علم اخلاق اسلامی

(تحریر: انجنئیر سید حسین موسوی)

اصلاح ذات کے مراحل:
اپنے آپ کو سدھارنے (اخلاق حاصل کرنا) کا طریقہ اور مرحلے:
اخلاق اپنانے یعنی اپنے آپ کو سدھارنے کا طریقہ کتاب چہل حدیث میں، امام خمینی ؒ نے جو بیان کیا ہے، اس کے پانچ مرحلے ہیں۔ یہ جہاد اکبر ہے، جو ساری زندگی جاری رہے گا۔ آپ نے اس کام کے لئے پانچ مراحل بیان کئے ہیں۔
تفکر، عزم، مشارطہ، مراقبہ اور محاسبہ،
ہم یہاں پر اسے مختصر طور پر بیان کرتے ہیں۔

1۔ سوچنا(تفکر)
انسان دن اور رات میں کچھ لمحے سوچنے کے لئے مخصوص کر لے، کہ جس مالک نے مجھے وجود جیسی نعمت عطا کی ہے، دنیا میں آسائش، آرام، راحت اور نعمتوں کے تمام ذریعے دیئے ہیں۔ اس مالک نے میری طرف انبیاء (ع) بھیجے، کتابیں نازل کیں اور کمال کی طرف ہدایت کر دی ہے۔ اب میری کیا ذمہ داری ہے۔؟ کیا انسان کے لئے بنی ہوئی پوری کائنات صرف اس لئے ہے کہ انسان اس میں کھائے، پیے، پہنے اور خواہشات پوری کرے اور بس؟ یہ کام تو جانور بھی کرتے ہیں تو کیا یہ جانوروں جیسی زندگی ہی انسان کا مقصد ہے؟ پھر انسان عاجزی اور انکساری سے اپنے رب کو پکارے کہ مجھے اپنی ذمہ داریوں سےآگاہ فرما۔ ان شاء اللہ یہ سوچنا انسان کو جہادِ اکبر کے دوسرے مرحلے پر لے جائے گا۔
امام جعفر صادق فرماتے ہیں: "ایک لمحہ فکر کرنا پوری رات قیام کرنے سے افضل ہے۔” (اصول کافی)
حضرت علی فرماتے ہیں: "فکر نیک عمل کی دعوت دیتا ہے۔” (اصول کافی)

2۔ عزم (پکا ارادہ)
جب انسان اس مرحلے پر پہنچتا ہے تو اس سے پہلے انسان اپنے آپ کو پہچان چکا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد اور منزل بھی طے کرچکا ہے، اس دوسرے مرحلے میں انسان پکا ارادہ کرتا ہے کہ اس کے مالک اور محبوب نے اس کو جس منزل تک پہنچنے اور انسانی زندگی گزارنے کا جو پروگرام دیا ہے، اس پر ضرور عمل کرے گا۔
• جو کام اس کے کمال کی راہ میں رکاوٹ ہیں، یعنی حرام ہیں، ان سے دور رہے گا۔
• جو کام اس کے کمال تک پہنچنے کے لئے لازمی ہیں، یعنی واجبات ہیں، انہیں ادا کرے گا۔
• جن اعمال سے وہ زوال کی طرف گیا ہے، یعنی کئے گئے گناہوں کی توبہ کرے گا۔
• جو واجبات قضا کئے ہیں، انہیں ادا کرے گا۔
یعنی اپنی ظاہری شکل و صورت ایسی بنائے گا، جس کو عقل اور شریعت انسان قرار دے۔ اپنے ظاہر کو رسول اکرم (ص) جیسا بنا کر ان کی سیرت پر عمل کر ے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالٰی کی معرفت کی راہ میں آگے بڑھنے کے لئے ابتدا اپنے ظاہر کو شریعت کے مطابق بنانے سے ہی ہوتی ہے۔ جب تک انسان کا ظاہر خدائی شریعت کے مطابق نہ ہو، انسان کے باطن میں اللہ تعالٰی کی معرفت کا نور نہیں آسکتا۔
ہوشیار۔ امام خمینی فرماتے ہیں: "ہمارے استاد محترم فرماتے ہیں کہ موسیقی کی طرف توجہ کرنا انسان کے عزم و ارادے کو توڑنے والی سب سے بڑی چیز ہے۔”

3۔ معاہدہ (مشارطہ)
اپنے آپ کو سدھارنے والا انسان فکری طور پر آمادہ ہو کر عملی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اس مرحلے میں انسان اپنی پوری زندگی، سال، مہینے بلکہ ہفتے کے بجائے ہر روز کا پروگرام بنائے۔ انسان اپنے آپ سے معاہدہ کرے کہ اے میرے نفس! میں آج کا دن تجھے اس شرط پر دے رہا ہوں کہ آج اللہ تعالٰی کے حکم کے خلاف کوئی عمل نہیں کروگے۔ ظاہر ہے کہ صرف ایک دن اللہ تعالٰی کی مخالفت نہ کرنا آسان ہے۔ انسان آسانی سے اس معاہدے پر عمل کرسکتا ہے۔ انسان ایک دن کے لئے اپنے آپ سے ایسی شرط کرکے پکا ارادہ کر لے۔ تجربہ کرکے دیکھ لے یہ کتنا آسان ہے۔

4۔ نگرانی (مراقبہ)
نفس کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد انسان غافل ہو کر بیٹھ نہ جائے بلکہ ہمیشہ اس کی مکمل نگرانی کرے۔ نفس ایک کرائے پر لئے گئے مزدور کی طرح ہے، جس کی جب تک مالک نگرانی کرتا رہے گا، تو معاہدے کے مطابق کام کرے گا، لیکن جیسے ہی مالک کو غافل پائیگا کام چور ہو جائے گا۔ اس لئے انسان کو ہمیشہ ہوشیاری کے ساتھ نفس کی نگرانی کرنی پڑے گی۔ اگر شیطان دل میں وسوسہ ڈالے کہ معاہدے کے خلاف عمل کر تو شیطان کو بتائو کہ آج میں نے خدا کی بارگاہ میں وعدہ کیا ہے، اللہ تعالٰی کی مخالفت نہیں کرونگا۔ خداوند عالم نے برسوں مجھ کو نعمتیں دی ہیں۔ صحت، سلامتی اور امن عطا کیا۔ اگر ابد تک اس کی فرمانبرداری کرتا رہوں، تب بھی ایک نعمت کا احسان نہیں اتار سکتا۔ ایک دن اس کی نافرمانی نہ کروں، اس کا میں نے خدا سے وعدہ کیا ہے۔ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں خدا سے وفا نہ کروں۔ امید ہے کہ شیطان کا وسوسہ ختم ہو جائے گا۔ نفس کی نگرانی کے کام میں سفر اور تجارت وغیرہ کوئی بھی چیز رکارٹ نہیں بن سکتی ہے۔

5۔ احتساب (محاسبہ)
سارا دن نفس کی نگرانی کرنے کے بعد رات کو سونے سے پہلے اپنے نفس سے سارے دن کا حساب لے کہ میں نے تجھے سارا دن دیا تھا، اس کے بدلے میں تو نے کونسی نیکیاں کمائی ہیں اور کون سے جرم کئے ہیں۔ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں صرف ایک دن کے کئے ہوئے معاہدے میں نافرمانی تو نہیں کی۔
امام علی فرماتے ہیں: "جس نے اپنے نفس کا احتساب کیا وہ کامیاب ہوا، جس نے غفلت کی نامراد ہوا۔” (نہج البلاغہ)
اگر نفس نے معاہدے کے مطابق عمل کیا ہو تو اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے، ان شاء اللہ اس سے خدا کی رحمت کی نظر زیادہ ہوگی اور کل کے معاہدے پر عمل کرنا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ اس طرح کچھ دن ایسے معاہدے کرنے سے انسان کے اندر خدا کی مخالفت سے بچنے کی مہارت پیدا ہو جائے گی اور کام زیادہ آسان ہوتا جائے گا، پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری کی لذت آنا شروع ہو جائے گی۔ اگر وہ دن معاہدے کے مطابق نہ گزرا ہو تو اللہ تعالٰی سے معافی مانگنی چاہیے اور دوسرے دن بہادروں اور مردوں کی طرح فرمانبرداری کے پروگرام کے لئے پکا ارادہ کر لے۔ کچھ عرصے تک تفکر، عزم، مشارطہ، مراقبہ اور محاسبہ میں گزارنے سے اللہ تعالٰی بندے پر اپنی توفیق کے دروازے کھول دے گا اور انسان کو سعادت اور صراطِ مستقیم عطا کرے گا۔