دین است حسین (ع)، دین پناہ است حسین (ع)

(تحریر: عمران خان)

دس محرم یعنی یوم عاشور وہ دن ہے کہ جب حضرت امام حسین نے میدان کربلا میں حق و باطل، علم و جہل، رضائے الٰہی اور خواہشات نفسانی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والی وہ عظیم و بے مثل قربانی پیش کی کہ محرم الحرام کی نسبت ہی امام عالی مقام سے ہوگئی۔ امام حسین (ع) کی ذات اقدس اور مقصد شہادت اتنا بلند ہے کہ ضروری نہیں ہر ذہن ان فضائل، مراتب اور راہ خدا میں اس بے مثل قربانی کا احاطہ کرسکے، جو خاندان نبوت نے میدان کربلا میں پیش کی۔

تاریخ اسلام کی مستند ترین روایات میں ہے کہ امام عالی مقام کی ولادت باسعادت کے کچھ دیر بعد ہی سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ (ع) کو اپنے ہاتھوں پر لیا اور آپ (ص) آبدیدہ ہوگئے، خوشی کے موقع پر کیفیت رنج کا سبب جب خاندان رسالت نے دریافت کیا تو آپ (ص) نے فرمایا کہ میرے اس فرزند کو بیدردی سے شہید کیا جائیگا۔ اسی طرح مستند روایات میں ہے کہ آپ (ص) نے حضرت بی بی ام سلمہ کو خاک دی تھی اور فرمایا تھا کہ میدان کربلا میں میرے نواسے حسین (ع) کو شہید کیا جائے گا۔ جس وقت اس مٹی کا رنگ سرخ ہو جائے (خون آلود ہو جائے) تو سمجھ لینا کہ حسین (ع) کو شہید کر دیا گیا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ خانوادہ رسالت امام عالی مقام کی ولادت کے دن سے ہی آپ کی شہادت سے بخوبی آگاہ تھا۔ شائد اسی لئے امام الانبیاء، رحمت للعالمین محمد مصطفٰی (ص) اپنی حیات مبارکہ میں بار بار امام عالی مقام کے فضائل و مراتب دنیا پر بالعموم اور مسلمانوں پہ بالخصوص آشکارا کرتے رہے، تاکہ اگر کبھی کہیں امام حسین (ع) ’’ھل من ناصر ینصرنا‘‘ کی صدا بلند کریں تو ان کی مدد و نصرت کیلئے اہل اسلام کی راہ میں کوئی رکاوٹ، کوئی دلیل یا کوئی بہانہ حائل نہ رہے۔

آپ (ص) مدینے کی گلیوں میں اپنے کندھوں پر بٹھا کر حسنین کریمین کو سیر کراتے رہے، جب کسی نے کہا کہ تمہاری سواری کتنی اچھی ہے تو آپ (ص) نے فرمایا کہ یہ دیکھو سوار کتنے اچھے ہیں۔ نماز میں حالت سجدہ میں امام عالی مقام جب آپ (ص) کی پشت پر سوار ہوئے تو آپ (ص) نے سجدے کو طول دیا۔ کبھی فرمایا کہ حضرت حسنین کریمین جوانان جنت کے سردار ہیں۔ کبھی فرمایا کہ میں حسین (ع) سے ہوں اور حسین (ع) مجھ سے ہیں، کبھی فرمایا کہ حضرت حسنین کی خوشی میں میری خوشی ہے۔ جس طرح نبی کریم (ع) حضرت حسنین (ع) کی خوشی مقدم رکھتے، اسی طرح اللہ رب العزت نے بھی خانوادہ رسالت کی خوشی کو اہمیت دی، جبھی تو ان کیلئے کبھی جنت سے لباس آئے تو کبھی قرآن کریم میں آیت تطہیر کے ذریعے خانوادہ رسالت کی پاکیزگی بیان فرمائی تو کبھی آیت مودت کے ذریعے دائرہ اسلام میں داخل ہر مسلمان کو رسول کریم کے قریبیوں سے محبت کا حکم سنایا گیا، مگر افسوس کہ تمام تر احکامات قرآنی، فرامین و کردار نبوی (ص) کو نظر انداز کرتے ہوئے نبی کریم کے کنبے کو ان کے جانثاران سمیت میدان کربلا میں تہ تیغ کیا گیا، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ میدان کربلا میں خاندان رسالت کے اس چراغ کو شہید کیا گیا، جن سے محبت و الفت کا لازمی حکم اللہ اور اس کے رسول (ص) نے دیا۔

میدان کربلا میں کئی روز تک قافلہ حسینی پر پانی بند کیا گیا۔ خاندان عصمت و طہارت کی حرمت پامال کی گئی۔ چھ ماہ کے شیر خوار ننھے حضرت علی اصغر سے لیکر نوے سالہ بزرگ صحابیوں تک کو بیدردی سے شہید کیا گیا۔ سانحہ کربلا کے بعد نبی زادیوں کو ننگے سر کوفہ و شام کے درباروں میں لایا گیا۔ امام عالی مقام گرچہ بار بار لشکر یزید کو اس قتل ناحق سے باز رہنے کی ہدایت فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ میدان کربلا میں آپ عالی مقام نے فوج اشقیاء سے فرمایا کہ کیا تم نے مجھے رسول (ص) کے کندھوں پر نہیں دیکھا۔؟ کیا میں نے شریعت بدل دی۔؟ یا میں نے دین بدل لیا۔؟ کیا میں تمہارے نبیؐ کا نواسہ نہیں ہوں۔؟ آپ (ع) کے یہ کلمات نہ صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آخری لمحوں تک آپ (ع) یزیدی فوج کو خاندان رسالت کے قتل سے باز رکھنے کی کوشش کرتے رہے بلکہ یہ کلمات اس بات کی بھی دلیل ہیں کہ واقعہ کربلا ’’دو شہزادوں‘‘ کے درمیان جنگ نہیں تھی، بلکہ آل رسول پر مسلط کردہ ایسی یکطرفہ جارحیت تھی، جس کا حقیقی مقصد واجبات اور شعائر اسلام کی مسخ شدہ صورت پر آل رسول سے مہر صداقت ثبت کرانا تھا، یہی وجہ ہے کہ بیت اللہ کی حرمت بچانے کی خاطر احرام حج کھول کر کربلا کی جانب سفر اختیار کرنے سے لیکر روز عاشور تک حضرت امام حسین (ع) دین الٰہی کی پاسداری کی تلقین اور اپنا و اپنے خانوادے کا تعارف کراتے رہے۔ علماء بیان کرتے ہیں کہ حج کے احرام کھول کر اپنے خانوادے سمیت کربلا کی جانب سفر اختیار کرکے حضرت امام حسین (ع) نے امت کو حقیقی جہاد کی نہ صرف اہمیت بتائی بلکہ یہ بھی سمجھا دیا کہ جب اصول و شعائر دین خطرے میں ہوں تو اس وقت حج جیسا عمل چھوڑ کر میدان میں حاضر ہونا لازم ہے۔

یزید جو کہ حاکم شام کی وفات کے بعد تخت پر مسلط ہوا اور خود ساختہ خلافت کی زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی مذہب فطرت کے الٰہی آئین کو ایسا پامال کیا کہ ارواح انبیا علیہم السلام بھی لرز گئیں۔ وہ خود شراب کے نشہ میں مست رہتا لوگوں کو اس کی رغبت دلاتا تھا، بیت المال کو اپنی عیاشی اور اپنے اقربا کی عیش و عشرت کے لئے استعمال کرتا تھا۔ اس کے دربار کی زینت گویا عورتیں تھیں، یہاں تک کہ اس نے حرام و حلال کے تصور کو بھی اس طرح پامال کرکے رکھ دیا کہ خونی رشتوں کی پاسداری بھی باقی نہ رہی۔ یزید کے اس گھناؤنے ترین کردار کے باوجود اس کے ظلم سے خوفزدہ ہو کر یا مال و زر و عہدوں کے لالچ میں کئی نام نہاد اسلام پسندوں نے یزید کی مخالفت مول لینے کی جرآت نہ کی، ہاں مگر ماسوائے حسین ابن علی (ع) کے۔ یزید اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا کہ جب تک وہ اپنی خود ساختہ خلافت اور شعائر اسلامی میں من مانی تبدیلیوں پر خانوادہ رسالت کے چراغ سے تصدیقی مہر ثبت نہیں کرا لیتا اس وقت تک اس کے جرائم، مکروہات اور گناہ دین مبین میں بطور دلیل شامل نہیں ہوسکتے، یعنی حرام و حلال، صحیح و غلط اور حق و باطل کے مابین تفریق قائم رہیگی، مگر اس وقت تک کہ آل رسول (ص) نعوذ باللہ بیعت یا حمایت نہ کر لیں۔

یزید کو اصول دین میں بدلاؤ کیلئے آل رسول کے سر ہر دو صورتوں میں درکار تھے، چاہے وہ جھکے ہوئے ہوں یا کٹے ہوئے۔ امام حسین (ع) نے مصائب و آلام کے پہاڑ قبول کرکے اپنا و اپنے اہل عیال کا سر کٹا کر سب کچھ لٹا دیا، مگر مذہب حقا کو کوئی گزند نہ پہنچنے دی۔ سانحہ کربلا کے اگلے دو سال میں یزید نے مکۃ المکرمہ پر چڑھائی کرکے، مسجد نبوی کو اصطبل میں تبدیل کرکے، حرمت والے شہروں میں ہزاروں باعصمت بچیوں کی عزت پامال کرکے اور ہزاروں مسلمانوں کو تہ تیغ کرکے کردار یزید کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا۔ جس کے بعد وہ لوگ جو میدان کربلا کے حقائق سے مکمل طور پر روشناس نہیں تھے، ان پہ بھی عیاں ہوا کہ حضرت امام حسین (ع) کا یزید کی بیعت سے انکار بنیادی طور پر دین مبین کے دفاع، مذہب حقا کی بقاء اور اصول دین بچانے کی خاطر تھا، ناکہ تخت و تاج کے حصول کی خاطر۔ روضہ رسول پر حاضری سے آپ (ع) نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، آپ (ع) نے محمد ابن حنفیہ کے نام لکھے گئے وصیت نامے میں بھی تحریر فرمایا تھا کہ ’’میں سرکشی اور جنگ و جدل کا ارادہ رکھتا ہوں اور نہ ہی میرا مقصد فساد پھیلانا ہے، نہ کسی پر ظلم کرنا، میں تو نانا کی امت کی اصلاح کیلئے نکلا ہوں، میری غرض امر بالمعروف نہی عن المنکر اور اپنے جد اور بابا کی سیرت کی پیروی ہے۔ آپ کا یہ جملہ فلسفہ شہادت عظمٰی کی عکاسی کرتا ہے کہ خدایا مجھے نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت ہے۔‘‘ پھر آپ ؑ یوں فرماتے ہیں کہ ’’اگر دین محمدؐ کی بقا میرے قتل کے سوا ممکن نہیں تو تلوارو آؤ مجھ پر ٹوٹ پڑو۔‘‘

اہل کربلا کی عظمتوں کی شناخت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب آپ (ع) کربلا میں وارد ہوئے تو پہلے مقتل گاہ کی زمین اپنے فرزند ہمشکل رسول اللہ حضرت علی اکبر کے نام سے خرید فرمائی، کربلا کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی آپ نے حقوق بشر کا یہ پہلا زریں اصول رقم کیا، وگرنہ ہنگامی حالات میں خرید و فروخت کی باریکیوں کا خیال کون رکھتا ہے۔ لاکھوں کی یزیدی فوج کے سامنے فقط دین الٰہی کے دفاع کی خاطر امام عالی مقام نے اپنا سب کچھ لٹا دیا، بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں کے لاشے اٹھائے، یار و انصار قربان کئے، اپنی مستورات کی اسیری قبول کی، اپنی معصوم چار سالہ یتیم بیٹی کی زندانوں میں قید گوارا کی، مگر اصول دین پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ مفسرین کے مطابق امام عالی مقام کا یہ فرمان ’’مجھ جیسا، اس جیسے کی بیعت کبھی نہیں کرسکتا‘‘ کا حقیقی ربط حدیث نبوی ’’حسین منی و انا من الحسین ‘‘میں پنہاں ہے۔ خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی فرماتے ہیں کہ دین است حسین، دین پناہ است حسین (ع)، بے شک کہ دین بھی حسین ہے اور دین کو پناہ دینے والا بھی حسین ہے۔ خدا سب مسلمانوں کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کے راستے پر چلنے کی توفیق دے اور کارِ حسینی سے محبت اور کردار یزیدی سے نفرت کا جذبہ عطا کرے۔ آمین