امام ہشتم (ع) کی ولی‏ عہدی اور شیعہ روشن فکری

(مؤلف: سید جعفر مرتضی العاملی)

ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے واقعات اس لئے اہم ہیں کہ جب ہم ان کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں صحیح راستہ ڈھونڈنے میں مدد ملتی ہے. امام رضا (ع) مأمون جیسے خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوئے جبکہ اصولی طور پر امام (ع) اس کو تسلیم نہیں کررہے تھے اور وہ امام (ع) اور شیعیان اہل بیت (ع) کی نظر میں آل نبی (ص) کے خلافت کا غاصب تھا. ہم اس واقعے کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں.
اس انٹرویو میں لبنان کے نامی گرامی مؤرخ، عالم دین، دانشور اور عالم تشیع کی نامور شخصیت «علامہ سید جعفر مرتضی العاملی» نے امام (ع) کی ولی‏عہدی کے حقیقی واقعے اور اس کے حواشی کے سلسلے میں نئی نگاہ سے سے تجزیہ کیا ہے……

سوال: ولی‏عہدی امام رضا (ع) کی سیرت اور تاریخ زندگی کا ایک اہم پہلو ہے اور اس سلسلے میں سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل و اسباب تھی جن کی بنا پر مأمون نے امام رضا (ع) کو خراسان آنے کی دعوت دی؟

جواب: مأمون کی حالت اس دور میں ایسے تھی کہ وہ درحقیقت سیاسی گھٹن کا سامنا کررہا تھا اور اس کے سامنے پیش آمدہ سیاسی مسائل میں ایک اہم مسئلہ عوام کی ناراضگی کی طرف لوٹتا تھا.
یہ حالت عباسی سلطنت کی تشکیل کے ابتدائی ایام سے تعلق رکھتا تھا.
عباسی ابتدا میں دین کی طرف بازگشت، جاہلیت سے آزادی اور اہل بیت علیہم السلام کی خونخواہی کا نعرہ اٹھا کر سیاسی میدان میں اترے تھے مگر برسر اقتدار آتے ہی اپنے نعروں اور وعدوں سے مکر گئے اور ظاہر ہوا کہ ان کے سیاسی رویے ان کے بنیادی منشور سے بالکل مختلف ہیں. حتی انہوں نے عوام اور آل علی (ع) کے ساتھ جو ستم روا رکھا؛ ان مظالم اور مصائب سے کہیں زیادہ بڑا اور افسوسناک تھا جو اموی سلاطین نے مسلمانوں پر روا رکھا تھا.
یہ مسائل عباسی سلطنت کی ابتدا ہی سے ظاہر ہونا شروع ہوئے. اور بعد کے ادوار میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا.
یہ جرائم ہارون کے دور میں اس حد تک پہنچے کہ بعض لوگوں کو یقین ہوگیا کہ ہارون ناصبی (اور اہل بیت رسول (ص) کا دشمن) ہے. یہ صورت حال عالم اسلام کے بعض گوشوں میں عوامی انقلاب کا باعث ہوئی اور آل نبی (ص) کا جو بھی فرد جدوجہد کا پرچم اٹھاتا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان کے پرچم تلے اکٹھی ہوجاتی. کہا جاتا ہے کہ «ابوالسرایا» نامی سالار کے ساتھ مأمون کی جنگ میں تقریباً دو لاکھ افراد مارے گئے.
عوامی ناراضگی کے علاوہ مأمون کو عباسیوں کے اندرونی جھگڑوں کا بھی سامنا تھا. عباسیوں کے اندرونی جھگڑوں اور مأمون کی اپنے بھائی امین کے ساتھ جنگ اور امین کا قتل کیا جانا اور اس کا سر قلم کیا جانا وہ عوامل تھے جن کی بنا پر مأمون کی سلطنت عباسیوں کے درمیان متزلزل ہوگئی تھی.
اب مأمون اس حالت سے نکلنے کی کوشش میں علی (ع) کی محبت کا دعویدار ہوا اور عوام کے ساتھ بھی نرمی برتنے لگا اور یہ ظاہر کرنے لگا کہ وہ آل نبی (ع) کا دشمن نہیں ہے.
بے شک اس نمائش سے مأمون کا مقصد لوگوں کو فریب دینے کے سوا کچھ بھی نہ تھا. اس نے اسی مکارانہ پالیسی کے تحت امام رضا (ع) کو خلافت کی پیشکش کی اور اس کے بعد آپ (ع) کو ولی‏عہدی کی تجویز پیش کی.
ہم البتہ اس جملے کی یوں اصلاح کرنا چاہیں گے کہ مأمون نے امام (ع) کو ولی‏عہدی کی پیشکش نہیں کی بلکہ آپ (ع) کو ولی‏عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا.
یقیناً امام (ع) کو یہ منصب سونپنے سے جن نتائج کے حصول کی مأمون کو تھی وہ درست نہیں تھی اور یہی نادرست توقع ہی اس امر کا باعث ہوئی تھی. مأمون نے ولی‏عہدی کا مسئلہ چہیڑا تھا اور اس منصوبے پر عملدرآمد کرکے کئی اہداف حاصل کرنا چاہتا تھا:
وہ اس طرح آل علی (ع) کی طرف سے حق خلافت کے دعوے کا امکان ختم کرنا چاہتا تھا کیوں کہ مأمون کے خیال میں آل علی (ع) کے زعیم اس کے ہمراہ ہوگئے تھے.
اس طرح آل علی (ع) اور شیعیان اہل بیت (ع) کے نزدیک بنوعباس اور مأمون کے خلافت کی غیرقانونی حیثیت بھی قانونی حیثیت میں بدل جاتی اور یہ مسئلہ بھی ختم ہوکر رہ جاتا.
اس ماجرا سے مأمون کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا. کیوں کہ شیعیان اہل بیت (ع) جو ہمیشہ سے غیر شرعی اور غیر قانونی حکومتوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے امام (ع) کی ولی‏عہدی کے بعد خاموش ہوجاتے اور ساتھ ساتھ امام (ع) کی امامت کے بارے میں بھی کئی سؤال ابھر کر سامنے آتے.

سوال: مأمون کی سیاست بازیوں کے سامنے امام علیہ (ع) کا رویہ کیسا تھا؟

جواب: امام (ع) نے ابتدائی لمحوں ہی سے واضح کیا کہ ان کے خراسان آنے کا سبب مأمون کا جبر تھا. البتہ اگر امام (ع) خاموش بھی رہتے اور اس سلسلے میں اظہار رائے نہ بھی کرتے پھر بھی لوگ بآسانی سمجھ جاتے کہ ولی‏عہدی کا عہدہ آپ (ع) نے جبر و اکراہ کی بنا پر قبول کیا ہے. کیونکہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ آل نبی (ص) اور امت اسلامی کی سب سے بڑی شخصیت ہوتے ہوئے بھی جن کی عمر 50 برس تھی – 30 سالہ خلیفہ کے جانشین بن گئے تھے! اور خلیفہ بھی وہ تھا جس نے حصول اقتدار کی غرض سے اپنے بھائی کو قتل کردیا تھا. جب عوام ان حقائق کی طرف توجہ کرتے ہیں تو وہ اس حقیقت کا بآسانی ادراک کرلیتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک سیاسی کھیل ہے جو خلیفہ نے شروع کررکھا ہے. اس ضمن میں یہ سوال اٹھنا ممکن تھا کہ «معاذاللہ امام (ع) دنیا کے لالچ میں مبتلا ہوگئے ہیں! اور مأمون کے بعد اقتدار نظر لگا بیٹھے ہیں مگر یہ اعتراض بہت ہی بعید از قیاس ہے کیونکہ امام (ع) اپنے عہد میں زہد، تقوی، عقل و خرد اور حکمت و عبادت میں ممتازترین درجے پر فائز اور ان ہی حوالوں سے مشہور تھے.
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ امام (ع) نے ابتدا ہی سے ایسا رویہ اپنایا کہ مأمون آپ (ع) کے ذریعے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے. ان ایام میں امام (ع) کی پالیسی بہت ہی باریک بینانہ تھی. مثلاً لوگ ولی‏عہد کی حیثیت سے امام (ع) کی بیعت کے لئے آتے ہیں تو امام ولی‏عہدی قبول کرنے کے لئے شرط لگاتے ہیں کہ «سیاسی معاملات اور تقرریوں یا عہدیداروں کو معزول کرنے کے عمل میں مداخلت نہیں کریں گے». امام کی یہ شرط ثابت کرتی ہے کہ آپ (ع) قلبی طور پر یہ عہدہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور اس عہدے سے خوش نہیں تھے. امام (ع) ولی‏عہدی کی دستاویز پر لکھتے ہیں کہ: «ہمارے پاس علم لدنی ہے جو ہمیں ورثے میں ملا ہے اور میں اس علم کی روشنی میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ امر عملی صورت نہیں اپنا سکے گا مگر میں یہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور ہوا ہوں» اس طرح امام (ع) نے مأمون کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا.

سوال: کہا جاتا ہے کہ اس دور میں اہل تشیع کے ایک انتہا پسند گروہ اور عباسیوں کے ایک گروہ نے امام (ع) کے خلاف موقف اپنایا؛ آپ ان دو مختلف گروہوں کے طرز عمل کا کس طرح تجزیہ کریں گے؟.

جواب: میں البتہ تاریخ میں ایسے کسی واقعے کا انکار کرتا ہوں کہ «شیعہ انتہاپسندوں نے امام (ع) کے خلاف موقف اپنایا تھا» کیوں کہ میری تحقیق کی روشنی میں جب امام (ع) نے عہدہ قبول کیا تو شیعیان اہل بیت (ع) نے حقائق کو آشکار کرنے کی غرض سے امام (ع) کی خدمت میں سوالات پیش کئے اور ان کا ہدف لوگوں کے اذہان کو صاف کرنا تھا اور کسی شیعہ نے بھی اس سلسلے میں اپنے امام معصوم (ع) کے خلاف معترضانہ رویہ نہیں اپنایا. شیعہ ناراض ہوگئے تھے اس وجہ سے کہ ایسا واقعہ کیوں رونما ہوا ہے جو امام (ع) کی اذیت و آزار کا سبب بنا ہے؟ اور جب امام (ع) نے ان کے سوالات کے جوابات دیئے اس حوالے سے ناراض شیعیان اہل بیت (ع) کی تشویش بھی کسی درجہ کم ہوگئی. اس تجزیے کی دلیل یہ ہے کہ شیعیان اہل بیت (ع) اپنے امام معصوم (ع) کے ہر عمل پر راضی ہوتے ہیں اور شیعہ عقائد میں اس امر پر تاکید ہوئی ہے کہ علم لدنی کے مالک امام معصوم (ع) کے افعال کے سلسلے میں تشویش اور فکرمندی کا کوئی جواز نہیں ہے.
یہ واقعہ شیعہ عقائد کے منافی ہے کیونکہ شیعیان اہل بیت (ع) کا مرام و عقائد کا تقاضا ظالم اور غیرالہی حکومتوں پر اعتراض کرنا ہے. اور شیعہ اس سلسلے میں نہ صرف کسی بھی اختلاف اور تفریق کا شکار نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے امام (ع) کے فیصلے کا احترام کیا.
البتہ عباسیوں کا اعتراض ایک فطری عمل تھا اور یہ بات بالکل معمول کے مطابق تھی کہ عباسی سلطنت سے وابستہ عناصر امام رضا (ع) کی ولی‏عہدی کے بعد مأمون کی سیاسی کارکردگی سے ناراض اور فکرمند ہوجاتے کیونکہ مأمون کی سیاسی چالیں ان کے لئے قابل فہم نہ تھیں اور جب انہوں نے دیکھا کہ مأمون نے انہیں جو وعدے دیئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں تو انہوں نے امام (ع) کے قتل کی منصوبے بنانا شروع کئے تا کہ وہ اس بھنور سے چھٹکارا پائیں جو مأمون نے عباسی خلافت کے لئے ترتیب دیا تھا.
مأمون کا بھی ہرگز خیال نہیں تھا کہ اس کی نہایت زیرک اور باریک بین منصوبہ بندی پر مبنی چالیں اس طرح ناکام ہوجائیں گی اور جب اس نے دیکھا کہ اس کی ساری مکاریوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہ بھی امام (ع) کے قتل کے لئے سنجیدہ ہوگیا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بنو عباس کی سلطنت کی بساط لپٹ جائے گی.

سوال: مأمون کی مشینری میں امام (ع) کے داخل ہوجانے کا مفہوم کہیں یہ تو نہیں تھا کہ شیعیان اہل بیت (ع) حکومت کا جزء ہوچکے ہیں اور ان کی سربراہی بھی امام (ع) کے ہاتھ میں ہے جو کہ مأمون کے ولی‏عہد ہیں؟

جواب: شیعیان اہل بیت ہر امام کے زمانے میں ‎معاشرے کے روشن فکر اور ترقی خواہ افراد کے عنوان سے پہچانے جاتے رہے ہیں اور وہ سیاسی اور ثقافتی واقعات کے تجزیئے اور تحلیل سے بخوبی عہدہ برآ ہوتے تھے. دوست و دشمن کا اقرار ہے کہ شیعیان اہل بیت (ع) کی ایک خصوصیت ذکاوت، کیاست، باریک بینی، زیرکی اور دوراندیشی ہے. معاویہ علی (ع) کی شیعوں سے مخاطب ہوکر کہا کرتا تھا کہ «علی نے تمہارے افکار کو وسیع و روشن کردیا ہے». دیکھئے، معاویہ جو امیرالمؤمنین اور اہل بیت علیہم السلام کا دشمن ہے شیعیان اہل بیت (ع) کی اس خصوصیت کا اعتراف کرتا ہے.
یہ اہل بیت (ع) کا تربیتی شیوہ ہے اور ائمہ علیہم السلام اپنے پیروکاروں کی تربیت اس طرح سے کیا کرتے تھےی کہ وہ تعلیم یافتہ اور تجزیہ کی قوت سے لیس ہوکر ابھرا کرتے تھے اور اسی بنا پر میرا عقیدہ یہ ہے کہ حقیقی شیعہ کبھی بھی امام (ع) کے مد مقابل کھڑے نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے امام (ع) کے فیصلے کا خیر مقدم کیا کیونکہ وہ مأمون کے پس پردہ مقاصد سے آگاہ ہوچکے تھے.
شیعیان اہل بیت (ع) کی روشن فکری اور ترقی پسندانہ سوچ کا چرچا اتنا تھا کہ ہر زمانے کے خلفاء کے دور میں ان کی سوچ اہم سمجھی جاتی تھی اور جب کوئی خلیفہ ‎معاشرے کے مختلف شعبوں کی حالت سے آگہی حاصل کرنا چاہتا وہ شیعیان اہل بیت (ع) کی کارکردگی اور ان کا موقف جاننے کی کوشش کرتا تا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ شیعیان اہل بیت (ع) کا ان حالات کے بارے میں کیا تصور اور کیا تجزیہ ہے.
لہذا مذکورہ بالا واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعیان اہل بیت (ع) امام (ع) کو ولی‏عہدی کا عہدہ سونپے جانے کے پس پردہ عزائم و مقاصد سے آگاہ ہوگئے تھے. انہیں مأمون کے ذہن میں پلنے والی سازشیں بھی معلوم ہوچکی تھیں اور اس واقعے کے بعد شیعیان اہل بیت علیہم السلام کے رویئے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام (ع) اپنے پیروکاروں کی صحیح تربیت میں کس حد تک کامیاب ہوگئے تھے. اور صورت حال یہ ہے کہ وہ سارے قابل اعتماد ہیں اور مسائل کے ادراک کی قوت کے مالک ہیں.
سوال: آپ کی خیالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولی‏عہدی کا مسئلہ ایک لحاظ سے شیعیان اہل بیت (ع) کے لئے ایک موقع و فرصت یا opportunity تھا؛ کیا یہ درست ہے؟
جواب: دیکھئے، یہ موضوع بہت ہے پیچیدہ موضوع ہے. مأمون کی زمانے میں اہم ترین گروہ اور اہمترین مکاتب کی پیروکار نہایت اونچی سطح پر اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھی. فکری مکاتب میں زیدیہ اور بنوالحسن (امام حسن (ع) کے فرزند)، اور معتزلہ بہت زیادہ سرگرم تھے. معتزلہ جو انتہاپسندانہ عقل پرستی کی بنا پر شہرت رکھتے ہیں، اس دور میں عروج کو پہنچ گئے تھے.
معتزلی مکتب کے اکابرین اور بانی اسی دور میں موجود اور فعال تھے. معتزلی فرقہ جمہوریت پسندانہ خصوصیت کا حامل تھا اور فکر اور سوچ کی آزادی کو اہمیت دیتا تھا. اسی طرح اس دور میں وہ لوگ بھی سرگرم عمل تھے جو فکری لحاظ سے بڑی حد تک محدود تھے اور فکری جمود کا شکار تھے؛ اہل حدیث مکتب کے بانی، جو صرف سند اور متن کا سہارا لیا کرتے تھے، اسی زمانے میں جیتے تھے.
دوسری جانب سے خوارج بھی بہت سرگرمی دکھا رہے تھے. اسی طرح عباسی دور کی طاقت و تسلط کا قوی ترین دور ہارون اور مأمون کا دور تھا. فوجی طاقت، سیاسی تسلط اور علم کی ترویج کے لحاظ سے مأمون سارے عباسی خلفاء سے زیادہ قوت کا مالک تھا. کہا گیا ہے کہ مأمون قوی ترین اور زیرک ترین عباسی خلیفہ ہے.
وہ اپنے دور میں فکری مکاتب کی بھی راہنمائی کرتا تھا اور اس نے اپنے دور میں قوی ترین جاسوسی نظام بھی قائم کیا تھا؛ اور صورت حال یہ تھی کہ اسلامی مملکت کے گوشے گوشے کی معلومات و اطلاعات دربار خلافت کو موصول ہوتی تھیں. مگر شیعیان اہل بیت (ع) بھی ایک گوشے میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ وہ فکری مکاتب کے قلب میں موجود تھے اور ان پر اثرانداز ہوا کرتے تھے. جبکہ ان کا عقیدہ بھی یہ تھا کہ «خلیفہ غاصب اور ظالم ہے». اس دور میں تمام مکاتب اکٹھے ہوگئے تھے اور وہ تشیع کی بیخ کنی کے درپے تھے.
ان ہی حالات میں امام رضا (ع) کو سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاکہ خلافت کے دربار میں حاضر ہوجائیں؛ امام کے پاس اس صورت حال سے چھٹکارا پانے کا چارہ کیا تھا؟ دو ہی راستے آپ کے (ع) سامنے تھے. پہلا راستہ یہ تھا کہ امام (ع) تشیع نیست و نابود ہوجاتا اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ امام (ع) ولی‏عہدی کا عہدہ قبول کرتے.
چنانچہ امام (ع) نے وہ راستہ اختیار کیا جو نہ صورت امامت اور تشیع کے لئے نقصان دہ نہیں تھا بلکہ تشیع کے فائدے پر منتج ہوا، کیونکہ کہ اس دور میں جبکہ معتزلی فرقے کے پیروکار ‎معاشرے میں عقل پرستی rationalism اور جمہوریت پسندی کے دعویدار تھے اور فکر و سوچ کی آزادی کا نعرہ لگا رہے تھے، تشیع کے لئے ضروری تھا کہ اپنے امام اور مقتدا کی مدد سے اس انحرافی مکتب کا مقابلہ کرتے جس کی ظاہری صورت بہت آراستہ اور دلفریب تھی.
امام رضا (ع) کی سوچ صرف آپ (ع) کے اپنے دور تک محدود نہ تھی بلکہ آپ (ع) مستقبل کا افق بھی دیکھ رہے تھے اور مستقبل کے واقعات کے اثبات کے لئے آپ (ع) کو معتزلہ جیسے قوی فکری مکتب کا آمنا سامنا کرنے کی ضرورت تھی.
امام محمد تقی الجواد (ع) بچپن ہی میں ان مباحث و مناظرات میں شامل ہوئے اور امام جواد (ع) کا یہ اقدام بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا. اور ثقافت و سیاست کے میدانوں میں امام (ع) کی موجودگی اور مناظرات میں آپ کی شرکت اور عقل و منطق کے ذریعے اسلامی عقائد کا اثبات کرکے منطق اسلام کی فوقیت کی سب سے تصدیق کرادی اور عقل پرستی کی انتہاپسند معتزلی گروہ کی بساط الٹ گئی. اور معتزلیوں نے بھی امام رضا (ع) کو معقولات کی دنیا کا امام تسلیم کیا. امام (ع) نے اس بظاہر نئے لباس میں ظاہر ہوکر شیعہ مکتب کو زبردست فکری قوت میں تبدیل کیا اور آپ (ع) نے روشنفکری پر یقین رکھنے والے گروہوں کی راہنمائی فرمائی۔