وجود خدا بدیھی ھے

قران میں بداھت وجود خدا عام طور پر کتب فلسفہ وکلام میں سے بحث کا آغاز”اثبات وجود خدا“ سے ھوتاھے اور کوشش کی جاتی ھے کہ مختلف استدلالات و براھین کے ذریعہ ثابت کیا جائے کہ ”اس کائنات کا ایک خالق ھے جو خود کسی کی مخلوق نہیں ھے۔
لیکن آسمانی کتابوں مخصوصاً قرآن کریم میں مبحث خداشناسی، ایک دوسرے انداز سے پیش کیا گیا ھے۔ ان کتابوں میں ندرت کے ساتھ ھی ایسی عبارتیں نظر آتی ھیں جو براہ راست اثبات اصل ھستی خدا سے بحث کرتی ھیں۔ گویا اصل وجود خدا، ا یک روشن وواضح حقیقت اور امر مسلم ھے جس میں کسی شک و تردید کی قطعاً کوئی گنجائش نھیں ھے۔
مفسر عالی مرتبت علامہ طباطبائی اپنی معرکة الآراء تفسیر، تفسیرالمیزان میں اس نکتے پر نھایت تاکید کرتے ھیں کہ قرآن کریم نے وجود خدا وند متعال کو واضح وبدیھی شمار کیاھے کہ جس کی تصدیق واثبات کے لئے کسی دلیل یا برھان کی کوئی ضرورت نھیں ھے۔ اگر دلیل و استدلال کی ضرورت ھے تو فقط اس کی صفات کے لئے مانند وحدت، خالقیت ،علم و قدرت وغیرہ۔ (۱)
علامہٴ مرحوم کے مطابق کلمہٴ اسلامی ”لا الٰہ الا الله“ کہ جو اسلام اور تعلیمات قرآن کریم کا لب لباب ھے، میں اس جملہ کے فقط سلبی حصے کو دلیل کی ضرورت ھے (یعنی الله کے سوا کوئی الله ھی نھیں ھے) ورنہ اس کا اثباتی جنبہ ( یعنی الله موجود ھے) بدیھی اور دلیل و استدلال سے بے نیاز ھے۔ (۲)
قرآن کریم کی منطق اصل وجود خدا کے بارے میں مندرجہ ذیل ھے:
”اٴفی الله شک“ (۳) یعنی آیا وجود خدا کے بارے میں کوئی شک یا تردید ھے؟!

دیگر آسمانی کتابوں میں بداھت وجود خدا
جیسا کہ اشارہ کیا جا چکا ھے کہ قرآن کریم کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں میں بھی خدا شناسی سے متعلق مذکورہ روش کو انتخاب کیا گیا ھے۔ آربری A.J. ARBERRY اپنی کتاب ”اسلام میں عقل ووحی“ میں رقمطراز ھے:
یونان میں عصر افلاطون ایسی روایات کا منبع تھا کہ جن کی بنیاد پر وجود خدا کے اثبات کے لئے دلیل و برھان ضروری تھا۔ مغربی دنیا میں ایسا پھلی دفع ھوا تھا کہ بشر اپنے خالق کی جستجوکررھا تھا۔ عھد عتیق میں ایسا کبھی نھیں ھوا تھا کہ کوئی دانشمند ھستی خدا کے بارے میں کسی ایسے پیچیدہ اور گنجلک مسئلہ سے روبروھوا ھو جس میںکسی تردید یاشک کی گنجائش ھوکیونکہ قوم سامی( قوم پسر نوح)کی فطرت خود وحی میں ھی خدا کوتلاش کرلیتی تھی۔
عھد عتیق (باستان) سے متعلق مذکورہ نکات کسی قدر ترمیم کے ساتھ عھد جدید (زمانہٴ حضرت عیسیٰ) پر بھی منطبق ھوتے ھیں۔(۴)
زرتشتیوں کی مقدس کتاب ”اوستا“ کے مطالعہ سے بھی یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ اصل وجود خدا کا بدیھی ھونا فقط اقوام سامی یاکتب دینی سے ھی مخصوص نھیں رھا ھے بلکہ ”اوستا“ میں بھی اصل ھستی خدا کوبدیھی اور دلائل سے بے نیاز بتا یاگیا ھے۔
البتہ ھندؤں کی کتب مقدس ”اپنیشید“ میں خال ۔خال ایسی عبارتیں نظر سے گذرتی ھیں کہ جن کا آھنگ اور انداز ھستی صانع اورعلت اولیہ کے بارے میں سوالیہ ھے لیکن یہ عبارتیں بھی علت اولیہ، مبداٴ خلقت اوراس کی صفات جیسے امورسے متعلق ھیں نہ کہ اصل وجود میں تردید یا شکوک وشبھات کو بیان کرنے والی۔

عصر بعثت اور الله پر ایمان و اعتقاد
قرآن مجید کی بھت سی آیتوںسے واضح ھوتا ھے کہ قرآن کریم کے زمانہٴ نزول میں اصل ھستی خدا اوراس کائنات کے خالق کا وجود اس زمانے کے تمام افراد کے لئے قابل قبول تھا حتی بت پرست اور مشرکین بھی وجود خالق کائنات پر اعتقاد رکھتے تھے:
(ولئن ساٴلتهم من خلق السموات والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن الله فانی یوٴفکون)
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے خلق کیا اور کس نے تمھارے لئے شمس وقمر کو مسخر کیا ھے تو وہ کھیں گے کہ الله نے ! تو پھر وہ منحرف کیوں ھو رھے ھیں؟(۵)
(ولئن ساٴلتهم من نزل من السماء ماء فاحیا به الارض من بعد موتها لیقولن الله قل الحمد لله بل اکثر هم لا یعقلون)
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا اوراس کے وسیلے سے زمین کو اس کی موت کے بعد کس نے زندہ کیا تو وہ کھیں گے کہ الله نے ۔ تو ان سے کهدو کہ ساری تعریفیں الله ھی کے لئے ھیں لیکن ان میں سے اکثر نھیں سمجھتے۔(۶)
(ولئن ساٴلتهم من خلق السموات والارض لیقولن خلقهن العزیز الحکیم)
اوراگر تم ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ھے تو وہ یقینا یھی کھیں گے کہ خداوند متعال قادر وعلیم نے ھی انھیں پیدا کیا ھے۔(۷)

اقوام نوح، عاد اور ثمود میں خدا پر اعتقاد
قرآن مجید کی آیتوں سے وضاحت ھوتی ھے کہ نہ فقط زمانہٴ رسول اکرم کے افراد بلکہ قوم نوح، عاد، ثمود اور دوسری امتوں میں بھی اپنے اپنے پیغمبروں کے ساتھ اصل وجود خداپر کوئی جھگڑا یا اختلاف نھیں تھا بلکہ اختلافات اگرتھے تو فقط توحید، نبوت اور قیامت سے متعلق ۔ ان زمانوں کے بت پرست اور مشرکین وجودخدا کو بطور خالق قبول کرتے ھوئے اس کی تصدیق کرتے تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ ساتھ ھی ساتھ بتوں کی بھی تجلیات خدا کے طور پر پرستش کرتے تھے۔ وہ لوگ بتوں کی اس لئے پرستش و عبادت کرتے تھے کہ اصنام ان کے اور خدا کے درمیان واسطہ اور وسیلہ قرار پائیں اور ان کی حاجت روائی اور ان کی مشکلات کو دور کریں:
(الم یاٴتکم نبوٴالذین من قبلکم قوم نوح وعادٍ وثمود والذین من بعدهم لا یعلمهم الاالله فلیتوکل المتوکلون)
کیا تمھیں ان لوگوں کی خبر نھیں پھونچی جو تم سے پھلے تھے؟ قوم نوح، ثمود اور جو ان کے بعد تھے وھی جن سے الله کے علاوہ اور کوئی آگاہ نھیں ھے ان کے پیغمبر ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے لیکن انھوں نے (تعجب اور استھزا سے) اپنے منہ پر ھاتھ رکھ کر کھا: ھم اس چیز کے کافر (منکر) ھیں جس کے لئے تم مامور ھو اور جس کی طرف تم ھمیں بلاتے ھو، اس کے بارے میں ھمیں شک ھے۔ ان کے رسولوں نے کھا! کیا الله کے بارے میں شک ھے اور وہ الله جس نے آسمانوں اور زمین کو خلق کیا، وہ جو تمھیں دعوت دیتاھے کہ تمھارے گناہ بخش دے اور تمھیں وعدہ گاہ تک باقی رکھے گا؟ انھوں نے کھا: ( ھم یہ باتیں نھیں سمجھتے ۔ ھم تو اتنی بات جانتے ھیں کہ) تم تو ھمارے ھی جیسے انسان ھو اورتم چاھتے ھو کہ ھمیں اس سے روکو جس کی ھمارے آباء واجداد پرستش کرتے تھے۔ تم ھمارے لئے کوئی واضح دلیل لاؤ۔
ان کے رسولوں نے کھا! (ھاں) یہ ٹھیک ھے کہ ھم بھی تم جیسے بشر ھیں لیکن الله اپنے بندوں میں سے جس کو چاھتا ھے ( اور جس کو اھل پاتا ھے) نعمت (اورمقام رسالت) عطا فرماتا ھے اور ھم حکم خدا کے بغیر ھرگز معجزہ نھیں لاسکتے اور تمام باایمان افراد صرف الله پر ھی توکل کرنا چاھتے ھیں۔ ھم الله پر کیوں نہ توکل کریں جب کہ اس نے ھمیں(سعادت کی) راھوں کی طرف راھنمائی کی ھے اور ھم تمھاری ایذا رسانیوں پر یقینا صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو صرف الله پر ھی توکل کرنا چاھئے۔ (۸)
علامہ طباطبائی اپنی تفسیر میں ان آیتوں کے ذیل میں اس بات پر زور دیتے ھیں کہ اصل وجود خدا میں ان بت پرست قوموں کو کوئی شک وشبہ نھیں تھا بلکہ اعتراض فقط توحید، رسالت اور قیامت کے سلسلے میں تھا۔ حتی جملہٴ ”فاطر السموات والارض“ توحید پر استدلال ھے نہ کہ اصل وجود پر۔
طبرسی نے” مجمع البیان “اور سید قطب نے ”درفی ظلال القرآن“میں اسی نظریہ کو بیان کیا ھے ۔ ان کے علاوہ بعض دوسرے مفسرین نے بھی اس رائے کواختیار کیا ھے۔ان کا نظریہ بھی یھی ھے کہ بت پرست قوموں کا اختلاف توحید اور خدا کی یکتائی سے تھا نہ کہ اصل وجود خدا سے۔

حوالہ جات

۱۔المیزان فی تفسیر القرآن :جلد۱،ص۳۹۵
۲۔المیزان فی تفسیر القرآن :جلد۱،ص۳۹۵
۳۔ابراھیم:۱۰
۴۔اسلام میں عقل و وحی،آربری:ص۹
۵۔عنکبوت:۶۱
۶۔عنکبوت:۶۳
۷۔زخرف:۹
۸۔ابراھیم۔۹۔۱۲