امام حسین علیہ السلام، قرآن کے آئینے میں

(تحریر: علی عبداللہی)

خداوند متعال نے قرآن کریم میں اولیاء الہی کی اہم خصوصیات اور سیدھے راستے (صراط مستقیم) کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ایسا سیدھا راستہ جس کی جانب تمام ائمہ اطہار علیہم السلام خدا اور رسول خدا (ص) کے دستور سے لوگوں کی رہنمائی فرماتے تھے۔ قرآن کریم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام انبیاء الہی صبر، یقین اور عبادت کے ذریعے انسانوں کو الہی امر کی جانب رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً یهْدُونَ بِأَمْرِنا وَ أَوْحَینا إِلَیهِمْ فِعْلَ الْخَیراتِ وَ إِقامَ الصَّلاةِ وَ ایتاءَ الزَّکاةِ وَ کانُوا لَنا عابِدینَ
"اور ہم نے انہیں ایسے پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت دیتے تھے اور انہیں نیک کام انجام دینے، نماز قائم کرنے اور زکات دینے کے بارے میں وحی نازل کی اور وہ ہماری پرستش کرنے والے تھے۔” (سورہ انبیاء، آیت 73)
ایک اور جگہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:
وَ جَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً یهْدُونَ بِأَمْرِنا لَمّا صَبَرُوا وَ کانُوا بِایاتِنا یوقِنُونَ
"کیونکہ انہوں نے صبر پیشہ کیا اور ہماری آیات پر مکمل یقین رکھا لہذا ان میں سے بعض کو ہم نے انسانوں کا امام بنایا اور وہ لوگوں کی ہدایت کرتے تھے۔” (سورہ سجدہ، آیت 24)

سید الشہداء امام حسین علیہ السلام انبیاء الہی کی اس اہم خصوصیت کا مظہر تھے، لہذا رسول خدا (ص) نے انہیں "مصباح الھدی” یعنی ہدایت کا روشن چراغ کا لقب عطا کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: إنّ الحسین مِصباحُ الهدی و سَفینَةُ النّجاةِ یعنی "بالتحقیق حسین (ع) ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے۔” امام حسین علیہ السلام نے حق کی راہ اور اسلام کو زندہ اور باقی رکھنے کیلئے قیام کیا اور اس راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر ڈالا۔ امام حسین علیہ السلام کی تمام سرگرمیاں اور اقدامات قرآنی تعلیمات اور دینی دستورات کے مطابق تھے۔ آپ خود اپنے قیام کا مقصد امر بالمعروف اور نہی از منکر کا اجراء بیان کرتے ہیں۔ امر بالمعروف اور نہی از منکر بھی قرآنی دستورات میں سے ایک ہے۔ ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
کُنْتُمْ خَیرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ
"آپ بہترین امت ہیں جو لوگوں کیلئے برپا کی گئی ہے، آپ امر بالمعروف اور نہی از منکر انجام دیتے ہیں۔” (سورہ آل عمران، آیت 119)

حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں نے کربلا میں قیام کیا تاکہ مسلمانوں کو ذلت و خواری سے نجات دلا کر عزت عطا کر سکیں۔ امام حسین علیہ السلام کا یہ مقصد بھی قرآن کریم میں بیان ہوا ہے۔ ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
کانَ یریدُ الْعِزَّةَ فَلِلّهِ الْعِزَّةُ جَمیعًا إِلَیهِ یصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیبُ وَ الْعَمَلُ الصّالِحُ یرْفَعُهُ
"جو کوئی بھی عزت کا خواہاں ہے (وہ جان لے) عزت تمام کی تمام خدا سے مخصوص ہے، اسی کی جانب پاکیزہ کلمات اور نیک اعمال پہنچتے ہیں۔” (سورہ فاطر، آیت 10)

قرآن کریم میں خداوند رب العزت کا خطاب ہوتا ہے:
لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتّی تُنْفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ "نیک افراد کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے مگر یہ کہ ایسی چیز خدا کی راہ میں دو جو تمہیں دل سے اچھی لگتی ہے۔” (سورہ آل عمران، آیت 92)
امام حسین علیہ السلام نے بھی عاشور کے روز اپنا سب کچھ جس سے وہ محبت بھی کرتے تھے خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔ امام حسین علیہ السلام نے نہ صرف اپنا مال بلکہ اپنی جان اور اپنے عزیزوں کی جان بھی قربان کر دی اور اس طرح اپنے قیام کے برحق ہونے کو بھی ثابت کر دیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "اپنی واجب اور مستحب نمازوں میں سورہ فجر کی تلاوت کریں کیونکہ یہ سورہ امام حسین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔” ایک شخص نے اس کی وجہ پوچھی جس کے جواب میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "اس کی وجہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نفس مطمئنہ کے مالک تھے اور خداوند متعال ان سے راضی جبکہ وہ خداوند متعال سے راضی تھے۔”

خداوند متعال سورہ فجر میں فرماتا ہے:
یا ایتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعی إِلی رَبِّکِ راضِیةً مَرْضِیةً فَادْخُلی فی عِبادی وَ ادْخُلی جَنَّتی
"اے اطمینان کے مقام تک پہنچی ہوئی جان، اپنے پروردگار کی جانب لوٹ آ ایسی حالت میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے (خاص) بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔” (سورہ فجر، آیات 27 تا 30)
تفسیر نمونہ میں بعض دیگر تفاسیر کے بقول لکھا ہے: "یہ آیات حضرت حمزہ (آنحضور ص کے چچا) سید الشہداء کے بارے میں نازل ہوئی ہیں لیکن چونکہ یہ سورت مکی ہے لہذا یہ درحقیقت ایک قسم کی تطبیق ہے اور شان نزول نہیں۔ ایسے ہی جیسے سورت کے شروع میں امام حسین علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے۔”

"کافی” میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے ذیل میں آیا ہے: "ایک صحابی نے سوال کیا: کیا ممکن ہے مومن اپنی روح قبض کئے جانے پر راضی نہ ہو؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، خدا کی قسم جب موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کیلئے آتا ہے تو وہ ناخوشی کا اظہار کرتا ہے جس پر موت کا فرشتہ کہتا ہے: اے خدا کے ولی، ناخوش نہ ہو، اس خدا کی قسم جس نے محمد (ص) کو رسول بنا کر بھیجا، میں تم پر تمہارے باپ سے زیادہ مہربان ہوں، اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو۔ مومن دیکھتا ہے تو اسے رسول خدا (ص)، امیرالمومنین علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اللہ علیہا، حسن اور حسین علیہم السلام اور ان کی نسل سے باقی ائمہ علیہم السلام دکھائی دیتے ہیں۔ موت کا فرشتہ اسے کہتا ہے: دیکھو، یہ تمہارے دوست اور محبوب ہستیاں رسول خدا (ص) اور امیرالمومنین (ع) اور فاطمہ (س) اور حسن (ع) اور حسین (ع) ہیں۔

مومن اپنی آنکھیں کھولتا ہے اور نگاہ کرتا ہے۔ یکدم ایک ندا دینے والا خداوند متعال کی جانب سے ندا دیتا ہے: یا ایتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۔ ۔ ۔ اے جو محمد (ص) اور اس کے خاندان (ع) پر یقین رکھتا ہے، اپنے پروردگار کی جانب لوٹ آ، ایسی حالت میں جب تو ان کی ولایت پر راضی ہے اور خدا اپنے ثواب کے ذریعے تجھ سے خوشنود ہے، میرے بندوں یعنی محمد و اہلبیت علیہم السلام میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ اس وقت مومن کیلئے اس سے زیادہ کوئی اور چیز محبوب نہیں ہو گی کہ جلد از جلد اس کی روح بدن سے جدا ہو کر اس کی ندا پر لبیک کہے۔”