سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے مظاہر(3)

(تحریر: آیت اللہ محمد علی تسخیری) 
(ترجمہ و تلخیص: سید نجیب الحسن زیدی)

دشوار ترین لمحات میں انسانی عواطف کا خیال:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور آپکے کردار پر اگر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی مہر و محبت اور عطوفت سے سرشار ہونے کے ساتھ لوگوں کی انکے کاموں میں مدد انکے اندر جذبہ عمل، جوش اور نشاط کو جگانے سے عبارت ہے۔ اس طرح کہ لوگ پیغمبر اسلام (ص) کے اخلاق و کردار کو دیکھ کر راستہ کی سختیوں اور دشواریوں کو فراموش کر دیتے تھے اور خود بہ خود فداکاری و ایثار کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ خلیفہ سوم عثمان بن عفان سے نقل ہے، ”خدا کی قسم جب بھی ہم، سفر یا حضر میں پیغمبرۖ کے ساتھ ہوتے تو آپ ہمارے مریضوں کی عیادت کرتے، اگر کوئی مر جاتا تو تشیع جنازہ میں شرکت کرتے، جنگوں میں ہمارے ساتھ شریک رہتے، ہماری تنگی و وسعت کے ساتھ نبھاتے اور اس میں بھی شریک رہتے۔ (ابن حنبل، ج ١، ص ٧٠، و رضی خطبہ ١٠٠)۔ امام صادق سے ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ ”محتاج اور بے نوا لوگ راتوں کو مسجد میں ٹہر جاتے تھے، ایک شب آنحضرت (ص) نے مسجد میں منبر کے نزدیک سب کے ساتھ مخصوص ظرف میں افطار کیا اور تیس عدد لوگوں نے اسکے بعد اسی ظرف میں افطار کیا، پھر آپ اس ظرف کو لیکر اپنی زوجات کے پاس چلے گئے اور وہ بھی اسی سے سیر ہوگئیں۔(مجلسی، ج، ١2، ص ٢١٩)

آپ اپنے اصحاب کے ساتھ خندق کھودنے کے دوران بھی سخت کاموں کو انجام دیتے تھے، اسکے باوجود بھوکے رہتے تھے۔ امام رضا نے اپنے اجداد سے، انہوں نے امیرالمومنین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ”ہم خندق کھودنے میں پیغمبر ۖ کے ساتھ تھے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا روٹی لیکر حاضر ہوئیں اور اسے پیغمبرۖ کو دیا آنحضرتۖ نے پوچھا، یہ روٹی کس کے لئے ہے، جناب فاطمہ نے جواب دیا ایک روٹی حسن کے لئے، دوسری حسین کے لئے پکائی تھی اور یہ آپ کے لئے لائی ہوں۔ پیغمبر (ص) نے جواب دیا اے فاطمہ! تین دن کے بعد یہ پہلی غذا ہے جو تمہارے بابا کے پیٹ میں گئی ہے۔ (مجلسی، ج، ١٦، ص ٢٢٥، طبقات ابن سعد، جلد، ٢، ص ١١٤)۔

آپکے کردار کا عظیم پہلو یہ تھا کہ حساس موقعوں پر عقیدتی اور عطوفتی طرز سلوک سے سب کو وجد میں لے آتے تھے اور دلوں میں ایک کیف پیدا کر دیتے تھے اور فداکاری و ایثار کی طرف عملی دعوت دیتے تھے۔

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں؛ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (کہ خدا کی رحمتیں ان پر اور انکے اہل پر نازل ہوں) میدان کارزار میں قدم رکھتے تھے، اور راہ حق میں اپنے چچاؤں، بھائیوں کو قتل کرتے تھے۔ ہمارا یہ طرز عمل ہمارے ایمان میں پائیداری اور ہماری فرماںبرداری کو اور بھی واضح کرتا تھا، ظالموں اور بے دینوں سے جہاد کے دوران پڑنے والی مصیبتوں اور اس راہ کے کٹھن لمحوں میں ہماری بردباری میں اضافہ کا سبب بنتا تھا۔ ہم میں سے ہر ایک مردانہ وار میں اپنے مدمقابل پر حملہ آور ہو جاتا تھا اور دلیرانہ طور پر گمراہوں سے جنگ کرتا تھا، اور کوشش کرتا تھا اس پر حاوی ہو جائے اور جام موت سے اسے سیراب کر دے۔ اس لڑائی میں کبھی ہم مدمقابل کا کام تمام کر دیتے تھے تو کبھی شکست بھی نصیب ہوتی تھی، جب پروردگار نے ہماری استقامت کو آزما لیا تو ہمارے دشمن کو خوار کر دیا اور ہمیں اس پر کامیابی دی۔(نھج البلاغہ (٩٢)

ذیل میں آپکی زندگی کے دو بہت ہی دلچسپ نمونہ ملاحظہ ہوں:
اول: ”حمراء الاسد”
تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ قریش نے جنگ احد میں جب کافی قتل و غارت کے بعد لشکر اسلام کو شکست دے دی، تو کامیابی سے مست ہو کر میدان جنگ کو چھوڑ دیا جب ”الروحائ” نامی جگہ پر پہنچے تو متوجہ ہوئے (درحقیقت بعض شیاطین نے یہ بات انکے دل میں ڈالی کہ اس کامیابی سے جتنا فائدہ انہیں اٹھانا چاہیئے یہ اس پر قادر نہیں ہیں) چنانچہ اپنے سردار لشکر ”ابوسفیان کے بقول انہوں نے مدینہ واپسی کا فیصلہ کیا اور یہ طے کیا کہ وہاں مسلمانوں کا قتل عام کر دیا جائے۔ یہ خبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی، اب آپنے مسلمانوں کو اکھٹا کرنا اور جنگ کے لئے تیار کرنا شروع کیا آپ نے شدت جذبات کا سہارا لیتے ہوئے انکے دلوں میں دینی احساس پیدا کر دیا، اور خود بھی انکے ساتھ ہو لئے۔ مسلمان بھی ان سے ضرب کھانے اور زخموں کے باوجود زخمی شیروں کی طرح آپ کے ساتھ ہو لئے اور ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے، جسے "حمراء الاسد” کہا جاتا ہے۔

مسلمان ہر طرح کی فداکاری اور اپنے عقیدہ کی راہ میں ہر قسم کی جانثاری لے لئے تیار تھے۔ ”ابوسفیان” کو پتا چلا کہ ہم اس بپھرے ہوئے فدائی لشکر کو شکست نہیں دے سکتے ہیں، جب ابوسفیان نے ”معبد خزاعی” کو دیکھا تو کہا تمہارے پیچھے کیا ہے ؟ تم کیا دیکھ کر آ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا، ”خدا کی قسم میں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور انکے ساتھیوں کو اس حالت میں چھوڑا ہے کہ وہ تم سے جنگ کرنے کی آگ میں جل رہے تھے، سیرہ ابن ہشام میں معبد الخزاعی کا جواب اس طرح آیا ہے، ”محمدۖ اور انکے ساتھی تم سے جنگ کرنے کی آگ میں جل رہے ہیں، تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے احد کے دن پیغمبر (ص) سے منہ موڑ لیا تھا آج وہ اپنے کئے پر پشیمان ہیں، اور انکے دلوں میں اس قدر نفرت ہے کہ میں نے ہرگز اس سے قبل ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ (ابن ہشام ، ج، ٣، ١٠٨ و مجلسی، ج، ٢٠، ص٩٩)۔

اس طرح خوف و وحشت ابوسفیان کے دل میں بیٹھ گئی اور اس نے ”عبد القیس” کے ذریعہ ایک خط پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجا اور یہ اطلاع دی کہ وہ اپنے ارادہ اور فیصلہ سے پلٹ گیا ہے۔ پیغمبر ۖنے فرمایا؛ اس خدا کی قسم جسکے قبضہ میں میری جان ہے، میں نے اس طرح لشکر تیار کیا تھا کہ اگر وہ لوگ اپنے فیصلہ سے پیچھے نہیں ہٹتے تو انکا حال گزرے ہوئے کل کی طرح ہو جاتا۔ اس وقت ”حسبنا اللہ و نعم الوکیل” کی آیت پڑھی۔ اس طرح سورہ انعام اور دیگر دسیوں آیتوں کے ذریعہ ”احد” کی جنگ کے بعد مسلمانوں کو سبق دیا اور انہیں جرات و جذبہ جہاد بخشنے کے ساتھ قیمتی مفاہیم میں گہرائی کی دعوت دیتے ہوئے انکا ساتھ دیا۔ انہی آیات کریمہ میں سے ایک یہ آیت ہے، ”الذین قال لھم ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایمانا وا قالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل”۔ یہ وہ ایمان والے ہیں کہ جب ان سے بعض نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے عظیم لشکر اکھٹا کر لیا ہے تو انکے ایمان میں اضافہ ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے خدا کافی ہے اور وہی ہمارا ذمہ دار ہے۔ (آل عمران ١٧٣) "فانقلبوا بنعمة من اللہ و فضل لم یمسسھم سوء واتبعوا رضوان اللہ واللہ ذو فضل عظیم”، پس یہ مجاہدین اللہ کے فضل و کرم سے یوں پلٹ آئے کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور انہوں نے رضائے الٰہی کا اتباع کیا اور اللہ صاحب فضل عظیم ہے۔ (آل عمران ١٧٤)۔

ان آیات اور ان سے ملنے والے درس نے مسلمانوں کو اس طرح پروان چڑھایا اور انکی پرورش کی کہ وہ اسکی روشنی میں خدا کی مدد سے اس پر توکل کرتے ہوئے خطروں اور دھمکیوں کو بھی اپنے لئے فرصت اور تدبیر سمجھنے لگے۔ تاریخ کے صفحات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں کی دلیریوں کی منظر نگاری و تصویر کشی کی بہت ہی تزک و احتشام کے ساتھ مل جائے گی۔ جیسے ”ضمیرة بن سعید” اپنی دادی سے نقل کرتے ہوئے جو خود جنگ احد میں مجاہدوں کو پانی پلاتی تھیں کہتے ہیں، میں نے رسول خدا ۖسے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا ”نسیبہ بنت کعب” فلاں شخص کے مقام و مرتبہ سے بڑی منزل پر فائز ہے۔ میری دادی نے خود اس خاتون کو جنگ کے سخت ترین ایام میں دیکھا ہے کہ کس طرح وہ اپنی کمر کس کر سخت ترین لڑائی میں شریک تھیں اور سرانجام تیرہ زخم انکے بدن پر لگے، جب یہ خاتون بستر مرگ پر تھیں تو خود میں ہی انہیں نہلاتی دھلاتی تھی اور انکے زخموں کو دھوتی تھی، میں نے ایک ایک کر کے شمار کیا تو ١٣ زخم پائے۔

وہ خود کہتی تھیں کہ میں "ابن قمیئہ” کو دیکھ رہی ہوں جو شانہ پر زخم لگا رہا ہے اور سب سے سخت زخم بھی یہی تھا کہ جسکا ایک سال تک علاج چلتا رہا۔ یہاں تک کے منادی پیغمبر (ص) نے یہ ندا دی کہ ”حمرا ء الاسد” کی طرف دوڑو اور اس وقت زخمی حالت میں بھی اس خاتون نے اپنے پیرہن سے اپنے زخموں کو باندھا اور جانے کا ارادہ کیا لیکن خون زیادہ نکل جانے کی وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں کی مدد کو نہ جا سکی۔ (واقدی جلد 1، ص ٢٧٠)۔ اس واقعہ کا ایک عظیم الشان حصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منادی کو حکم دیا کہ ندا دے، ”رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے تمہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے دشمن کو ڈھونڈ نکالو اور ان سے پیکار کے لئے تیار ہو جاؤ، ہمارے ساتھ وہی اس جنگ میں شریک ہوں گے جو کل کی جنگ میں شریک تھے۔ اس فرمان کے جواب میں ”سعد بن خضیر، جن کے بدن پر سات زخم تھے اور انکا علاج ہو رہا تھا نے کہا "سمعا و طاعة ً للہ و رسولہ” اور اسلحہ ہاتھ میں اٹھا کر چل پڑے زخموں کے مندمل ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا۔

دوم۔ جنگ ہوازن کے بعد:
یہاں پر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کے ضعف اور انکے جذبات کے ٹھنڈے پڑ جانے اور سستی پیدا ہو جانے کے واقعہ پر کچھ تامل کریں گے، جو بنی ہوازن کے تقسیم اموال کے دوران پیش آیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مال غنیمت کا زیادہ تر حصہ مکہ والوں کو دیا جو کہ خود آغاز میں پیغمبر ۖکے خلاف نبرد آزما رہے، جبکہ خود ان میں سے بعض کفار کے بڑے سردار تھے، اسکے باوجود وہ کفار سے لڑے پیغمبر ۖ کی یہ سخاوت مندانہ بخشش درحقیقت اجتماعی، سیاسی، پہلوؤں کی حامل تھی۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ ان کفار کو اپنی طرف کھینچ سکیں اور انکو جاہلی زندگی اور اسلام کی عزت مندانہ زندگی کا فرق سمجھا سکیں۔ منافقوں نے انصار کے درمیان یہ بات مشہور کر دی کہ پیغمبرۖ نے اپنے خاندان والوں کو دیکھ لیا اور انہی کے فائدہ میں یہ کام کیا ہے۔ اس افواہ نے انصار (مدینہ کے مسلمانوں) کے درمیان ایک ضعف کی حالت پیدا کر دی کہ جسمیں سوالات اور غصہ کی لہر بھی شامل تھی۔ اس سماج میں جسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود تعمیر کر رہے ہوں اور اپنی رسالت کو انہی کے بل پر دنیا تک مضبوط عقائد کے ساتھ پہنچانا چاہتے ہوں، یہ صورتحال ایسے افراد کے درمیان پیش آئی تو پیغمبر ۖ کو بہت شاق گزرا، چنانچہ آپ نے سب کو جمع کیا اور گفتگو کا آغاز کیا۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اے گروہ انصار! یہ میں تم سے کیا سن رہا ہوں؟ یہ کیا ہے جسے تم نے دل پر لیا ہے؟ مگر کیا تم گمراہ نہیں تھے کہ خدا نے تمہاری ہدایت کی؟ کیا تم ضرورتمند نہیں تھے اور خدا نے تمہیں بےنیاز کیا ؟ کیا تم ایک دوسرے کے دشمن نہیں تھے اور خدا نے تمہیں ایک دوسرے سے قریب کیا ؟ انصار نے جواب دیا، ہاں یا رسول اللہۖ، جو آپ نے فرمایا وہ درست ہے آپ کو جو کرنا ہے انجام دیں، جسکو بخشنا چاہیں بخشیں آپ نے فرمایا، تم میرا جواب کیوں نہیں دیتے؟ انصار نے جواب دیا، کیا جواب دیں اے رسول خداۖ؛ خدا اور اسکا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کرے وہی بہتر ہے۔

حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، خدا کی قسم اگر تم کہنا چاہتے ہو تو کہہ دو، تم سچ کہو گے مجھے تمہاری بات پر یقین ہے اگر تم یہ کہو کہ جب سب آپکو جھوٹا کہہ رہے تھے تو ہم نے آپکی بات کو مانا، جب سب نے آپ کو چھوڑ دیا تھا تو ہم نے آپکی نصرت کی، جب آپ ضرورتمند تھے تو ہم آگے بڑھے ….اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اے گروہ انصار! تم نے دو کوڑی کے مال دنیا پر نظریں جمائی ہوئی ہیں اور ایک گروہ نے اپنے اسلام کو اسی سے باندھ رکھا ہے جبکہ میں اسلام کو تمہارے لئے ہدیہ کے طور پر لایا ہوں۔ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ گوسفند اور اونٹ تمہیں مل جائیں لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو عھد باندھا تھا اس سے پھر جاؤ؟ قسم اس ذات کی کہ جسکے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا اگر تمام لوگ کسی دوسرے راستہ پر چلے جائیں اور انصار دوسرے راستہ پر ہوں تو بھی میں انصار کے ہی راستہ کو انتخاب کروں گا۔

پروردگار! انصار اور انکے فرزندوں، اور انکے فرزندوں کے فرزندوں پر رحمت نازل کر۔ اس مقام پر انصار بہت متاثر ہوئے اور انکے احساسات کے دریا میں ہلچل مچ گئی، انہوں نے روتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے تقسیم کئے گئے مال غنیمت پر راضی ہیں ( ابن ہشام ص ١٤٢) اس طرح کے مسائل جب سامنے آئیں تو ان سے نپٹنے کے لئے دو حل ہیں، ایک طویل مدت جو اس بات سے عبارت ہے کہ عقیدہ کو کھنگالا جائے اور انسانی نفس کے ہر شائبہ اور شبہ کو دور کیا جائے۔ دوسرا حل وقتی اور مقامی ہے جسکا زیادہ تر تکیہ عطوفتی و جذباتی پہلوؤں پر ہے، اس لئے کہ آنحضرت ۖ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں، ” اے گروہ انصار کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ لوگ اپنے گوسفندوں اور اونٹوں کو لے کر چلتے بنیں اور تم بھی رسول ‘ۖکو چھوڑ کر اپنے اونٹوں کے پاس پہنچ جاؤ؟ اور اس سے قبل آپ نے انصار اور رسالت کو لیکر انکے موقف کی تعریف کی تھی، اس طرح انکے دینی موقف کو بیان کیا تھا، لہٰذا انکے احساس و جذبات مچلے بنا نہ رہ سکے اور وہ آپ کی گفتگو سے اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے مال غنیمت کی تقسیم پر راضی ہیں۔

نتیجہ گفتگو:
اب تک جو کچھ بیان کیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ ۲۷ رجب المرجب کوئی عام تاریخ نہیں ہے، ایک ایسی شخصیت کی بعثت سے متعلق ہے۔ جس نے انسانی عواطف، انسانی جذبات اور انسان کے جذبہ ہمدردی کو نکھار کر ایسی معراج بخشی کہ دنیا آج تک انسانیت کو اسلامی اصولوں میں تلاش کر رہی ہے۔ آج ہم سے یہی اسلامی اصول اور سیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مطالبہ کر رہی ہے کہ ایسے وقت میں جب ایک رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہی کلمہ پڑھنے والے انہی کی شریعت کے اصولوں کے مطابق آئین پر چلنے والے ملک پر مصیبت کی گھڑی ہے اور وہاں کے عوام اسلام دشمن عناصر کے کینہ کا نشانہ بن رہے ہیں، اس طرح کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سیلاب سے متاثرین کو فراہم ہونے والی امداد پر بھی پابندی ہے، تو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایسے میں آگے بڑھیں اور سیرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر چلتے ہوئے ان لوگوں کا ہاتھ تھامیں، جنہوں نے اسلام کی تباہی کی طرف بڑھنے والے ہر اس ہاتھ کو کاٹ دیا جس نے تعلیمات پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مٹانا چاہا، اور شاید اسی جرم کی سزا ہے کہ آج وہاں کے عوام پر امداد رسانی کے ذرائع بند ہیں۔ وہ اکاؤنٹس بند ہیں جنکے ذریعہ بیرون ملک سے رقم ٹرانسفر ہو سکتی ہے، ایسے میں ہم سب کے لئے ضروری ہے ایران کے ۱۶ صوبوں میں آئے سیلاب سے متاثرین کے لئے جس سے جو بن پڑتا ہے انجام دے۔ یہ بعثت سرور کائنات (ص) کا مطالبہ تو ہے ہی انسانیت کا تقاضا بھی ہے۔