اسلامی اتحاد قرآن و سنت کی روشنی میں

(مؤلف: بشیر احمد بٹ)

اسلامی اتحاد کے بنیادی ارکان اور محور-
اس حقیقت کی وضاحت کےبعد کہ اسلامی اتحاد عالم اسلام اور مسلمانوں کا سب سے اہم اور حیاتی مسئلہ ہے اور اسکی ضرورت ہردور اور ہرزمانے میں محسوس ہوتی ہے آئیے اب قرآن اورروایات کی روشنی میں اسلامی اتحاد کے ایسے محور اور ارکان کو بیان کرتےہیں جنہیں اسلام کے بنیادی ارکان کی حیثیت سے پیش کیا جاتاہے اور جنکی بنیاد پرتمام اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو بحال کرنا بھی ایک معقول بات ہوگي۔جی ہاں ان ارکان پرمختلف اسلامی مذاہب کے درمیان مشترکہ طورپراتفاق پایاجاتاہے اور کلی طورپرسارے مسلمان ان ارکان پرمشترکہ عقیدہ رکھتےہیں۔

1۔توحید
ایک قوم کے مشترکہ عقائد اس قوم ملت کے افراد کے درمیان اتحاد و ہمدلی میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں خاص کرجب یہ عقیدہ خدا کی وحدانیت جیسے ایک فطری امرپرمبنی ہواورپوری قوم، ملت اپنی زندگي کے تمام جوانب کو اسی توحید پراستوار کرتی ہو۔قرآن مجید توحید کے محور پرمومنوں اورمسلمانوں کو وحدت اوراتحاد کی دعوت دیتاہے اور اس رکن توحید کا دائرہ اس کے تمام پہلووں کو شامل کئےہوتاہے ۔توحید ذاتی ، صفاتی ، عبادی اور عملی وغیرہ ہرزاویے سے ایک خدا ایک معبود ایک خالق کی جانب دعوت دیتاہے جوحقیقت میں سارے معبود کی نفی اور اسلامی اتحاد کی راہ میں رکاوٹوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مساوی ہے ۔ان رکاوٹوں کو دورکرنے سے خداوند عالم کی عبودیت اور اسی مطلق العنان خدا کی اطاعت اور عبادت کی راہ ہموارہوجاتی ہے خداکی یہی بندگي اور اطاعت مومنوں اور مسلمانوں کے درمیاں اتحاد کاسرچشمہ قرارپاتی ہے ۔قرآن کریم کی نگاہ میں بعثت انبیاء کا فلسفہ بھی خدا اور توحید کی بنیاد پرلوگوں کو دعوت دینا اور زمانے کی سامراجی اور استعماری طاقتوں سےجوملتوں اور قوموں کے تفرقہ اور جدا‏ئي کا باعث بنتی ہیں مقابلہ کرنا مقصود ہے "ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولاان اعبدواللہ واجتنبوا الطاغوت (نحل36) اور بے شک ہم نے ہرامت کے لئےایک رسول بھیجا ہے تاکہ خدا کی عبادت کریں او طاغوت سے دوری اختیارکریں ۔
یعنی توحید کے محور پراتحاد کی دعوت دینا کسی زمانے سےمخصوص نہیں ہے بلکہ ہردور میں اللہ نے ہرقوم و ملت کو اس اہم اعتقادی رکن اور محور کی بنیاد اتحاد کی دعوت دی ہے ۔قران کریم اسی طرح سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو توحید کی بنیاد پرپھیلانے کی جانب آپ ہی کی زبانی اشارہ کررہاہے "اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا و لکم اعمالکم ( شوری 15)
"اللہ ہمارا اور تمہارا دونوں کا پروردگارہے ہمارے اعمال ہمارے لئےہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئےہیں ”
قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبدو الااللہ و ان لانشرک بہ شیاء و لایتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدو بانا مسلموں( آل عمران64)
اے پیغمبر کہ دیجئے کہ اہل کتاب آو ایک منصفانہ کلمہ پراتفاق کرلیں کہ خداکے سوا کسی کی عبادت نہ کريں ، کسی کو اس کا شریک نہ بنائيں آپس میں ایک دوسرے کو خدا کا درجہ نہ دین اور اگر اس کے بعد بھی یہ لوگ منہ موڑلین تو کھ دیجئے کہ تم لوگ گواہ رہنا کہ ہم ہی حقیقی مسلمان اور اطاعت گزار ہیں ”
مذکورہ آیہ شریفہ اہل کتاب سے اتحاد و اتفاق کے لئے توحید ہی کو مبنا قراردیتی ہے اور اس پراتحاد و اتفاق نہ کرنے والوں سے صاف خطاب ہورہاہے کہ وہ مسلمانوں اور موحدین کی فہرست سے باہر ہے ۔
ایک اور جگہ ارشاد ہورہاہے ۔
"واذکرو نعمت اللہ علیکم اذکنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا”( آل عمران 103)
اور اللہ کی نعمت کو یادکرو جب تم آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیداکردی تو تم اسکی نعمت سے بھائي بھائي بن گئے۔
مفسرین حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ اس آیۃ مبارکہ میں نعمت سے مراد توحید کی نعمت ہے مسلمانوں میں اتحاد، بھائي چارے اور اخوت صرف توحید کی بدولت قائم ہو‏ئي ہے ۔سنت اور اسلامی روایات میں بھی توحید کو اسلامی اتحاد امت کے بنیادی رکن اور محور کی حیثیت سے پیش کیاجاتاہے۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تحریک اوراسلامی انقلاب کے آغاز کار اور لوگوں کی کامیابی اوراس کے راز کو کلمہ توحید ہی بتلاتےہوئے فرماتےہیں کہ "قولوا لاالہ الا اللہ تفلحون "توحید اورنبوت کی بنیاد پراپنے رشتہ داروں کو ایک جگہ جمع کرکے نجات کے بارےمیں فرماتےہیں:
"انا ادعوکم الی کلمتین خفیفتین علی اللسان ثقیلتین فی المیزان، تملکوں بھا العرب والعجم و تنقاد لکم بھما الامم وتدخلون الجنۃ و تنجون بھما من النار شھادہ ان لاالہ الااللہ و انی رسو ل اللہ ( ارشاد مفیدص 21)
"میں تمہیں دوچیزوں کی دعوت دیتاہوں جو زبان پرآسان توہیں لیکن ان پرعمل کرنا بہت ہی مشکل ہے ان دوچیزوں کی وجہ سے عرب اورعجم کی حاکمیت حاصل کرسکتےہودوسری قوموں کو اپنا مطیع بناسکتےہوجنت می داخل ہوسکتےہواور دوزح سے نجات پاسکتےہو:ایک یہ کہ خدا کے سواکوئي معبود نہیں ہے اور دورسرےیہ کہ میں خدا کارسول ہوں ”
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلامی اتحاد کے مسودے میں توحید ہی کو سرفہرست قراردیتےہوئے فرماتےہیں "اے لوگوتمہارا پروردگار ایک ہے تمہارے ماں باپ ایک ہیں تم سب آدم و حوا کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے ہیں تم میں سب سے زیادہ پرہیز کار خدا کے نزدیک سب سے زیادہ عزیزہے اہل عرب کو عجم پرسوائے تقوے کے کوئي برتری نہیں ہے (تحف العقول 4، جامع الاحادیث ج 3۔ حدیث 5736۔ ص 110۔حافظ علاء الدین عبدالرحمن سیوطی )
ایک اور جگہ توحید کو اسلام کے بنیادی رکن کی حیثیت سے پیش کرتےہوئے فرماتےہیں "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پررکھی گئی ہے توحید۔ اقامہ نماز، زکات، روزہ اور حج بیت الحرام ”
امام علی علیہ السلام اہل رائے کی مذمت کرتےہوئے انہيں مشترکہ عقیدہ کی جانب توجہ دلاتےہوے فرماتےہیں ” سب کا خدا ایک، نبی ایک اور کتاب ایک ہے توکیا خدا ہی نے انہیں اختلاف کا حکم دیاہے اور یہ اسکی اطاعت کررہے ہیں؟یا اس نے انہیں اختلاف سے منع کیا ہے مگرپھر بھی اسکی مخالفت کررہےہیں ( نہج البلاغہ خطبہ 18)
ایک اور جگہ لشکر شام کے بنیادی عقائد کی جانب اشارہ کرتےہوئے ان ہی اعتقادات پراتحاد اور یکجہتی استوارکرنے کی دعوت دیتےہیں ۔۔۔۔جب بظاہر دونوں کاخدا ایک تھا، رسول ایک تھا، پیغام ایک تھا نہ ہم ایمان و تصدیق میں اضافے کے طلبگار تھے نہ وہ اپنے ایمان کو بڑھاناچاہتے تھے ۔معاملہ بالکل ایک تھا(مکتوب نمبر 58)
پس اسلامی روایات میں بھی اسلامی اتحاد کی دعوت اسی توحید کے محور پربیان ہورہی ہے تقریبامذکورہ روایات میں توحید کو پہلے رکن کی حیثیت سے پیش کیا گیاہے۔ان ہی آیات اور روایات کی روشنی میں عالم اسلام کے مفکر اور اسلامی اتحاد کے منادی توحید کے محور پرمسلمانوں کواتحاد اور یکجہتی کی دعوت دیتےہیں:امام خمینی (رحمۃ اللہ) فرماتےہیں "وحدت کلمہ توحید کے پرچم تلے ممکن ہے”(صحیفہ نور)
عالم اسلام کے عظیم الشان رہبر اورقائد سید علی خامنہ ای ( دامت برکاتہ)فرماتےہیں ” ہماری نظر میں شیعہ اور اہلسنت کے درمیان پائے جانے والے اختلاف حقیقت میں اختلاف نہیں ہیں۔ کیونکہ اسلام کےوہ اصلی ارکان جن پرایمان نہ رکھنےوالے کو مسلمان نہيں کھ سکتے مشترک ہیں یعنی دونوں مذہب ایک قبلہ ایک خدا ایک پیغمبر ایک قران احکام اور ارکان پراعتقاد رکھتےہیں”( leader.ir1368.4.4 )
علامہ اقبال (رحمہ اللہ ) "رموزبیخودی” میں ملت اسلامیہ کے اتحاد میں توحید کی افادیت کے بارےمیں فرماتےہیں کہ امت مسلمہ کا دارومدار کسی اور بنیاد (توحید) پرہے جوان کے دلوں میں پوشیدہ ہے ہم ہرچیز سے منہ موڑکس اسی سے دل لگائے بیٹھے ہیں
ملت مارااساسی دیگراست
این اساس اندر دل ما مضمراست
حاضریم ودل بہ غایب بستہ ایم
پس زاین وآن وارستہ ایم ۔