ولی عہدی امام علی رضا(ع)

(مؤلف: شیخ صدوق رح )

ابوصلت ہروی(رض) کہتے ہیں کہ ماموں رشید نے حضرت علی بن موسی رضا(ع) سے کہا کہ اے فرزندِ رسول(ص) میں آپکے علم و فضل، زہد و تقوی اور آپ کی عبادت کا معترف ہوگیا ہوں اور میری رائے میں آپ مجھ سے زیادہ اس خلافت کے حق دار ہیں۔
حضرت نے فرمایا میں ﷲ کی عبادت پر فخر کرتا ہوں اور اپنے زہد سے امید نجات رکھتا ہوں ہ دنیا کے شر سے محفوظ رہوں گا، تقوی و ورع کی وجہ سے محرمات سے احتراز کو میں بڑی کامیابی سمجھتا ہوں اور تواضع سے دنیا میں امید رفعت و بلندی رکھتا ہوں اور خدا کی درگاہ میں مجھے اس کی امید ہے ۔
مامون نے کہا میں یہ خیال رکھتا ہوں کہ خود کو خلافت سے سبک دوش کردوں اور اس خلافت کو آپکے حوالے کردوں اور آپکی بیعت کروں ۔
امام رضا(ع) نے فرمایا اگر یہ خلافت تیرا حق ہے اور پھر خدا نے تجھے دی ہے تو یہ جائز نہیں کہ جو خلعتِ خلافت خدا نے تم کو پہنایا ہے تم اس کو اتار کر کسی دوسرے کو پہنا دو یہ خلافت تم سے نہیں ہے اور یہ جائز نہیں کہ جو چیز تمہاری نہیں ہے تم وہ مجھے بخش دو ۔ مامون نے کہا، یا ابن رسول ﷲ(ص)تمہیں یہ خلافت چار و ناچار قبول کرنی ہی پڑے گی،
امام رضا(ع) نے فرمایا زبردستی کی اور بات ہے ورنہ اپنی خوشی سے تو میں اسے کبھی بھی قبول نہ کرونگا، مامون کچھ دنوں تک اصرار کرتا رہا آخر جب نا امید ہوا کہ وہ قبول نہیں کرتے تو کہا کہ اگر آپ خلافت قبول نہیں کرتے اور آپ کو یہ پسند نہیں کہ میں آپ کی بیعت کروں تو آپ میرے ولی عہد بن جائیں تاکہ میرے بعد یہ خلافت آپ کو مل جائے،
امام رضا(ع) نے فرمایا خدا کی قسم میرے والد(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کی ہے کہ امیر المومنین(ع) نے فرمایا کہ رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ میں تجھ (مامون) سے پہلے زہر کے ذریعے قتل ہوکر اس دنیا سے کوچ کرجاؤں گا ،مظلومانہ طور پر اور آسمان و زمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کریں گے اور عالم غربت میں میں ہارون رشید کے پہلو میں دفن کیا جاؤں گا، یہ سن کر مامون رونے لگا اور کہنے لگا فرزند رسول(ص) جب تک میں زندہ ہوں کس کی یہ جرأت ہے کہ آپ(ع) کو قتل کرے اور کس کی یہ جرأت ہے کہ آپکے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، امام رضا(ع) نے کہا اگر میں چاہوں تو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ کون مجھے قتل کرے گا، مامون نے کہا اے فرزند رسول(ص) یہ باتین کہنے سے آپکا مقصد یہ ہے کہ آپ بارِ خلافت اٹھانا نہیں چاہتے اور یہ خلافت قبول نہیں کرنا چاہتے تاکہ لوگ یہ کہیں کہ آپ(ع) زاہد ہیں، امام رضا(ع) نے فرمایا سنو خدا کی قسم جب سے میرے رب نے مجھے پیدا کیا ہے میں نےآج تک کبھی جھوٹ نہیں کہا ہے، مامون نےکہا اچھا تو پھر بتائیے کہ خلافت پیش کرنے کا میرا مقصد کیا ہے فرمایا اگرمیں سچ کہوں تو مجھے جان کی امان ہے۔؟ اس نے کہا، امان ہے، فرمایا تیرا مقصد اس سے یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ علی بن موسی رضا(ع) خود زاہد نہ تھے بلکہ دنیا ان کی طرف سے بے رغبت تھی اور جب خلافت کے لالچ میں ولی عہد ملی تو انھوں نے قبول کرلی، یہ سن کر مامون کو غصہ آگیا اور کہا تم ہمیشہ میرے بارے میں ایسی ہی باتیں کرتے ہو جو مجھے ناپسند ہوتی ہیں یہ میری ڈھیل اور رعایت کا نتیجہ ہے خدا کی قسم اگر تم نے ولی عہدی قبول نہ کی تو میں مجبور کردوں گا کہ اسے قبول کرو اور اگر پھر بھی قبول نہ کی تو آپکی گردن اڑادوں گا، امام رضا(ع) نے فرمایا خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپکو ہلاکت میں نہ گراؤں لہذا اگر یہ بات ہے تو تیرا جو دل چاہے وہ کر اسے قبول کرلوں گا مگر اس شرط پر کہ نہ میں کسی کو مقرر کروں گا اور نہ کسی کو معزول کروں گا اور نہ کوئی دستور اور نہ کوئی قانون منسوخ کروں گا اور دور ہی دور سے خلافت کے بارے میں تجھے مشورہ دیتا رہوں گا ،مامون اس پر راضی ہوگیا اور آپ(ع) کو نہ چاہنے کے باوجود ولی عہد بنا دیا گیا۔
(ذرائع: اقتباس ازکتاب مجالس صدوق ترجمہ امالی صدوق)