکہ، منٰی اور کربلا کے راستے میں تقریریں کرنا وغیرہ۔ ان سب کاموں کے ذریعے امام علیہ السلام اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عاشورا کے قیام کا کوئی بھی جز بغیر تدبیر کے پیش نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عاشور کی صبح کو امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے درمیان جو ذمہ داریاں تقسیم کی تھیں، وہ بھی ایک نظام کے تحت تھیں۔

(16) خواتین کے کردار سے استفادہ
خواتین نے اس دنیا کی بہت سی تحریکوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو حضرت عیسٰی، حضرت موسٰی، حضرت ابراہیم علیہم السلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے واقعات میں بھی خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ اسی طرح کربلا کے واقعات کو جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت سکینہ علیہا السلام، اسیران اہل بیت اور کربلا کے دیگر شہداء کی بیویوں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی بھی تحریک کے پیغام کو عوام تک پہنچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کربلا کی تحریک کے پیغام کو عوام تک اسیران کربلا نے ہی پہنچایا ہے۔

(17) میدان جنگ میں بھی یاد خدا
جنگ کی حالت میں بھی اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر کو نہیں بھولنا چاہئے۔ میدان جنگ میں بھی عبادت و یاد خدا ضروری ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور دشمن سے جو مہلت لی تھی، اس کا مقصد تلاوت قرآن کریم، نماز اور اللہ سے مناجات تھا۔ اسی لئے آپ نے فرمایا تھا کہ میں نماز کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔ شب عاشور آپ کے خیموں سے پوری رات عبادت و مناجات کی آوازیں آتی رہیں۔ عاشور کے دن امام علیہ السلام نے نماز ظہر کو اول وقت پڑھا۔ یہی نہیں بلکہ اس پورے سفر میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نماز شب بھی قضا نہ ہوئی، چاہے آپ کو بیٹھ کر ہی نماز کیوں نہ پڑھنی پڑی ہو۔

(18) اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا
سب سے اہم بات انسان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ چاہے اس ذمہ داری کو نبھانے میں انسان کو ظاہری طور پر کامیابی نظر نہ آئے اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے، چاہے اسکا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی، اپنے کربلا کے سفر کے بارے میں یہی فرمایا تھا کہ جو اللہ چاہے گا بہتر ہوگا، چاہے میں قتل ہو جاؤں یا مجھے (بغیر قتل ہوئے) کامیابی مل جائے۔ بغیر کسی مبالغے کے ہر حسینی کے یہ دل کی آواز ہے کہ ہے ہماری درسگاہ کربلا کربلا۔

حوالہ:
اہم دروس ماخوذ از سائٹ آیت اللہ فاضل لنکرانی