حضرت امام رضا علیہ السلام

(مؤلف: آیۃ اللہ مظاہری)

آپ کا نام نامی علی(ع) کنیت ابوالحسن ثانی اور مشہور لقب رضا(ع) ہے۔ آپ کی عمر مبارک ۵۵ سال تھی۔ ۱۱ ذی العقعدہ ۱۴۸ ہجری کو ولادت پائی اور ۲۰۳ ہجری میں صفر کی آخری تاریخ کو وفات پائی ۔ سبب شہادت مامون کا زہر دینا تھا۔
مدت امامت بیس سال ہے۔ سترہ سال مدینہ میں عوام کے پشت پناہ ،علماء کے استاد اور مروج دین رہے اور آخری تین سال آپ کو مجبوراً طوس پہنچایا گیا اور یہاں بھی آپ نے جہاں تک ممکن تھا دین کی حفاظت فرمائی ،انجام کار کار مامون کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
اسلامی کتب تاریخ کے مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کلمات الہی کے معدن ، انوار الہی کے صندوق اور الہی علوم کے خزینہ دار تھے۔ مامون کے دربار میں دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ آپ کے مباحث اور مناظرے آپ کی علمی شخصیت کو نمایاں کرتے ہیں جس کا اعتراف مامون اکثر یہ کہہ کر کرتا تھا ۔ “ میں نے روئے زمین پر اس شخص سے بڑھ کر کسی کو عالم نہیں دیکھا۔” دائرة المعارف میں لفظ رضا کے ذیل میں مصنف لکھتا ہے “ مامون نے اپنے دربار میں ۳۳ ہزار لائق فاضل افراد کو جمع کیا ہوا تھا ۔ ایک دفعہ ان سے رائے لی اور پوچھا کہ میرے ولی عہد بننے کے لیےکون سب سے زیادہ اور مناسب ہے اور ان تمام ۳۳ ہزار علماء فضلاء نے اتفاق سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا نام لیا۔”

آپ کی عبادت
آپ کی عبادت کو سمجھنے کے لیے امام کا یہ فرمان سننا ہی کافی ہے کہ جس وقت آپ نے مشہور شاعر دعبل خزاعی کو عبا مرحمت فرمایا تو کہا “ اے دعبل اس عبا کی قدر جانو کہ اس عبا میں ہزار راتیں اور ہر رات ہزار رکعت نمازیں پڑھی جاچکی ہیں۔” وہ لوگ جو آپ کو مدینہ سے طوس تک لائے تھے، تمام نے متفقہ طور پر آپ کی شب بیداری ، دعا و نماز تہجد کی پابندی اور اپنے رب کے حضور گریہ و زاری کا ذکر کیا ہے۔

آپ کی انکساری
ابراہیم بن عباس جو مدینہ سے طوس تک آپ کے ہمرکاب تھا، کہتا ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی کسی پر ظلم کیا ہو، کسی کی بات کاٹ لی ہو، کسی کی حاجت پوری نہ کی ہو، پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوں، کسی کی موجود گی میں تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں، آپ کسی کے ساتھ تندی کے ساتھ نہیں بولتے تھے۔”

آپ کی سخاوت
ایک واقعہ کا ذکر کلینی علیہ الرحمہ نے کیا ہے اس بارے میں ہم اسی واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ لوگوں کا ایک بڑا گروہ آپ کی خدمت میں موجود تھا، کہ ایک مسافر آیا اور کہا، مولا! میں آپ (ع) اور کے آباء کرام کا دوستدار ہوں میں نے اپنے راستے کا خرچ حج کے دوران کھودیا ہے اس سفر میں بغیر زاد راہ کے رہ گیا ہوں مہربانی کر کے سفر کے اخراجات کے لیے کچھ عنایت فرما دیجئے جسے میں خراسان پہنچ کر آپ کی طرف سے صدقہ کروں گا۔ کیونکہ وہاں میری رہائش ہے۔ آپ اپنے کمرے میں تشریف لے گئے اور دو سو دینار لاکر دروازے کے اوپر سے ہاتھ میں تھما دیئے اور فرمایا صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں اور اسے چلے جانے کو کہا وہ شخص چلا گیا۔ تو حاضرین نے پوچھا کہ رقم دروازے کے اوپر سے تھما دی اور اس کے چلے جانے کی خواہش کی اور اسے نہ دیکھنا چاہا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ اس کے چہرے پر سوال کی ذلت دیکھوں کیا تم نے نہیں سنا کہ حضور اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ چھپا کر دیا ہوا صدقہ ستر حج کے برابر ہے۔ آشکار گناہ رسوائی کا باعث ہے اور پوشیدہ گناہ بخش دیا جائے گا۔
یہ آںحضرت (ع) کے فضائل کے ایک جھلک ہے جسے ذکر کیا گیا۔

آپ کے فضائل حمیدہ
ہارون رشید کی موت کے بعد اسلامی ممالک میں شورش برپا تھی اور ایک بحران کی حالت تھی۔ جس وقت ہارون نے اپنے بھائی کو نیست و نابود کیا اور اسلامی سلطنت کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی تو یہ مناسب جانا کہ مختلف اسلامی علاقوں کے معزز افراد کو جمع کر کے ان کے ذریعے ہی ان شورشوں کا قلع قع کرے۔ لہذا اس نے ۳۳ ہزار افراد کو مختلف ممالک سے بلاکر دارالخلافہ میں جمع کیا اور انہیں اپنا مشیر بنایا اسی دوران حضرت امام رضا علیہ السلام کو ولایت عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا اور اس طرح اسلامی ممالک میں شورشوں پر قابو پایا۔ لیکن جب ہنگامے ختم ہوگئے اور مملکت میں امن و سکون قائم ہوگیا تو ان مشیروں میں سے اکثر ہارون غیظ کا نشانہ بنے۔ کچھ تو زندان میں محبوس ہوئے اور باقی قابل اعتنا نہ رہے اور بعض قتل کردیے گئے۔ قتل کئے جانے والوں کی فہرست میں حضرت امام رضا علیہ السلام کا نام بھی ہے۔ اس کو وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لیے چند نکات بیان کرتے ہیں۔

۱ ـ خود حضرت امام رضا علیہ السلام نے متعدد مواقع پر یہ اظہار فرمایا ہے کہ آپ کا خراسان کا سفر اور ہارون کی حکومت میں موجود ہونا آپ پر ایک مسلط شدہ امر تھا مدینہ سے کچھ کرتے وقت مجلس عزاء کا پربا کرنا، اپنے جد بزرگوار کی قبر سے رخصت ہوتے وقت گریہ و زاری کرنا، مامون کے آدمی پہنچنے سے قبل ہی بیت ﷲ سے رخصت ہونا اور بار بار ولی عہدی کو قبول نہ کرنا، مگر مجبور کرنے پر قبول کرنا لیکن اس میں بھی یہ شرائط رکھنا کہ امور مملکت میں دخل نہیں دیں گے۔ وغیرہ تمام اقدامات اس بات کے گواہ ہیں کہ ولی عہدی آپ پر مسلط کی گئی تھی۔ اور آپ(ع) نے خوشی سے اسے قبول نہیں کیا تھا۔

۲ ـ حضرت امام رضا علیہ السلام مامون سے ملاقات کے بعد ہر وقت غیر معمولی طور پر غمگین رہتے تھے۔ جب بھی آپ نماز جمعہ سے لوٹتے تو موت کی تمنا کرتے تھے۔

۳ ـ شاید اکیلے میں آپ کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہو، یا ان کے منافقانہ سلوک سے آپ دل برداشتہ ہوں؟ یا اور کوئی دوسری وجہ ہو۔ وجہ معلوم نہیں مگر یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچی ہوئی تھی کہ آپ غیر معمولی طور پر غمگین رہتے تھے۔

۴ ـ حضرت امام رضا علیہ السلام کا مرو میں آنا اسلام کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا چونکہ اس زمانے میں طوس دوسرے لوگوں کے لیے علم کا مرکز تھا اگر حضرت امام رضا علیہ السلام طوس میں نہ ہوتے تو ان کے اعتراضات کوئی بھی حل نہیں کرسکتا تھا اور اگر یہ اعتراضات اور شبہات حل نہ ہوتے تو اسلام کےلیے شدید خطرہ تھا۔

۵ـ حضرت امام رضا علیہ السلام راستے میں نیشاپور میں پہنچے اور نیشاپور میں شیعوں کی تعداد غیر معمولی تھی۔ لوگوں کا ایک جم غفیر آپ کے استقبال کے لیے آیا اور اپنی عقیدت کی بناء پر امام علیہ السلام سے کوئی حدیث نہیں چاہی ۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ حجت خدا ان کے لیے اس حساس موقع پر ایک بہترین تحفہ دے دیں آپ چند لمحے خاموش رہے اور جب لوگوں کا اشتیاق بڑھا تو آپ نے فرمایا۔
“ حدّثني‏ أبي‏ موسى‏ الكاظم‏، عن أبيه جعفر الصادق، عن أبيه محمّد الباقر، عن أبيه عليّ زين العابدين، عن أبيه الحسين الشّهيد بكربلا، عن أبيه عليّ بن أبي طالب كرّم اللّه وجهه و رضوان اللّه عليهم، أنّه قال: حدّثني حبيبي و قرّة عيني رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلّم قال: حدّثني جبرئيل عن ربّ العزّة سبحانه و تعالى يقول: كلمة لا إله إلّا اللّه حصني فمن قالها دخل حصني و من دخل حصني أمن من عذابي”
ترجمہ : “ میرے پدر بزرگوار حضرت امام موسی کاظم (ع) نے اپنے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق(ع) سے انہوں نے اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر(ع) سے ، انہوں نے اپنے پدر گرامی حضرت امام زین العابدین(ع) سے ، انہوں نے اپنے پدر گرامی حضرت امام حسین سید الشہداء سے ، انہوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت علی ابن ابی طالب(ع) سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اکرم (ص) نے مجھ سے فرمایا کہ جبرائیل (ع) نے مجھ سے کہا کہ میں نے خداوند عالم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کلمہ “لا إله إلّا اللّه” میرا قلعہ ہے جس کسی نے لا إله إلّا اللّه کہا وہ میرے قلعے میں داخل ہوا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہا۔”
اس کے بعد آپ کی سواری روانہ ہوئی پھر آپ نے ہودج سے سر مبارک باہر نکالا اور فرمایا بشرطها و شروطها و انا من شروطها۔ کلمہ لا الہ الا اﷲ کہنا سعادت کا موجب ہے مگر اس کے لیے کچھ بنیادی شرائط ہیں ان میں سے ایک شرط میں ہوں ( یعنی اقرار ولایت)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کےبارے میں چند کلمات لکھے جائیں کلمہ لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنا اور اس پر عمل کرنا موجب سعادت ہے۔ لا الہ الا اﷲ در حقیقت وہی قرآن ہے، وہی کتاب ہے، جو انسانی معاشرے کے لیے سعادت کا باعث ہے لیکن قرآن کے مطابق قرآن ولایت کے بغیر کچھ بھی نہیں۔
خداوند عالم نے جس وقت حضرت علی (ع) کو ولایت کے عہدے پر منسوب فرمایا تو آیت اکمال کو نازل فرمایا۔
“الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ‏ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً”
“ آج کے دن ہم نے تمہارے لیے دین کو مکمل کیا اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کیں۔ اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسندیدہ قرار دیا۔”
اور آیت اکمال سے پہلے یعنی علی علیہ السلام کو منسوب بہ ولایت کرنے سے پہلے “ آیت بلغ” نازل فرمائی۔
“ يا أَيُّهَا الرَّسُولُ‏ بَلِّغْ‏ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ”
“ اے رسول(ص) جو کچھ تم پر نازل کیا ہے اسے تبلیغ کے ذریعے پہنچاؤ اگر تم نے اس کا پرچار نہیں کیا تو گویا رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔”
حضرت امام رضا علیہ السلام نے شرطہا و شروطہا کہہ کر انہی آیات ، یعنی آیت اکمال اور آیت بلغ کی یاد دہانی فرمائی ہے اور فرماتے ہیں کہ کلمہ لا الہ الا اﷲ کی بنیاد ولایت ہے۔
جس چیز کی طرف ہمیں زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا چاہیے وہ ولایت کی حقیقت اور معنی ہیں۔ لغت کے اعتبار سے ولایت کے متعدد معنی ہیں۔ منجملہ ان معنوں میں سے ایک معنی دوستی کے بھی ہیں۔ یعنی تمام لوگوں کو چاہئے کہ اہل بیت علیہم السلام کو دوست رکھیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی دوستی اور محبت ایک عظیم نعمت ہے اور ان کے ساتھ بغض و دشمنی رکھنا ایک عظیم نقصان اور رسوائی کا باعث ہے تمام شیعہ و سنی محدثین نے روایت نقل کی ہے کہ حضور اکرم (ص) نے فرمایا ۔
“ أَلَا مَنْ‏ مَاتَ‏ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَهِيداً أَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مَغْفُوراً لَهُ أَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ تَائِباً أَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مُؤْمِناً مُسْتَكْمِلَ الْإِيمَانِ أَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ كَافِراً أَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ لَمْ يَشَمَّ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ”
“ ترجمہ : “ خبردار رہو جو محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) کی محبت کے ساتھ مرے گا، وہ شہید مرے گا خبردار رہو جو کوئی محمد (ص) و آل (ع) محمد(ص) کی محبت کی محبت مرے گا وہ بخشا جائے گا، جو محمد و آل محمد(ص) کی محبت میں مرے گا وہ تائب ہو کر مرے گا۔ جو محمد و آل محمد(ص) کی محبت کے ساتھ مرے مومن مرے گا اور ایمان کی تکمیل چاہنے کی راہ میں مرے گا۔ جو اہل بیت علیہم السلام کی دشمنی کے ساتھ مرے گا وہ کافر مرے گا۔ یاد رکھو! جو محمد و آل محمد (ص) کی دشمنی میں مرے گا اس کے دماغ تک بہشت کی خوشبو نہیں پہنچے گی۔”
ولایت کے ان معنوں میں سے ایک معنی سرپرستی کے بھی ہیں یعنی جس کسی دل میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سرپرستی ہو وہ ولایت رکھتا ہے جس نے اپنے نفس کو صفات زذیلہ سے پاک کیا وہ ولایت رکھتا ہے۔ جس کسی کے دل کا سر پرست اندرونی و بیرونی طاغوت، اندرونی اور بیرونی شیطان ، آرزوئیں ، خواہشات اور بیجا تمنائیں ہوں اور جسے کسی کی خواہشات، تمنائیں اور اس کا ذاتی نظریہ، اہل بیت علیہم السلام کے نظریے سے اولیت رکھتا ہے، اس کا دل بے ولایت ہے بلکہ اس کا دل اہل بیت علیہم السلام کی محبت سے خالی ہے اس لیے تو حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں۔ “ اتباع کے بغیر ولایت و محبت بے معنی ہے۔”
یعنی اگر ایک شخص خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے محبت و ولایت کا دعویدار رہے تو اس کا ایسا کرنا بیجا ہے اور ایسا شخص تو زمانے کا ایک نمونہ قرار پائے گا۔ ولایت اہل بیت علیہم السلام یعنی ولایت الہی کو جاری و ساری دینے کا نام ہے۔
“اللَّهُ‏ وَلِيُ‏ الَّذِينَ‏ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ وَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِياؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُماتِ أُولئِكَ أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ‏”
“ خدا مومنوں کا سرپرست ہے جو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔کفر و ضلالت کی گمراہی ، خواہشات نفسانی کی گمراہی ، شیطانوں کی گمراہی اور پست و رذیل صفات کی گمراہی سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اور کافروں کا سرپرست طاغوت ہے جو انہیں روشنی سے نکال کر تاریکی کی طرف لے جاتا ہے اندرونی اور بیرونی طاغوت پست صفات کا طاغوت اور ان کا انجام ہمیشہ کے لیے آگ ہے۔”
حضرت امام رضا علیہ السلام نے جس روایت کو بیان فرمایا ہے اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ جس دل میں لا الہ الا اﷲ داخل ہوا اس دل کا سرپرست ﷲ ہے۔ اب اس کا عقیدہ ، اس کا نظریہ اور اس کا عمل ، اس کا اظہار کرتا ہے کہ دنیا میں سوائے ﷲ کے اور کوئی تاثیر نہیں اور اس کا دوام ولایت کی سرپرستی ہے جو ﷲ کا ایک مضبوط قلعہ ہے۔
اس لیے کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے اس ایک جملے میں تمام ایمان ، تمام قرآن ، تمام سعادتوں اور تمام سنتوں کو بیان فرمایا ہے۔
اس روایت کا ایک ملتا جلتا بیان جو کہ رسول اکرم(ص) سے روایت کیا گیا ہے جس وقت حضور اکرم (ص) کا اعلانیہ تبلیغ کا حکم ملا “وَ أَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ‏ الْأَقْرَبِينَ‏” کا حکم ملا تو حضور اکرم(ص) نے قریش کے بزرگوں کو جمع کیا اور دعوت دی۔ ان کو جمع کر کے فرمایا۔
“قولوا لا إله‏ الّا اللَّه تفلحوا”
اگر تم لوگ کلمہ لا الہ الا اﷲ کہو گے تو فلاح پاؤ گے۔ اور یاد رکھو تم میں سے سب سے پہلے جو کلمہ لا الہ الا اﷲ کہے گا وہی میرا وصی اور جانشین ہوگا۔” اور تم سب سے پہلے جواب دینے والے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام تھے۔
حضور اکرم(ص) نے کئی مرتبہ بات کا تکرار کیا ۔ مگر سوائے حضرت علی علیہ السلام کے اور کسی نے جواب نہیں دیا تو حضور اکرم(ص) نے فرمایا میرے بعد علی (ع) میرا وصی اور میرا جانشین ہوگا۔ حضور اکرم (ص) کا یہ ارشاد امام رضا علیہ السلام کے ارشاد کی تائید کرتا ہے۔
مضمون کے آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے مرو آتے وقت دعبل خزاعی نے جو اشعار کہے تھے اسے لکھا جائے۔ قصیدہ تو بہت بڑا ہے اور اس قصیدے کوصاحب کشف الغمہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں مکمل درج کیا ہے ۔ اس کے چند اشعار ہم یہاں پر نقل کرتے ہیں دعبل آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اشعار سناتے ہوئے یہاں تک پہنچا ۔
أفاطم‏ لو خلت الحسين مجدّلا و قد مات عطشانا بشطّ فرات‏
“ اے کاش فاطمہ(س) تم کربلا میں ہوتیں تو دیکھتیں کہ حسین (ع) نے دریائے فرات کے کنارے کس طرح پیاس کی حالت میں شہادت پائی۔”
اس کے بعد بغداد میں حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام کی قبر کے ذکر تک پہنچا تو کہا۔
و قبر ببغداد لنفس زكية تضمنها الرحمن في الغرفات‏
“ اے فاطمہ(س) قبر سے باہر اور اس قبر پر گریہ کر جو بغداد میں ہے جسے نورانی رحمت نے گھیر رکھا ہے۔”
یہ سن کر امام رضا علیہ السلام نے فرمایا۔ دعبل میں نے بھی ایک شعر کہا ہے اسے اس شعر کے بعد لکھ لینا اور وہ شعر یہ ہے۔
و قبر بطوس‏ يا لها من مصيبة ألحت على الأحشاء بالزفرات
إلى الحشر حتّى يبعث اللّه قائما يفرّج عنّا الهمّ و الكربات

“ گریہ کرو اس قبر پر جو طوس میں ہے اس کے دل کو غموں نے چور چور کیا ہوا ہے اس کا یہ غم والم قیامت تک باقی رہنا ہے بلکہ قیام آل محمد(ص) تک باقی رہنا ہے جنہوں نے آکر اہل بیت (ع) کے تمام غموں کو دور کرنا ہے۔

دعبل کہنے لگا یا بن رسول اﷲ میں نے تو طوس میں آپ اہل بیت (ع) میں سے کسی کی قبر نہیں دیکھی ہے۔ حضرت نے فرمایا وہ قبر میری ہے کچھ مدت کے بعد میں طوس میں دفن کیا جاؤں گا جو کوئی بھی میری زیارت کرے گا وہ بہشت میں میرے ساتھ ہوگا اور وہ بخشا جا چکا ہوگا۔ دعبل نے آگے کلام جاری رکھا اور کہا۔

خروج‏ امام‏ لا محالة خارج‏ يقوم على اسم اللّه و البركات‏
يميز فينا كل حقّ و باطل‏ و يجزي على النعماء و النقمات‏

“ امام(ع) کا خروج یقیناً واقع ہونے والا ہے جو ﷲ کا نام کے کر اس کی برکتوں کے ساتھ قیام کرے گا ہمارے بارے میں حق و باطل کا فرق معلوم ہوجائے گا نیکوں کو جزاء اور بروں کو سزا ملے گی۔” جب دعبل یہاں تک پہنچا تو امام کھڑے ہوئے اور سرجھکا کر احتراماً ہاتھ سر پر رکھا اور فرمایا دعبل اس امام کو جانتے ہو دعبل نے کہا کہ ہاں یہ امام(ع) اہل بیت (ع) میں سے ہوگا۔ اس کے ہاتھوں ہی اسلام کا پرچم روئے زمین پر گاڑ دیا جائے گا اور سارے عالم میں اسلامی عدالت کا دور دورہ ہوگا نیز فرمایا دعبل میرے بعد میرا بیٹا محمد(ع) اس کے بعد اس کا فرزند علی(ع) ان کے بعد ان کا فرزند حسن(ع) اور حسن(ع) کے بعد اس کا بیٹا حجت خدا ہوگا۔ جو غیبت میں چلا جائے گا اور اس کا ظہور کا انتظار کیا جائے گا۔ جس کے ظہور کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔ اس کے بعد آپ نے دعبل کو اپنی عبا اور سو دینار عطا فرمائے۔ جب دعبل قم میں آئے تو اس کا ہر دینار سو دینار میں خریدا گیا اور یہ پیش کش کی گئی کہ اس عبا کو ہزار دینار میں خریدیں۔ مگر اس نے نہیں دیا۔ لیکن جب وہ قم سے باہر نکلے تو قم کے بعض لوگوں نے وہ عبا ان سے چھین لی۔

اختتام پر حضرت معصومہ قم علیہا السلام کا مختصر ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ خداوند عالم کے ہاں جن کا بہت بلند مقام ہے۔ آپ ایک ایسی خاتون ہیں جو امام (ع) کی بیٹی ہیں، امام(ع) کی بہن ہیں اور امام(ع) کی پھوپھی ہیں۔ وہی خاتون جس کے فیض قدم سے ہر زمانے میں حوزہ علمیہ کی برکتیں جاری ہیں آپ وہی خاتون ہیں جن کے بارے میں حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا “ جو کوئی حضرت معصومہ(ع) کی زیارت کرے گا اس پر بہشت واجب ہوجاتی ہے۔”آپ کی ولادت ۱۸۳ہجری میں ہوئی چونکہ آپ کے برادر بزرگوار ( حضرت امام رضا علیہ السلام) مرو لے جائے گئے تو آپ نے اپنے بھائی سے ملاقات کی خاطر مدینہ سے مرو کی طرف سفر کیا۔ قم پہنچ کر آپ بیمار ہوگئیں اور ۲۰۱ ہجری میں وفات پاگئیں۔ اس طرح اس معظمہ کی عمر مبارک اٹھارہ سال ہوتی ہے۔ آپ کے روضے میں حضرت جواد علیہ السلام کے پوتے اور چند بیٹیاں بھی مدفون ہیں ، اس طرح ائمہ طاہرین علیہم السلام کے اصحاب اور عرفا کی ایک بہت بڑی تعداد مدفون ہیں۔

( ذرائع: اقتباس ازکتاب اسلام کے محافظ)