آداب

پیغمبراسلام کے بیٹھنے کے آداب

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ مَنْزِلًا قَعَدَ فِي أَدْنَى الْمَجْلِسِ إِلَيْهِ حِينَ يَدْخُل‏

حضرت صادق عليه السلام نے فرمایا:

رسول خدا [صلي الله عليه و آله و سلم] جس گھر میں داخل ہوتے تھے سب سے نزدیک جگہ بیٹھ جاتے تھے اور مجلس کے آخر میں بیٹھ جاتے تھے۔
كافي ج ‏2 ص ‏662 ح 6

بیٹھنے کے آداب

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ أَكْثَرَ مَا يَجْلِسُ تُجَاهَ الْقِبْلَة

امام صادق عليه السلام نے فرمایا :

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر اوقات قبلہ کی طرف رخ کرکے بیٹھتے تھے۔

كافي ج ‏2 ص 661 ح 4

دوسرے کی بات میں بات کرنا

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ رسول خدا [صلی الله علیه و آله وسلم] :

مَنْ عَرَضَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ الْمُتَكَلِّمِ فِي حَدِيثِهِ فَكَأَنَّمَا خَدَشَ وَجْهَه‏

امام صادق عليه السلام نے فرمایا:

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی گفتگو کو کاٹے گویا اس نے اس کے منہ پر خراش ماری ہے۔

كافي ج‏2 ص 660 ح3

دسترخوان کے آداب

عَنِ الإمامِ المجتبی عليه السلام:

فِي الْمَائِدَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ وَ أَرْبَعٌ مِنْهَا سُنَّةٌ وَ أَرْبَعٌ مِنْهَا تَأْدِيبٌ فَأَمَّا الْفَرْضُ فَالْمَعْرِفَةُ وَ الرِّضَا وَ التَّسْمِيَةُ وَ الشُّكْرُ وَ أَمَّا السُّنَّةُ فَالْوُضُوءُ قَبْلَ‏الطَّعَامِ وَ الْجُلُوسُ عَلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ وَ الْأَكْلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ وَ لَعْقُ الْأَصَابِعِ وَ أَمَّا التَّأْدِيبُ فَالْأَكْلُ مِمَّا يَلِيكَ وَ تَصْغِيرُ اللُّقْمَةِ وَ الْمَضْغُ الشَّدِيدُ وَ قِلَّةُ النَّظَرِ فِي وُجُوهِ النَّاسِ

امام حسن مجتبي عليه السلام نے فرمایا:

دسترخوان کی بارہ خصوصیات ہیں ہر مسلمان پر واجب ہے کہ ان کو جانے۔ ان میں چار واجب ہیں اور چار مستحب ہیں اور ان میں چار آداب ہیں۔

وہ جو واجب ہیں: نعمت کی شناخت، اس نعمت پر راضی ہونا جو اسے ملی ہے، اللہ کے نام سے شروع کرنا اور شکریہ ادا کرنا۔

وہ جو مستحب ہیں: کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، بائیں پہلو بیٹھنا، تین انگلیوں سے کھانا کھانا اور انگلیاں چاٹنا۔

وہ جو آداب ہیں: اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ کو چھوٹا اٹھانا، لقمہ کو چبانا،اور کھانا کھاتے وقت دوسروں کی طرف نہ دیکھنا۔

بحار الأنوار ج ‏63 ص 413

ادب کی سختی

16ـ قال الرضا علیه السلام:

«اَلْاَدَبُ کُلْفَةٌ فَمَنْ تَکَلَّفَ الْاَدَبَ قَدَرَ عَلَیْهِ»

۱۶: ادب سختیوں کے تحمل کرنے کا نتیجہ ہے جس شخص نے سختیوں کو تحمل کیا اس نے ادب کو پا لیا۔

اصول کافی 1/ ص 24

کھانے کے آداب

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لِعَلِيٍّ ع‏ :

يا عَليّ! اِفْتَحْ طَعامَكَ بِالْمِلْحِ، فَإنَّ فيهِ شِفاءٌ مِنْ سَبْعينَ داء، مِنْها : الْجُنُونُ وَ الْجُذامُ وَ الْبَرَصُ وَ وَجَعُ الْحَلْقِ وَ الاْضْراسِ وَ وَجَعُ الْبَطْنِ.

امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول خدا [ص] نے امام علی [ع] کو فرمایا: اپنے کھانے کو تھوڑے سے نمک کے ساتھ شروع کرو بتحقیق اس میں ستر بیماریوں کی شفا مضمر ہے جن میں سے دیوانگی،پی سی، جذام، گلے کا درد، پیٹ اور معدہ کا درد وغیرہ ہیں۔

محاسن برقي : ص 593، ح 110، بحار : ج 63، ص 398، ح 20.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔