اپنے مال اور اولاد پر غرور نہ کریں

(تحریر : سید اسداللہ ارسلان)

اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے دولت مند افراد ایسے ملیں گے جن کی دولت کا ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا ہے ۔ ایسے افراد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اے کاش ! ان کے پاس یہ سب دولت نہ ہوتی بلکہ اس کے بدلے انہیں چین و سکون میسر ہوتا ۔ اکثر دولت مند حضرات جو اپنی دولت سے راضی نہیں ہوتے ہیں اور ان کی زندگی میں آرام و سکون کی کمی ہوتی ہے شاید ان کا حال کچھ یوں ہے ۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر 55 میں ارشاد باری تعالی ہے کہ

«فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُمْ إِنَّمَا یُرِیدُ اللّهُ لِیُعَذِّبَهُم بِهَا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَ هُمْ كَافِرُونَ .»

خدا تعالی قرآن میں فرماتے ہیں : بعض لوگوں کو جنہیں ہم جلا دینا چـاہتے ہیں ، ان کو دولت دیتے ہیں ، آرام طلب زندگی دیتے ہیں اور اس کے جواب میں ان سے نیند و سکون چھین لیتے ہیں تاکہ انہیں عذاب دیا جا سکے ۔

دوسرے الفاظ میں دولت بعض افراد کے لیۓ بدبختی اور عذاب کا باعث بنتی ہے ۔

اب یہاں ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر دولت کیوں باعث عذاب ہوتی ہے ؟

دولت اس لیۓ عذاب کا باعث بنتی ہے کیونکہ دولت مند ہمیشہ پریشان اور اضطرب کا شکار رہتا ہے ۔ ایسے افراد کو دن رات یہی فکر لگی رہتی ہے کہ وہ پیسہ حاصل کرنے کے لیۓ کیسے کوئی طریقہ نکالیں۔ ایسے افراد کو اس بات کی بھی فکر ہوتی ہے کہ اسے حسد کرنے والے لوگوں سے کیسے محفوظ رہنا چاہیۓ ۔ وہ ہمیشہ اس چیز سے فکر مند رہتا ہے کہ اس کی دولت کو کوئی لوٹ کر نہ لے جاۓ ۔ کبھی کوئی دہشت گرد کسی فقیر پر حملہ نہیں کرتا مگر دولت مند اور معروف شخص پر دہشت گردانہ حملے کا ہمیشہ خطرہ رہتا ہے اور یوں دولت مند خود کو اس خطرے سے محفوظ رکھتے کی فکر میں رہتا ہے ۔ ان سب باتوں کے باعث ایسے افراد کو وہ ذہنی سکون و قرار نصیب نہیں ہو سکتا ہے جو کسی عام سے غیر معروف غریب آدمی کو میسر ہوتا ہے ۔

اس لیۓ ہمیں چاہیۓ کہ کسی بھی چیز پر غرور نہ کریں اور خدا کے دیۓ ہوۓ مال پر قناعت کریں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ قارون اپنی تمام دولت کے ساتھ زمین میں دفن ہے اور آج اس کی دولت کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہا ہے ۔

اسلام سے قبل عرب لوگ اپنے مال اور اپنی اولاد پر غرور کیا کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کا خدا انہیں زیادہ پسند کرتا ہے اسی لیۓ تو خدا نے انہیں زیادہ مال و اموال اور اولاد سے نوازا ہے مگر اسلام کی آمد کے بعد ان نظریات کی نفی کی گئی اور واضح کر دیا گیا کہ کسی کے پاس مال و دولت کا ہونا یہ ہرگز ظاہر نہیں کرتا کہ خدا کے نزدیک وہ زیادہ محبوب ہے ۔

قرآن کریم نے اس غلط منطق اور جھوٹے تفکرات کی مذمت کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ذمہ داری سونپی کہ مشرکین کی اس گمراہی اور نادانی کو دور کریں ۔

ارشاد ہوتا ہے کہ

” کہہ دیجۓ ! یہ میرا پروردگار ہے جو جس کو چاہتا ہے روزی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے محروم کر دیتا ہے لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ۔ ”

اس لیے ہمیں چاہیۓ کہ کسی بھی چیز پر غرور نہ کریں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا دولت مند اور مغرور شخص اپنی دولت کے ساتھ زمین میں دفن ہو گیا ۔ آپ کا مال اور اولاد کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہاں البتہ جو لوگ ایمان لاۓ اور نیک اعمال کرتے رہے ہوں انہیں ان کے نیک اعمال کے بدلے خدا دو برابر جزا دے گا اور آخرت میں انہیں بلند مرتبہ عطا کیا جاۓ گا ۔