عصر حاضر کے تناظر میں مسلمانوں کا مستقبل

اللّهمّ انّا نرغب الیک فی دولةکریمة تعز بها الاسلام واهله وتذلّ بها النفاق واهله

جس موضوع کے سلسلہ میں مجھے آپ حضرات کی خدمت میں اپنے معروضات پیش کرناہیں وہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے سر انجام اور انکی عاقبت سے عبارت ہے۔ ہم آج کی اپنی گفتگو میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا ؟ انکی آنے والی تاریخ کس طرح رقم کی جائے گی ؟آیا عالم اسلام اورمسلمانوں کے مستقبل کے سلسلہ میں کوئی نظریہ دیا جا سکتا ہے کہ آئندہ کیا ہوگا ؟ آیا ہم اس موضوع (حالات حاضرہ کے تناظر میں مسلمانوں کا مستقبل ) کے مختلف جوانب کا جائزہ لے سکتے ہیں؟ اگر یہ امر ممکن ہے تو سوال یہ ہے کہ انکا مستقبل کیسا ہوگا ؟دنیا میں کوئی بھی مکتب فکر ہو اسکے اپنے نظریات ہوتے ہیں، اپنے مقاصد اور اپنا طرز تفکرہوتا ہے چاہے وہ مادی مکاتب فکر ہوں یا الٰہی طرز تفکر رکھنے والے مکاتب ۔مکاتب الٰہی کے درمیان وہ شریعتیں کہ جو ایک عالمی اعتبار کی حامل ہیں بالخصوص شریعت اسلام ،بشریت اور تاریخ کے لئے ایک خوش آئند مستقبل کی نوید دے رہی ہیں ۔ دیگر مکاتب بھی اس سلسلہ میں کہنے کے لئے کوئی نہ کوئی بات رکھتے ہیں۔ غیر الٰہی مکاتب فکر بھی اس سلسلہ میں فکر مندنظر آتے ہیں اور پس وپیش کا شکار ہیں حتی مغربی سیاست کے ماہرین بھی مغربی صاحبان نظر کے نظریات کی بنیاد پر کسی طرح ایک حد تک دنیا کے مستقبل کی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

مختلف مکاتب کے درمیان آئندہ کے سلسلہ میں پیشین گوئی اپنے اندر کچھ مشترکات رکھتی ہے۔ ان تمام مکاتب کے درمیان سب سے پہلا نقطہٴ اشتراک یہ ہے کہ مستقبل ،حال اورماضی سے بہتر ہوگا ۔سب کے سب ایسے راستہ کی نشاندہی کرنے کی جدو جہد میں مشغول ہیں کہ جو اقدار ،شرافت انسانی، آزادی ، انسانیت ، عدالت اور مساوات پر جا کرختم ہوتا ہے لیکن ان سارے فضائل اور خوبیوں کی تشریح ہر مکتب فکر نے اپنے خاص انداز اور اپنی مخصوص زبان میں کی ہے۔ الٰہی مکاتب نے فکر انسانی کے ارتقاء کے لئے کچھ ایسے افق پیش کئے ہیں کہ جن کے خطوط مادہ پرستی کے نقطئہ نظر سے جدا ہیں۔

ایک ایسا مشترک عنصر کہ جس پر سب کے سب مکاتبِ فکر متفق ہیں وہ تاریخ کا اختتام اور زمانے کا خاتمہ ہے یعنی آخری زمانہ ۔تاریخ کے تدریجی مراحل یکے بعد دیگرے انجام پائیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے سر انجام کو پہنچے گی اور ہم جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ ہمیں آخرالزمان میں ملے گی ۔یہ باتیں اس بات کی علامت ہیں کہ گویا مکاتب غیر الٰہی نے کچھ باتوں کو الٰہی مکاتب فکر سے اخذ کیا ہے کیونکہ اس طرح کی گفتگو انکے بس کی نہیں، وہ ان باتوں کو جانتے ہی نہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ لوگوں نے ان اچھی باتوں کو قبول کیوں نہیں کیا ؟ شاید اسکی وجہ یہ رہی ہو کہ لوگوں نے جانا ہی نہیں کہ انبیائے الہٰی کیا کہنا چاہتے تھے؟ انکا مقصد کیا تھا؟،وہ لوگ جہالت کے درد میں مبتلا تھے، درد ظلمت سے کراہ رہے تھے ۔بعض لوگ ایسے بھی تھے جو سب کچھ سمجھنے کے باوجود بھی راہ راست پر نہیں آئے اور انہوں نے انکار کیا ۔

ایک نا قابل انکار حقیقت
”جحدوا بها واشتیقنتها انفسهم “ کچھ لوگ قرآن کی اس آیت میں شک کرتے ہیں جبکہ یہ ناقابل انکار حقیقت ہے۔ ان لوگوں نے انبیاء کی باتوں کے معترف ہونے کے بعد بھی ان کا انکار کیا۔ ہم اپنے اس سوال کا جوا ب قرآن سے لیتے ہیں کہ فرماتا ہے :
”بل یرید الانسان ان یفجر امامہ “انسان چاہتا ہے کہ اس پر کوئی پابندی نہ ہو، وہ آزاد رہے، وہ چاہتا ہے اپنی شہوات اور نفسانی مطالبات کو پورا کرے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ اسکے نفسانی خواہشات انبیاء کی تعلیم کے منافی ہیں تو طغیانی کرتا ہے، ضدّی بن جاتا ہے، طوطا چشمی اختیار کرتا ہے ۔جواب بالکل واضح ہے کہ انسان جب بھی اپنی فطرت پر پلٹتا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے انہی باتوں کو بیان کیا ہے جو انسانی فطرت کی گہرائی سے اٹھتی ہیں۔ یہی انبیاء کی کامیابی کی سب سے بہترین دلیل ہے۔بہت سے ایسے انسانیت کے مصلح آئے جنہوں نے اپنے نظریات بیان کئے، اپنی باتوں کو پیش کیا اورآخر میں دعوت اجل کو لبیک کہکر چلے گئے۔ انکے بعد لوگوں نے بیٹھ کر انکی باتوں کا تجزیہ کیااور انکی باتوں میں خامیاں تلاش کیں لیکن ہمیں کسی ایسے دانشور طبقہ کاسراغ نہیں ملتا کہ جس نے انبیائے الٰہی یا پھر ائمہ اطہار علیہم السلام کی باتوں میں کوئی خطا کا عنصر پایا ہو، اتفاقاً آج کل کی دنیا میں جو لوگ مستبصر ہو رہے ہیں اور اسلامی معارف تک پہنچ رہے ہیں ، وہ لوگ ہیں جو عرفان و آگہی کی اس منزل پر انبیائے الٰہی اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے واسطے سے پہنچتے ہیں ۔کوئی امام علی علیہ السلام کے دل نشیں بیان کوسن کر ان کی طرف راغب ہوتا ہے اور ان کاعاشق ہو جاتا ہے اور کوئی رسول اسلام کی نصیحت آمیز گفتگو کو سن کر۔ ابھی دو دہائی قبل امریکہ ، یورپ اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں کتنے ہی ایسے موارد پیش آئے ہیں کہ جہاں حضرت علی علیہ السلام یا پھر دیگر ائمہ علیہم السلام کے حکیمانہ ارشادات کی روشنی میں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تمام باتیں وہی ہیں جو انسانی فطرت کا تقاضہ ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ باتیں ہیں جو اہل دل کی زبان سے نکلی ہیں اسی لئے انکے اندر حرارت ، گرمی اور وزن ہے۔ عدل و انصاف کی تلاش میں سر گرداں افراد جب حضرت علی علیہ السلام کے قول و عمل کا مطالعہ کرتے ہیں توآپ کے عاشق ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمارے آئمہ علیہم السلام کی کامیابی کی نشانی ہے۔ کچھ لوگوں نے اس دنیا میں انبیائے الٰہی علیہم السلام کی باتوں میں خدا کی مخالفت کی بنا پر اپنی طرف سے کچھ چیزوں کا اضافہ کر کے اسے لوگوں کے سامنے پیش کیاتا کہ یہ روش اپنا کر خدا اور اسکے ارادے کے مقابل کھڑے ہو سکیں۔ہم صرف اسی صورت میں مکاروں کے عالمی بازار کے سامنے اسلام کا ایک روشن مستقبل پیش کر سکتے ہیں جب انکی فریب کاریوں ، نیرنگی چالوں،مکاریوں اور حیلہ بازیوں سے واقف ہوں۔ ہمارے اس راہ میں قدم رکھنے کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ہم جانیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ان کے ذہن و دل میں کیا اہداف پرورش پا رہے ہیں ؟

مستقبل سے متعلق چار نئے مغربی نظریات
گزشتہ دو تین دہائیوں میں مجموعی طور پر مغرب میں انسانوں کے مستقبل کے متعلق چار طرح کے نظریئے پائے جاتے ہیں ۔خاص طور پر امریکہ ان چار نظریوں پربڑے کرّو فر کے ساتھ ریہرسل کر رہا ہے۔ ان نظریات کی بنیاد پر مختلف فلمیں بھی عالم وجود میں آئیں ہیں جن میں تقریباً سب کا مقصد ایک طرح سے یہ باور کرانا ہے کہ آنے والے کل کو مغرب ہی رقم کرنے والاہے، آنے وا لا کل لبرل ڈیموکریسی کی آئیڈیا لوجی پر مبنی ہے۔ یہ لوگ اس طرح چاہتے ہیں کہ بنی نوع بشر کے ذہن سے اسکے آنے والے روشن مستقبل کی فکر کو سلب کر لیں کہ جسکی نوید مصلحین الٰہی نے دی ہے وہ زمانہ کہ جو زمانہٴ انتظار ہے، وہ عصر کہ جو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کا زمانہ ہے۔ آج جب کہ دنیا مکتب مہدویت سے آگاہ ہو رہی ہے اور لوگوں میں رجحان بڑھ رہا ہے ، اہل مغرب نے اس کو روکنے کے لئے ایک نئی تحریک شروع کی ہے اور یہ باور کرانا چاہا ہے کہ مسلمان جس مہدویت کا دم بھرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہے، وہ سب بے جا ہے، اسکا کوئی روشن مستقبل نہیں ہے ،یہ ہم ہیں کہ جو دنیا کے لئے ایک بہترین مستقبل کے خواب کو پوراکر سکتے ہیں ۔آپ جانتے ہیں کہ تباہ کن اسلحہ اور صدام کی تلاش میں آئے امریکی فوجی سامرہ کے لوگوں سے یہ پوچھ رہے تھے کہ تم کس قدر مہدی موعود کے بارے میں جانتے ہو؟ کیا تم جانتے ہو کہ انکی جائے سکونت کہاں ہے ؟انکے اجداد میں سے کسی کو جانتے ہو؟کیا تم میں کوئی ہے جو مہدی موعود سے ہمارا رابطہ قائم کرا سکے ؟یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ امریکی فوج آخر اس مسئلہ میں اس قدر دلچسپی کا اظہار کیوں کر رہی ہے ؟آخر کیوں NATO امریکہ کی سربراہی میں اسلامی ممالک میں فوجی اڈے قائم کر رہاہے ؟آج پورا عالم اسلام مغرب سے لے کر مشرق تک جنوب سے لے کرشمال تک امریکی افواج کی چھاؤنی بن کر رہ گیا ہے ۔آپ اسی ایران کو لے لیں اسکے شمال میں NATO کی فوجیں موجود ہیں، اسکے مشرق میں افغانستان میں عسکری کار گزاریاں ہو رہی ہیں اسکے مغرب میں عراق ، کویت ، خلیج فارس میں ہر جگہ NATO کے فوجی بیڑے موجود ہیں ۔جہاں بھی دیکھےٴ انہی کا تسلط نظر آتا ہے ،ان کا اسلامی ممالک یا اس کے اطراف میں موجود ہونا کیا معنی رکھتا ہے ؟اگر غور کریں تو انکی موجودگی ہمارے لئے بہت واضح پیغام ہے۔ اگر کوئی خاص بات نہ ہوتی تو یہ ان تمام جگہوں کوفوجی بربریت کا نشانہ نہ بناتے ۔امریکہ کی سرحدسے لے کر ایران کی سرحد تک بارہ گھنٹے کا صرف فضائی راستہ ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ فاصلہ سترہ گھنٹہ کا ہے ۔ یہ تمام فاصلہ طے کرنے کے بعد ان کایہاں آنا اور جگہ جگہ پر فوجی اڈے قائم کرنااس بات کا وا ضح اعلان ہے کہ عالم اسلام ان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہی بات عالم اسلام کے مستقبل کی عظمت کو بیان کرتی ہے ورنہ اتنا خرچ کرنے اور طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟آپ جانتے ہیں ان سب چیزوں میں کس قدر خرچ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک فوجی چھاؤنی کے لئے اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ تمام ظلم و ستم، دشمن کی یہ قساوت قلبی ،یہ سب مہدویت کے نظریہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے ،کیونکہ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہی وہ عقیدہ ہے کہ جو صرف اسلام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کوروشن کر سکتاہے ،یہ چیز ہمارے لئے باعث فخر ہے ۔ہم انکی نظروں میں اتنے اہم ہیں کہ وہ بیٹھ کر ہمارے لئے مکرو حیلہ کے تانے بانے بنتے رہتے ہیں تاکہ کسی طرح حقیقی اسلام کو نابود کر سکیں ۔کسی نے امریکی مسلمانوں کے بارے میں بالکل صحیح کہا ہے کہ جو لوگ امریکہ میں ہیں اور دین اسلام پر اعتقاد رکھتے ہیں ان کے عقائد کو متزلزل کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے کیوں کہ امریکہ یا دوسری جگہوں پر بسنے والے مسلمان تو ٹہنیوں اور پتوں کے مانند ہیں جن کی جڑیں ام القرائے اسلامی پر جاکر ختم ہو تی ہیں۔ دشمن کے نشانے پر کبھی بھی شاخیں اور پتے نہیں ہوتے ،دشمن کی نظر ہمیشہ بنیاد پر ہوتی ہے وہ بنیاد کو کھوکھلا کرنا چاہتا ہے ،اس لئے کہ اگر کسی درخت کی جڑ سوکھ جائے تو پھر اسکے پتے اور شاخیں تو خود بخود خشک ہو جائیں گی۔ دیگر جگہوں پر بسنے والے مسلمانوں اور یہاں کی مثال بالکل درخت اور شاخوں کی ہے لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ دشمن کی نگاہیں یہیں پر جمی ہوئی ہیں،وہ عالم اسلام کی جڑوں کو کاٹنا چاہتا ہے ۔ خدانخواستہ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا تو عالم اسلام کو دوبارہ بیدار ہونے میں صدیاں لگ جائیں گی ، آج عالم اسلام کی بیداری ایک حیثیت کی حامل ہے ۔

انقلاب اسلامی سے پہلے قم ایک چھوٹا سا شہر تھا ،اس وقت شہر میں طلاب ،علماء،مجتہدین اور دیگر تعلیم یافتہ افرادکی تعداد بھی کم تھی اور کچھ دیندار لوگ تھے جوبیدار تھے، بقیہ دیگر تمام لوگ ایک دوسری ہی فضا میں سانس لے رہے تھے لیکن تحریک انقلاب کی برکت سے پورا قم بیدار ہو گیا۔ پھر ایران بیدار ہوااور اب تو آہستہ آہستہ پورے عالم اسلام میں بیداری کی لہر دوڑ چکی ہے ۔ ہم اس وقت عالم بشریت کی بیداری کے منتظر ہیں۔آج دنیا کی سب سے بڑی استکباری طاقت اس خطہ میں کیوں نظر آ رہی ہے؟صرف اس لئے کہ اس نے دیکھاکہ ایک عالمی بیداری کی لہر اٹھ رہی ہے اوربہت تیزی سے ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک قوم سے دوسری قوم میں سرایت کر رہی ہے، یہاں تک کہ خود امریکی عوام میں بھی ایسے احساسات سر ابھار رہے ہیں جو عالمی استکبار کے حق میں نہیں ہیں ۔ اب امریکہ کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے، اپنے ہی گھر میں اس بیداری کی موج سے کس طرح نبرد آزما ہو۔ اس نے سوچا کہ جہاں سے یہ بیداری پھیل رہی ہے اسکے اصلی سر چشمہ پر یلغار کرناچاہئے کیونکہ اگر یہ سرچشمہ خشک ہو گیا تو تمام وہ نہریں بھی خشک ہو جائیںگی جو اس سے متصل ہیں۔لہذا اب اسکاسارا ہم و غم اس سرچشمہ کو خشک کرنا ہے۔ اس غرض سے اس نے مسلم تنظیموں سے نبرد آزما ہونے کی ٹھانی لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ وہ ان سے نہیں لڑ سکتا۔آپ شاید مجھ سے بہتر اس بات کو جانتے ہوں گے کہ اسلام نے پوری دنیا میں کس قدر طاقت بہم پہنچائی ہے !مجھے یاد ہے کہ ۱۹۹۷ءء میں کینڈا میں ایک یہودی کارٹون آرٹسٹ نے مسلمانوں کی توہین کی تھی۔گزٹ نامی ایک مقامی اخبار نے اس کارٹون کو اس طرح اپنے صفحات میں جگہ دی تھی کہ جس ستون میں یہ کارٹون منظر عام پر آیا تھا اسکا انداز کچھ یہ تھا کہ ایک کتّے کی گردن میں اسلامی انقلابیوں کی علامت والا ایک رومال پڑاہوا تھا اور اسکے نیچے لکھا ہوا تھا مسلمانوں کی صورت!یہی نہیں اس جملے کے بعد ساتھ میں یہ بھی لکھا تھا کہ محترم کتّے سے معذرت کے ساتھ ․․․!!!

یعنی مسلمان کتّوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ جب ہم لوگوں نے یہ دیکھا تو ہم لوگوں جوکہ وہاں کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم تھے، نے اس کا جواب دینے کے بارے میں سوچا اور پھر اس اخبار کے لئے ایک اعتراضی مکتوب بھیجا، عدم رضایت کا بینر تیار کیا، اس پر سب نے دستخط کئے ،الٹی میٹم دیا، ان لوگوں کو وارننگ دی ،یہ سب کچھ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔پھر بھی ہم نے ہمت نہیں ہاری اور سوچا کہ سکوت اختیار نہیں کرنا ہے۔ ہم ۵۰۰ سے ۸۰۰ افرادکے قریب اپنے اہل و عیال کے ساتھ وہاں تحصیل علم کی غرض سے مقیم تھے۔ جب ہماری بات کہیں نہیں سنی گئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ سب مل کر گزٹ اخبار کے مرکزی دفترپر جائیں۔ چنانچہ ہم نے ایسا کیا اور وہاں کی پولیس سے بھی کہا کہ ہماری توہین ہوئی ہے ،ہم اسکا ازالہ چاہتے ہیں، احقاق حق چاہتے ہیں، ہم نہ کوئی جھگڑا کرنا چاہتے ہیں نہ امن و امان میں خلل کا باعث بننا چاہتے ہیں اور نہ ہمارا ارادہ کوئی مفسدہ ایجاد کرنے کا ہے ۔جب انکو پتاچلا کہ ہم لوگوں نے اس قسم کا اجتماع کیا ہے اور ہم مظاہرے کی غرض سے وہاں سے چل دئے تو وہ ہمارے پاس آئے ہم سے معذرت کی او ر پوچھا کہ آپکا مطالبہ کیا ہے، آپ کیا چاہتے ہیں ؟تو ہم لوگوں نے کہا کہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کر گزٹ اخبار کا ایڈیٹر اس گستاخی کی ذمہ داری قبول کرے اور جس ستون میں یہ کارٹون نکالا ہے عین اسی جگہ اور اسی ستون میں تمام مسلمانوں سے معافی مانگے۔ انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ ہمارا مطالبہ پورا کیا جائے گا۔ جب انہوں نے یہ وعدہ کر لیا تو ہم سب واپس آ گئے ۔ اس اقدام کے دوسرے یا تیسرے دن گزٹ اخبار کے ایڈیٹر نے تمام مسلمانوں سے معافی مانگی اور ساتھ ہی اس بات کا یقین بھی دلایا کہ آئندہ اس قسم کی کوئی حرکت نہیں ہوگی۔ اب آپ دیکھیں ہم کتنے لوگ تھے صرف پانچ سو، وہ بھی عالم یہ تھا کہ نہ ہمارے پاس کوئی جگہ تھی نہ کوئی ٹھکانہ ،وہ لوگ اگر چاہتے تو بڑی آسانی سے ہمیں ڈی پورٹ بھی کر سکتے تھے اس لئے کہ ہمارے پاس وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ تعجب کا مقام ہے کہ ۵۰۰ افرادایک مغربی ملک میں اپنے ہونے کا احساس دلانے میں کامیاب رہیں۔

ہماری توانائیاں ابھی ظاہر نہیں ہوئی ہیں اور ہم انکے اظہار کی ابھی ضرورت بھی نہیں محسوس کرتے، کیوں کہ ہم نے ان کو ابھی روک رکھاہے، آخر انجام اگر ضرورت پڑی تو اسکا اظہار بھی کیا جائے گا۔ ہمارے پاس منطقی استدلال ہے، ہم جس جگہ بھی جاتے ہیں ہماری بات کو سنا جاتا ہے، ہم کسی کالج یا یونیورسٹی میں اگر اسلام اورقرآن کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ حق دیا جاتا ہے کہ ہم اپنی مستدل گفتگو کو سامنے رکھ سکیں۔سب ہماری بات کو سنتے ہیں اور کوئی ہماری باتوں کا انکار نہیں کرتا ہے کیونکہ کلام الٰہی کا انکار نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ کوئی ایسا انسان ہو جو منصف نہ ہو ۔اب اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے؟!! کوئی اور اس طرح اپنی بات نہیں کہہ سکتا۔ہمارے پاس جب ایک استدلالی طرز گفتگو اور ٹھوس دلائل اور متقن براہین موجود ہیں تو پھر ہمیں ضرورت بھی نہیں محسوس ہوتی کہ ہم اپنی طاقت یا قدرت کا استعمال کریں ۔جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کے مستقبل کو اسلام اور مسلمان رقم کریں گے ۔یہ سوچ اور امیدعبث نہیں ہے بلکہ حقیقت پر مبنی سوچ ہے۔ تمام انبیائے الٰہی یہی بتانے کے لئے آئے تھے کہ بشریت کا مستقبل اسلام کے ہاتھوں میں ہے اور یہ سبق ہمیں پوری دنیا پر ایک اسلامی حکومت کے نظرئے میں نہاں نظر آتا ہے ۔آپ عصر ظہور سے متعلق روایات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ تفکراسی مقام سے فروغ حاصل کر رہا ہے ۔آپ اس کا بغور جائزہ لیں اور جمعہ کے دن کچھ وقت اسی میں صرف کر یں اور ظہور سے متعلق روایات پر نظر ڈالیں ۔

جب آپ ظہور سے متعلق روایات کا جائزہ لیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں مستقبل کے حروف تہجی تحریر ہو رہے ہیں، انکی تفسیر ہو رہی ہے اور انشاء اللہ امام زمانہ تشریف لائیں گے اور کعبہ سے یہ آواز پوری بنی نوع بشر کو سنائی دے گی: ”یا اھل العالم انا بقیةاللہ“ ہم اپنے اطراف میں واضح اورر وشن خطوط دیکھ رہے ہیں، لوگوں کا تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ایک مغربی مادی فلسفی اسلام کی طرف راغب ہوا ہے، نیز ایک اور مغربی ملحد فلسفی نے ۸۱سال کی عمر میں اسلام کے دامن میں پناہ لی ہے ۔اسی طرح کے دیگر اور بھی افراد جو پہلے ملحد تھے پھریا مسلمان ہو گئے یا اسلام کی طرف مائل ہو گئے ۔
یہ تمام چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ آنے والاکل مسلمانوں کا ہے ۔انٹونی سالہا سال اپنے الحادی نظریہ پرقائم رہنے اور۸۱سال کی عمر گزر جانے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ ایک فہم و ادراک سے با بہرہ وجود، علت اولی کی حیثیت سے اس دنیا کے نظام کا خالق ہے۔ جب مغرب میں رہنے والا ایک ایسا دانشور کہ جس نے خود مغرب میں الحادی نظریات کی بنا پر کافی شورو شغف بپاکیا ہو ،اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ اس سے قبل میں جس راستہ پر چل رہا تھاوہ غلط تھا ، اب سمجھ میں آیا ہے کہ صحیح راہ کون سی ہے، اب سمجھ میں آیا ہے کہ کائنات کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ایک صاحب خرد و دانا چلانے والا ہوتواس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی طرف رجحان بڑھنے کے عمل میں گرہوں کو کھولنے کے لئے ایمان کی چابی کا عمل دخل ہے۔جہاں جہاں بھی اسلام دشمن طاقتوں نے ایمان کی راہ میں روڑے ڈالنے کی کوشش کی ہے وہاں وہاں اسلام کی طرف رغبت میں اضافہ ہوا ہے۔ ۱۱ ستمبر کے حادثہ کے ۲ سال سے بھی کم عرصے میں امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد میں۲۳ہزارافرادکا اضافہ ہوا اور قرآن کریم اس سال کی سب سے زیادہ اشاعت پانے اوربکنے والی کتاب قرار پائی ۔صرف ایک دو لوگوں کی یہ حالت نہیں ہے کہ وہ اسلام کی طرف آ رہے ہیں، بلکہ ایسے افراد اسلام کے دامن میں پناہ لے رہے ہیں جو دقت نظر کے ساتھ ساتھ ذوق تحقیق و جستجو کے بھی حامل ہیں، شہوات نفسانی ، ہواوہوس کے اسیر نہیں ہیں، اکثر وہ افراد کہ جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعدآخری دہائی میں مسلمان ہوئے ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں وہ یا توکسی یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں یا تحصیل علم میں مشغول ہیں۔ یونیورسٹی کے آخری علمی مدارج کو طے کر رہے ہیں یا انکے گھر والے،رشتہ دار وغیرہ اس امر کو انجام دے چکے ہیں۔ انہیں لوگوں میں سے ایک محترم کہ جن سے میری آشنائی تھی اور ہے، اپنی شرح گزشت یوں بیان فرماتے ہیں کہ جب میں مسلمان ہوا تومیرے گھر والے بھی مسلمان ہو گئے ،میرے دوست و احباب بھی مسلمان ہو گئے اور بھی دیگر کئی ایسے لوگ جن کا کسی نہ کسی طرح سے ہم سے تعلق تھا، ہمارے مسلمان ہونے کی وجہ سے مسلمان ہو گئے۔ آج اسلام کی طرف فوج در فوج راغب ہونے والوں کی خبر آ رہی ہے:” بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم اذا جاء نصر اللہ والفتح و․․․․“

۱۹۹۳ء میں اپنے کینڈا قیام کے دوران بڑی مشکل سے میں کسی مسلمان شخص سے رابطہ کر پاتا تھا لیکن ۵۔۶ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد آج مسلمانوں نے مغرب میں اس طرح جگہ جگہ اسلامی مراکز قائم کر دیے ہیں کہ انسان غرق دریائے تعجب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔میں شب قدر یعنی شب ضربت مولا ئے متقیان (ع) میںمسلمانوں کی طرف سے تین تین جگہ مدعو تھا جبکہ ایک زمانہ وہ تھا کہ دینی مظاہر و شعائر مغرب میں دیکھنے کو نہیں ملتے تھے لیکن آج جب آپ مغربی ممالک کی راجدھانیوں لندن، واشنگٹن،پیرس میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کوجگہ جگہ مذہبی رسومات اور دینی مراکز نظر آتے ہیں ۔جب میں نے مومنین سے دریافت کیاکہ یہ مذہبی دستورات اوررسومات یہاں کب سے رائج ہیں، انکی تاریخ کیا ہے؟توسب نے یہی کہا کہ اس کے سر آغاز کا علم تو ہمیں بھی نہیں ہے، ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ دو تین دہائی پہلے یہ چیزیں موجود نہیں تھیں ۔

ان باتوں کے تناظر میں ہمیں امام خمینی کی یہ پیشین گوئی یاد آتی ہے کہ جب آپ نجف میں تھے تو آپ نے اپنے ایک دوست سے فرمایا کہ ہم نے انقلاب اس لئے برپا کیا ہے کہ ہمارے لوگ بیدار ہو جائیں،جب بیدار ہو جائیں گے تو عالم اسلام بیدار ہو جائے گا اور جب عالم اسلام بیدار ہوجائے گا تو پوری بنی نوع بشر بیدار ہو جائے گی اور جب پوری دنیا بےدار ہو جائے گی تو امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی راہ ہموار ہو جائے گی ۔یہ عصر، عصر انتظار ہے۔ بعض لوگوں کے مطابق عصر ظہور اصغر ہے اور جب ظہور اصغر ہو جائے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اب ظہور اکبر بھی ہو گا ،ظہور اکبر امام زمانہ (ع) کے فرج سے عبارت ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جس میں جہاد ہے، مار کاٹ ہے، خون خرابہ ہے اسلئے کہ دشمنا ن ا سلام خاموش بیٹھنے والے نہیں ہیں۔ روایات میں بھی ہے کہ جب امام زمانہ (ع) کا ظہور ہوگا توکئی ہزار لوگوں سے سامنا کرنا پڑ ے گا ۔میں اس سلسلے میں اس سے زیادہ نہیں بیان کر سکتا، بس اجمالاً یہ عرض کرنا ہے کہ آنے والا کل ایک درخشاں مستقبل کی نوید دے رہا ہے کیوںکہ اس سلسلہ میں ہمارے پاس جو روایات ہیں وہ ضعیف نہیں ہیں اور وہ یہی کہہ رہی ہیں کہ آنے والا کل مسلمانوں کا ہے، اس کے علاوہ ظاہری حالات بھی یہی بیان کر رہے ہیں ۔

وہ سارے محققین جنہوں نے بھی دین اور دین شنا سی کے بارے میں تحقیقی کاوشیں انجام دی ہیں وہ اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دیگر ادیان کے مقابلے میں اسلام کی جانب لوگوں کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اس زمانہ میں لوگ اسلام کی طرف زیادہ راغب ہو رہے ہیں۔ وہ خود بھی یہ دیکھ کر حیرت کا شکار ہیں کہ آج یہ کیا ہورہاہے، وہ اسلام جو ایک زمانے میں جزیرة العرب میں کسی حیثیت کا حامل نہ رہا ہو اور ۱۳ سو سال تک مسلمان خود اپنے ہی وطن اور گھرمیں ظلم و زیادتی کا شکار تھے جب رسول گرامی مدینہ میں وارد ہوئے اور حکومت اسلامی کی تشکیل پائی تو ۱۰ سال تک جنگیں ہی ہوتی رہیں۔ ۷۲ سریہ اور غزوات(جنگیں) انجام پائے لیکن اسی اسلام نے صرف ایک صدی کے اندر مغرب کے دروازوں کو اپنے اوپر وا کر لیا اور اسپین میں داخل ہو گیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جیسے جیسے اسلام کو زمانہ گزرتا گیا ویسے ویسے اسکی تجلی میں اضافہ ہوتا گیا اور اتفاق سے زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی اسلام کی تصویر اور بھی روشن ہو گئی ۔موجودہ زمانے میں اس بہترین مثال پروفیسر ہنری کاربن ہیں جو کہ صاحب تفسیر المیزان حضرت علامہ طباطبائی کے شاگرد بھی ہیں۔ آپ دقیق طور پر اسلام شناس اور منصف مزاج بھی تھے۔ آ پ کے لئے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آپ مسلمان ہو گئے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آپکی شخصیت پر پردہ پڑا ہوا ہے، حتی کہ آپ کا نام بھی وہاں ذکر نہیں ہوتا ۔ابھی چند سال قبل ہی اس دنیا سے رخت سفر باندھا ہے۔ آپ کہتے ہیں:” میری نظر میں تمام ادیان و مذاہب کی عمر تمام ہونے والی ہے سوائے مذہب شیعہ اثنا عشری کے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام مذاہب و ادیان اس رہبر کی بات کرتے ہیں جو دنیا میں نہیں ہے یا پھر ابھی عالم وجود میں نہیں آیا ہے بعد میں کبھی آئے گا ۔صرف مذہب شیعہ ہی وہ مذہب ہے کہ جو اپنے رہبر اور امام کو زندہ اور باقی مانتا ہے اور معتقد ہے کہ ایک دن وہ آئے گا، لہذا اس مذہب کی عمرلازوال ہے “۔ امام ،امت کا دل ہوتا ہے، جب تک یہ دل زندہ ہے اس میں خون کی روانی ہے، اس میں زندگی ہے تب تک یہ امت بھی زندہ ہے اور ظواہر امر بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اسی کو دیکھتے ہوئے دشمنان اسلام نے طے کیا ہے کہ اب ایسی تھیوری اور ایسا نظریہ پیش کیا جائے کہ جو اس الٰہی معجزے کے مقابل آسکے اور خدا وند متعال کے ارادے کے آگے سپر بن سکے ۔ ان کے خیال میں اسلام انسانوں کو مسحور کرنا چاہتا ہے لہذا جس طرح فرعون نے عصا ئے موسیٰ کو سحر سمجھا تھا اسی طرح یہ لوگ بھی قرآن اور اس کی تعلیمات کو سحر و جادو سمجھتے ہیں جبکہ اسلام و قرآن سحر و جادو نہیں بلکہ الٰہی معجزہ ہے اور اس صدی کا معجزہ یہ ہے کہ اسلام حوادث کی ضد پر ہے۔

آج اسلام کے اوپر شدیدترین حملے ہو رہے ہیں ۔جتنا ظلم آج مسلمانوں پر ہو رہا ہے اسکی نظیر کہیں اور نظر نہیں آتی ۔ افغانستان ، عراق ،بوسنیا،پاکستان اورابھی حال میں تھائی لینڈ کی مثال آپ کے سامنے ہے، ہر جگہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن معجزہ یہ ہے کہ اس قدر ظلم وتشدد کے باوجود، ان تمام طاقت فرسا مشکلات کے باوجود کہ جن سے مسلمان گزررہے ہیں، اسلام روز بر روز آگے بڑھ رہا ہے اور ارتقائی مراحل طے کر رہا ہے۔ یہی اس صدی کا معجزہ ہے۔ میں پورے اطمینان سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ تیسرے ہزارے کی پہلی صدی مسلمانوں کی ہے۔ یہ بات دنیا پر واضح ہو چکی ہے اورمکرو فریب کے جو جال آج اسکتباری طاقتوں کے ذریعہ بچھائے جا رہے ہیں وہ صرف اسلئے ہے کہ وہ لوگ ایک خاص انفعالی کیفیت سے دوچار ہیں اور انہیں کسی انہونی کا احساس ہو رہا ہے۔
ساحر کب جناب موسی کے سامنے اپنا جادو لے کر آئے؟ جب انہیں پتہ چلا کہ جناب موسی کے پاس عصا ہے اور فرعون کو موسی سے خوف لا حق ہوا ،ورنہ اس سے قبل موسی اور موسی کے دین سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا !اسی طرح آج اسلام نے بھی اپنے عصا کو مشاہیر عالم کے سامنے پیش کیا ہے جوپوری دنیا کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے، ساتھ ہی اسلام مستضعفین عالم کے لئے ایک امید کی کرن اور مظلوموں کے لئے جینے کا سہارا بنا ہوا ہے ۔عدالت، مساوات اور بھائی چارگی کے متعلق اسلام کی تعلیمات بہترین سبق کی حیثیت رکھتی ہیں۔ فضیلت اور اسکی راہ میں حرکت کے سلسلہ میں بہترین نظریات اسلام کے پاس ہیں ۔یہ تمام چیزیں ہمارے یہاں روایات میں کثرت سے موجود ہیں، بندگی کے معنی یہاں ملتے ہیں، عدالت کی تفسیر یہاں ہوتی ہے، ایسی صورت حال میں مغرب ایسے نظریات کو تدوینی شکل دے کر پیش کرنا چاہتا ہے جنکے ذریعہ اسلام کے سامنے قد علم کر سکے۔

جیسا کہ گزشتہ سطور میں عرض کیا گیا کہ آج کی دنیا میں چار طرح کے نظریات مغرب میں پائے جا رہے ہیں ،ان چار نظریات کی تاروپود آزادی اور برابری کے نام پر لبرل ڈیموکریسی کے پوری دنیا میں نفاذ پر قائم ہے۔ اس کے لئے مذہب و ملت کی کوئی قید نہیں ہے کہ آپ مسلمان ہوں یا کسی اور مذہب کے پرستار، وہ ہر جگہ ڈیموکریسی کا نظام لاگو کرنے کے لئے حاضر ہیں ۔امریکہ عراق میں بھی یہی کام کررہاہے اور ا س نے افغانستان میں بھی یہی کیا ہے، اسکا مطلب کیا ہے ؟مطلب یہ ہے کہ ہم منجی بشریت ہیں یعنی نجات کے تفکر کو وہ بھی پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کا انداز نرالا ہے۔انداز یہ ہے کہ تم کسی اور منجی کے چکر میں نہ پڑو ،منجی ہم ہیں ہمارے ساتھ آجاوٴ یہی تمہارے لئے کافی ہے۔ وہ اپنے آپ کو فرشتہ نجات تسلیم کرانے کے خواہاں اس لئے ہیں کہ منجی کا تفکر لوگوں میں جینے کی ایک امید پیدا کر رہا ہے اور انہیں اپنے فرعونی افکار کو عملی جامہ پہنانے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا خوف کا احساس بھی نہیں ہے کیونکہ قدرت اور طاقت کے ساتھ ساتھ وہ ساری چیزیں ان کے پاس موجود ہیں جن سے اپنی بات منوائی جا سکتی ہے ۔

آج کی دنیا میں صرف اسی کی آواز سنی جاتی ہے کہ جسکے پاس تین چیزیں ہوں: فوج،اقتصاد اور سیاست۔ آج کی دنیا میں یہی ہو رہا ہے۔ ساری دنیا ایک طرف ہے لیکن یہ دنیا کے ایک کونے سے اٹھ کر آتے ہیں، ایک اسلامی ملک پر دھاوا بول دیتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی مزاحمت کے ۔کیوں ؟اسلئے کہ انکے پاس عسکری طاقت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی جگہ حملہ ہو جاتا ہے اور دنیا دیکھتی رہتی ہے ،کیونکہ پیسہ ہمارے پاس ہے، پوری دنیا کا تیل ہمارے قبضہ میں ہے، اب ہمارے منجی ہونے میں کس چیز کی کمی ہے؟! ہم سب کو نجات دینا چاہتے ہیں !!یہ ہے امریکی طرز فکر۔

یہ چار نظریات وہ ہیں جو ان تمام چالوں کی توجیہ کرتے ہیں جو آج عالم اسلام کے خلاف اپنائی جا رہی ہیں ۔موجودہ امریکی صدرجارج بش ان چار نظریات کی آڑ میں آج دنیا کے بیشتر ممالک میں ظلم و ستم ، لوٹ کھسوٹ ،قتل و غارت گری کے بازار کو گرم کئے ہوئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کس نے بش کو بش بنایا ہے ؟واضح ہے کہ انہیں نظریات نے ۔ چنانچہ یہ چار نظریات وہ ہیں کہ جو امریکہ کے تسلط کو پوری دنیا پر ایک حتمی شکل دینے کا رول ادا کر رہے ہیں، اور ان چار نظریات کا لب لباب یہ ہے کہ لبرل ڈیمو کریسی دنیا کے تمام نظاموں میں حکومت کی بہترین شکل ہے اور یہی وہ چیز ہے جو بشریت کے کام آنے والی ہے، یہی بشریت کے لاعلاج امراض کی دوا ہے، لہذا وہ بشریت کولبرل ڈیموکریسی کا لباس پہنانا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خود انہیں اس سے کیا فائدہ حاصل ہوا، خود انہوں نے کیا پایا۔اسکے لئے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔آج جتنے بھی حادثات مغرب میں رونما ہو رہے ہیں وہ سب لبرل ڈیموکریسی ہی کی دین ہیں ۔ خونی رشتوں میں دوری، قساوت قلب ، گھریلو اور خاندانی چپقلش وغیرہ یہ سب اسی ڈیموکریسی کا نتیجہ ہیں۔

عراق میں آج کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیسا ڈیموکریسی کا ننگا ناچ ہے کہ ایک جوان کے بھیجے میں گولی مار کر اسے ہلاک کر دیا جاتا ہے پھر اس کے بدن کو چاک کر کے اسکے جسم سے اسکے گردوں اور دیگر قیمتی اعضاء کو نکالا جاتا ہے پھر انہیں انسانی اعضاء کے عالمی بازار میں فروخت کر دیا جاتاہے؟؟!!۔ یہ نہتے عوام کی ناموس پر ڈاکاڈالنا، یہ قتل وغارت گری یہ سب کیا ہے ؟!یہ سب نتیجہ ہے اس ڈیموکریسی کا جو مغربی تمدن پوری دنیا کو دینا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ ڈیموکریسی کے پردے میں ہو رہاہے! اب اگر ڈیموکریسی کا یہی سایہ بڑھتے بڑھتے مسلم ممالک تک کو بھی اپنے احاطے میں لے لے تو ہم بھی انہیں کی طرح ہو جائیں گے۔

اب آئیے دیکھتے ہیں یہ چار نظریات ہیں کیا ؟

پہلا نظریہ :
نظریہٴ آخرالزمان جاپانی نژاد امریکی فلاسفر فوکوہاما کا نظریہ ہے۔ اس نظریہٴ کے مطابق تمام تر مادی کمالات حاصل ہو چکے ہیں، امریکہ مادی کمال کی شناختہ شدہ مکمل تصویر ہے ۔چونکہ اسکے پاس زندگی گزارنے کے تمام وسائل موجود ہیں، اسکا علم اور اسکی ٹیکنا لوجی مادی کمال کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے اورکمال معنوی کو لبرل ڈیموکریسی کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ دنیا اس مادی اور معنوی کمال کی حامل ہے اور اسکی سب سے بڑی نشانی امریکہ ہے اور جس وقت دنیا اپنے مادی اور معنوی کمال کی انتہا کو پہنچ جائے تو وہی دور آخرالزمان ہوگا۔ اس نظریہ کی روشنی میں اب تک ہالی وڈ میں دس فلمیں منظر عام پر آچکی ہیں، جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی طریقہ سے نظریہٴ مہدویت کو مخدوش بنا رہی ہے اور یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ آنے والا کل مسلمانوں یا امام مہدی (ع) کا نہیں بلکہ آنے والا کل امریکہ کا ہے۔ انہیں فلموں میں ایک فلم ”آلمینڈوم“ ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ امریکہ سے ایک عظیم لشکر اٹھے گا ( صہیونیزم اور مسیحی کے نظریات کی روشنی میں)ا ور پھر مشرق وسطی تک اسکا تسلط قائم ہو جائے گا اور اس طرح ایک عالمی حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔آپ غور کریں بالکل اسی انداز میں یہ سب بیا ن کیا جا رہا ہے جس طرح اسلام نے آخر الزمان کے بارے میں پیشین گوئیاں کی ہیں ۔

دوسرا نظریہ :
ساری دنیا کا ایک دیہات کی شکل اختیار کر جانا، یہ نظریہ اس بات کو بیان کر رہا ہے کہ آج دنیا ایک دیہات کی شکل میں سمٹ رہی ہے، آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا ہے ۔دنیا کے ایک کونے میں کوئی معمولی سا بھی حادثہ ہوتا ہے تو دوسرے کونے میں اسے دیکھا جاتا ہے ،اسے ٹیکنالوجی کے عصر سے تعبیر کیا جا تا ہے کیونکہ آج دنیا ایک دیہات کی شکل میں سمٹ کر رہ گئی ہے (خود انہیں کے بقول Global Village)، جب دنیا ایک دیہات کی شکل اختیار کر گئی ہے تو یہ بھی واضح ہے ہر دیہات کا ایک مکھیا ہوتا ہے ،سر پنچ ہوتا ہے۔ اب اس عالمی دیہات کا بھی ایک مکھیا ہونا چاہیے اور مکھیا وہی ہو سکتا ہے جس کے پاس طاقت ہو۔ اس وقت یہ طاقت صرف امریکہ کے ہاتھ میں ہے یعنی آج دنیاامریکہ کے ظہور کی منتظر ہے تا کہ پوری دنیا پر صرف اسی کا حکم چل سکے۔

تیسرا نظریہ :
یہ”سب سے برتر “ کے عنوان سے جانا جاتا ہے اور آلونٹ ٹفلرکے ذہن کی کھوج ہے۔
یہ مغرب کا وہ دانشور ہے جس نے قدرت و طاقت کے علاوہ ذرائع ابلاغ اور پرو پیگنڈے کے اثرات جیسے موضوعات پربھی کافی کتابیں تحریر کی ہیں ۔اس دانشور کی تحریر کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کو پرو پیگنڈے اور میڈیا کی طاقت سے جوڑ دیا ہے۔ اس کے بموجب پروپیگنڈہ بہت ساری امواج اور لہریں خلق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسکے کئی مرحلے ہیں، پہلے مرحلے کی فضا ئیں اور اسکی لہریں دوسرے اور تیسرے مرحلہ کی لہریں اور انکی فضائیں۔پہلی فضا سازی اور اسکی لہروں کا مرحلہ یہ ہے کہ اخباروں کے ذریعہ ایک ماحول تیار کیا جائے ۔دوسرے مرحلہ میں کسی بھی بات کی فضا بنانے میں اخباروں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور دوسرے ترسیلی ذرائع کی مدد سے کسی مسئلہ کو اچھال کر اسکی فضا بنائی جا سکتی ہے۔اس میں انٹر نیٹ اور دیگر برقی ا رسالی و ترسیلی ذرائع کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ تیسرے مرحلہ میں اسی پروپیگنڈے کے ذریعہ آمنے سامنے دنیا سے گفتگو کی منزل ہے۔ اس میں آپ بالکل آمنے سامنے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ اس نظریہ کی بازگشت بھی امریکہ ہی کی طرف ہے ۔ آج کون ہے جس کا ذرائع ابلاغ پر قبضہ ہو ؟آج کون ہے جو دنیا کے آمنے سامنے قرار پا سکتا ہے ؟ یہ بھی امریکہ ہی ہے ۔

چوتھا نظریہ:
تمدنوں اور تہذیبوں کے آپسی ٹکراوٴ کانظریہ ہے ۔
اگرچہ انہوں نے اواخر میں اس نظریہ سے عدول کرکے اپنی غلطی کا اقرارکر لیا ہے لیکن اسکے باوجود اپنے دیگر نظریات کی بنا پر امریکہ کریہہ چہرے کی توجیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا کی نجات امریکہ ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔
اب مذکورہ چاروں نظریات کوملاحظہ کرنے کے بعد آپ خود سوچئے کہ ہمارا فریضہ کیا ہونا چاہئے ؟ حقیقی اسلام کے تفکر کے ورثہ دار ہونے کی حیثیت سے ،اس تفکر کے مبلغ کی حیثیت سے، اس تفکر کی نشرو و اشاعت کی حیثیت سے ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ کیااسلامی دستورات کے ساری دنیا میں رائج ہوتا دیکھنے کی تمنا ہمارے دلوں میں نہیں ہے؟!! یقیناً ہم سب کی دلی تمنا یہی ہے ۔ تو پھر آئیں ہم سب مل کر بیٹھیں ،غور کریں اور سوچیں کہ اس مغربی دنیا سے متاثرہ ماحول میں ہمارا رد عمل کیا ہونا چاہئے ۔ حقیقی منجی بشریت سے عالم انسانیت کو روشناس کرانے کے لئے ہمارا لائحہٴ عمل کیا ہونا چاہئے ۔ہر زمانہ سے زیادہ اس زمانہ میں مہدویت پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔لہذا ضروری ہے کہ ہم اپناوقت زیادہ سے زیادہ مہدویت کے سلسلہ میں بحث کرنے اور گفت و شنود کی نشستیں بپا کرنے میں صرف کریں۔تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دیں جومختلف موضوعات پر تحقیق کر یں، امام زمانہ کی عالمی حکومت کی تشکیل کی راہوں اور اسکے بلند افکار کا تجزیہ کریں اور ساتھ ساتھ مغرب کی مہدویت کے سلسلہ میں زہر افشانیوں کا مقابلہ کرنے کی راہوں کی جستجو بھی ہو تاکہ اس عظیم خطرے سے مقابلہ کیا جا سکے کیونکہ اس طرح کے بے ہودہ افکارکا اثر جو کہ اسلام پر تھوپے جا رہے ہیں، فوجی حملوں سے کم نہیں ہے جو امریکہ نے اسلامی ممالک پر کئے ہیں یا کرنے والا ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو اسکی فکری شبخون ضرب اس حملہ سے کہیں زیادہ کاری اور خطرناک ہے ۔

وہ لوگ کفر کے سپاہی ہیں اور اپنے کفر پر استوار و قائم ہیں، وہ اپنے تمام تراسباب و وسائل کو استعمال کر رہے ہیں تا کہ مہدویت مخالف افکار کو دنیا میں رائج کر سکیں۔ ہم بھی اگرامام زمانہ (ع) کے سپاہی ہیں تو ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم امام (ع) کے ظہور کے لئے راہ ہموار کریں، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم خود کو اس زمرے میں قرار دیں جسکے لئے معصوم نے فرمایاہے کہ مشرق سے کچھ لوگ خروج کریں گے جو امام زمانہ (ع) کے قیام کی راہ کو ہموار کریں گے ۔حامیان ظہورسے مخصوص اس زریں و قابل فخر تمغہ کو ہمارے گلے کی بھی زینت بننا چاہئے: ”اللّھم اِنْ حال بینی و بینہ الموت الّذی جعلتہ علی عبادک حَتْمًا مَقْضِیًّا فَاَخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی موٴتَزِراً کَفَنی شَاھِراًسَیْفِی مُجَرِّداً قَناتی مُلَبِیًّا دَعْوَةَ الدَّاعی فی الحاضر و البادی“دعائے عہدہے کہ میں منتظرکی حالت یہ ہوکہ شادابی و جوش و خروش چہرے سے چھلک رہا ہواور انتظار کا عالم یہ ہو کہ اگر مر بھی جائے توبھی یہ سوچ کرآسودہ خاطر رہے کہ کم از کم ظہور امام (ع) کی راہ کو ہموار کرنے والوں میں میرا نام تو ہے ۔

منتظرین ظہور کا مرتبہ
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو بھی ہمارے مہدی (ع) کا انتظار کرے گا اسکا مرتبہ اس مجاہد کاسا ہے جو راہ خدا میں خاک و خون میں غلطاں ہو،بلکہ اس شخص کی طرح ہے جوامام زمانہ (ع) کے خیمے میں حاضر ہو اورآپکی ہمراہی کر رہا ہو ،بلکہ اس فرد کے مثل ہے کہ جو رسول خدا کی رکاب میں دین خدا کی نصرت کے لئے تلوار چلائے۔یہ تمام عظمت امام زمانہ (ع) کے چشم براہوں اور آپ کے منتظرین کی ہے ۔

سوال وجواب
سوال نمبر (۱) تمام عالم اسلام اور مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے ہم طلاب کیا کر سکتے ہیں ،اس سلسلہ میں ہماری ذ مہ داری کیا ہے ؟
جواب: وہ انسان جو دوسروں کو جہاد کی دعوت دے رہا ہے، اسکے لئے ضروری ہے کہ خود اس نے جہاد کی لذت کو محسوس کیا ہو۔ وہ انسان جو دوسروں کو شہادت کے لئے آمادہ کر رہا ہے، اسکے لئے ضروری ہے کہ وہ شہادت کا جذبہ رکھتا ہو ۔ سب سے پہلا کام جو ہم طلاب کر سکتے ہیں وہ خود سازی اور تزکیہٴ نفس ہے اور خود سازی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم جہاد اکبراور جہاد اصغر جیسے حساس مراحل میں بھی سر فراز و کامیاب بننے کے لئے کوشش کریں ۔آپ نے فوج کو پریڈکرتے اور ریہر سل کرتے دیکھا ہو گا، وہ اس ریہر سل کے ذریعہ اپنے آپ کو حملے کے لئے تیار کرتے ہیں اور جب حملے کا وقت آتا ہے تو نہ انہیں نیند آتی ہے نہ غنودگی ۔وہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں نیند نہ آئے ،ایک دوسرے پر نظر رکھتے ہیں کہ کوئی سو نہ جائے۔ ہمارے یہاں (ایران و عراق جنگ کے دوران )حملے کی شب میں لوگ جاگا کرتے تھے، آنکھوں سے نیند غائب رہتی تھی اور خدا سے رازو نیاز میں مشغول رہتے تھے اور اس طرح دعا کرتے تھے کہ جیسے بالکل ابھی خدا سے ملاقات کے لئے جانے والے ہیں۔ گو یا بہشت بالکل نظروں کے سامنے ہے ۔یہ تو ایک لشکر کی کیفیت ہے لیکن ہم تو امام زمانہ (ع) کے سپاہی ہیں، امام زمانہ کے سپاہی ہونے کا تاج ہمارے سروں پر ہے، آپ کے جانثارہونے کا تمغہ ہمارے سینہ پر سجا ہوا ہے۔ اب ایک سپاہی کا فریضہ اور ذمہ داری کیا ہے ؟ یہی ہے نا کہ اسے ہر وقت چوکنا رہنا چاہئے کہ نہ معلوم کس وقت یہ ندا سنائی دے” انا بقیتہ اللّہ “یہی ”ملبیا دعوة الداعی فی الحاضر والبادی“ اور اگر سنائی دے تو اس قدر آمادہ رہے کہ یہ صدا سنتے ہی نصرت امام (ع)کے لئے اٹھ کھڑا ہو ۔

اس طرح نہیں جیسے کچھ لوگ ایران کی دفاعی جنگ کے دوران یہ سوچتے تھے کہ ابھی تو ہم گھر بنا رہے ہیں، ابھی تو ہمیں شادی کرنا ہے ،اتنی بھی کیاجلدی ہے کچھ دن اورگزر جائیں تو ہم بھی محاذ جنگ پر چلیں گے۔ یہ سب نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ اسی زمانے میں کچھ لو گ ایسے بھی تھے جو شادی کے دوسرے ہی روز گھر سے نکل پڑے تھے اور محاذ پر پہنچ کر جناب حنظلہ ( غسیل الملائکة ) کی طرح جام شہادت سے سیراب ہوگئے تھے۔ حضرت آیت اللہ مصباح یزدی دام عزہ کے شاگردجناب نراقی پور کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انہوں نے ایک سیدانی سے شادی کی، وہ بھی یہ کہہ کر کہ اس طرح وہ جناب زہرا سلام اللہ علیہا کے محرم ہو جائیں گے۔ اپنی ہونے والی زوجہ سے کہا: ”تم جانتی ہو کہ میں محاذ پر جا رہا ہوں لہذا اگر چاہو تو اس شادی سے انکار کر سکتی ہو“ لیکن اس سیدانی نے قبول کر لیا اور شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی وہ شہادت کے درجہ پر فائز ہو گئے ۔یہ تو صرف ایک نمونہ ہے، اس طرح کے افراد ہمارے یہاں بہت ہیں۔بہر کیف میں عرض یہ کر رہا تھاکہ ہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم ہر پل اپنے آپ کو امام کی راہ میں جہاد کے لئے آمادہ رکھیں اور جیسے ہی ہمیں پتہ چلے کہ وقت جہاد آگیا ہے توفوراً نکل پڑیں اور بہانہ تراشی سے کام نہ لیں، یہی ہمارا اصلی وظیفہ ہے۔ دوسری چیز جوہمارے لئے ضروری ہے وہ طہارت روح ہے۔ اگر ہماری روح طاہر ہو اور جذبہ شہادت سے سر شار ہو تو پھرہم جس سے بھی گفتگو کریں گے اس کے دل پر ہماری گفتگو اپنا اثر چھوڑے گی۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم امام زمانہ کی معرفت کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں ، اپنی محبت کو ارتقاء بخشیں اور ساتھ ہی ساتھ ایسے مربی کو تلاش کریں کہ جو الٰہی تربیت سے ہمیں آراستہ کرے تاکہ ہمارے ذہن آپ(ع) کی معرفت سے سر شار اور ہمارے قلوب آپ (ع)کی محبت سے مالا مال ہو جائیں ۔

سوال نمبر(۲) غیر مسلم افراد دھیرے دھیرے اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کی حالت روز بروز بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے، ایسا کیوں ہے ؟ بر ائے مہربانی وضاحت فرمائیں ۔
جواب : ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ فرسودگی اور بے راہ روی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ، اس کے مختلف اسباب ہیں۔ یہ اسباب کبھی معیشتی ، کبھی سیاسی اور کبھی ذاتی ہوتے ہیں۔ بعض افراد اقتصادی اور معیشتی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بے دین یا غیر مسلم انکی مشکلات کو دور کر دیتا ہے تووہ اپنا دین بیچ دیتے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو سیاسی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اورہمیشہ مقام و منصب کے چکر میں رہتے ہیں۔کسی پارٹی یاکسی گروپ سے وابستہ ہونے کے لئے جتن کرتے رہتے ہیں اور پارٹی انہیں ممبر شپ دے کر ان کادین و ایمان خرید لیتی ہے۔ یہ تمام ثقافتی و فرہنگی یلغار جو مسلمانوں پر ہو رہی ہے اور جو نئی نئی سازشیں انہیں دین سے منحرف کرنے کے لئے اپنائی جا رہی ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے یہ سب کچھ بہت معمولی چیز ہے ۔رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیة اللہ سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ صرف خامیوں پر نظر نہ ڈالی جائے، اچھائیاں بھی دیکھی جاناچاہئیں یا یوں کہا جائے کہ آپ صرف خزاں کو نہ دیکھیں، بہار سے بھی لطف اندوز ہوں ۔صرف جو چیزیں ہم سے ترک ہو رہی ہیں انہیں ہی نظر میں نہ رکھا جائے، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ کتنی چیزیں ایسی ہیں جن میں اضافہ ہوا ہے ۔دینی امور میں بھی ایسا ہی ہے۔ شمسی سال کے مطابق ۱۳۵۱ء کا زمانہ تھا ،یعنی تقریبا ۳۲ سال قبل کی بات ہے، میں اس وقت تیرہ سال کا تھا۔ اصفہان سے اپنے والد کے ساتھ ایام محرم میں جمعہ کے دن ہم لوگ مسجد جمکران۔قم روانہ ہوئے۔ نہ جانے کتنی مشکلات کے بعد ہمارے والد ہمیں جمکران لے کرپہنچے ۔سارا راستہ ہم نے پا پیادہ طے کیا۔کچھ دور چلنے کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ مسافر گاڑیاں جمکران کی طرف جا رہی ہیں۔ میں نے سوچا ایک خستہ حال اور قدیمی مسجد ہے جہاں نہ کوئی بستی ہے نہ آبادی ،نہ کوئی چراغ ہے نہ شمع ،ہم لوگ بھی کسی طرح مسجد جمکران پہنچے ۔ہر طرف سناٹا تھا ،مسجد بھی بوسیدہ تھی، لوگ بھی بہت کم تھے، عصر میں صرف سات آٹھ لوگوں کو میں نے نماز امام زمانہ (ع) پڑھتے دیکھا۔ وہ ۳۲ سال پہلے کا زمانہ تھالیکن اب ذرا آپ مسجدجمکران کو ملا حظہ کریں۔اس سال ۱۵ شعبان کو یہ اعلان کیا گیا کہ اس سال بیس لاکھ زائر مسجد میں زیارت کے لئے موجود ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ امام رضا (ع) کی ولادت با سعادت کے موقع پر میرے کچھ احباب زیارت کی غرض سے مشہد جانا چاہتے تھے لیکن ٹکٹ نہیں مل سکے ،نہ ہوائی جہاز کا ،نہ ٹرین کا ،نہ ہی بس کا ۔ یہ سب خیرو برکت میں اضافہ نہیں تو پھر کیا ہے ؟اب اعتکاف کا بھی یہی حال ہے، میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں جب قم آیا تو یہی دیکھا کہ خاص ایام میں کچھ لوگ آتے ہیں اور مسجد امام کے کسی گوشے میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس زمانے میں صرف ایک ہی مسجد تھی جہاں اعتکاف ہوتا تھا، شاید پورے ایران میں صرف قم اور قم میں بھی صرف مسجد امام تھی کہ جہاں اعتکاف ہوتا تھا۔ اس وقت کوئی یہ بھی نہیں جانتا تھاکہ اعتکاف کیا ہوتا ہے۔ ہم اس وقت کچھ ضعیف العمر لوگوں کواعتکاف میں د یکھتے تھے کہ جنکی ڈاڑھی سفید اورکمر جھکی ہوئی ہوتی تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا یہ لوگ کون ہیں اورکیا کر رہے ہیں؟! ان سے پوچھا جاتا تھا کہ یہ سب کیا ہے تو وہ جواب دیتے تھے کہ ہم اعتکاف کے لئے آئے ہیں، ہم جانتے بھی نہیں تھے کہ یہ اعتکاف کیا ہوتا ہے لیکن آج عالم یہ ہے کہ اس قدر فضا اور جگہ ہونے کے باوجود بھی اگرآپ تین مہینہ پہلے اپنے نام کا اندراج نہ کرالیں تو بھی آپ کو جگہ ملنے سے رہی !!! اوریہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اس وقت اعتکاف کرنے والوں میں زیادہ تر تعداد جوانوں کی ہوتی ہے !یہ سب لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ کیا یہ لوگ بہشت سے نازل ہوئے ہیں ؟ نہیں، اسی سرزمین کے رہنے والے ہیں، یہیں کے باسی ہیں ۔ایک روز جب اعلان کیا جاتا ہے کہ دینی دستورات کی پاسداری اور دینی اصولوں کے دفاع کے لئے جوان آگے بڑھیں،تو لاکھوں کی تعداد میں لوگ نکل پڑتے ہیں۔تین سال پہلے رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام عزہ نے یہ اعلان کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس سال عید الفطر کے موقع پر ایک لاکھ لوگ مصلائے تہران میں جمع ہوں ،میں ان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ دیکھنے میں آیا کہ تقریباً ۲۰لاکھ لوگ وہاں رہبر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے ۔وہاں کے ذمہ داروں کو معذرت کرنا پڑی کہ ہمارے پاس اتنی جگہ نہیں ہے!! یہ وہ جذبہ ہے جسے شیعی جذبہ کہا جاتا ہے، یہ شیعوں کا جذبہ ہے۔ باطل کے اندر صرف جولان ہے:” ان للباطل جولة و للحق دولة“۔ باطل دریا کی موج کی طرح صرف سامنے نظر آنے والی چیز ہے ،پانی بڑے سکون و اطمینان سے روں دواں رہتاہے لیکن وہ موج ہے جس کے اندر طغیانی دیکھی جا تی ہے اسکے اندر آواز ہے، حرکت ہے، اٹھان ہے لیکن جیسے ہی یہ سب کچھ ختم ہوا تو صرف ٹھہراہوا پانی ہے اور کچھ نہیں۔ آج جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ دشمن کے حربے ہیں۔ البتہ انتا ضرور ہے ان سب باتوں کو بے اہمیت نہیں سمجھنا چاہئے ،جہاں تک ہو سکے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرنا چاہئے ۔کم از کم قوم اور قبیلہ کی حد تک اصلاحی راہ و روش کے ذریعہ ایمان کو باور کرانے کی کوششں کرنا چاہئے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک نہیں کرنا چاہے ۔یہ سب بہت ضروری ہے، اپنی حالت کا محاسبہ ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ہمیں کیا کام کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خدا کی کسی سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے! وہ یوں ہی کسی سے کچھ نہیں کہے گا ۔ وہ تو فرما رہا ہے: ” و من یرتد منکم عن دینہ سوف یاتی اللّہ بقوم یحبھم و یحبونہ ۔۔۔۔“اے لوگو! ہوشیار ہو جاوٴ، اگر تم نے اپنے دین سے ہاتھ اٹھا لیا تو خدا کسی اور کو بھیج دے گا اور اپنے دین کی رسالت کافخرکسی اور کے حوالے کردے گاکیونکہ خدا ان کو دوست رکھتا ہوگا اور وہ بھی خدا کو دوست رکھتے ہوں گے۔ وہ لوگ اہل یمان کے مقابل خضوع و خشوع رکھنے والے ہیں اور کفار کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار ۔

آپ دیکھیں کہ مکہ میں اسلام کا آغاز ہوتا ہے لیکن اسکا رسوخ کہاں تک ہے؟! ایران سے لے کر دیگر ممالک تک۔ اب آپ دیکھیں کہ اس وقت مدینہ کے شیعوں کی تعداد زیادہ ہے یا پاکستان اور ایران کے شیعوں کی تعداد زیادہ ہے ۔یہ اسی لئے ہے کہ خدا کو کسی سے کوئی لگاوٴ نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دین الٰہی کے نزول کی جگہ مکہ مکرمہ تھی اور مکہ ایک مقدس جگہ ہے اور ہمیشہ رہے گی اور مسلمانوں کی توجہات کا مرکز رہے گی، لیکن وہ دین کہ جسکی تلاش میں ہم ہیں، اہل مکہ نے اسے قبول نہیں کیا ۔وہ حاجی کہ جو شیعہ ہیں کیا وہ خودسعودی عرب کے رہنے والے ہیں یا کہیں اور کے؟! آج شیعیت کا اثر و رسوخ دیکھیں، امریکہ میں بھی شیعوں کی خاصی تعداد ہے۔ میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو امریکہ میں پیدا ہوئے، وہیں پلے بڑھے، لیکن امام زمانہ(ع) کے خالص شیعہ ہیں۔ میرے پاس وقت نہیں بچا ورنہ میں مزید بیان کرتا کہ وہاں کے مسلمان اورجوان کیسے ہیں ۔

لہذا میں یہی کہوں گا کہ مسلمانوں کی حالت پر جب بھی ہم نظر ڈالیں تو خزاں کے ساتھ ساتھ بہار بھی دیکھیں، انکی خامیوں کے ساتھ ساتھ انکی وہ خوبیاں بھی دیکھیں جو پہلے نہیں تھیں لیکن اب فراوان ہیں۔میں آپ سبھی لوگوں سے وقت کی تنگی کے لئے معذرت چاہتا ہوں۔امید ہے کہ انشاء اللہ میری یہ مختصر سی گفتگو امام زمانہ(ع) کی خوشنودی کاسبب بنے گی۔