اسلام کے حقیقی چہرے کی شفافیت کیلئے امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی جدوجہد

آسمان امامت و ولایت کے پانچویں ستارے نے سن 58 ھ میں طلوع کیا۔ آپ علیہ السلام نے تقریبا 4 سال تک سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی امامت جبکہ 37 سال تک اپنے والد بزرگوار امام علی زین العابدین علیہ السلام کی امامت سے کسب فیض کیا۔ آپ علیہ السلام کی زندگی کے ایام میں معاویہ سے لے کر ھشام تک 10 اموی خلفاء گزرے جبکہ آپ کے دورہ امامت میں بھی 5 اموی خلفاء [ولید سے ہشام تک] یکے بعد دیگرے برسراقتدار آئے۔ اموی خلفاء کے زمانے میں علویوں اور حقیقی اسلام کی مخالفت میں نہایت شدت پیدا ہو چکی تھی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے میں مختلف مکاتب فکر، فرقے اور مذاھب وجود میں آ چکے تھے جن میں سے ہر ایک خود کو برحق اور مستحق خلافت تصور کرتا تھا۔ ان میں سے بعض کی وضاحت کرے ہیں:
1۔ عثمانی [امویوں کے حمایتی]: انکی اکثریت اہل سنت و الجماعت تھی اور اموی خلفاء انکی تائید اور کمک کرتے تھے۔
2۔ شیعہ اور علوی: ان میں بھی دو گروہ تھے جن میں سے ایک علی علیہ السلام کو معاویہ کے مقابلے میں برحق سمجھتے تھے جبکہ دوسرا گروہ خلافت کو علویوں کے ساتھ مخصوص سمجھتا تھا۔ انہوں نے حق کی حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے کافی کوششیں کیں اگرچہ وہ اس میں ناکام ہو گئے تاہم انکے اقدامات سے اموی سلطنت کافی کمزور ہو گئی۔
3۔ خوارج: یہ ا پنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے مخصوصا ظالم اموی حکمرانوں کو غیرمشروع اور ناجائز سمجھتے تھے۔
4۔ عباسی: یہ اموی خلفاء کا مخالف سب سے طاقتور ٹولہ تھا جنہوں نے نہایت صبر سے 34 سال تک خفیہ طریقے سے امویوں کے خلاف تحریک چلائی۔ انہوں نے آل محمد ص، اہلبیت اور قربت نبی ص جیسے الفاظ اور پرفریب نعروں سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا اور اسی طرح یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کے دورہ امامت میں مکتب اہلبیت کے مقابلے میں کلامی افکار کی بہت شدت تھی۔ کلامی فرقے اسلام کی حدود سے تجاوز کر چکے تھے۔ انکی طرف سے پیدا کردہ شبہات کے جواب میں اور انکے مقابلے کیلئے ایک فکری وحدت اور ایک طاقتور راہنمائی کی ضرورت تھی۔ معاشرے کے فکری اور ثقافتی خلا کو صرف امام محمد باقر علیہ السلام ہی پر کرسکتے تھے۔ دوسری طرف خود شیعوں کے اندر جو باطل نظریات پروان چڑھ رہے تھے وہ بذات خود ایک خطرہ تھا۔
ان تمام خطرات کے ساتھ امام پنجم علیہ السلام نے بھرپور مقابلہ کیا۔ امام محمد باقر علیہ السلام اور آپ کے فرزند ارجمند امام جعفر صادق علیہ السلام کا وجود مبارک ان باطل نظریات کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوا۔ اسی طرح بنو امیہ نے نظریاتی تضاد اور اختلاف کی وجہ سے امام محمد باقر علیہ السلام کو اپنی سرگرمیوں سے روکنے کی ہرممکن کوشش بھی کی جو کسی حد تک کامیاب بھی ہوئی تاہم بنی عباس کے ساتھ مقابلے کے سبب وہ امام محمد باقر علیہ السلام کو مکمل طور پر روکنے مِیں ناکام رہے۔ کچھ فرقوں اور گروہوں کی تفصیلات درج ذیل ہے:

1۔ فرقہ مرجئہ:
یہ فرقہ پہلی صدی ھجری کے اواخر میں معرض وجود میں آیا۔ خوارج کے مقابلے میں انکا عقیدہ یہ تھا کہ گناہان کبیرہ کے مرتکب افراد ہمیشہ کیلئے جہنم میں نہیں رہیں گے بلکہ انکا فیصلہ خدا پر ہے۔ اسی وجہ سے انہیں "مرجئہ” کہا جاتا تھا۔ وہ صرف نیت ہی کو کافی سمجھتے تھے اور انکاعقیدہ تھا کہ خدا بھی انکے متعلق نرمی برتتا ہے اور انہیں عذاب نہیں کرے گا۔
انہوں نے امام باقر علیہ السلام کے دور امامت میں بھی اپنے عقائد کو جاری رکھا۔ امام علیہ السلام نے انکے خلاف نہایت سخت موقف اختیار کیا اور انکی سختی سے مخالفت کی۔ جب بھی انکا ذکر ہوتا امام علیہ السلام ان پر لعنت کرتے اور فرماتے: "خداوندا، مرجئہ کے پیروکاروں کو اپنی رحمت سے دورفرما کیونکہ وہ دنیا و آخرت میں ہمارے دشمن ہیں”۔

2۔ فرقہ جبریہ و قدریہ:
جبریہ کا عقیدہ یہ تھا کہ انسان بذات خود کسی قسم کا اختیار نہیں رکھتا بلکہ اس پر ہر عمل اللہ کی طرف سے جبراً نافذ ہے اور وہ اپنے اعمال میں مجبور محض ہے۔ انکے مقابلے میں فرقہ قدریہ کا عقیدہ یہ تھا کہ انسان اپنے افعال اور اعمال میں مکمل طور پر آزاد و خودمختار ہےاور خدا نے اسکے تمام اعمال اسکے سپرد کئے ہوئے ہیں، انسان افعال کے انجام دینے اور اسکے متعلق فکر اور سوچ میں مکمل طور پرخودمختار اور آزاد ہے۔
یہ دونوں فرقے اموی دورہ خلافت کے زمانے میں معاویہ بن ابوسفیان کے دور اقتدار میں معرض وجود میں آئے۔ ان دونوں فرقوں کی خصومت کی ایک لمبی تاریخ ہے اور معاویہ بن یزید اور یزید بن ولید کے زمانے میں یہ اختلافات اپنے عروج پر پہنچ گئے۔

3۔ فرقہ خوارج:
یہ فرقہ جنگ صفین میں امام علی علیہ السلام اور معاویہ کے مابین جنگ کے دوران فیصلے کے موضوع کے بعد وجود میں آیا۔ صفین سے واپسی پر امام علی علیہ السلام کے بعض فوجیوں نے آپ پراعتراض کیا اور حکمیت [فیصلہ] کو خلاف اسلام قراردیا۔ انہوں نے "لا حکم الا للہ” کا نعرہ بلند کیا۔
امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانہ امامت میں بھی انکے اور امام علیہ السلام کے درمیان کئی مناظرے انجام پائے۔ امام علیہ السلام نے اصول اور اعتقادات کے لحاظ سے انہیں "سب سے زیادہ خسارہ پانے والے افراد” میں شمار کیا جنہوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کر دیا۔ امام علیہ السلام اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ ان عہد شکنوں سے پوچھو کہ انہوں نے امام علی علیہ السلام کا ساتھ کیوں چھوڑدیا؟ حالانکہ اس سے پہلے انہی کی فرمانبرداری میں اپنے خون کو بہانے کیلئے تیار تھے اورخدا کی خوشنودی میں ایکدوسرے پر سبقت حاصل کرتے تھے۔ اگر وہ کہیں کہ ہم نے حکم الہی کے سامنے سرتسلیم خم کیا تھا اور "لا حکم الا للہ” کا نعرہ بلند کیا تھا تو جواب میں کہیں کہ کیا خدا نے خود اپنے دین میں حکمیت اور قانونی فیصلہ کو مقرر نہیں فرمایا ہے؟ اور دو افراد کے درمیان فیصلہ کی اجازت نہیں دی ہے؟۔ خدا فرماتا ہے:
"فابعثوا حکما من اھلھ و حکما من اھلھا ان یریدا اصلاحا یوفقِ اللہ بینھما”۔
"[جب کبھی میاں بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا ہو] تو ایک شخص شوھر کی جانب سے اور ایک شخص بیوی کی جانب سے [بعنوان] ثالث مقررکرو، وہ اگر اصلاح چاہیں گے توخدا انہیں اس کیلئے توفیق عطا کرے گا”۔
اور ان سے کہیں کہ کیا رسول خدا ص نے "بنی قریظہ” کے معاملے میں سعد بن معاذ کو ثالث قرارنہ دیا؟ تاکہ جو خدا کو منظور ہو اسکے مطابق فیصلہ کریں۔ کیا آپ کو علم نہیں کہ علی علیہ السلام نے اس شرط پر حکمیت قبول کی کہ وہ دونوں کتاب خدا کے مطابق فیصلہ کریں گے؟ اور اس سے آگے نہیں بڑھیں گے۔ اور یہ نہ کہا کہ اگر انکا فیصلہ کتاب خدا کے خلاف ہو تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا؟ اور جب فیصلہ اختتام کو پہنچا تو انہوں نے علی علیہ السلام سے کہا: "آپ نے ایسے شخص کو حکم بنایا تھا جو آپ کا مخالف تھا” تو کیا امام علی علیہ السلام نے ان سے نہ کہا کہ "میں نے کتاب خدا کی حکمیت کو تسلیم کیا تھا نہ ایک شخص کی حکمیت کو”۔ اب کہیں کہ یہ حکمیت کہاں قرآن کے حکم سے انحراف ہے؟ حالانکہ امام علی علیہ السلام نے کہا تھا کہ قرآن کے خلاف کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ لہذا امام علی علیہ السلام پر انکی تہمت بالکل بے بنیاد ہے۔
خوارج کے بزرگوں میں سے ایک اور شخص جو امام علی علیہ السلام کی فضیلت کا اقرار کرتا تھا اس نے آپ پر خدا و رسول پر ایمان کے بعد کفر کی تہمت لگائی۔ امام باقر علیہ السلام نے اس کے ساتھ ایک مناظرے میں فرمایا: "کیا اس وقت جب خدا علی سے محبت کرتا تھا، نہیں جانتا تھا کہ ایک دن یہ [علی] اہل نہروان میں سے ایک شخص کے ہاتھوں قتل ہوجائے گا”۔ خارجی شخص نے قبول کیا۔
امام نے پوچھا: "علی کے ساتھ خدا کی محبت، قوانین الہی میں اسکی فرمانبرداری کی بنا پر تھی یا گناہ اور سرکشی کی بنا پر؟” اس نے کہا: "واضح بات ہے، اطاعت اور بندگی کی بنا پر تھی”۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "پس جب از روئے اطاعت و بندگی علی علیہ السلام خدا کے محبوب ٹھہرے اور خدا انکو پسند کرتا تھا تو واضح ہے کہ علی علیہ السلام کے تمام اعمال بھی خدا کو پسند تھے”۔ خارجی جس نے مناظرے میں امام علیہ السلام سے شکست کھاَئی تھی آہستہ سے کہا "اللہ اعلم حیث یجعل رسالتھ، خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں پر قرار دے”۔

4۔ فرقہ غلات:
غلات کا مطلب ہے بڑھ چڑھ کرپیش کرنے والے۔ یہ شیعوں سے منسوب ایسا فرقہ ہے جنہوں نے اپنے ائمہ کے متعلق غلو اور افراط سے کام لیا ہے اور انہیں خدا کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے یا خدا کے نورانی جوہر کے ائمہ میں حلول کے قائل ہیں یا تناسخ کے قائل ہیں۔

5۔ فرقہ مغیریہ:
یہ غلات ہی میں سے "مغیرۃ ابن سعید عجلی” کے پیروکاروں کا ایک ٹولہ ہے جو خدا کے دیکھے جانے اور جسم ہونے کے قائل ہیں۔ یہ فرقہ امام محمد باقر علیہ السلام کے بعد مغیرہ کی امامت کا قائل تھا۔ اس فرقے کے پیروکار کہا کرتے تھے کہ امام محمد باقر علیہ السلام ہی آخری زمانے کا نجات دھندہ ہیں، وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ آخری زمانے میں ظہور کریں گے۔ جب مغیرہ قتل ہو گیا تو اسکے ساتھیوں اور پیروکاروں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ ایک ٹولہ مغیرہ کے ظہور اور رجعت پر قائم رہا جبکہ دوسرا ٹولہ امام باقر علیہ السلام کے ظہور اور رجعت کا عقیدہ رکھتا تھا۔ انہوں نے دین میں عجیب عجیب فتوے صادر کئے۔ مغیرہ شروع میں امام باقر علیہ السلام کی امامت کا قائل تھا لیکن کچھ عرصہ بعد غلو کا شکار ہو گیا اور امام باقر علیہ السلام کی خدائی کا قائل ہو گیا۔ بعض اوقات اپنے دوستوں سے کہتا تھا کہ انکا انتظار کرو، وہ واپس آجائیں گے اور رکن اور مقام کے درمیان جبرائیل اور میکائیل اس کی بیعت کریں گے۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے بہت سی روایات میں اس پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے:
"خدا اور اسکا رسول مغیرہ کو اپنی رحمت اور دوستی سے دور کرے کہ اس نے ہم اہلبیت ع پر بہت زیادہ جھوٹ باندھے ہیں”۔

6۔ فرقہ جارودیہ:
یہ زیدیہ فرقوں میں سے ایک ہے جن کا سربراہ "ابوالجارود زیاد بن منذر سرحوب ” تھا۔ یہ امام باقر علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ہی ایک تھا اور مادر زاد اندھا تھا۔ امام باقر علیہ السلام نے اسے سرحوب کا لقب دیا تھا جو ایک اندھے شیطان کا نام ہے جو دریاوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس فرقہ کا دوسرا نام سرحوبیہ بھی ہے۔
یہ لوگ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد امامت کو امام حسن اور امام حسین علیھما السلام میں محدود کرتے تھے اور انکی اولاد میں سے ایسے شخص کو امام سمجھتے تھے جو قیام کرے اور اسکی پیروی کو امامت کی حد واجب قراردیتے تھے۔
امام باقر علیہ السلام نے اپنی زندگی میں جب بھی ابوالجارود کو دیکھا،اسکی طرف اشارہ کیا اور اپنے شیعوں کو اس کے قریب جانے سے روکتے ہوئے فرمایا: "یہ اندھا شیطان ہے اور آنکھوں اوردل دونوں سے اندھا ہے”۔
ثقافتی لحاظ سے اس زمانے کے مسائل و مشکلات کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔ ان ایام کے ثقافتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ "کتابت حدیث کی ممانعت” ہے۔ یہ مسئلہ خلفاء کے ابتدائی دور میں ہی ایک سیاسی مہم کے طور پر شروع ہوا۔ قرآن سے محبت اور دینی فکر کی آڑ میں حدیث اور قرآن کے باہم خلط ملط ہونے کے بہانے سے حدیث کے لکھنے پر سخت پابندی لگا دی گئی اور اس قانون [ممانعت کتابت حدیث] پر شدت سے عمل درآمد کیا گیا۔
احادیث نبوی ص تک عدم رسائی نے جعل سازوں کیلئے راستہ ہموارکیا اورانہوں نے سیاسی اور ذاتی مفادات کی خاطر مخصوصا حاکمان وقت کی خوشنودی کیلئے دھڑا دھڑ حدیثیں گھڑنی شروع کر دیں اور انہیں بے دریغ نشر کرتے رہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ امام باقر علیہ السلام کے دور میں، خاص طور پر کتابت حدیث کی ممانعت ختم ہونے کے بعد، آپ کے شاگردوں نے امام علیہ السلام کے تدریس کردہ اور دوسرے موضوعات پر کافی کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ اس بڑے مجموعے اور ذخیرے کا کچھ حصہ "اصول اربع مئہ” ہے۔ یہ کتابیں جو فقہ اور معارف اسلامی کے مختلف ابواب پر مشتمل تھے بعد میں فقہ اور تاریخ کے ضمن میں شیعہ محدثین کیلئے مرجع اور مستند قرار پائیں۔
امام باقر علیہ السلام نے، جو اپنے والد بزرگوار کے شاگرد بھی تھے، امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے بعد انکی جگہ سنبھال لی اور طلباء، فضلاء اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ مختلف و متنوع علوم اس یونیورسٹی سے نشر ہوئے جو علمی، ثقافتی اور دوسرے فنون میں امام علیہ السلام کی وسعت اور بصیرت کی گواہی دیتی ہیں۔
امام علیہ السلام کی ثقافتی سرگرمیاں ایک ایسی مقدس علمی تحریک تھی جس نے ثقافتی جہاد کے میدان میں امام معصوم کے زیر پرچم جھالت اور نادانیوں کے محاذوں کو یکے بعد دیگرے فتح کیا اور اسلام کے چمکتے چہرے سے تمام میل کچیل صاف کر دیا۔
اس علمی تحریک کے کچھ اثرات یوں ہیں:
1۔ عوام اور امت اسلامی کی اعتقادی بنیادوں کو استوار کرنا،
2۔ دینی، ثقافتی اور شرعی احکام کی نشر و اشاعت،
3۔ فقہی، کلامی، اخلاقی، اجتماعی، اور سیاسی میدانوں میں موثر اور لائق شاگردان کی تربیت،
4۔ امویوں کے ہاتھ سے مکمل طور پر شیعوں کے ختم ہونے کے خطرے کے پیش نظر شیعہ سرگرمیوں کی حفاظت۔
5۔ امت مسلمہ کے عقائد میں داخل ہونے والے باطل افکار اور نظریات کا بطلان کرنا اور انکی اصلاح۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک پربرکت عمر، فقہ و علوم اسلامی کی تدوین و ترویج اور دین اسلام کے احیاء کے بعد 7 ذی الحج 114ھ کو زھر کی وجہ سے شہادت پائی جو انہیں ابراھیم بن ولید بن عبدالمالک نے پلائی تھی اور بقیع کے قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے۔