شہدائےکربلا کی یاد منانے کا بنیادی مقصد

( سید ماجد حسین رضوی)

اکثر انسان شہادت کیلئے بہت کوشش کرتے ہیں اور اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کی غرض سے شہادت کا استقبال کرتے ہیں، ایسی روح کے مالک افراد جو دنیوی تعلقات سے دور ہوتے ہیں، کے جذبات کو شہادت کہتے ہیں۔ شہادت انسان کی زندگی کا بہترین معاملہ ہے، جو وہ خدا کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ در واقع انسان اپنی جان دے کر ہمیشہ کے لئے جنت میں جاتا ہے، دین کے حقیقی پیروکار ایسی روح اور ایسے جذبے کے مالک ہوتے ہیں، اسلئے وہ راہ اسلام میں اپنی جان کی قربانی دینے سے نہیں کتراتے ہیں۔ عاشورہ کے واقعہ میں امام حسینؑ کے باوفا ساتھی کربلا کے میدان میں اسی بلند روح کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور خود امام حسین ؑ اس کا واضح نمونہ ہیں۔ امام حسینؑ کی ذات گرامی ایسی ہے جو تعارف کی محتاج نہیں ہے، یہ وہ حسین ؑ ہیں، جنہوں نے سسکتی ہوئی انسانیت کو نجات دلا کر صراط مستقیم پر گامزن کرکے جینے کا سلیقہ سکھایا اور اس کے ساتھ عزت، صداقت، عفت، مروت، عدالت، شجاعت و کرامت کے درس سے بھی بنی نوع انسان کو نوازا۔ یہ وہ حسینؑ ہیں، جنہوں نے اپنے خون سے اسلام ناب محمدیؐ کی آبیاری کی اور اس کو تمام بدعتوں، شبہات، خرافات اور توہمات سے پاک کیا۔ یہ وہ حسینؑ ہیں، جنہوں نے ہمیں آزادی کا حقیقی درس دیا۔ یہ وہ حسینؑ ہیں، جنہوں نے ظلم و جور اور استبداد کا رہتی دنیا تک قلع و قمع کر دیا اور مردہ انسانیت کو آب حیات پلا کر زندہ و بیدار کر دیا۔ شہدائے کربلا نے دنیا کو ایک ایسا چراغ دیا، جو قیامت تک لوگوں کو منور کرتا رہے گا۔

شخصیت جس قدر اہم ہوتی ہے، اس کی یاد اور اس کا تذکرہ بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے، چنانچہ آفاقی شخصیت کا تذکرہ بھی آفاقی ہوتا ہے۔ احسان شناس قوم اپنے محسنوں اور شہیدوں کی ایثار و قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرتی اور اپنی حیات کی ہر سانس کو اس کی مرہونِ منّت جانتی ہے، چنانچہ اس کا تذکرہ ہمیشہ باقی رکھتی ہے اور یہ تذکرہ کسی خاص قوم و مذہب سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس کا سرچشمہ انسان کی پاکیزہ فطرت ہے، جو محسنوں کی یاد منانے کا تقاضا کرتی ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے دینِ حق کو قائم کرنے اور باطل کو مٹانے کی خاطر جو عظیم کارنامہ انجام دیا، اس کی مثال تاریخ عالم و آدم میں نظر نہیں آتی ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں نے دین اسلام کو منہدم کرنے کی جو منظم سازش تیار کی تھی، جو ایک منظم منصوبے کے تحت یزید کی شکل میں نمایاں ہوئی تھی۔ امام حسین ؑ نے اپنے قیام سے اس سازش کے سارے تار و پود اس طرح بکھیر دیئے کہ خود یزید کے محل سے اذان کی آواز آنے لگی۔ امام حسینؑ کا تذکرہ ایک صدا ہے ……ایک آواز ہے، جو انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی رہتی ہے، ’’ہوشیار رہنا دشمنوں کے منصوبوں سے غافل نہ رہنا اور کبھی بھی ان کو اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہونے دینا، چاہئے اس کی خاطر تم کو بہت بڑی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔”

شہدائے کربلا کی عزاداری خدا و رسول ؐکے دشمنوں سے بیزاری اور نبی ؐو اہلبیتؑ سے اظہارِ محبت و عقیدت کا بہترین ذریعہ ہے۔ ذکر شہدائے کربلا دلوں کو حرارت بخشتا ہے، انسان کو حقیقی مجاہد بنا کر باطل سے لڑنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ حسینیؑ باطل کے آگے سر نہیں جھکاتا، کیونکہ حسین ؑ کا ذکر کرنے سے عزاداری کی روح روحِ حسین سے متصل ہوتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص نبیؐ اور اہلبیتؑ کی محبت میں غرق ہو اور آل نبی کے مصائب سے متاثر نہ ہو، ان کے فضائل و مناقب سن کر خوش نہ ہو۔ امام حسینؑ کا قیام حق کی زندگی اور باطل کی موت کی خاطر تھا۔ لہذا جہاں بھی یہ تذکرہ ہوگا، وہاں حق کی زندگی اور باطل کی موت کا تذکرہ ہوگا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے اہم فریضہ کا مقصد ہی اچھائیوں کا رواج اور برائیوں کا خاتمہ ہے۔ اگر ہم امام حسینؑ کے کلمات کا مطالعہ کریں تو ہمیں قدم قدم پر ملے گا کہ امام حسینؑ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے قیام کیا۔ حق سے بڑھ کر کوئی اچھائی نہیں اور باطل سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں۔ اس بنا پر عزاداری سیدالشہداء ؑ مسلسل حق اور اہل حق کی حمایت و نصرت اور باطل سے نفرت و بیزاری کا اعلان ہے۔ اس تذکرہ میں اخلاق اور انسانیت کے وہ اعلٰی نمونے نظر آتے ہیں، جس کی کوئی مثال نہیں۔ قرآن کریم نے یاد دہانیوں پر کافی زور دیا ہے۔ یاد دہانیوں سے بڑے فائدے ہیں، اگر ان پر کوئی فوری طور پر عمل پیرا نہ بھی ہو پھر بھی اتنے فائدے سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اعلٰی صفات و کردار کے فضائل و مناقب ذہن میں باقی رہتے ہیں اور اس کی تازگی کی مہک اسے دعوت عمل دیتی رہتی ہے۔

شہدائے کربلا کے ذریعے نہ صرف کربلا کا واقعہ تازہ رہتا ہے، بلکہ پوری تاریخ اور خاص طور پر تاریخ اسلام کو تازگی ملتی ہے۔ اگر عزاداری نہ ہوتی تو دشمنانِ اہلبیت ؑ اور غارت گرانِ اسلام اب تک یزید اور اس کے پیشروں کو ’’مقدس مآب‘‘ بنا چکے ہوتے اور اسلام کی تاریخ کو مسخ کرچکے ہوتے۔ اس وقت جو تاریخ میں سچے واقعات نظر آرہے ہیں، اس میں عزاداری کا بہت بڑا رول ہے۔ جب انسان اس واقعہ کو پڑھتا یا سنتا ہے تو اس کو ظلم اور ظالم دونوں سے نفرت ہوجاتی ہے اور اس طرح کے واقعات جو اسکو ظلم پر آمادہ کرتے ہوں، ان سے دامن کش ہوجاتا ہے۔ عزاداری صرف نقلِ واقعات اور بیانِ داستان نہیں ہے، بلکہ یہ تربیت اور تعلیم کی اوپن یونیورسٹی (Open University) ہے، جہاں مختلف ماہر اساتذہ کے ذریعے مختلف مضامین کے درس دیئے جاتے ہیں۔ عقائد، احکام، اخلاق، تاریخ، عبادات، معاملات قرآن، حدیث، فقہ….. ہر ایک درس یہاں بیان ہوتا ہے، یہی وہ جگہ ہے جہاں مناظرہ، خطابت اور موعظہ کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔ دنیا و آخرت کی کامیابی زندگی کے طریقے یہیں سکھائے جاتے ہیں۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ ملک کے حالات اور تعلیمی روِش کو مدنظر رکھتے ہوئے مقررین و ذاکرین کی زبان میں اور سامعین کے قبول کرنے کی صلاحیتوں میں چنداں فاصلہ پیدا کر دیا ہے، جس سے نئی نسل بات سن کر مفہوم تو نکال لیتی ہے، مگر تہہ تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔ لہذا اگر منبر کے وقار و تقدس کو محفوظ رکھتے ہوئے ایسی زبان استعمال کی جائے، جس کا ہر ہر لفظ سامعین اور خاص طور پر نئی نسل کو سمجھ میں آجائے تو افادیت اور تاثیر میں کافی اضافہ ہوجائیگا۔

اگر اہم باتوں کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے، مغربی اور غیر مغربی ممالک سے ثقافتی درآمدات سے پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کو بھی بیان کیا جائے۔ فکری، علمی اور ذہنی مشکلات کا واقعی حل پیش کیا جائے تو نئی نسل کی تربیت پر بہت اچھا اثر پڑے گا اور ان کیلئے زندگی کی صحیح سمتیں واضح و روشن ہوجائینگی۔ تذکرہ کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے، یہ عزاداروں کے اذہان و افکار کی تربیت کا سرچشمہ ہے اور اس کی تاثیر اور زیادہ گہری ہوجائے گی، اگر یہ مسائل مذکورہ بھی شامل ہوجائیں تو افادیت میں اضافہ ہوجائے گا۔ جب تک انسان عزاداری میں لگا رہتا ہے، بہت سی برائیوں اور منکرات سے محفوظ رہتا ہے۔ باطل کے اجتماعات اور گناہ کی محفل سے دور ہوجاتا ہے۔ یہ مختصر سی دوری بھی بہت غنیمت ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا دل پوری طرح مردہ نہیں ہوا ہے۔ حیات کے کچھ اثرات ضرور باقی ہیں، بلکہ وہ اتنے طاقتور بھی ہیں کہ وہ انسان کو گناہ کی محفلوں سے نکال کر عزاداری کی مجلسوں میں شریک کر دیتے ہیں، یعنی یہ جذبہ خیر اگر ذرا نم ہوجائے تو بڑا زرخیز ثابت ہوگا۔ اسلئے کہ یہی وہ جگہ ہے، جہاں توفیقات خداوندی اور ائمہ معصومینؑ کی عنایتوں کے کارواں اترتے ہیں۔ یہاں اگر وہ جذبہ رکھنے والا حرؑ کے کردار کے آئینہ میں اپنے کردار کا محاسبہ کرے اور یہ ٹھان لے کہ حرؑ کی طرح آیا ہے تو حرؑ کی طرح ثابت قدم بھی رہوں گا۔

شہدائے کربلا کی یاد فقط اس حد تک نہیں ہے کہ اسے منبروں سے پڑھا جائے اور بیاں کیا جائے اور لوگوں کے احساسات متاثر ہوں، بلکہ یہ حادثہ پوری تاریخ میں عظیم انقلابوں کا سرچشمہ رہا ہے اور یزید وقت کے خلاف ایک آواز ہے، ظالم کے خلاف ایک آواز ہے۔ سیدالشہداء ؑ نے جس مقصد کے لئے قربانی دی، وہ مقصد کتنا عظیم تھا، جس کیلئے امام حسین ؑ نے سب کچھ قربان کر دیا۔ دولت بھی دی، اولاد بھی دی، جان عزیز بھی دی، جناب زینب ؑ کی ردا بھی دی، غرض سب کچھ دیا۔ امام حسین ؑ نے جس مقصد کیلئے قربانی دی، اسی کے تسلسل کا نام عزاداری ہے۔ عزارادی رسم آباء و اجداد و بزم شعراء نہیں ہے، جبکہ ہم نے عزاداری کو رسم و بزم بنا دیا ہے، درحقیقت عزاداری تسلسل عاشورا ہے۔ عاشورا رزم کا نام ہے، کربلا رزم کا نام ہے، کربلا ایک پیکار کا نام ہے، کربلا ایک جنگ کا نام ہے، کربلا ایک نبرد کا نام ہے۔ جب یزید نے امام حسین ؑ سے بیعت طلب کی تو امام ؑ نے نورانی کلمہ فرمایا ’’مثلی لا یباع مثلہ‘‘ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ امام حسین ؑ کو یزید کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، یہ دو کرداروں کی لڑائی تھی اور تا روز قیامت تک رہے گی۔ دور حاضر میں ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کون کردار حسینی ؑ اپنا رہا ہے اور کس کے پاس کردار یزیدی ہے۔ عبا و قبا کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ کردار کو دیکھنا چاہئے۔ عمر سعد اور ابن زیاد بھی عبا و قبا میں تھے، لوگوں نے اسی سے دھوکہ کھایا۔

ہمیں دور حاضر میں علماء ربانی اور علماء سو میں پہچان کرنی چاہئے۔ عزاداری اسی چیز کا پیغام دیتی ہے۔ آپ اس سرزمین میں رہتے ہوئے اپنے دائیں بائیں دیکھو کہ کہیں تمہاری زمین میں یزید جیسے کردار والا انسان تو نہیں، اس کے خلاف اٹھو، یہی مقصد حسینی ؑ ہیں۔ ’’کل یوم عاشورا کل ارض کربلا‘‘ کا یہی پیغام ہے۔ امام حسین ؑ کو ہماری ہمدردی نہیں چاہئے، حسین ؑ کو ہم سے کچھ اور چاہئے، حسین ؑ ہم سے نصرت مانگ رہے ہیں، حسین ؑ ہم پیروی مانگ رہے ہیں کہ میری سیرت اپناؤ۔ حسین ؑ نے روز عاشورا ’’ھل من ناصر‘‘ کی ندا لگائی، وہ آج بھی گونج رہی ہے، حسینی آج اسی آواز پر لبیک کہہ رہے ہیں، وہی آواز آج وقت کا حسین ؑ بھی دے رہا ہے، آج کا حسین ؑ رھبر معظم سید علی حسینی خامنہ ای مدظلہ ہے، جو اس کی آواز پر لبیک کہے، وہی حسین ؑ کو لبیک کہہ رہا ہے۔ عزاداری ایک ایسی فکری، ثقافتی اور سیاسی میراث جس سے تمام عالم انسانیت کو فیضیاب ہونا چاہئے۔ کربلا ایک واقعہ تھا۔ جناب زینب ؑ نے اس کو تحریک بنایا اور ائمہ معصومین ؑ نے اس کو مکتب بنایا۔ عزاداری برپا کرنے سے پہلے ہمیں مقصد کربلا کو سمجھنا چاہئے۔ مرثیہ خوانی، نوحہ خوانی، مداح خوانی بامقصد ہونی چاہئے۔ عزاخانوں میں مقصد کربلا بیان ہونا چاہئے۔ عزاداری کو رسم و بزم تک محدود مت رکھو۔ مرثیہ، نوحہ وغیرہ یہ مقصد نہیں ہے، یہ ایک ذریعہ ہے مقصد تک پہنچے کا۔ ہماری عزاداری زینبی ؑ عزاداری ہونی چاہئے، جسے وقت کا یزید لرز اٹھے۔
کربلا ہے آج بھی ظالم کی ایذا آج بھی
چاہئے زمانے کو شبیرؑ کا کردار آج بھی
ذکر کربلا دردِ دل کی دوا ہے یارو
فِکر کربلا روح دین کی بقاء ہے یارو