عاشورا جہالت کیخلاف اعلان جنگ

(تحریر: محمد جان حیدری)

امام حسين (ع) کی زيارت اربعين ميں ايک جملہ ذکر کيا گيا ہے جو مختلف زيارتوں اور دعاوں کے جملوں کی مانند قابل تآمّل اور معنی خيز جملہ ہے اور وہ جملہ يہ ہے ’’وَ بَذَلَ مَھجَتَہُ فِيکَ‘‘، يعنی زيارت پڑھنے والا خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’امام حسين (ع) نے اپنی پوری ہستی اور دنيا، اپنی جان اور خون کو تيري راہ ميں قربان کرديا‘‘؛ ’’لِيَستَنقِذَ عِبَادِکَ مِنَ الجَھَالَۃِ وَحَيرَۃِ الضَّلَالَۃِ”، ’’تاکہ تيرے بندوں کو جہالت سے نجات دلائيں اور ضلالت و گمراہی کی حيرت و سرگردانی سے اُنہيں باہر نکاليں۔‘‘ يہ اِس حقيقت کا ايک رُخ ہے، يعنی يہ حسين ابن علی ہے کہ جس نے قيام کيا ہے۔ اِس حقيقت کا دوسرا رخ جسے اِس زيارت کا اگلا جملہ بيان کرتا ہے، ’’وَقَد تَوَازَرَ عَلَيہِ مَن غَرَّتہُ الدُّنيَا وَبَاعَ حَظَّہُ بِالاَرذَلِ الاَدنٰي‘‘، اِس واقعہ ميں امام کے مدِ مقابل وہ لوگ تھے جو زندگی و دنيا سے فريب کھا کر اپنی ذات ميں کھو گئے تھے، دنياوی مال و منال، خواہشات نفسانی اور شہوت پرستی نے اُنہيں خود سے بے خود کر ديا تھا، ’’وَبَاعَ حَظَّہُ بِالاَرذَلِ الاَدنٰي‘‘؛ ’’اُنہوں نے اپنے حصے کو کوڑيوں کے دام بيچ ڈالا۔‘‘ خداوند عالم نے عالم خلقت ميں ہر انسان کيلئے ايک خاص حصہ قرار ديا ہے اور وہ حصہ، دنيا و آخرت کي سعادت و خوش بختی سے عبارت ہے۔ اِن لوگوں نے اپنی دنيا و آخرت کی سعادت کو دنيا کی صرف چند روزہ فانی زندگی کے عوض فروخت کر ڈالا۔ يہ ہے حسينی تحريک کا خلاصہ کہ ايک طرف وہ عظمت و بزرگی اور ايک طرف يہ پستی اور ذلت و رسوائی!

اِس بيان ميں غور و فکر کرنے سے انسان اِس بات کا احساس کرتا ہے کہ حسينی تحريک کو دو مختلف نگاہوں سے ملاحظہ کيا جا سکتا ہے اور يہ دونوں نگاہيں درست ہيں، ليکن يہ دونوں نگاہيں مجموعاً اِس تحريک کے مختلف اور عظيم ابعاد و جہات کی نشاندہی کرنے والی ہيں۔ ايک نگاہ امام حسين (ع) کی تحريک کی ظاہری صورت سے متعلق ہے کہ آپ کی يہ تحريک و قيام؛ ايک فاسق، ظالم اور منحرف يزيدي حکومت کے خلاف تھا، ليکن ظاہری و معمولی اور آدھے دن ميں ختم ہو جانے والي يہی تحريک درحقيقت ايک بہت بڑی تحريک تھی کہ جسے يہ نگاہ دوم بيان کرتی ہے اور وہ انسان کی جہالت و پستی کے خلاف امام کي تحريک ہے۔ صحيح ہے کہ امام حسين (ع) گرچہ يزيد سے مقابلہ کرتے ہيں، ليکن يہ امام عالی مقام کا صرف يزيد جيسے بے قيمت اور پست انسان سے تاريخی اور عظيم مقابلہ نہيں ہے بلکہ انسان کی جہالت و پستی، ذلت و رُسوائی اور گمراہی سے مقابلہ ہے اور درحقيقت امام نے اِن سے جنگ کی ہے۔

منابع:
مفاتیح الجنان
کامل الزیارات
آفتاب در مصاف
بازشناسی کربلا